{الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷﴾وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسۡنًا ؕ وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡہُمَا ؕ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتۡنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ؕ وَ لَئِنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمۡ ؕ اَوَ لَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِیۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰﴾وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا
لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِیۡلَنَا وَ لۡنَحۡمِلۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ مَا ہُمۡ بِحٰمِلِیۡنَ مِنۡ خَطٰیٰہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۲﴾وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾}
آیت ۱ {الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾} ’’الف‘ لام‘ میم۔‘‘
آیت ۲ {اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾} ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا؟‘‘
تمہیدی کلمات میں بیان کی گئی حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی روایت کا مضمون ذہن میں رکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مذکورہ شکایت کا جواب ہے۔ اس میں خفگی کا بالکل وہی انداز پایا جاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی شکایت کے جواب میں اختیار فرمایا تھا۔ اہل ایمان کا ذکرعمومی انداز میں (’’النَّاس‘‘ کے لفظ سے )فرمانا بھی ایک طرح سے عتاب اور ناراضی ہی کا ایک انداز ہے۔ بہر حال دین میں تحریکی و انقلابی جدوجہد کے حوالے سے یہ بہت اہم مضمون ہے جس کی مزید وضاحت مدنی سورتوں میں ملتی ہے۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ میں یہی مضمون مزید واضح انداز میں بیان ہوا ہے: {اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾} ’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تک تم پروہ حالات وواقعات تو وارد ہوئے ہی نہیں جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں مسلط کر دی گئی تھیں‘ اور وہ ہلا مارے گئے تھے‘ یہاں تک کہ (وقت کا) رسول ؑاور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد! آگاہ رہو اللہ کی مدد قریب ہی ہے‘‘۔ اس کے بعد سورۂ آل عمران میں یہی بات ایک دوسرے انداز میں فرمائی گئی ہے: {اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾} ’’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں یونہی داخل ہو جاؤ گے‘ حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو ظاہر کیا ہی نہیں کہ تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں‘‘۔اور پھر سورۃ التوبہ میں اس مضمون کی مزید وضاحت کی گئی ہے: {اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ لَمۡ یَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لَا رَسُوۡلِہٖ وَ لَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَلِیۡجَۃً ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۶﴾} ’’ کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم یونہی چھوڑ دیے جائو گے ‘حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو ظاہر کیا ہی نہیں کہ تم میں سے کون ہیں جو واقعی جہاد کرنے والے ہیں‘اور جو نہیں رکھتے اللہ ‘اُس کے رسول اور اہل ایمان کے علاوہ کسی کے ساتھ دلی راز داری کا کوئی تعلق‘ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔‘‘
مندرجہ بالا چاروں آیات میں یہ مضمون جس انداز میں بیان ہوا ہے اس کی مثال ایک خوبصورت پودے اور اس پر کھلنے والے خوبصورت پھول کی سی ہے۔ زیر مطالعہ مکی آیت اس پودے کی گویا جڑ ہے جبکہ مذکورہ بالاتینوں مدنی آیات اس پر کھلنے والے پھول کی تین پتیاں ہیں۔ یہاں پر جن تین آیات کا حوالہ دیا گیا ہے
(البقرۃ:۲۱۴‘ آل عمران:۱۴۲ اور التوبۃ:۱۶) ان میں یہ عجیب مماثلت قابل توجہ ہے کہ نہ صرف ان آیات کے الفاظ میں مشابہت پائی جاتی ہے بلکہ ان میں سے ہر آیت کے نمبر شمار کاحاصل جمع ۷ ہے۔
آیت ۳ {وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ} ’’ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے‘‘
ہم ان سے پہلے بھی ایمان کے ہر دعویدار کو آزماتے رہے ہیں اور آزمائش کے بغیر ہم کسی کے ایمان کو تسلیم نہیں کرتے۔
{فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾} ’’پس اللہ ظاہر کر کے رہے گا اُن کو جو سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں۔‘‘
اگرچہ ان الفاظ کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ’’اللہ جان کر رہے گا‘‘ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اور وہ انسانوں کی نیتوں اور دلوں کے حالات سے بخوبی واقف ہے ‘اس لیے یہاں اللہ کے ’’جان لینے‘‘ کا مفہوم دراصل یہی ہے کہ اللہ ظاہر کر دے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے! وہ ممیز کر دے گا کہ کون منافق ہے اور کون سچا مؤمن! کون ضعیف الایمان ہے اور کون قوی ٔالایمان! کون سچا جاں نثار ہے اور کون محض دودھ پینے والا مجنوں ہے!
یہاں یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ گزشتہ دو آیات میں اگر خفگی کا اظہار ہے تو اگلی دو آیات میں اہل ایمان کی دلجوئی کا سامان بھی ہے۔ گویا ترہیب اور ترغیب ساتھ ساتھ ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شفیق استاد اپنے شاگردکو ایک وقت میں ڈانٹ پلاتا ہے لیکن پھر اس کے بعد تھپکی دے کر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ اس نکتے کو اس حدیث کے حوالے سے بھی سمجھنا چاہیے۔ حضورﷺ کا فرمان ہے: ((اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللّٰہِ)) (۱) کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ یعنی اللہ اپنی مخلوق اور خصوصاًاپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ چنانچہ اس محبت اور شفقت کی جھلک اگلی آیت میں صاف نظر آ رہی ہے:
آیت ۴ {اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّسۡبِقُوۡنَا ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿۴﴾} ’’کیا سمجھ رکھا ہے ان لوگوں نے جوبرائیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں کہ وہ ہماری پکڑ سے بچ کر نکل جائیں گے؟ بہت ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘
اس جملے کی روح کو سمجھنے کے لیے مکہ مکرمہ کے ماحول اور اس میں اہل ایمان کی دل دہلا دینے والی مظلومیت کے مناظر ایک دفعہ پھر اپنے تصور میں لائیے‘ جہاں ابوجہل کو کھلی چھوٹ تھی کہ وہ حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہما کو جس طرح چاہے بربریت کا نشانہ بنائے۔ اُمیہ بن خلف مالک و مختار تھاحضرت بلال رضی اللہ عنہ کی قسمت کا کہ ان کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرے۔ انہیں مار پیٹ کر لہو لہان کر دے اور گرم ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دے یا گلے میں رسی ّڈال کر ُمردہ جانوروں کی طرح مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتا پھرے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں تو آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کا مفہوم یوں ہو گا کہ کیا بربریت کا یہ بازار گرم کرنے والے درندوں ____________________________ (۱) رواہ البیھقی فی شعب الایمان:۶/۲۵۲۸۔عن عبداللّٰہ بن مسعود وانس بن مالک رضی اللہ عنہما۔
نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ؟کیا ابوجہل اور اُمیہ بن خلف کو خوش فہمی ہے کہ وہ ہماری گرفت سے بچ جائیں گے؟ نہیں‘ ایسا ہر گز نہیں ہو گا! انہیں اس سب کچھ کا حساب دینا ہو گا۔ وہ وقت دور نہیں جب بہت جلد یہ پانسہ پلٹ جائے گا اور انہیں لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ چنانچہ چند ہی سال بعد غزوۂ بدر میں کفر اور ظلم کے بڑے بڑے علم برداروں کا حساب چکا دیا گیا۔ میدانِ بدر میں ہی امیہ بن خلف کو بھی مکافاتِ عمل کے بے رحم شکنجے میں جکڑ کر حضرت بلالؓ کے قدموں میں ڈال دیا گیا۔ اُس وقت اگرچہ حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے کوشش بھی کی کہ وہ اُمیہ کو قتل ہونے سے بچالیں اور اسے قیدی بنالیں لیکن حضرت بلالؓ نے اسے جہنم رسید کر کے ہی چھوڑا: {اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ۱۲﴾} ( البروج) ’’ بلاشبہ آپ کے رب کی گرفت بہت سخت ہے!‘‘ دراصل مکہ میں بارہ سال تک ایک خاص حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کو ہاتھ باندھے رکھنے‘ ہر طرح کا ظلم برداشت کرنے اور استطاعت کے باوجود بھی بدلہ نہ لینے کا حکم دیا گیا تھا۔ گویا تحریک کے اس مرحلے میں انہیں ظلم سہنے اور سخت سے سخت حالات میں عزم و استقلال کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی تربیت کے عمل سے گزارا جارہا تھا۔ اور ان خطوط پر مکمل تربیت اور تیاری سے قبل انہیں عملی طور پر تصادم کا میدان گرم کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ حکمت عملی دراصل تحریکی و انقلابی جدوجہد کے فلسفے کا ایک اہم اور لازمی اصول ہے۔ علامہ اقبال نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے: ؎
نالہ ہے بلبل ِشور یدہ ترا خام ابھی اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی!
بعد میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق سورۃ الحج کی آیت ۳۹ کے اس حکم کے تحت اہل ایمان کے بندھے ہوئے ہاتھ کھول دیے گئے: {اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ} ’’اب اجازت دی جا رہی ہے (قتال کی) ان لوگوں کو جن پر جنگ مسلط کر دی گئی ہے‘ اس لیے کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔‘‘
آیت ۵ {مَنۡ کَانَ یَرۡجُوۡا لِقَآءَ اللّٰہِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ لَاٰتٍ ؕ} ’’جو کوئی بھی اللہ کی ملاقات کا امیدوار ہے تو (اسے یقین رکھنا چاہیے کہ) یقینا اللہ کا معین ّکردہ وقت آ کر رہے گا۔‘‘
یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر ایک بندۂ مؤمن دنیا میں اپنا تن من دھن اُس کی راہ میں کھپا دے گا تو اُس کی اس قربانی کا صلہ اسے آخرت کی نعمتوں کی صورت میں دیا جائے گا۔ لیکن اللہ کا یہ وعدہ بہر حال ادھار کا وعدہ ہے۔ دوسری طرف دنیا کے ظاہری معاملات کو دیکھتے ہوئے انسان ’’نو نقد نہ تیرہ ادھار ‘‘کے اصول پر زیادہ اطمینا ن محسوس کرتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری سے شیطان فائدہ اٹھاتا ہے اوراس کے دل میں وسوسے ڈال کر اس کے یقین کو متزلزل کر نے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ اسی حوالے سے یہاں حضرت بلال‘ حضرت ابو فکیہہ اور حضرت خباب جیسے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کی قائم کردہ مثالوں کی قیامت تک کے لیے پیروی کرنے والے جاںنثاروں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اے شمع توحید کے پروانو! شیطان تمہارے دلوں میں کسی قسم کا وسوسہ پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے‘ تم اطمینان رکھو! تمہارے ساتھ کیے گئے اللہ کے تمام وعدے ضرور پورے ہوں گے اور آخرت کا وہ دن ضرور آ کر رہے گا جس دن تمہاری تمام قربانیوں کا بھر پور صلہ تمہیں دیا جائے گا۔
{وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۵﴾} ’’اور وہ سب کچھ سننے والا‘ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
وہ تمہارے حالات سے بخوبی آگاہ ہے‘ تمہاری کوئی تکلیف اور کوئی قربانی اس کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہے‘---- اب اگلی آیت میں پھر سرزنش کا انداز ہے:
آیت ۶ {وَ مَنۡ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفۡسِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶﴾} ’’اور جو کوئی بھی جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے (ہی فائدے کے) لیے جہاد کرتا ہے۔یقینا اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔‘‘
دیکھو! تم میں سے جو کوئی اللہ کی راہ میں جدوجہد کر رہا ہے‘ اس کے لیے تکلیفیں اٹھا رہا ہے اور ایثار کر رہا ہے تو یہ سب کچھ وہ اپنے لیے کر رہا ہے‘ اس کا فائدہ بھی اسی کو ملنے والا ہے۔ وہ اپنے ان اعمال کا اللہ پر احسان نہ دھرے۔ اللہ کو ان چیزوں کی کوئی احتیاج نہیں۔ وہ ان چیزوں سے بہت بلند اور بے نیاز ہے۔ سورۃ الحجرات میں اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: {یَمُنُّوۡنَ عَلَیۡکَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسۡلَامَکُمۡ ۚ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰىکُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾} ’’ (اے نبیﷺ!)یہ لوگ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہو گئے۔ آپ کہہ دیجیے کہ تم لوگ اپنے اسلام کامجھ پر احسان مت دھرو ‘ بلکہ یہ تو تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی‘ اگر تم (اپنے ایمان کے دعوے میں) سچے ہو۔‘‘
؎ منت ّمنہ َکہ خدمت سلطاں ہمی کنی منت ّشناس ازو کہ بخدمت بدا شتت!
یعنی تم بادشاہ پر احسان مت دھرو کہ تم اس کی خدمت کر رہے ہو ‘بلکہ تم اس سلسلے میں بادشاہ کا احسان پہچانو کہ اس نے تمہیں اپنی خدمت کا موقع فراہم کیا ہے۔
نوٹ کیجیے ان آیات کے مندرجات انسانی دل و دماغ کے احساسات و خیالات سے کس قدر مطابقت رکھتے ہیں ---- اب اگلی آیت میں پھر دلجوئی کا انداز ہے۔ گویا پہلے رکوع میں ترہیب کا رنگ بھی ہے اور ترغیب کا انداز بھی اور یہ دونوں مضامین پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں۔ آغاز سرزنش سے ہوا تھا‘ پھر دلجوئی فرمائی گئی‘ اس کے بعد پھر سرزنش اور اب پھر دلجوئی:
آیت ۷ {وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ} ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ہم لازماً دور کر دیں گے اُن سے اُن کی برائیاں‘‘
جو لوگ ایمان لانے کے بعد ایمان کے تقاضوں کو پوراکریں گے اور اس رستے میں آنے والی مصیبتوں اور تکلیفوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں گے ہم ان کے دامن پر سے گناہوں کے چھوٹے موٹے داغ َدھبے دور کر دیں گے۔
{وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷﴾} ’’اور ہم لازماً اُن کو بہترین بدلہ دیں گے ان کے اعمال کا۔‘‘
زیر مطالعہ رکوع کے مضمون کی اہمیت کا اندازہ اس پہلو سے بھی لگائیں کہ ان آیات میں لام مفتوح اور نون ّمشدد کی تکرار ہے۔ یعنی جابجا انتہائی تاکید کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔آیت ۳ میں دو مرتبہ یہی تاکیدکا صیغہ آیاہے:
{فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾} جبکہ زیر مطالعہ آیت میں بھی دونوں باتوں میں تاکید کا وہی انداز پایا جاتا ہے۔
آیت ۸ {وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ حُسۡنًا ؕ} ’’اور ہم نے ہدایت کی ہے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن ِسلوک کی۔‘‘
مکہ کے مذکورہ حالات میں اسلام قبول کرنے والے بہت سے نوجوانوں کے لیے اپنے والدین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی ایک بہت سنجیدہ مسئلہ پید ا ہو گیا تھا۔ ایک طرف قرآن کی یہ ہدایت تھی کہ انسان اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے اور ان کی نافرمانی نہ کرے۔ دوسری طرف ایمان لانے والے بہت سے نوجوان عملی طور پر اپنے والدین سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے تھے۔ چنانچہ ایسے تمام نوجوان اخلاقی اور جذباتی طور پر شدید دبائو کا شکار تھے۔ مشرک والدین کا ان سے تقاضا تھا کہ تم ہماری اولاد ہو‘ ہم نے پال پوس کر تمہیں بڑا کیا ہے ‘لہٰذا تم پر لازم ہے کہ ہمارا حکم مانو اور محمد (ﷺ) سے تعلق توڑ کر اپنے مذہب پر واپس آ جاؤ۔ جیسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا معاملہ تھا۔ آپؓ کے والد فوت ہو چکے تھے۔ والدہ نے انہیں بہت ناز ونعم سے پالا تھا۔ آپؓ بہت سلیم الفطرت اور شریف النفس نوجوان تھے اور اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپؓ کے ایمان لانے پر آپؓ کی والدہ نے ’’مرن برت‘‘ رکھ لیااورقسم کھا لی کہ اگر اس کا بیٹا اپنے والد کے دین پر واپس نہ آیاتو وہ بھوکی پیاسی رہ کر خود کو ہلاک کر لے گی۔ تصور کریں کہ ماں بھوک اور پیاس سے مر رہی ہے اور بیٹا اس کی اس حالت کو بے چارگی سے دیکھ رہا ہے۔ ایک فرمانبردار بیٹے کے لیے یہ کس قدر سخت امتحان تھا!چنانچہ یہ سوال بہت اہم تھا کہ ایسے نوجوان ان حالات میں کیا کریں؟ ایک طرف والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اور وہ بھی اس تاکید کے ساتھ کہ قرآن میں متعدد مقامات پر (البقرۃ:۸۳‘ النساء:۳۶‘ الانعام:۱۵۱ ‘بنی اسرائیل:۲۳‘ لقمان:۱۴) اللہ تعالیٰ نے اپنے حق عبادت کا ذکر کرنے کے بعد والدین کے حقوق کا ذکر فرمایا ہے۔ دوسری طرف مشرک والدین کا یہ اصرار کہ ان کی اولاد ان کی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کو چھوڑ کر واپس ان کے دین پر آ جائے۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اس نازک مسئلہ کے بارے میں راہنمائی فرمائی گئی ہے:
{وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ لِتُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ فَلَا تُطِعۡہُمَا ؕ} ’’اور اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ ایسی چیزوں کو جن کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مانو۔‘‘
نوٹ کیجیے یہاں ’’جہاد‘‘ کا لفظ مشرک والدین کی اس ’’کوشش ‘‘کے لیے استعمال ہوا ہے جو وہ اپنی اولاد کو دین اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے کر سکتے تھے۔ گویا یہاں یہ لفظ اپنے خالص لغوی معنی (جدوجہد کرنا‘ کوشش کرنا) میں آیا ہے۔
اس آیت میں بہت واضح انداز میں اولاد کے لیے والدین کی فرمانبرداری کی ’’حد‘‘ (limit) بتا دی گئی کہ والدین کے حقوق بہر حال اللہ کے حقوق کے بعد ہیں۔ یعنی اللہ کا حق ‘ اس کا حکم اور اس کے دین کا تقاضا ہر صورت میں والدین کے حقوق اور ان کی مرضی پر فائق رہے گا۔ لہٰذا کسی نوجوان کے والدین اگر اسے کفر و
شرک پر مجبور کر رہے ہوں تو وہ ان کا یہ مطالبہ مت مانے۔ البتہ اس صورت میں بھی نہ تو وہ ان کے ساتھ بد تمیزی کرے اور نہ ہی سینہ تان کر جواب دے‘ بلکہ ادب سے انہیں سمجھائے کہ ان کا یہ حکم ماننا اس کے لیے ممکن نہیں‘ اس لیے اس کی درخواست ہے کہ وہ اس کے لیے اس پر دباؤ نہ ڈالیں۔ ا س سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے مشرک والد کے ساتھ مکالمہ (سورۂ مریم‘ آیات ۴۲تا۴۵) اس حکمت عملی کی بہترین مثال ہے۔ اس مکالمے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپؑ اپنے والد کو بار بار یٰاَبَتِ‘ یٰاَبَتِ ( ابا جان! ابا جان!)کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ والدین کے حقوق کے حوالے سے یہ مضمون سورۂ لقمان میں زیادہ وضاحت سے بیان ہوا ہے۔
{اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾} ’’ میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے‘ پھر میںتمہیں بتادوں گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘
آیت ۹ {وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾} ’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ہم انہیں لازماً داخل کریں گے صالحین میں۔‘‘
نیک اہل ایمان کو صالحین کے گروہ میں شامل کرنے کا یہ وعدہ دنیا کے لیے بھی ہے اور آخرت کے لیے بھی۔ اس مژدئہ جانفزا کے مفہوم کو بھی مکہ کے مذکورہ حالات کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے‘ جہاں اہل ایمان اپنے پیاروں سے کٹ رہے تھے‘ والدین اپنے جگر گوشوں کو چھوڑنے پر مجبور تھے‘ اولاد والدین کی شفقت و محبت سے محروم ہو رہی تھی اور بھائی بھائیوں سے جدا ہو رہے تھے۔ جیسے سردارِ قریش عتبہ بن ربیعہ کے بڑے بیٹے حذیفہ رضی اللہ عنہ ایمان لے آئے جبکہ چھوٹا بیٹا ولید کافر ہی رہا۔ (عتبہ اور اس کا بیٹا ولید غزوۂ بدر میں سب سے پہلے مارے جانے والوں میں سے تھے۔) اگر انسانی سطح پر دیکھا جائے تو حضرت حذیفہؓ کے لیے یہ بہت کڑا امتحان تھا۔ بہرحال جو صحابہؓ اس آزمائش اور امتحان سے دو چار ہوئے انہوں نے غیر معمولی حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن آخر تو وہ انسان تھے‘ اندر سے ان کے دل زخمی تھے اور ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ آیت زیر نظر کو اس سیاق و سباق میں پڑھا جائے تو اس کا مفہوم یوں ہو گا کہ اے میرے جاں نثار بندو! اگر تم لوگ مجھ پر اور میرے رسولﷺ پر ایمان لا کر اپنے والدین‘ بھائی بہنوں اور عزیز رشتہ داروں سے کٹ چکے ہو تو رنجیدہ مت ہونا۔ دوسری طرف ہم نے تمہارے لیے نبی رحمت اور اہل ایمان کے گروہ کی صورت میں نئی محبتوں اور لازوال رفاقتوں کا بندوبست کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں تمہارے لیے ایک نئی برادری تشکیل پا رہی ہے جس کی بنیاد ایک مضبوط نظریے پر رکھی گئی ہے۔ اب تم لوگ اس نئی برادری کے رکن بن کر ہمارے برگزیدہ بندوں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہو‘جہاں رحمۃٌ للعالمینﷺ آپ لوگوں کو اپنے سینے سے لگانے کے لیے منتظر ہیں اور جہاں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت تم لوگوں پر اپنی محبت و شفقت کے جذبات نچھاور کرنے کو بے قرار ہیں۔ اس حوالے سے نبی اکرمﷺ کو بھی بار بار یاد دہانی کرائی جا رہی ہے (سورۃ الحجر: ۸۸ اور سورۃ الشعراء:۲۱۵) کہ مؤمنین کے لیے آپؐ اپنے کندھوں کو جھکا کر رکھیے اور ان کے ساتھ محبت و رأفت کا معاملہ کیجیے۔
دوسری طرف صالحین کے گروہ میں شمولیت کی اس خوشخبری کا تعلق آخرت سے بھی ہے‘ جس کا واضح تر اظہار سورۃ النساء کی اس آیت میں نظر آتا ہے: {وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾} ’’اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور اس کے رسولؐ کی تو ایسے لوگوں کو معیت حاصل ہو گی ان لوگوں کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام‘ صدیقین‘ شہداء اور صالحین ۔اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے!‘‘
آیت ۱۰ {وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَاۤ اُوۡذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتۡنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ ؕ } ’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر‘ مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں ایذا پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں۔‘‘
یعنی لوگوں کی طرف سے ڈالی گئی آزمائش سے ایسے گھبرا جاتے ہیں جیسے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گیا ہو۔ یہاں یہ نکتہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ آیت مکہ میں اُس وقت نازل ہوئی جب اسلام میں منافقت کا شائبہ تک نہ تھا‘ بلکہ یہ وہ وقت تھا جب کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے ہر شخص پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں جو کوئی بھی اسلام قبول کرتا تھا اس کے ایمان میں کسی شک و شبہ کا امکان نہیں تھا۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ّہے کہ سب لوگوں کی طبیعتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور جذبے‘ بہادری‘ استقامت وغیرہ میں سب انسان برابر نہیں ہوتے۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے ایک ایسے کردار کا ذکر ہو رہا ہے جو ایمان تو پورے خلوص سے لایا ہے مگر اس راستے کی مشکلات اور آزمائشوں کو جھیلنے کا حوصلہ اس میں نہیں ہے۔
{وَ لَئِنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکَ} ’’اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ کے رب کی طرف سے مدد آ جائے‘‘
{لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمۡ ؕ } ’’یہ ضرور کہیں گے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہی تو تھے۔‘‘
جب صورتِ حال تبدیل ہو جائے گی اور دین کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگادینے والوں کو اللہ تعالیٰ فتح و نصرت سے ہم کنارکرے گا تو اس کردار کے لوگ فتح کے ثمرات میں حصہ دار بننے کے لیے آموجود ہوں گے کہ ہم تو دل سے آپ ہی کے ساتھ تھے۔ گویا یہ وہی کردار ہے جس کا ذکر سورۃ البقرۃ کے آغاز میں بھی ہوا ہے اور سورۃ الحج کی اس آیت میں اس کی نفسیاتی کیفیت کو مزید واضح کر دیا گیا ہے: {وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّعۡبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرۡفٍ ۚ فَاِنۡ اَصَابَہٗ خَیۡرُۨ اطۡمَاَنَّ بِہٖ ۚ وَ اِنۡ اَصَابَتۡہُ فِتۡنَۃُۨ انۡقَلَبَ عَلٰی وَجۡہِہٖ ۟ۚ خَسِرَ الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۱﴾} (الحج) ’’اور لوگوں میں سے کوئی وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارے پر رہ کر۔پھراگر اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس کے ساتھ مطمئن رہے ‘اور اگر اسے کوئی آزمائش آ جائے تو منہ کے بل الٹا پھر جائے۔ وہ دنیا میں بھی خسارے میں رہا اور آخرت میں بھی ۔یہی ہے واضح خسارہ۔‘‘
{اَوَ لَیۡسَ اللّٰہُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِیۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰﴾} ’’تو کیا اللہ بخوبی واقف نہیں ہے اس سے جو جہان والوں کے سینوں میں مضمر ہے؟‘‘
آیت ۱۱ {وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾} ’’اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا
سچے اہل ایمان کو بھی اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔‘‘
یعنی ابھی اس مرض کی ابتدا ہے ۔اگر تم لوگ nip the evil in the bud کے مصداق ابھی سے اس کا علاج کر لو گے تو بچ جاؤ گے۔ منافقت کا مرض ٹی بی کے مرض کی طرح ہے جو انفیکشن سے شروع ہوتا ہے اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا لا علاج روگ بن جاتا ہے۔ چنانچہ ابھی تم لوگوں کو اس مرض کی انفیکشن ہوئی ہے۔ اگر ابھی تم نے اس کے تدارک کی فکر نہ کی اور یہ روگ ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ گیا تو مہلک اور لا علاج مرض (باقاعدہ منافقت) کی شکل اختیار کر جائے گا۔
اس آیت کے حوالے سے ایک خصوصی نکتہ یاد رکھنے کا یہ ہے کہ مکی قرآن کا یہ واحد مقام ہے جہاں لفظ ’’منافق‘‘ آیا ہے۔ سورۃ الحج کی مذکورہ بالا آیت میں بھی منافقانہ کردار کا ذکر ہوا ہے ‘لیکن ’’منافق‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔
آیت ۱۲ {وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِیۡلَنَا وَ لۡنَحۡمِلۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ } ’’اور یہ کافر کہتے ہیں اہل ایمان سے کہ تم ہمارے راستے کی پیروی کرو‘ ہم (آخرت میں) تمہاری خطائوں کا بوجھ اٹھا لیں گے۔‘‘
اس آیت میں مکہ کے ماحول میں ایمان لانے والے نوجوانوں کے تیسرے اہم مسئلے کی نشاندہی ملتی ہے۔ یعنی رشتوں کے کٹنے اور کہیں کہیں حوصلے کی کمزوری کے اظہار کے علاوہ ایک سنجیدہ مسئلہ یہ بھی تھا کہ قبیلے کے بڑے بوڑھے ناصحانہ انداز میں نوجوانوں کو سمجھانے بیٹھ جاتے تھے کہ دیکھو برخوردار! تم نوجوان ہو‘ باصلاحیت ہو‘ خاندانی کاروبار کے وارث ہو‘ ایک مثالی کیرئیر اور روشن مستقبل تمہارے سامنے ہے۔ مگر تم جذبات میں آ کر ایک ایسا راستہ اپنانے جا رہے ہو جس میں مشکلات‘ پریشانیوں اور افلاس کے سوا تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ہماری طرف دیکھو! ہم نے اس دنیا میں ایک عمر گزاری ہے‘ ہم نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ‘ ہم زندگی کے نشیب و فراز اور نفع و نقصان کے تمام پہلوؤں کو خوب پہچانتے ہیں۔ اس نئے دین کی باتیں ہم نے بھی سنی ہیں‘ مگر ہم ان کو سن کر جذباتی نہیں ہوئے۔ ہم نے پوری سمجھ بوجھ سے ان باتوں کا تجزیہ کیا ہے اور پھر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمارا فائدہ اپنے پرانے طریقے اور اپنے باپ دادا کے دین کی پیروی میں ہی ہے۔ لہٰذا تم ہماری بات مانواور اپنے پرانے طریقے پر واپس آ جاؤ۔ رہی بات آخرت کے احتساب کی تو اس کی ذمہ داری تمہاری طرف سے ہم اٹھاتے ہیں ۔ وہاں اگر کوئی سزا ہوئی تو وہ تمہاری جگہ ہم بھگت لیں گے۔
{وَ مَا ہُمۡ بِحٰمِلِیۡنَ مِنۡ خَطٰیٰہُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۲﴾} ’’اور وہ نہیں اٹھانے والے ان کی خطاؤں میں سے کچھ بھی۔ یقینا وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘
آیت ۱۳ {وَ لَیَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَہُمۡ وَ اَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِہِمۡ ۫ } ’’البتہ وہ لازماً اٹھائیں گے اپنے بوجھ بھی اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی۔‘‘
یعنی آخرت میں یہ لوگ صرف اپنی گمراہی کی سزا ہی نہیں بھگت رہے ہوں گے بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے کا خمیازہ بھی انہیں بھگتنا ہو گا۔ لیکن اے اہل ایمان! اگر تم میں سے کوئی خطا کرے گا تو اس کے لیے وہ خود ہی جوابدہ ہو گا۔ تمہاری کسی خطا کا بوجھ یہ لوگ نہیں اٹھا سکیں گے۔
{وَ لَیُسۡـَٔلُنَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَمَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾} ’’اور ان سے لازماًباز پرس ہو گی قیامت کے دن ا س کے بارے میں جو جھوٹ یہ گھڑ رہے ہیں۔‘‘
اس آیت میں تاکید کا پھر وہی اندا زہے (لام مفتوح اور نون مشدد)جو اس سے پہلے آیات ۳‘۷ اور ۱۱ میں آ چکا ہے ۔ یعنی قیامت کے دن دوسروں کی خطائوں کا بوجھ اٹھانے کا یہ دعویٰ ان کا خود ساختہ جھوٹ ہے اور اس دن اپنی اس افترا پردازی کا بھی انہیں حساب دینا پڑے گا۔ اس سلسلے میں اللہ کا اٹل فیصلہ اور قانون بہر حال یہ ہے: {وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ} (الاسراء:۱۵) کہ اس دن کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
اس سورت کی ابتدائی بارہ آیات(پہلی آیت حروفِ مقطعات پر مشتمل ہے) اپنے مضمون کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ چنانچہ کسی بھی دینی انقلابی تحریک کے کارکنوں کو چاہیے کہ ان آیات کو حرزِ جان بنا لیں اور ان میں درج ہدایات و فرمودات کو اپنے قلوب و اذہان میں پتھر پر لکیر کی مانند کندہ کر لیں ۔
0 Comments