Ms. Hela Tekali is internationally recognized poetess from Tunisia. She is author of some valuable books. Her main subjects in her poetry are spiritual elevation and the protection of human rights. She is a staunch harbinger of peace. Her book of English poetry titled “ The Plight of Palestine” depicts her deep pain, anguish and annoyance on the genocide of the innocent civilians of Gaza Stip/ Palestine. Theses poems are the voice of her faith, compassion and commitment to humanity, justice and peace. Her potent voice against Israelis aggression is the voice of all lovers of peace and humanity worldwide. I share her concerns and compassion to make the whole world an abode of happiness for all humans, irrespective of their differences of color, country, class and creed. Israel is an aggressor and must act according to the UN resolutions for permanent peace in the Middle East.
Dr. Maqsood Jafri
New York
June 8, 2024
تازہ غزل
ڈاکٹر مقصود جعفری
@
اُنسِ انساں کا تقاضا ہے رہو پیار کے ساتھ
غمزدہ کی تو گذر جاتی ہے غمخوار کے ساتھ
مُجھ کو سنگلاخ چٹانوں سے گزرنا ہو گا
مَیں تو چل ہی نہیں سکتا رہِ ہموار کے ساتھ
فیصلہ جو بھی ہوکرنا، وہ زباں سے کرنا
فیصلے دل کے تو ہوتے نہیں تلوار کے ساتھ
اب مَیں رہزن سے کروں شکوہ تو کیسے مَیں کروں
مَیں نے رہبر بھی کئی دیکھے ہیں غدّار کے ساتھ
روشنی جو تھی کبھی غارِ حرا سے پُھوٹی
وہ مرے دل پہ گری بارشِ انوار کے ساتھ
بات کرتے ہوۓ سر شرم سے جُھک جاتا ہے
قافلے والوں نے جو کُچھ کیا سردار کے ساتھ
اِن کی تعمیر میں تخریب کا پہلو ہو گا
جوبنا دیتے ہیں دیوار کو دیوار کے ساتھ
کاغذی پھولوں میں خوشبو تو نہیں ہو سکتی
عظمتِ نسلِ بشر ہوتی ہے کردار کے ساتھ
چشمِ نرگس کی ستائش بھی بجا ہے لیکن
دیکھ گُلشن کو مگر دیدۂ بیدار کے ساتھ
جب سے سانپوں نے یہاں باغ میں ڈیرے ڈالے
بُلبلیں تب سے اُلجھنے لگیں اشجار کے ساتھ
مَیں نے میخانے میں میخانے کی حُرمت دیکھی
جام کو رقص میں دیکھا یہاں میخوار کے ساتھ
مسلکِ وحدتِ انسان ہے مسلک میرا
فکرِ انساں ہوئی روشن مرے افکار کے ساتھ
جعفری صاحبِ دل ہوں، یہ تمنّا ہے مری
زندگی جتنی ہے، گزرے مری دلدار کے ساتھ
۸ جون ۲۰۲۴
نیو یارک

0 Comments