سُورۃُ الْعَنکبُوت آیات 14 تا 44
{وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَلَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا ؕ فَاَخَذَہُمُ الطُّوۡفَانُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾وَ اِبۡرٰہِیۡمَ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶﴾اِنَّمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا وَّ تَخۡلُقُوۡنَ اِفۡکًا ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لَکُمۡ رِزۡقًا فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ الرِّزۡقَ وَ اعۡبُدُوۡہُ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾وَ اِنۡ تُکَذِّبُوۡا فَقَدۡ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۸﴾اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۹﴾قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡحَمُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُقۡلَبُوۡنَ ﴿۲۱﴾وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۫ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿٪۲۲﴾وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآئِہٖۤ اُولٰٓئِکَ یَئِسُوۡا مِنۡ رَّحۡمَتِیۡ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۳﴾فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا ۙ مَّوَدَّۃَ بَیۡنِکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُ بَعۡضُکُمۡ بِبَعۡضٍ وَّ یَلۡعَنُ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ۫ وَّ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿٭ۙ۲۵﴾فَاٰمَنَ لَہٗ لُوۡطٌ ۘ وَ قَالَ اِنِّیۡ}
مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۶﴾وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ وَ تَقۡطَعُوۡنَ السَّبِیۡلَ ۬ۙ وَ تَاۡتُوۡنَ فِیۡ نَادِیۡکُمُ الۡمُنۡکَرَ ؕ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۳۰﴾وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مُہۡلِکُوۡۤا اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ ۚ اِنَّ اَہۡلَہَا کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۱﴾قَالَ اِنَّ فِیۡہَا لُوۡطًا ؕ قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِیۡہَا ٝ۫ لَنُنَجِّیَنَّہٗ وَ اَہۡلَہٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ ٭۫ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾وَ لَمَّاۤ اَنۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا وَّ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ ۟ اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا امۡرَاَتَکَ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۳﴾اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤی اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۳۴﴾وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنَا مِنۡہَاۤ اٰیَۃًۢ بَیِّنَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۵﴾وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۳۶﴾فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿۫۳۷﴾وَ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ قَدۡ تَّبَیَّنَ لَکُمۡ مِّنۡ مَّسٰکِنِہِمۡ ۟ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾وَ قَارُوۡنَ وَ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ ۟ وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانُوۡا سٰبِقِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۹﴾فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴۲﴾وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾}خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾
یہاں سے سورت کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے ۔یہ حصہ تین رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس میں بنیادی طور پر انباء الرسل کا مضمون ہے ‘لیکن وقفے وقفے سے بین السطور میں مکے کے ماحول میں جاری کش مکش کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔ اس کے بعد آخری تین رکوعوں پر مشتمل اس سورت کے آخری حصے میں مشرکین اور اہل ایمان سے خطاب ہے۔ یہ دونوں موضوعات سورت کے آخری حصے میں یوں متوازی چلتے نظر آتے ہیں جیسے ایک رسی
کی دو ڈوریاں آپس میں گندھی ہوئی ہوں۔ ان میں سے کبھی ایک ڈوری نمایاں ہوتی نظر آتی ہے تو کبھی دوسری۔ سورت کے اس حصے میں اہل ایمان سے خطاب کے دوران انہیں دس اہم ہدایات بھی دی گئی ہیں جو غلبہ ٔدین کی جدوجہد کرنے اور اس راستے میں مصائب و مشکلات برداشت کرنے والے مجاہدین کے لیے رہتی دنیا تک گویا مشعل راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
آیت ۱۴ {وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖ فَلَبِثَ فِیۡہِمۡ اَلۡفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمۡسِیۡنَ عَامًا ؕ} ’’اور ہم نے بھیجا تھا نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف ‘تو وہ رہا ان کے مابین پچاس برس کم ایک ہزار برس۔‘‘
یعنی حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے درمیان ساڑھے نو سو سال تک رہے۔ یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں متعدد بار آ چکا ہے لیکن یہ بات اور کہیں نہیں کہی گئی کہ انہوں نے ساڑھے نو سو سال کا طویل عرصہ اپنی قوم کے ساتھ گزارا۔ اگر ہم مکہ کے ان حالات کا نقشہ ذہن میں رکھیں جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی تھی اور پہلے رکوع کا مضمون بھی مد ِنظر ّرکھیں تو حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اور جدوجہد کے ساڑھے نو سو سال کے ذکر کی وجہ صاف نظر آ جاتی ہے اور بین السطور میں یہاں جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ اقبال کے الفاظ میں یوں بیان کیاجا سکتا ہے: ؎
یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لب ساحل نے دیا
ہے دُور وصالِ بحر ابھی‘ تو دریا میں گھبرا بھی گئی!
کہ اے مسلمانو!تم لوگ چند برس میں ہی گھبرا گئے ہو۔ ذرا ہمارے بندے نوح علیہ السلام کی صدیوں پر محیط جاں گسل جدوجہد کا تصور کرو اور پھر ان کے صبر و استقامت کا اندازہ کرو! چنانچہ تم لوگوں کو اس راستے میں مزید امتحانات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے: ؎
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ! (اقبال)
سورۃ الانعام میں اسی حوالے سے محمد ٌرسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے: {وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۴﴾} ’’اور آپ ؐسے پہلے بھی رسولوں ؑکو جھٹلایا گیا‘ تو انہوں نے اس تکذیب پر صبر کیا ‘اور انہیں ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ ان تک ہماری مدد پہنچ گئی ۔اور (دیکھئے اے نبیﷺ!) اللہ کے ان کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں‘اور آپؐ کے پاس رسولوںؑ کی خبریں تو آ ہی چکی ہیں۔‘‘
{فَاَخَذَہُمُ الطُّوۡفَانُ وَ ہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾} ’’تو ان کو آ پکڑا طوفان نے اور وہ ظالم تھے۔‘‘
آیت ۱۵ {فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَ اَصۡحٰبَ السَّفِیۡنَۃِ وَ جَعَلۡنٰہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۵﴾} ’’تو ہم نے بچا لیا اُس (نوحؑ) کو اور کشتی والوں کو ‘اور اسے بنا دیا ہم نے تمام جہان والوں کے لیے ایک نشانی۔‘‘
آیت ۱۶ {وَ اِبۡرٰہِیۡمَ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ ؕ} ’’اور ابراہیم ؑکو (بھی رسول بنا کر بھیجا) جب اُس نے کہا اپنی قوم سے کہ اللہ کی بندگی کرواور اُس کا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
{ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶﴾} ’’یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔‘‘
آیت ۱۷ {اِنَّمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا وَّ تَخۡلُقُوۡنَ اِفۡکًا ؕ} ’’جن کو تم ُپوج رہے ہو اللہ کو چھوڑ کر یہ تو محض ُبت ہیں‘ اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو۔‘‘
یہ جو تم نے بت اور ان کے استھان بنائے ہوئے ہیں یہ محض تمہارا افترا ہے۔ اس سب کچھ کی کہیں کوئی سند نہیں ہے‘ نہ عقلی طور پر اور نہ ہی اللہ کی نازل کردہ کسی کتاب میں!
{اِنَّ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَمۡلِکُوۡنَ لَکُمۡ رِزۡقًا فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰہِ الرِّزۡقَ} ’’جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا وہ تمہیں رزق دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے‘پس تم اللہ ہی کے پاس رزق کے طالب بنو۔‘‘
اللہ ہی سے رزق مانگو‘ اُسی سے مشکل کشائی کی درخواست کرو اور اُسی کو حاجت روائی کے لیے پکارو۔
{ وَ اعۡبُدُوۡہُ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾} ’’اور اُسی کی بندگی کر و اور اُسی کا شکر ادا کرو۔ اُسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ ذکر ابھی مزید جاری رہے گا مگر یہاں درمیان میں اچانک ایک طویل جملہ معترضہ آ گیا ہے جس کے تحت خطاب کا رخ پھر سے اس کش مکش کی طرف موڑا جا رہا ہے جو مکہ میں حضورﷺ اور مشرکین کے درمیان جاری تھی۔ چنانچہ اگلی آیت میں براہِ راست مشرکین مکہ سے خطاب ہے:
آیت ۱۸ {وَ اِنۡ تُکَذِّبُوۡا فَقَدۡ کَذَّبَ اُمَمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ} ’’اور اگر تم جھٹلارہے ہو تو (یاد رکھوکہ) تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں۔‘‘
{وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۸﴾} ’’اور رسولؐ پر کوئی ذمہ دار ی نہیں ہے سوائے صاف صاف پہنچا دینے کے۔‘‘
آیت ۱۹ {اَوَ لَمۡ یَرَوۡا کَیۡفَ یُبۡدِئُ اللّٰہُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ} ’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ پہلی بار پید اکرتا ہے‘ پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا!‘‘
{اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۹﴾} ’’یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘
آیت ۲۰ {قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ ثُمَّ اللّٰہُ یُنۡشِیُٔ النَّشۡاَۃَ الۡاٰخِرَۃَ ؕ} ’’ان سے کہیے کہ ذرا گھومو پھرو زمین میں اور دیکھو کس طرح اللہ نے پہلی بار پیدا کیا ‘ پھر اللہ ہی اٹھاتا ہے (یا اٹھائے گا) دوسری بار!‘‘
مخلوق کو دوبارہ پیدا کرنے کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اورقدرت سے دنیا میں بھی چل رہاہے۔ جیسے ایک فصل ختم ہوتی ہے تو دوسری پیدا ہو جاتی ہے اور وہ آخرت میں بھی انسانوں کو پھر سے زندہ کرے گا۔ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔
{اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿ۚ۲۰﴾} ’’یقینا اللہ ہر شے پر قادر ہے۔‘‘
آیت ۲۱ {یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡحَمُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُقۡلَبُوۡنَ ﴿۲۱﴾} ’’وہ جسے چاہے گا عذاب دے گا اور جس پر چاہے گا رحم فرمائے گا‘ اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘
آیت ۲۲ {وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۫ } ’’اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے زمین میں اور نہ آسمان میں‘‘
تم زمین یا آسمان میں کہیں بھی کسی بھی طریقے سے اس کے اختیار سے باہر نہیں نکل سکتے۔
{وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿٪۲۲﴾} ’’اور نہیں ہے اللہ کے مقابلے میں کوئی تمہارا حمایتی اور نہ ہی کوئی مدد گار۔‘‘
عربی میں دُوْنَ کا لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ عبارت کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے کہ کس جگہ اس کے کون سے معنی مناسب ہیں۔ اس جگہ ’’دُوْنِ اللّٰہ‘‘ کا بہتر مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی حمایتی اور مدد گار نہیں ہو گا۔
آیت ۲۳ {وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ لِقَآئِہٖۤ } ’’اور جنہوں نے انکار کیا اللہ کی آیات کا اور اُس کی ملاقات کا‘‘
{اُولٰٓئِکَ یَئِسُوۡا مِنۡ رَّحۡمَتِیۡ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۳﴾} ’’یہی لوگ ہیں جو مایوس ہو چکے ہیں میری رحمت سے اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
آیت ۱۸ سے شروع ہونے والا جملہ معترضہ یہاں پر ختم ہوا۔ اب اگلی آیات میں پھر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے جس کا سلسلہ آیت ۱۷ سے منقطع ہو گیا تھا۔
آیت ۲۴ {فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا اقۡتُلُوۡہُ اَوۡ حَرِّقُوۡہُ ُ} ’’تو کوئی جواب نہیں تھا اُس (ابراہیم ؑ) کی قوم کا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: اسے قتل کر دو یا اس کو جلا دو!‘‘
{فَاَنۡجٰىہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾} ’’تو اللہ نے اُسے نجات دی آگ سے۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
آیت ۲۵ {وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡثَانًا ۙ مَّوَدَّۃَ بَیۡنِکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ} ’’اور ابراہیم ؑنے کہا کہ تم لوگوں نے اللہ کے سوا جو ُبت بنا رکھے ہیں یہ تو بس دنیا کی زندگی میں تمہاری آپس کی محبت کی وجہ سے ہے۔‘‘
یہ بہت اہم بات ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ میں تمہیں متنبہ ّکر چکا ہوں کہ تم لوگ جن بتوں ُکو پوجتے ہو ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ میرے سمجھانے پر تم لوگ یہ بات سمجھ بھی چکے ہو‘ اس سلسلے میں حق تم لوگوں پر پوری طرح منکشف بھی ہو چکا ہے اورتمہارے دل اس بارے میں حق کی گواہی بھی دے چکے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود بھی تم لوگ اگر بتوں کے ساتھ چمٹے ہوئے
ہواور گمراہی کا راستہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو ‘تو اس کی اصل وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تم لوگ آپس کے تعلقات ‘ آپس کی دوستیاں اور رشتہ داریاں نبھا رہے ہو۔ دراصل یہ وہ بنیادی عامل (factor) ہے جو ہر سطح پر لوگوں کے لیے حق کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ ایک معقول اور با شعور شخص کی تان بھی اکثر یہیں پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جی ہاں بات تو درست ہے‘ دل کو بھی لگتی ہے مگر کیا کریں مجبوری ہے! دوسری طرف برادری ہے‘ رشتہ داریاں ہیں‘ دوستیاں ہیں اور کاروبار کی شراکت داریاں ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے چھوڑ دیں؟ سب سے ناتا کیسے توڑ لیں؟ زندہ رہنے کے لیے یہ سب کچھ ضروری ہے۔ انسان بھلا اکیلا کیسے زندگی گزار سکتا ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔
یہ عصبیت ہر جگہ اور ہر دور میں اپنا رنگ دکھاتی ہے‘ حتیٰ کہ خالص دینی بنیادوں پر اٹھنے والی تحریکیں بھی اس کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں یہ سب کچھ یکدم نہیں ہو جاتا بلکہ منفی عصبیت کے خطرناک جراثیم آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے کسی تحریک کی صفوں میں داخل ہوتے ہیں۔ فرض کریں کہ آغاز میں ایک تحریک کا نظریہ بالکل خلوص پر مبنی تھا۔ اس کے کارکنوں کی وابستگی بھی خالصتاً حق شناسی کی بنیاد پر تھی اور ان میں جدو جہد کا جذبہ بھی قابل رشک تھا‘ مگر پھر کسی موڑ پر کہیں کوئی غلطی ہو ئی اور تحریک کسی غلط رخ پر مڑ گئی۔ عموماًایسی غلطیوں کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے ‘بلکہ کچھ عرصے تک تو کارکنوں کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ان کی تحریک غلط موڑ مڑ چکی ہے ۔ لیکن جب اس غلطی کے نتائج واضح طور پر سامنے آنے لگتے ہیں اور کارکنوں کو معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ وہ غلط راستے پر جا رہے ہیں تو اس کے باوجود بھی ان کی اکثریت اس تحریک کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ایسی صورت حال میں وہ لوگ محض ’’عصبیت ‘‘کی وجہ سے اس تحریک کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں۔ غور سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ کسی بھی جماعت یا تنظیم کے اندر ‘خواہ وہ خالص دینی بنیادوں پر ہی کیوں نہ اٹھی ہو ‘ کچھ دیر کے بعد شخصی تعلقات‘ باہمی رشتہ داریاں اور مشترکہ مادی مفادات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گویا ’’جماعتی عصبیت‘‘کے علاوہ چھوٹی چھوٹی دوسری عصبیتیں بھی اس کے حلقے کے اندر فعال ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصے کے بعد ہر ایسی جماعت ایک فرقہ بن جاتی ہے۔
اس نکتے کو اس پہلو سے بھی سمجھنا چاہیے کہ اب نبوت ختم ہو گئی ہے اور قیامت تک دنیا میں کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے زمانے تک اس خلا کو ُپر کرنے کے لیے مندرجہ ذیل تین چیزوں کا اہتمام فرمایا ہے:
(۱) قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری کا اہتمام۔ جبکہ اس سے پہلے کسی کتاب کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی گئی۔
(۲) ہر صدی میں ایک مجدد اٹھا نے کا اہتمام ۔ یہ مجدد دین کے بنیادی حقائق کو تازہ کیا کرے گا اور لوگوں کو دین کی ان حقیقی تعلیمات کی طرف متوجہ کیا کرے گا جنہیں وہ بھول چکے ہوں گے۔
(۳) اس چیز کا اہتمام کہ ہر دور میں ایک جماعت ضرور حق پر قائم رہے گی۔ اس ضمن میں نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے: ((لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ اُمَّتِیْ قَائِمَۃً بِاَمْرِ اللّٰہِ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَذَلَھُمْ اَوْ خَالَفَھُمْ …)) (۱) ____________________________ (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب قولہ لا تزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق …
’’میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی۔ جو لوگ ان کو چھوڑ جائیں گے یا ان کی مخالفت کریں گے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے…‘‘
اب عملی طور پر کیا ہوتا ہے؟ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ ایک مجدد پیدا ہوا‘ اس نے مختلف پہلوؤں سے جدوجہد کی‘ دینی تعلیمات کی تطہیر کر کے اصل حقائق لوگوں پر واضح کر دیے۔ حالات اور زمانے کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق دین کے مطالبات کی تشریح کر کے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی بھر پور کوشش کی۔ کچھ لوگ اس کی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کے گرد جمع ہوئے۔ اعوان و انصار نے اپنا اپنا کردار ادا کیااور ایک مضبوط جماعت قائم ہو گئی۔ ایسی کسی بھی جماعت کے ہراول دستے کے کارکن چونکہ علیٰ وجہ البصیرت اس میں شامل ہوتے ہیں اس لیے ان کی نظریاتی وابستگی خالص اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے ۔ البتہ وقت گزرنے کے کے ساتھ ساتھ اس جماعت میں عصبیت کا عنصر داخل ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب اس کے بہت سے کارکنوں کی نظریاتی وابستگی کمزور ہوتے ہوتے برائے نام رہ جاتی ہے‘ لیکن وہ لوگ صرف اس لیے اس کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں کہ ان کے بزرگوں کا تعلق اس جماعت سے تھا۔ پھر تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے اس عصبیت کا دائرہ اور وسیع ہو جاتا ہے۔ اتنے عرصے میں جماعت کے اندر مضبوط شخصی تعلقات پروان چڑھ چکے ہوتے ہیں‘ رشتہ داریاں بن چکی ہوتی ہیں‘ کاروباری شراکت داریاں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہوتی ہیں اور یوں یہ جماعت ایک معاشرتی حلقے یا فرقے کی صورت اختیار کر جاتی ہے ۔ اب اس کے کارکن اپنی اپنی ترجیحات اور اپنے اپنے مفادات کے تحت اس جماعت یا فرقے کے ساتھ خود کو وابستہ کیے رکھتے ہیں۔
تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے ہر جماعت میں اس خرابی کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑی حقیقت اور دلیل حضورﷺ کا یہ فرمان ہے : ((خَیْرُ اُمَّتِیْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ)) (۱) ’’میری اُمت میں سب سے بہتر میرا دور ہے‘ پھر اس کے بعد والوں کا‘ پھر اس کے بعد والوں کا‘‘۔ یعنی حضورﷺ نے خیر کے حوالے سے درجہ بدرجہ تین نسلوں کا ذکر فرمایا ہے۔ آپؐ کا یہ فرمان اتنی بڑی حقیقت ہے کہ تین نسلوں کے بعد خود آپﷺ کی قائم کردہ جماعت کو بھی زوال آ گیا۔ اور جب حضورﷺ کی قائم کردہ جماعت بھی اس فطری عمل کے مطابق زوال کا شکار ہو گئی تو کوئی دوسری جماعت کیونکر اس کمزوری سے مبرا ّہو سکتی ہے؟ چنانچہ تیسری نسل (ایک صدی) کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر کسی مجدد کو اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور وہ از سر نو انہی بنیادوں پر جدوجہد کا آغاز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ عمل قیامت تک کے زمانے تک تسلسل کے ساتھ چلتا رہے گا۔
چنانچہ آیت زیر مطالعہ کے حوالے سے ہر دور کے مخلص مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حق شناسی کے سلسلے میں خود کو ہر قسم کی عصبیت سے بالاتر رکھ کر پوری دیانت داری سے جائزہ لیتا رہے کہ اس کے دور میں اللہ نے دین کی ____________________________ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب المناقب‘ باب فضائل اصحاب النبیﷺ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب فضائل الصحابۃ‘ باب فضل الصحابۃ ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۔
سربلندی کا کام کس کے حوالے کیا ہے اور وہ کون سی جماعت یا شخصیت ہے جو درست انداز میں اس راہ میں جدوجہد کر رہی ہے۔ پھر جب وہ اس سلسلے میں کسی واضح اور ٹھوس نتیجے پر پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے تعلقات و مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اس شخصیت یا اس جماعت کا ساتھ دے جس کی جد وجہد کا رخ اس کی سمجھ اور معلومات کے مطابق درست ہو۔
{ثُمَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُ بَعۡضُکُمۡ بِبَعۡضٍ وَّ یَلۡعَنُ بَعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ۫} ’’پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے‘‘
{وَّ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ ﴿٭ۙ۲۵﴾} ’’اور تم سب کا ٹھکانا آگ ہو گی اور (اس دن وہاں) تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔‘‘
تمہاری یہ دوستیاں بس دنیا تک ہی محدود ہیں اور تمہارے یہ گٹھ جوڑ صرف یہیں پر تمہارے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ کل قیامت کے دن تمہارے یہ دوست اور رشتہ دار تمہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیں گے۔ اپنے انجام کو دیکھتے ہوئے تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہراؤ گے اور باہم ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجو گے۔ اس مشکل گھڑی میں تمہارا کوئی ُپرسانِ حال نہ ہو گا۔
آیت ۲۶ {فَاٰمَنَ لَہٗ لُوۡطٌ ۘ} ’ ’تو لوطؑ اُس (ابراہیم ؑ) پر ایمان لایا۔‘‘
حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔
{وَ قَالَ اِنِّیۡ مُہَاجِرٌ اِلٰی رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۶﴾} ’’اور ابراہیم ؑ نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔ یقینا وہ زبردست ہے ‘کمال حکمت والا۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کو چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ آپؑ کے پیچھے آپؑ کی قوم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟ اس بارے میں قرآن سے ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ واللہ اعلم!
آیت ۲۷ {وَ وَہَبۡنَا لَہٗۤ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ} ’’ اور ہم نے اسے اسحاقؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوبؑ (جیسا پوتا) عطا کیا‘‘
{وَ جَعَلۡنَا فِیۡ ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّۃَ وَ الۡکِتٰبَ} ’’اور اُس کی نسل میں ہم نے رکھ دی نبوت اور کتاب‘‘
نبوت اور کتاب کی یہ وراثت ایک طویل عرصے تک حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں رہی اور پھر آخری نبوت اور آخری کتاب کی سعادت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے حصے میں آئی۔اس حوالے سے ایک اہم نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد دنیا میں کوئی نبی یا رسول آپؑ کی نسل سے باہر نہیں آیا۔ لیکن آپؑ کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی؟ اس بارے میں ہمیں قطعی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ تورات نے تو حضرت اسحاق علیہ السلام کے صرف ایک بیٹے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل (بنی اسرائیل) کے بارے میں معلومات کو محفوظ کیا ہے۔ حضرت یعقوبؑ کے ایک جڑواں بھائی ’’عیسو‘‘کا ذکر بھی تاریخ میں ملتا ہے لیکن ان کی نسل کے بارے میں ہمیں
کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں کہاں آباد ہوئی۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی ’’قطورہ‘‘ سے بھی آپؑ کے بہت سے بیٹے تھے۔ ان میں سے آپؑ کے صرف ایک بیٹے کا تاریخ میں تذکرہ ملتاہے کہ وہ مدین میں آباد ہوئے تھے اور حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق ان ہی کی نسل سے تھا۔ لیکن ’’بنی قطورہ‘‘ میں سے باقی لوگ کدھر گئے کچھ معلوم نہیں۔
اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے عیسو کی اولاد میں سے کچھ لوگ ہندوستان میں آکر آباد ہوئے اور برہمن کہلوائے۔ میرے خیال میں یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نسلی تعلق کی بنا پرخود کو ’’براہم‘‘ یا ’’براہما‘‘ کہلواتے تھے۔ بعد میں اسی براہم یا براہما کا لفظ ’’برہمن‘‘ بن گیا۔ واللہ اعلم! بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل دنیا میں کہاں کہاں پھیلی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی ‘یہ انسانی تاریخ کا ایک اہم لیکن گمنام باب ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اعلیٰ پائے کا کوئی سکالر تحقیق کرکے اس موضوع کے گمنام گوشوں کو بے نقاب کرے۔
{وَ اٰتَیۡنٰہُ اَجۡرَہٗ فِی الدُّنۡیَا ۚ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾} ’’اور ہم نے اسے دنیا میں بھی اس کا اجر عطا کیا ‘اور آخرت میں بھی وہ یقینا ہمارے نیک بندوں میں سے ہوگا۔‘‘
آیت ۲۸ {وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ ۫ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾} ’’اور (ہم نے بھیجا) لوطؑ کو ‘جب اُس نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایسی بے حیائی کا ارتکاب کر رہے ہو جو تم سے پہلے تمام جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کی۔‘‘
حضرت لوط علیہ السلام کو عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ ان شہروں کے لوگ آپؑ کی قوم میں سے نہیں تھے‘ چنانچہ آیت زیر نظر میں انہیں مجازاً آپؑ کی قوم (قَوْمِہٖ) کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہی رہا ہے کہ کسی بھی قوم کی طرف رسول ہمیشہ اس قوم کے اندر سے مبعوث کیا جاتا رہا ہے۔ اس قاعدے اور قانون میں حضرت لوط علیہ السلام کے حوالے سے یہ واحد استثناء ہے اور یہ استثناء بھی دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کا حصہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جو کوئی بھی پیغمبر ہو گا وہ آپؑ کی قوم سے ہی ہو گا۔ یاد رہے کہ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔
آیت ۲۹ {اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ وَ تَقۡطَعُوۡنَ السَّبِیۡلَ ۬ۙ } ’’کیا تم آتے ہو َمردوں کے پاس(شہوت رانی کے لیے) اور (فطری) راستہ منقطع کرتے ہو‘‘
یعنی فطرت نے اس مقصد کے لیے مرد اور عورت کے ملاپ کا جو طریقہ رکھا ہے اور اسے اولاد پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا ہے‘ تم اس راہ کو کاٹ رہے ہو۔
{وَ تَاۡتُوۡنَ فِیۡ نَادِیۡکُمُ الۡمُنۡکَرَ ؕ} ’’اور یہ مذموم فعل تم اپنی مجلسوں کے اندر کرتے ہو!‘‘
ان کی بے حیائی اور ڈھٹائی کی انتہا یہ تھی کہ وہ اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کھلے عام اپنی مجالس کے اندر کیا کرتے تھے۔
{فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾}
" تو اس کی قوم کا کوئی جواب اس کے سوا نہیں تھا کہ انہوں نے کہا : تم لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو!‘‘
آیت ۳۰ {قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۳۰﴾} ’’اُس نے دعا کی : اے میرے پروردگار! میری مدد فرما اس مفسد قوم کے خلاف۔‘‘
آیت ۳۱ {وَ لَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ بِالۡبُشۡرٰی ۙ} ’’اور جب ہمارے فرستادے ابراہیم ؑ کے پاس بشارت لے کر آئے‘‘
قومِ لوط پر عذاب کی غرض سے جو فرشتے بھیجے گئے تھے وہ پہلے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے۔ ان فرشتوں نے پہلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی اور پھر اس کے بعد:
{قَالُوۡۤا اِنَّا مُہۡلِکُوۡۤا اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ ۚ اِنَّ اَہۡلَہَا کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۱﴾} ’’انہوں نے کہا کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کر نے والے ہیں ۔یقینا اس کے باسی بڑے ظالم ہیں۔‘‘
آیت ۳۲ {قَالَ اِنَّ فِیۡہَا لُوۡطًا ؕ} ’’ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اس میں لوطؑ بھی تو ہے!‘‘
{قَالُوۡا نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِیۡہَا ٝ۫} ’’انہوں نے کہا کہ ہمیں خوب معلوم ہے کون کون اس میں ہے۔‘‘
{لَنُنَجِّیَنَّہٗ وَ اَہۡلَہٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَہٗ ٭۫ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾} ’’ہم ضرور بچا لیں گے اُسے بھی اور اُ س کے گھر والوں کو بھی‘ سوائے اُس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگی۔‘‘
آیت ۳۳ {وَ لَمَّاۤ اَنۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوۡطًا سِیۡٓءَ بِہِمۡ وَ ضَاقَ بِہِمۡ ذَرۡعًا} ’’اور جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو وہ اُن کی وجہ سے بہت پریشان اور دل تنگ ہوا‘‘
حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی کی اصل وجہ یہ تھی کہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کے روپ میں وارد ہوئے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کے اخلاق و کردار سے واقف تھے۔
{وَّ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ ۟ اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ} ’’انہوں نے کہا کہ آپؑ خوف نہ کھائیں اور نہ آپؑ رنجیدہ ہوں‘ ہم تونجات دینے والے ہیں آپؑ کو بھی اور آپؑ کے اہل ِخانہ کو بھی‘‘
{اِلَّا امۡرَاَتَکَ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۳۳﴾} ’’سوائے آپؑ کی بیوی کے‘ وہ ہو گی پیچھے رہ جانے والوں میں سے۔‘‘
آیت ۳۴ {اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤی اَہۡلِ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۳۴﴾} ’’ہم نازل کرنے والے ہیں اس بستی والوں پر ایک عذاب آسمان سے‘ بسبب اس فسق و فجور کے جو وہ کر رہے تھے۔‘‘
آیت ۳۵ {وَ لَقَدۡ تَّرَکۡنَا مِنۡہَاۤ اٰیَۃًۢ بَیِّنَۃً لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۳۵﴾} ’’اور ہم نے چھوڑ دی اس (بستی) میں سے ایک واضح نشانی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘
قومِ لوط کی بستی کے کھنڈرات قریش کی تجارتی شاہراہ پر موجود تھے‘ لہٰذا قرآن میں اہل مکہ کو بار بار مخاطب کر کے یاد دلایا گیا ہے کہ تم لوگ ان عذاب زدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہو اور پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے ہو!اس کے علاوہ بحیرۂ مردار (جسے بحر ِلوط بھی کہا جاتاہے) بھی قومِ لوط کی بربادی کی کھلی نشانی ہے۔
آیت ۳۶ {وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ۙ} ’’اور مدین کی طرف بھیجا ہم نے اُن کے بھائی شعیبؑ کو‘‘
{فَقَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ ارۡجُوا الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرََ} ’’تو اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو !اللہ کی بندگی کرواور آخرت کے دن کی امید رکھو ‘‘
{وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۳۶﴾} ’’اور زمین میں فساد مت مچاتے پھرو۔‘‘
آیت ۳۷ {فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ ﴿۫۳۷﴾} ’’تو انہوں نے اسے جھٹلا دیا ‘چنانچہ انہیں آپکڑا زلزلے نے‘ تو وہ رہ گئے اپنے گھروں کے اندر اوندھے گرے ہوئے۔‘‘
آیت ۳۸ {وَ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ قَدۡ تَّبَیَّنَ لَکُمۡ مِّنۡ مَّسٰکِنِہِمۡ ۟} ’’اور عاد اور ثمود (کو بھی ہم نے ہلاک کیا) اور تم پرواضح ہو چکے ہیں ان کے مساکن۔‘‘
تمہیں سب معلوم ہے کہ یہ قومیں کس کس علاقے میں کہاں کہاں آباد تھیں۔
{وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ} ’’اور شیطان نے مزین کر دیے تھے ان کے لیے ان کے ُ(برے ) اعمال‘‘
شیطان کے زیر اثر انہیں اپنے مشرکانہ افعال و اعمال بہت خوش نما لگتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ ان ہی میں مگن رہتے تھے۔
{فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾} ’’اور اس (شیطان) نے روک دیا تھا انہیں سیدھے راستے سے ‘حالانکہ وہ بہت سمجھ بوجھ والے تھے۔‘‘
استبصار باب ’’استفعال ‘‘سے ہے ۔ اس کے معنی بغور دیکھنا کے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ بڑے باریک بین تھے‘ ہر چیز کا مشاہدہ بڑی احتیاط سے کرتے تھے ‘ بڑے ہوشیار اور دانشور قسم کے لوگ تھے‘ مگر اس کے باوجود انہیں راہِ راست سجھائی نہیں دیتی تھی۔ یہ تضاد اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سمجھدار انسان اپنی ناک کے نیچے کے پتھر سے ٹھوکر کھا جاتاہے۔ آج کے سائنسدانوں ہی کی مثال لے لیجیے ۔ آج یہ لوگ کیسی کیسی ایجادات کر رہے ہیں ۔ کائنات کے کیسے کیسے حقائق تک آج ان کی رسائی ہے۔ اربوں‘ کھربوں نوری سالوں کی دوری پر نئے نئے ستاروں کو دریافت کر رہے ہیں۔ کیسے کیسے آلات کی مدد انہیں حاصل ہے اور ان آلات کے ذریعے کیسے کیسے مشاہدات ان کی نظروں سے گزرتے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان کے ذہن خالق ِکائنات اور مدبر کائنات کی طرف منتقل نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ایک (مادی) آنکھ سے دیکھ رہے ہیں جبکہ ان کی دوسری (روحانی) آنکھ بالکل اندھی ہے۔ ایسے ہی سائنسدانوں اور دانشوروں کے بارے میں اقبال ؔنے کہا تھا: ؎
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا!
یعنی یہ لوگ کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی کھوج میں تو لگے ہوئے ہیں اور تحقیق کے اس میدان میں آئے روز نت نئی کامیابیوں کے جھنڈے بھی گاڑ رہے ہیں‘ لیکن ان میں سے کوئی اپنی ذات کے بارے میں جاننے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ مجھے کہاں جانا ہے؟ میری اس زندگی کا مقصد و مآل کیا ہے؟ ا ن کے نزدیک تو زندگی بھی جانوروں کی طرح پیدا ہونے‘ کھانے پینے‘ نسل بڑھانے اور مر جانے کا نام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ موت پر انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔اگر انسانی زندگی ان دانشوروں کے خیال میں یہی کچھ ہے تو پھر یہ واقعی ایک کھیل ہے۔ اور کھیل بھی بقول بہادر شاہ ؔظفربس چار دن کا ! ؎
عمر ِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے‘ دو انتظار میں !
اس ’’دانشورانہ‘‘ نقطہ نظر کے مطابق جائزہ لیں تو انسانی زندگی کی تہی دامانی اور بے بضاعتی پر ترس آتا ہے۔ ماہ و سال کے اس میزانیہ میں سے کچھ وقت تو بچپنے کے بھولپن میں بیت گیا‘کچھ لڑکپن کے کھیل کود اور شرارتوں میں۔جوانی آئی تو سنجیدہ سوچ کی گویا بساط ہی الٹ گئی۔ جوانی کا خمار اترا اور ہوش سنبھالنے کی فرصت محسوس ہوئی تو بڑھاپے کی چاپ سنائی دینے لگی۔ اور اگر کوئی زیادہ سخت جان ثابت ہوا تو اسے’’ارذل العمر‘‘ میں لِکَیْ لاَ یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا ٭ کے نوشتہ تقدیر کا سامنا کرنا پڑا ---تو کیا یہی ہے انسان کی اس ’’انمول‘‘ زندگی کی حقیقت؟ کیا اسی کے بل پر انسان اشرف المخلوقات بنا تھا؟ اور کیا اسی برتے پر یہ مسجودِ ملائک ٹھہرا تھا؟ اور کیا : ؏ ’’اِک ذرا ہوش میں آنے کے خطاکار ہیں ہم؟‘‘---- نہیں ‘نہیں‘ایسا ہر گز نہیں! انسانی زندگی اتنی ارزاں کیونکر ہو سکتی ہے؟ انسانی زندگی فقط پیدا ہونے ‘کھانے پینے اور چند سال زندہ رہنے کے دورانیے تک ہر گز محدود نہیں ہو سکتی! بلکہ یہ اس تصور سے بہت اعلیٰ اور بہت بالا ایک ابدی حقیقت ہے۔ بقول اقبالؔ: ؎
ُتو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ‘پیہم دواں ‘ہر دم جواں ہے زندگی !
دراصل جس ’’دورانیے‘‘ کو یہ لوگ زندگی سمجھے بیٹھے ہیں وہ تو اصل زندگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ انسانی زندگی کا اصل اور بڑا حصہ تو وہ ہے جس کا آغاز انسان کی موت کے بعد ہونے والا ہے۔ اس دنیا کی زندگی تو انسان کے لیے محض ایک وقفہ امتحان ہے اور بس!
آیت ۳۹ {وَ قَارُوۡنَ وَ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ ۟} ’’اور (اسی طرح ہلاک کیا ہم نے) قارون‘ فرعون اور ہامان کو بھی۔‘‘
{وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مُّوۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ } ’’اور ان کے پاس آئے تھے موسیٰؑ واضح نشانیاں لے کر ‘‘
{فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانُوۡا سٰبِقِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۹﴾} ’’تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا ‘لیکن وہ ہماری پکڑ سے بچ کر نکل جانے والے نہیں تھے۔‘‘
آیت ۴۰ {فَکُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِہٖ ۚ} ’’چنانچہ ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اُس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا۔‘‘
{فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِ حَاصِبًا ۚ} ’’تو ان میں وہ بھی تھے جن پر ہم نے زور دار آندھی بھیجی۔‘‘ ____________________________ ٭ ’’تا کہ کچھ بھی نہ جان سکے وہ‘ جان لینے کے بعد! ‘‘ ( النحل : ۷۰)
یہ آندھی قومِ لوطؑ پر بھی آئی تھی جو زلزلے سے تلپٹ ہو جانے والی بستیوں پر پتھراؤ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اس سے پہلے قومِ عاد پر بھی آندھی کا عذاب آیا تھا‘ جس کا ذکر سورۃ الحاقہ میں اس طرح آیا ہے: {وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرۡصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿۶﴾سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾} ’’ اور قومِ عاد کے لوگ ہلاک کیے گئے تیز آندھی سے ‘جو ان پر مسلط کر دی گئی سات راتیں اور آٹھ دن تک‘ برباد کر دینے کے لیے‘ پس تودیکھتا ان لوگوں کو جو گری ہوئی کھجوروں کے تنوں کی طرح پچھڑے پڑے تھے‘‘۔ روایات میں آتا ہے کہ اس ہوا میں کنکر اور پتھر بھی تھے جو گولیوں اور میزائلوں کی طرح انہیں نشانہ بناتے تھے اور وہ آندھی اتنی زور دار تھی کہ انسانوں کو پٹخ پٹخ کر زمین پر پھینکتی تھی۔
{وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡہُ الصَّیۡحَۃُ ۚ} ’’اور ان میں وہ بھی تھے جنہیں چنگھاڑ نے آ پکڑا۔‘‘
اس سے قومِ ثمود کے لوگ اور اہل مدین مراد ہیں۔
{وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ ۚ} ’’اور ان میں وہ بھی تھے جنہیں ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔‘‘
اس ضمن میں قارون کا ذکر سورۃ القصص میں گزر چکا ہے۔
{وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا ۚ} ’’اور وہ بھی تھے جن کو ہم نے غرق کر دیا ۔‘‘
غرق کیے جانے کا عذاب دو قوموں پر علیحدہ علیحدہ طریقے سے آیا تھا۔قومِ نوحؑ کو تو ان کے گھروں اور شہروں میں ہی غرق کر دیا گیا تھا ‘جبکہ فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو محلوں اور آبادیوں سے نکال کر سمندر میں لے جاکر غرق کیا گیا۔
{وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۰﴾} ’’اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا‘ بلکہ وہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘
آیت ۴۱ {مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ} ’’ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ حمایتی بنا رکھے ہیں ایسی ہے جیسے مکڑی کی مثال‘ جس نے ایک گھر بنایا۔‘‘
اس تمثیل کے اعتبار سے یہ آیت سورت کے اس حصے کی بہت اہم آیت ہے۔ اس تمثیل میں اللہ کے سوا جن مددگاروں کا ذکر ہوا ہے وہ غیر مرئی بھی ہو سکتے ہیں‘ جیسے کوئی کہے کہ مجھے فلاں دیوی کی ِکرپا چاہیے یا کوئی کسی ولی اللہ کی نظر کرم کے سہارے کی بات کرے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ظاہری و معنوی طاقت یا مادی وسائل کی بنیاد پر کوئی شخص کسی فرد‘ قوم یا چیز پر ایسا بھروسا کرے کہ وہ اللہ کے اختیار اور اس کی قدرت کو بھلا بیٹھے۔ جیسے ہم امریکہ کو اپنا پشت پناہ سمجھ کر اُس کی جھولی میں جا بیٹھتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں ایسے تمام سہاروں کو مکڑی کے جالے سے تشبیہہ دے کر یہ حقیقت یاد دلائی گئی ہے کہ اصل اختیار اور قدرت و طاقت کا مالک اللہ ہے ۔ اس کے سہارے اور اس کے توکل ّکو چھوڑ کر کسی اور کا سہارا ڈھونڈنا گویا مکڑی کے گھر میں پناہ لینے کے مترادف ہے۔
{وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾} ’’اور بے شک تمام گھروں میں سب سے زیادہ کمزور گھر مکڑی ہی کا گھر ہے۔کاش کہ انہیں معلوم ہوتا!‘‘
آیت ۴۲ {اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴۲﴾} ’’یقینا اللہ خوب
جانتا ہے جس چیز کو بھی یہ لوگ اُس کے سوا پکارتے ہیں۔ اور وہ زبردست ہے ‘حکمت والا۔‘‘
آیت ۴۳ {وَ تِلۡکَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚ وَ مَا یَعۡقِلُہَاۤ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾} ’’اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لیے ‘لیکن انہیں نہیں سمجھتے مگر وہی لوگ جو علم والے ہیں۔‘‘
آیت ۴۴ {خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾} ’’اللہ نے تخلیق کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔ یقینا اس میں عظیم نشانی ہے ایمان والوں کے لیے۔‘‘
0 Comments