Header Ads Widget

میری زندگی کا سب سے اہم واقعہ - قرآن کی طرف پلٹنا (ممتاز ہاشمی ٹورنٹو کینیڈا)

 "رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم سب میں بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے ۔"

صحیح البخاری حدیث نمبر 5028

میری زندگی کا سب سے اہم واقعہ - قرآن کی طرف پلٹنا

 
ہمارا خاندان ہاشمی (بنو ہاشم قبائل)  آخری اور سب سے عظیم پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارا خاندانی شجرہ    حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزند حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ( کربلا کی جنگ میں بچنے والے واحد  مرد) سے جڑتا  ہے۔ ہمارے عظیم پرداددوں عرب پنسلوانیا سے ان مختلف علاقوں میں  ھجرت کرتے  گئے جہاں  جہاں دین اسلام قائم ہوتا گیا ۔
میرے  پرداددوں کے پرداددوں اس وقت عرب پنسلوانیا، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ہندوستان آئے تھے جب مسلمانوں نے ان علاقوں کو فتح کیا اور شریعت نافذ کر دی گئی۔ اور ہندوستان میں اسلامی عدالتوں کے کام کرنے کے لیے  "مفتیان" کی ضرورت تھی ، جو شریعت کی تشریح اور  اس کے اطلاق کے بارے میں" قاضی "کی مدد کرتا ہے۔ 
ان میں ہاشمی،  قریشی،  عباسی اور دیگر قبائل کے لوگ شامل تھے 
ہمارے خاندانوں نے اسلامی شریعت کے نفاذ تک زیادہ تر اسلامی  شرعی عدالتوں میں "مفتیان" کے عہدہ  پر کام کیا ۔ جب ہندوستان میں برطانوی راج قائم ہوا تو ان اسلامی شریعت کی جگہ برطانوی قوانین نے لے لی اور  شرعی عدالتوں کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس طرح مفتیوں کا کردار بھی ختم ہو گیا۔
ہمارے پرداددوں نے پھر مختلف شعبوں اور پیشوں  میں خدمات کا آغاز کیا۔ کیونکہ ہمارے خاندان والے زیادہ تر تعلیم یافتہ افراد تھے اسلئے اکثریت نے مختلف شعبوں میں نوکری اختیار کی۔
یہ نوٹ کرنا دلچسپی کا باعث ہے کہ ہمارے کچھ رشتے داروں نے بعد میں بھی اپنے خاندان کے نام کے طور پر "مفتی" کا لقب استعمال کرتے آ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سے رشتہ دار اب بھی اپنے خاندانی نام "مفتی" رکھتے ہیں
اسی طرح ہمارے کچھ رشتے دار جو کہ وسطی ایشیا  ریاست،  بخارا  سے ہجرت کر  کے " مفتیان " کا کردار ادا کرنے ہندوستان آئے تھے  ،  تو انہوں نے اپنے آپ کو بخاری کے خاندانی نام سے منسوب کر دیا۔
ہمارے خاندانوں کے اختلاط کی مثال میرے کچھ قریبی رشتہ داروں کے ناموں سے ظاہر ہوتی ہے ،
 
عبدالحمید شاکر بخاری میرے تایا۔
عبدالوحید  بخاری میرے تایا. ان کے بیٹے ارشد بخاری جو این ای ڈی سے گریجویٹ تھے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن میں منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے تھے
مظہر مفتی میرے تایا۔
ڈاکٹر امانت مفتی میرے پھوپا۔
سخاوت مفتی میرے پھوپا۔
ممتاز مفتی (مشہور مصنف) میرے والد کے مامون۔
 
ہندوستان میں برطانوی راج قائم ہونے کے بعد ہمارے زیادہ تر رشتہ داروں نے پنجاب کو اپنایا اور اس میں بھی اکثریت نے پنجاب کے ایک شہر گرداسپور کے ضلع بٹالہ میں رہائش اختیار کی۔ اس طرح بٹالہ میں ایک علاقہ کا نام " مفتیاں محلہ"  کے نام سے جانا جاتا تھا  اس محلے اور اس میں رہائش پذیر ہمارے خاندانوں کا ذکر مشہور مصنف ممتاز مفتی  (میرے والد کے مامون) نے اپنی سوانح حیات کیا ہے۔

میں اپنے بچپن میں  60  کی دھائی میں پتنگ بازی کا ایک بہت شوقین تھااور اپنے  کرشن نگر لاہور کے گھرکی چھت پرکافی وقت صرف کرتا تھا۔ جب بھی، میں اسکول سے گھر آتا تھا تو جلدی جلدی اپنا اسکول کا بیگ چھوڑ کر پتنگ بازی کا سامان لے کرچھت پر چلاجاتا تھا ۔ میری والدہ مجھے نیچےآنے اور کھانا کے لیے آوازیں لگاتی تھیں لیکن میں دوپہر کےکھانے کی پرواہ نہیں کرتا اور ان کے باربار بلانے بعد بھی میں جلدی سے کھانا کھا کر دوبارہ پھر سے چھت پر چلا جاتا تھا ۔ وہ میرے اس شوق پر بہت زیادہ فکر مند تھیں ۔  ہمارے  خاندان / رشتے داروں کے حافظ صاحب ایک بہت بڑے اور عظیم روحانی بزرگ تھے۔ (اللہ سبحان تعالٰی  پاک ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین) ہمارے تمام خاندانوں کے افراد ان کا بہت احترام کرتے تھے اور  والدین اور روسرے رشتے دار ہمشہ ان سے اہم کاموں میں مشورہ اور دعائیں ضرور لیتے تھے ہم سب پر اور خاص طورپر میری ذاتی زندگی پر انکا بہت بڑا اثر ہے۔ وہ جھنگ سے اکثر ہمارے گھر لاہور آتے تھے ۔وہ زیادہ تر ہمارے گھر میں ہی رہتے تھے اور میں زیادہ تر ان کےساتھ اپنے خاندانوں / رشتہ داروں کے گھر لیکر جاتا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ، حافظ صاحب کو  ہمارے تمام خاندانوں / رشتہ داروں سے میراپھوپھا ، ڈاکٹرامانت مفتی اور میرے تایا ، بخاری صاحب  نے ملایا تھا حافظ صاحب کی تلاوت قرآن مجید اورنعت خوانی بہت متاثرکن اور دلکش تھیں مجھےآج بھی انکی خوبصورت  روحانی آواز یاد ہے ،جو اللہ سبحان تعالٰی  اوررسول سے بھرپور عقیدت اور محبت کی عکاسی کرتی تھی ۔ مجھےاس کے بعد ان جیسا نعت خوانی کا کوئی دوسرا نہیں ملا۔ جب بھی، وہ ایک خاص نعت جو وہ اکثر پڑھتے تھے تو میں اسے اپنےگھر سے دورسے ہی سن سکتا تھا۔ یہ نعت جو کہ فارسی میں ہے اس کا روحانی سرور آج تک میرے ذہن میں برقرار ہے ۔ یہ نعت مولانا جامی کا شاہکار ہے
نسیما جانب بطحا گزر کن
زاحوالم محمد را خبر کن
توہی سلطان عالم یا محمد 
 
 
زروے لطف سوے من نظر کن
 بہ برایں جان  مشتاقم بر آں جا 
فداے  روضہ خیر ابشر کن  
مشرف گرچہ شد جامی زلطفش 
خدایا ایں کرم باردگر کن

یہ ان سے رسول اللہ سبحان تعالٰی  صلی اللہ سبحان تعالٰی  علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا انتہائی اظہار تھا اور اللہ سبحان تعالٰی  نے انھیں کی اس خواہش کو قبولیت بخشش ہوئے ان کی آخری آرام گاہ رسول اللہ سبحان تعالٰی  صلی اللہ سبحان تعالٰی  علیہ وسلم کے قریب مدینہ منورہ میں پی بنا دی۔  
ایک دن میری والدہ نے حافظ صاحب سے کہا میرے لیے دعا کریں کہ پتنگ بازی چھوڑ دوں۔ حافظ صاحب نے قرآن مجید سے دعاپڑھی اور میرے سرپر ہاتھ رکھااور مجھے دم کردیا۔ تب حافظ صاحب نے میری والدہ سے کہاکہ وہ میری پتنگ بازی میں مداخلت نہ کریں اور کہا کہ جب میں پتنگ اڑاتا ہوں تو میں آسمان پر اللہ سبحان تعالٰی  کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہوں اور یہی اللہ سبحان تعالٰی  کی طرف سے دل کے بدلنے کا ذریع ہوسکتا ہے۔ مجھے اس پربہت خوشی ہوئی کیونکہ اب مجھےاپنی پتنگ بازی جاری رکھنے کا لائسنس ملا گیا تھا اوراس دن سےمیری والدہ نے میری یپتنگ بازی میں مداخلت نہیں کی ۔ اگرچہ ،مجھے ہر وقت پتنگ بازی کرنے پر والد کے غصےسے خوف رہتا تھا ۔
کراچی منتقلی کے بعد  پتنگ بازی جاری نہیں رہی لیکن یہ واقعہ ہروقت میرے ذہن میں تازہ رہا۔ میری والدہ بھی اس واقعے کےبارے میں سب کوبتاتی تھیں ۔  
میں نے بچپن میں لاہورمیں اس وقت کے اہم اور بڑے سیاسی واقعات کا حصہ رہا اور مشاہدہ کیا۔ اور پاکستان کی  بیشتر اہم سیاسی / مذہبی شخصیات کودیکھا اور ان سےملا ، اور 14 سال کی عمرمیں 1970 کے مشہور انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔
کراچی میں منتقلی کےبعد ، میں نے اسٹوڈنٹ سیاست اور اہم ملکی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شامل رہا۔یہ میری زندگی سب سےمصروف وقت تھا اورمیں نے ان سرگرمیوں میں اپنے زمانہ طالبعلمی ، جوانی  کا بڑا حصہ گزارا۔اس کے بنیادی مقاصد بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ کے استحصالی نظام میں انقلاب لانااور سوشلسٹ اقتصادی نظریہ پر مبنی ایک منصفانہ اقتصادی وسماج نظام کا قیام تھا۔میں نے اس جدوجہد میں پاکستان کی 
 
 
 تاریخ کے سیاسی اور سماجی کارکنوں سمیت عظیم اور دیانتدار لوگوں کی قیادت اور راہنمائی میں حصہ لیا۔ اس وقت مجھے رین اسلام کے عدل پر مبنی اقتصادی اور سماجی تصورکے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا اور نہ ہی میں نے اس کو سمجھنے کی کوشش کی تھی میرا نظریہ بھی عام لوگوں کی طرح اسلام کے بارے میں ایک مذہبی عبادات تک محدود تھا ہماری تمام جدوجہد انتہائی خلوص اور نیک نیتی پر مبنی تھی جس کا واحد مقصد لوگوں کے لیے انصاف اور برابری کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی بنیاد رکھنا تھا۔
این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے  بعد میں نے کراچی کے ترقیاتی ادارے / میونسپل کارپوریشن کے پلاننگ اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں جاب شروع کی۔ اس دوران ملازمت بھی یہ جدوجہد جاری رہی بلکہ اس میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔ اب میرا سامنا پاکستان کے بہت بڑے مافیاز ( بلڈرز اینڈ ڈوئلپرز) کے ساتھ ہوا۔ ان کے ساتھ نہ صرف سرکاری عہدے دار بلکہ دوسرے ادارے بھی ان کے غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔ کیونکہ اس مافیاز کے کام میں سب سے زیادہ منافع خوری شامل ہوتی تھی جس کے اثرات سہولتوں میں کمی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتے تھے۔ مجھے اس جدوجہد میں بہت سی مشکلات کا سامناکرنا پڑا اور جس میں میری / کنبہ کی زندگیوں کو خطرہ تھا، ان حالات میں اللہ سبحان تعالٰی  نے میرے لیے کینیڈا ہجرت کامنصوبہ بنایا۔ یہ اللہ سبحان تعالٰی  کا معجزہ تھا، کیونکہ اس کے متعلق زندگی میں کبھی بھی سوچا تک نہیں تھا یہ سب اللہ سبحان تعالٰی  کی طرف سے پیدا کیے گئے حالات اور واقعات کا نتیجہ تھا ہجرت کے بعد زندگی صفر سے شروع ہوئی اور یہ میری زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ میں نے 20 سال بعد ایک بار پھر کینیڈا میں انجینئرنگ کی اضافی تعلیم حاصل کی جو یہاں پر انجینئرنگ جاب کے لئے لازمی تھی ۔ جب میں نے 70 کی دہائی کے آخرمیں پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی تو اس وقت سائنسی کیلکولیٹرز ابھی متعارف کروائےگئے تھے۔ لیکن اب 20 سال کے بعدانجینئرنگ کی تعلیم کا زیادہ ترحصہ کمپیوٹر سوفٹویئر پر تھا۔ اس موقع پر اللہ سبحان تعالٰی  نے پھر مدد کی اور  اللہ سبحان تعالٰی  کی مددسے اس مرحلے میں کامیاب ہوئی ۔ ہجرت نے مجھے اس معاشرے اور یہاں پر سرمایہ دارنہ اور لبرل ازم پر مبنی نظام کا قریب سے مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کاموقع فراہم کیا۔ یہ کوئی مثالی نظام نہیں تھا اور میں اس معاشرتی نا انصافی اور لبرلازم کے نظریات اور ان کے عملی نفاذ کے بارے میں جو تصور تھا اس کو مکمل متضاد پایا اس دوران دل اور دماغ کنفیوژن اور کشمکش کا شکار تھا ۔ ان حالات میں دل سچائی کی تلاش میں تھا  
 
 
اورپھر یوں ایک واقعہ پیش آیا۔ اگست 2009 کے پہلے ہفتہ میں اپنے کمپیوٹرپر ایک فورم پر بحث میں مصروف تھا اوربحث کا ضوع قرآن مجید اور حدیث کے حوالہ سےتھا (اس موضوع کی تفصیلات جوہماری زندگی میں واقع بہت اہم ہےاس پر کھبی بعد میں بات ہو گی )۔ اس دوران میں نے قرآن مجید کے حوالوں کی تصدیق کیلئے قرآن مجید کا رخ کیا ۔اس وقت میں نے جسمانی طور پر محسوس کیا کہ جیسے میرا دل زور سے دھڑک اور گھوم رہا تھا اور میں نے اپنے دل میں ایک واضح پیغام محسوس کیا جو مجھے قرآن مجید کی طرف رجوع کیلئے آواز دے رہا تھا۔ بعد میں ،مجھے دل کی اس تبدیلی پرایک حدیث کےبارے میں معلوم ہوا۔  

"میں نے ام سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: ام المؤمنین! جب رسول اللہ سبحان تعالٰی  صلی اللہ سبحان تعالٰی  علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“، پڑھتے تھے، خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ سبحان تعالٰی  کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ سبحان تعالٰی  کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ سبحان تعالٰی  جسے چاہتا ہے  ( دین حق پر )  قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے پھر  ( راوی حدیث )  معاذ نے آیت: «ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی  ( گمراہی )  نہ پیدا کر“  ( آل عمران: ۸ ) ، پڑھی۔  
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ سبحان تعالٰی  بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ "

Jam e Tirmazi#3522
 
اس وقت میں نےبہت طویل عرصےکے بعد قرآن مجید کھولا تھا اورجب میں نےبحث و مباحثےسے متعلق موادکو قرآن مجید سے تصدیق کی تو، میں اس دن سے ایک بالکل ہی تبدیل شدہ شخص تھا۔اس لمحے میرے ذہن میں پہلی بات جو آئی وہ 40 سال پرانا واقعہ تھا اور میں نے 
 
 
محسوس کیا کہ میری والدہ نے حافظ صاحب سے جس دعا کے لئے درخواست کی تھی وہ آج پوری ہو گئی جو اسوقت ان کے خلوص کا ثبوت اور اللہ سبحان تعالٰی  کی طرف سے اس کی تکمیل کا اہتمام یوا۔
اب  میں قرآن مجید کو سمجھناچاہتا تھا اور مکمل طور پر قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہتا ہ تھا ،ایک بار پھرمیرے دل نےمجھے ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ سے قرآن مجید کا علم حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں انکو اپنےبچپن سے  جانتا تھا اس وقت وہ جوان تھے اور لاہورمیں ہمارےگھر کی گلی میں انہوں  نے اپنا کلینک کھولا تھا ۔ جب بھی گھر میں کوئی بیمار ہوتا تھا میری والدہ اسکو ہمیشہ ان  کےپاس لے جاتی تھیں اور واقعتاً ان کی دی ہوئی دوائی میں اللہ سبحان تعالٰی  نے ایسی تاثیر دی تھی کہ اس دوائی کی ایک خوراک لینے کے بعدہی ہمیں طبیعت سنبھل جاتی تھی ۔ اور میں نے اس وقت ان کےکلینک اور گھر میں قرآن مجید اور متعلقہ کتابوں سے بھراہوا دیکھا تھا ۔جب بھی کوئی زیادہ بیمار ہوتا اور وہ چلنے کے قابل نہ ہوتا تومیں اکثر، ان کو اپنے ساتھ پیدل گھر لےجانے کے لیے جاتا تھا۔ وہ اتنےشائستہ اور مخلص تھے کہ فوراً میرے ساتھ اپنا بیگ لے کر مریض کو دیکھنے ساتھ چل کم ہمارے گھر جاتے تھے میں ہر ایک کو مشورہ دوں گا جوقرآن اور دین اسلام کاحقیقی علم حاصل کرناچاہتا ہے تو وہ   ڈاکٹراسرار احمد کے نصف صدی پر محیط ان کی کاوشوں کو جو کہ آج کے دور جدید کی تمام ٹیکنالوجیز (کتب، آڈیوز، وڈیوز) کی شکل میں موجود مواد کو پڑھ کر حاصل کرے۔ اللہ سبحان تعالٰی  ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔  

تحریر: ممتاز ہاشمی

 

Post a Comment

0 Comments