جون 7، 2023 ( ایک برس قبل لکھا گیا مضمون)
تحریر: ممتاز ہاشمی
مئی 9، کی ناکام بغاوت کے بعد کے واقعات اور حالات کو
سمجھنے کے لیے کچھ حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
جیسا کہ ماضی میں کئی مواقع پر یہ بات ریکارڈ پر لا
چکا ہوں کہ جب سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو سیاست سے دستبردار کرنے کا
اہتمام کیا ہے اس کے بعد دوسرے بڑے ریاستی ادارے عدلیہ نے یہ کام بھرپور طریقے سے
سنبھال لیا ہے اس کو اس کام میں باجوہ ، فیض حمید اینڈ کمپنی کی باقیات، سول
بیوروکریسی، عمران خان اور ان تمام اشرافیہ کے طبقات کی پشت پناہی حاصل ہے جو قیام
پاکستان کے بعد سے ملک میں قابض ہیں اور انہوں نے ہر دور میں جمہوریت کو نقصان
پہنچانے اور آمریت کو مضبوط بنانے کیلئے اپنے وسائل اور اختیارات کا ناجائز استعمال
کیا ہے اور اس طرح ملک میں اداروں کو مضبوط ہو کرکام کرنے کا موقع نہیں ملا۔
اگر ان تمام حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے جو کہ
پچھلے ایک سال سے دیکھنے کو ملے ہی تو ان تمام واقعات میں عدلیہ اوع اس کی پشت
پناہی کرنے والے کے گھناؤنے کرداروں واضح طور پر سامنے آتے ہیں۔
عدلیہ نے اس تمام عرصے میں ملک میں عدم استحکام پیدا
کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ہے اور اس کے ذمہ دار چیف جسٹس بندیال اور ہم
خیال ججز، لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس
شامل ہیں جو ہر قسم کے سیاسی مقدمات کو سنتے رہے ہیں اور ملک و عوام دشمن عناصر کو
غیر قانونی تحفظ فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اس دوران سپریم کورٹ میں تمام سینئر
ترین ججز کو اہم نوعیت کے سیاسی اور آئینی مقدمات سے دور رکھا گیا ہے۔
ان مقدمات کے متنازعہ فیصلوں نے ملک میں عدم استحکام
پیدا کیا اور ان فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی آجتک سماعت نہیں کی گئی۔
یہ بنیادی وجہ ہے جو آج پاکستان کو دنیا میں انصاف کی
فراہمی میں انتہائی نچلے درجے پر فائز کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججوں بشمول جسٹس قاضی فائز
عیسی جو کہ اب چند ماہ بعد چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں اور دیگر سینئر
ترین ججز نے مختلف اوقات پر ان معاملات پر توجہ دلائی ہے مگر موجودہ چیف
جسٹس بندیال جو کہ خود ہی اس گھناؤنے ایجنڈے کا حصہ ہے اس نے انصاف کے تمام تقاضوں
کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا رہا ہے۔
مئی 9 کی ناکام بغاوت کے بعد بھی عدلیہ کی طرف
سے ان عوام و ملک دشمن عناصر کو غیر قانونی تحفظ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسوقت جبکہ اداروں نے اس بغاوت کو جس میں ملکی اور
غیر ملکی سہولت کاروں کی امداد شامل تھیں پو قابو پا لیا ہے اور اس بغاوت میں ملوث
عناصر کے خلاف قانونی کارروائیوں کا آغاز کیا جا چکا ہے تو اس میں عدلیہ کی طرف سے
رکاوٹیں پیدا کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
یہ سب عناصر اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ
ان کو اپنی کرپشن اور اپنے غیر آئینی اقدامات کا واضح طور پر علم ہے اور وہ اس سے
بچنے کے لئے ہر ممکن طریقے استعمال کر رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں چند آڈیوز ایسی ریکارڈ پر آئی ہیں جن نے
ان گھناؤنے کرداروں کو بےنقاب کر دیا ہے۔ اور اب یہ اس پر کاروائی کرنے میں
رکاوٹیں ڈال رہیں ہیں لاہور ہائیکورٹ جو کی داماد ہائیکورٹ کے نام سے بھی جانا
جاتا ہے اس کے داماد فیصل آباد میں مئی 9، کو آی آئس آی کے دفتر پر حملہ میں شامل
ہیں اور اس کو قانونی کاروائی کا سامنا ہے۔
ان حالات میں جبکہ اب اس بغاوت میں ملوث عناصر کے
خلاف قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے تو اس بات کی انتہائی ضرورت ہے کہ عدلیہ
کو اس قانونی عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روکنے کے لیے موثر اقدامات کئے جائیں
تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔
اس موقع پر ان نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کا
چہرہ بھی بےنقاب ہو جاتا ہے جو اس بغاوت میں ملوث عناصر کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں
اور ان کے کسی کو ملٹری کورٹس میں چلانے کی مخالفت کر رہے ہیں یہ بات واضح رہے کہ
جن کیسز کا ملٹری کورٹس میں چلانے کا ذکر آہین میں شامل ہے ان کو صرف اور صرف
ملٹری کورٹس میں ہی چلایا جا سکتا ہے اور ان کو آئینی طور پر اس کے فیصلوں پر
اپیلوں کا حق حاصل ہے مگر ان کا ایجنڈا یہ ہے کہ ان کیسز کو بندیال اور داماد
ہائیکورٹ کے ماتحت عدالتوں میں چلایا جائے اور ان تمام مجرموں کو سزا سے بچائے جائے
جسطرح سے ان کورٹس میں حالیہ دنوں میں دہشتگردی میں ملوث عناصر کو بغیر کیس کے
چلانے کے بڑی کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف خواتین کے لیے امتیازی سلوک کا مطالبہ کیا
جا رہا ہے جو کی ان کی منافقت بےنقاب کرتا ہے ایک طرف وہ خواتین کے برابری کے حقوق
کا نعرہ لگاتے ہیں مگر جب وہ جرائم میں ملوث پائی جائیں تو ان کے لیے امتیازی سلوک
کا مطالبہ کرتے ہیں واضح رہے کہ جرائم کا تعلق کسی جنس ، نسل اور طبقات سے نہیں
ہوتا اسلئے ہر ایک سے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لانا آہین اور قانون کا
تقاضا ہے۔
اسلئے اب حکومت اور ریاستی اداروں پر لازم ہے
کہ وہ ملک کی سلامتی اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور ان کرپٹ عناصر جو
کہ عدلیہ اور سول بیوروکریسی اور دیگر پرائیویٹ سیکٹر میں موجود ہیں ان سے نمٹنے
کیلئے پوری قوت سے کاروائیاں شروع کی جائیں۔
اس عمل سے نہ صرف ملک میں استحکام پیدا ہو گا بلکہ یہ
معاشی بحران کے خاتمے کیلئے بھی ایک اہم قدم ہو گا۔
اب ان تمام آڈیوز کی مکمل طور پر تحقیقات کرنے اور ان
تمام لوگوں کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق اقدامات اٹھانا لازمی ہے۔
اس دوران سپریم کورٹ کے ان تمام ججوں کو جو پچھلے چند
ماہ میں ان تمام اہم سیاسی اور آئینی مقدمات کو سنتے رہے ہیں ان کو مزید ان قسم کے
مقدمات سننے سے روکنے کی ضرورت ہے۔


0 Comments