جون 12، 2024
پاکستان کا قیام اللہ سبحان تعالٰی کا ایک معجزہ ہے اور جس مقصد کے لیے
اللہ سبحان تعالٰی نے اس کو قائم کیا ہے وہ ضرور پورا ہو
گا۔ اس کے قیام میں خطے کے مسلمانوں نے جو بے مثال قربانیاں دی وہ
تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔
لاکھوں مسلمانوں نے نے دین اسلام کے
نام پر بننے والے پاکستان میں ہجرت کرتے ہوئے اپنی جانوں اور مال واسباب کی
قربانیاں دیں۔ ان میں پنجاب سے مکمل طور پر ہجرت کرنے والوں کا ایک آئندہ کردار
ہے۔ ا اس ہجرت جس کو " مدینہ ثانی " کا نام بھی کہا جا سکتا ہے۔
اس دوران مسلمانوں کو پیش آنے والے واقعات میں سے ایک
کا ذکر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ اس ایک ٹرین کا ذکر ہے جو
ہندوستانی پنجاب سے مسلمانوں کو لیکر لاہور آ رہی تھی اور راستہ
میں اس پر حملہ کر دیا گیا تھا اور اس ٹرین کے تمام مسافروں
کو ذبح کر دیا گیا تھا پوری ٹرین خون سے بھری پڑی لاہور پہنچی تھی۔
تقسیم ہند کے موقع پر باؤنڈری کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو کہ
مہاجرین کی پرامن منتقلی کو یقینی بنانے کی ذمہ دار تھی پاکستان کی طرف سے اس میں
کرنل ایوب خان نامزد تھے ان کی ذمہ داری اس ٹرین کی بحفاظت لاہور پہنچانا تھا مگر
وہ اپنی ڈیوٹی پر انجام دینے میں ناکام رہے اور اس کا خمیازہ کثیر تعداد میں
مسلمانوں کی شہادت کی صورت میں سامنے آیا۔
اس موقع پر قائداعظم جو اپنے پہلے دورہ لاہور کے دوران وہاں پر موجود تھے
انہوں نے ریلوے یارڈ میں اس ٹرین کا معائنہ بھی کیا تھا
قائداعظم اس ٹرین میں مسلمانوں کی ذبح کی گئی لاشیں دیکھ
کر شدید غمزدہ تھے اس شدید صدمے کی وجہ سے قائداعظم کو لوگوں نے پہلی
مرتبہ سرعام آنسوؤں میں دیکھا تھا۔
انہوں نے غصے سے پوچھا کہ ٹرین کی حفاظت کا ذمہ دار کون تھا جب انہیں بتایا
گیا کہ یہ باؤنڈری کمیشن کا کام تھا اور کرنل ایم ایوب خان
اس پاکستانی ٹیم کی سربراہی کر رہے تھے۔ اس نے مزید پوچھا کہ جب
قتل عام ہو رہا تھا تو وہ کہاں تھا؟ جب ان کو بتایا گیا کہ وہ اسی شام لاہور جم
خانہ میں نشے میں بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے اس کا کورٹ مارشل کرنے کا حکم جاری
کردیا ۔ اس فائل کو میجر (بعد میں جنرل) موسیٰ نے دبایا ، جو لاہور کے متعلقہ ہیڈ
کوارٹر میں اسٹاف آفیسر تھا۔ قائداعظم کا انتقال ہوگیا ، کرنل ایوب خان کورٹ مارشل
سے بچ گیا اور بعد ازاں وہ پاکستان آرمی کے پہلے کمانڈرانچیف بن گئے۔ بعد میں
انہوں نے میجر موسی کے اگلے کمانڈرانچیف بنا کر اس کو اس کی اس غیر قانونی کام
کرنے کا صلہ دیا۔ کاش اسوقت ایوب خان کا کورٹ مارشل ہو جاتا تو پاکستان
نہ صرف ایوب خان کے مارشل لاء سے بچ جاتا بلکہ بعد میں کسی دوسرے جنرل کو بھی ملکی
معاملات میں غیر قانونی مداخلت کی ہمت نہ ہوتی۔
پاکستان کی تشکیل کے فوری بعد جنرل گریسی کی کمان میں
پاک فوج نے کشمیر میں ڈوگرہ انڈین فوج کے خلاف کارروائی کرنے کے قائداعظم کے حکم
کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا۔ جس کی بناء پر ہندوستان کی فوج کو کشمیر
پر اپنے غیر قانونی قبضہ کا موقع فراہم کیا گیا۔
اس موقع پر پاکستان کے پشتون قبائل اور سندھ کے حروں نے قائداعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوتے کشمیر کا رخ کیا اور ایک علاقے کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے جس کو ہم آج "آزاد کشمیر " کہتے ہیں۔
آج کشمیر کے عوام آزادی اور اسلام کے نفاذ کے لیے بھارت کے خلاف جو بھی جدوجہد کر رہے ہیں یہ سب ان قبائل کی جرات و شجاعت کی بدولت ہے اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں ان قبائل کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہمیشہ تاریخ کا ایک روشن باب کہلایا جائے گا۔
ان قبائل نے اس وقت"حزب اللہ" کا کردار ادا کیا تھا، جب کہ اس اہم تاریخی موڑ پر پاکستانی فوج اس سے لاتعلق رہ کراپنے برطانوی آقاؤں کے لئے کام کررہی تھی۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب لیاقت علی خان نے
"قرارداد مقاصد " پیش کی ، جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے اہم دستاویز
ہے۔ اور جس کا مقصد پاکستان کے قیام کے مقاصد یعنی دین اسلام کے عملی نفاذ کی راہ
ہموار کرنا تھا اس اہم مرحلہ پر ان کو راستے سے ہٹانے کا پروگرام بنایا گیا اور اس
پر عملدرآمد کیا گیا تھا
تاکہ ملک میں عدم
استحکام پیدا کرنے کا اہتمام کیا جائے اور " قرارداد
مقاصد" پر عملدرآمد روک دیا جائے۔
اس عمل میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ملک میں ڈکٹیٹر
ایوب خان نے طویل مارشل لاء لگا دیا اور اسطرح سے پاکستان کو اپنے تخلیق کے مقاصد
سے مکمل طور پر لاتعلق کر دیا گیا۔
اس کے بعد کی پوری ہماری تمام تاریخ ملٹری ڈکٹیٹروں
کے حوالے سے ہی جانی جاتی ہے درمیان میں نیم جمہوری دور مختصر وقفوں سے بھی فراہم
کئے جاتے رہے ہیں جن کا مقصد ملٹری ڈکٹیٹروں کے خلاف عوامی ردعمل کو
ٹھنڈا کرنا اور کچھ وقت کے لیے ان کو منظر سے غائب کرنا مقصود رہا ہے۔
آج تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلح افواج نے اپنے آپ کو
سیاست سے دستبردار کرنے کا نہ صرف اعلان کیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ابتک کی پیدا
کی گئی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں اس مہم میں مثبت
نتائج سامنے آنے لگے ہیں اور ملک دوبارہ سے آئینی راستے پر گامزن ہونا شروع ہو گیا
ہے اور اس کے ثمرات معاشی بحران سے نکلنے اورعوام کو ریلیف ملنے کی شکل میں ظاہر
ہو رہے ہیں۔
آج دوبارہ سے استحصالی طبقات سازشوں میں مصروف
ہیں تاکہ ملک کو دوبارہ سے انتشار اور افراتفری میں مبتلا کر کے ملک میں جمہوری
قوتوں اور جمہوری عمل کو ناکام بنایا جا سکے جس سے دوبارہ سے ملٹری کو اقتدار پر
قابض ہونے کا موقع فراہم کیا جا سکے اور اسطرح سے استحصالی طبقات کے مفادات کو
تحفظ فراہم کرنے کا بندوبست کیا جا سکے۔
تاریخ کے اس اہم موڑ پر تمام محب وطن پاکستانیوں اور اسلام اور نظریہ پاکستان پر ایمان رکھنے والوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ جو لوگ نا سمجھی میں پاکستان دشمن عناصر کے ایجنڈے کا ساتھ دے رہے ہیں ان کو راہ راست پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔ اور پاکستان میں دین اسلام کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اللّہ سبحان تعالٰی ہم سب کو اس جدوجہد میں اپنی صلاحیتوں اور توانائیاں کو ہرممکن استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
0 Comments