Header Ads Widget

ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب بیان القرآن حصہ ششم سے اقتباس



سُورۃُ الاَحزَاب آیات 9 تا 20

{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾وَ اِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا ۚ وَ یَسۡتَاۡذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوۡرَۃٌ ؕۛ وَ مَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾وَ لَوۡ دُخِلَتۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَۃَ لَاٰتَوۡہَا وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا ﴿۱۴﴾وَ لَقَدۡ کَانُوۡا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ لَا یُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ ؕ وَ کَانَ عَہۡدُ اللّٰہِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۵﴾قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعۡصِمُکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ سُوۡٓءًا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ رَحۡمَۃً ؕ وَ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الۡقَآئِلِیۡنَ لِاِخۡوَانِہِمۡ ہَلُمَّ اِلَیۡنَا ۚ وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۙ۱۸﴾اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ ۚۖ فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَیۡتَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ تَدُوۡرُ اَعۡیُنُہُمۡ کَالَّذِیۡ یُغۡشٰی عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ۚ فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۹﴾یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ یَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّہُمۡ بَادُوۡنَ فِی الۡاَعۡرَابِ یَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ ؕ وَ لَوۡ کَانُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۲۰﴾}
  اب دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوۂ احزاب کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ ۵ ہجری میں ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار مدینہ سے نکالے گئے یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سرداروں نے ادا کیا۔ بنو نضیر کو عہد شکنی کی سزا کے طور پر ۴ ہجری میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ مدینہ سے نکلنے کے بعد وہ لوگ خیبر میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا قلع قمع ہو جائے تو انہیں دوبارہ مدینہ میں آباد ہونے کا موقع مل جائے گا۔چنانچہ انہوں نے بڑی تگ ودو سے عرب کی تمام مسلم مخالف
قوتوں کو متحد کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ابو عامر راہب(جس کا تذکرہ اس سے پہلے سورۃ التوبہ کے مطالعے کے دوران مسجد ضرار کے حوالے سے آیت ۱۰۷ کی تشریح کے ضمن میں ہو چکا ہے) کی مدد سے قریش ِمکہ ‘نجد کے بنو غطفان اور عرب کے دیگر چھوٹے بڑے قبائل سے رابطہ کیا۔ اپنی اس مہم کے نتیجے میں وہ لگ بھگ بارہ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر تیار کرنے اور اس کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہو گئے۔ عربوں کےمخصوص قبائلی نظام کی تاریخ کو مد نظر رکھا جائے تو اس زمانے میں اتنے بڑے پیمانے پر لشکر کشی ایک انہونی سی بات تھی۔ 
 دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد مشکل سے تین ہزار تھی اور اس میں بھی منافقین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس کے علاوہ ایک بہت طاقتور یہودی قبیلے بنو قریظہ کی مدینہ میں موجودگی بھی ایک بہت بڑے خطرے کی علامت تھی۔ مدینہ میں ان لوگوں نے مضبوط گڑھیاں بنا رکھی تھیں۔اس سے پہلے مدینہ کے دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں سے غداری کر چکے تھے۔ اس پس منظر میں اس طاقتور یہودی قبیلے کی طرف سے بھی نہ صرف غداری کا اندیشہ تھا‘ بلکہ حملہ آور قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ گٹھ جوڑ کے بارے میں ٹھوس اطلاعات بھی آ چکی تھیں۔ ان حالات میں مٹھی بھر مسلمانوں کے لیے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنا بظاہر ممکن نہیں تھا۔ 
 اس صورت حال میں حضورﷺ نے جب صحابہؓ سے مشورہ کیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خندق کھودنے کی تجویز سامنے آئی۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ایران سے تھا۔ آپؓ نے ایران میں رائج اس مخصوص طرزِ دفاع کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی روشنی میں یہ مشورہ دیا جو حضورﷺ نے پسند فرمایا۔ محل وقوع کے اعتبار سے مدینہ کی آبادی تین اطراف سے قدرتی طور پر محفوظ تھی۔ مشرق اور مغرب میں ّحرات (لاوے کی چٹانوں) پر مشتمل علاقہ تھا۔ اس علاقے میں اونٹوں اور گھوڑوں کی نقل و حرکت نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان دونوں اطراف سے کسی بڑے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ عقب میں جنوب کی طرف بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور چونکہ ان کے ساتھ حضورﷺ کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور ابھی تک ان کی طرف سے کسی بد عہدی کا اظہار نہیں ہوا تھا اس لیے بظاہر یہ سمت بھی محفوظ تھی۔ اس طرح مدینہ کی صرف شمال مغربی سمت میں ہی ایسا علاقہ تھا جہاں سے اجتماعی فوج کشی کا خطرہ باقی رہ جاتا تھا۔ اس لیے اس علاقہ میں حضورﷺ نے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ خندق کا مقصد اس سمت سے کسی بڑے حملے‘خصوصاً گھڑ سوار دستوں کی یلغار کو نا ممکن بنانا تھا۔ اگر یکبارگی کسی بڑے حملے کا امکان نہ رہتا تو انفرادی طور پر خندق پار کرنے والے جنگجوئوں کے ساتھ آسانی سے نپٹا جا سکتا تھا۔ 
 حضورﷺ کے حکم سے خندق کی کھدائی کا کام شروع ہو گیااو ر چھ دن کے اندر اندر یہ خندق تیار ہو گئی۔ لیکن خندق تو محض ایک مسئلے کا حل تھا‘جبکہ حالات تھے کہ انسانی تصور سے بھی بڑھ کر گھمبیر تھے۔ جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر سے مقابلہ‘منافقین کی مدینہ کے اندر آستین کے سانپوں کی حیثیت سے موجودگی‘ شدید سردی کا موسم ‘قحط کا زمانہ‘رسد کی شدید کمی اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف سے بد عہدی کا خدشہ! غرض خطرات و مسائل کا ایک سمندر تھا جس کی خوفناک لہریں پے درپے مسلمانوں پر اپنے تھپیڑوں کی یلغار کیے بڑھتی
ہی چلی جا رہی تھیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے صبر اور امتحان کے لیے ایک بہت ہی سخت اور خوفناک صورت پیدا کر دی تھی۔
 اسی دوران حضرت ُنعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنوغطفان کی شاخ اَشجع قبیلے سے تھا‘ حضورﷺ سے ملنے مدینہ آئے اور عرض کیا کہ میں اسلام قبو ل کر چکا ہوں مگر اس بارے میں ابھی تک کسی کو علم نہیں ۔ اگر آپﷺ مجھے اجازت دیں تو میں بڑی آسانی سے حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے مابین بد اعتمادی پیدا کر سکتا ہوں۔ واضح رہے کہ بنوقریظہ اور حملہ آور قبائل کے مابین سلسلہ ٔجنبانی کا آغاز ہو چکا تھا۔ بنونضیر کا یہودی سردار حُیّ بن اخطب بنوقریظہ کے پاس پہنچا تھا اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی پر آمادہ کر چکا تھا۔ اس طر ح بنوقریظہ عہدشکنی کے مرتکب ہو چکے تھے۔چنانچہ حضورﷺ کی اجازت سے حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ بنوقریظہ کے پاس گئے اور انہیں سمجھایا کہ دیکھو محمد (ﷺ) کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اگر تم ان سے عہد شکنی کر کے حملہ آور قبائل کا ساتھ دو گے تو عین ممکن ہے کہ تم اپنی توقعات کے مطابق مسلمانوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاؤ۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو تمہارا کیا بنے گا؟ آخر اس کا امکان تو موجود ہے نا‘ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو!ایسی صورت میں باہر سے آئے ہوئے سب لوگ تو محاصرہ اٹھا کر چلتے بنیں گے اور تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ حملہ آور قبائل کا ساتھ دینے سے پہلے تم لوگ اپنی حفاظت کی ضمانت کے طور پر ان سے کچھ افراد بطور یرغمال مانگ لو۔ 
 اس کے بعد حضرت نعیم رضی اللہ عنہ حملہ آور قبائل کے سرداروں کے پاس گئے اور انہیں خبردار کیا کہ بنو قریظہ تم لوگوں سے مخلص نہیں‘وہ تم سے کچھ آدمی بطور یرغمال مانگنے کا منصوبہ بنارہے ہیں تا کہ تمہارے آدمی مسلمانوں کے حوالے کر کے انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ چنانچہ تم لوگ ان سے خبردار رہنا اور کسی قیمت پر بھی اپنے آدمی ان کے سپرد نہ کرنا! حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے درمیان مسلمانوں پر مشترکہ حملے کے بارے میں معاہدہ طے پانے ہی والاتھا ‘لیکن معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے جب بنو قریظہ نے حملہ آور قبائل سے کچھ افراد بطور ضمانت مانگے تو انہوں نے ان کا یہ مطالبہ رد کر دیا۔اس طرح فریقین کے اندر بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ناکام ہو گیا۔ 
 بنو قریظہ کی طرف سے عدم تعاون کے بعد حملہ آور لشکر کی کامیابی کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔ دوسری طرف انہیں موسم کی شدت اور رسد کی قلت کی وجہ سے بھی پریشانی کا سامنا تھا۔ ان حالات میں ایک رات قدرتِ الٰہی سے شدید آندھی آئی جس سے ان کے کیمپ کی ہر چیز درہم برہم ہو گئی۔ خیمے اُکھڑ گئے‘کھانے کی دیگیں الٹ گئیں اور جانور دہشت زدہ ہو گئے۔ اس غیبی وار کی شدت کے سامنے ان کی ہمتیں بالکل ہی جواب دے گئیں۔ چنانچہ اسی افراتفری کے عالم َمیں تمام قبائل نے واپسی کی راہ لی۔ 
 یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک جاری رہا۔ مسلمانوں کے لیے تویہ ایک بہت سخت امتحان تھا ہی‘ جس سے وہ سرخرو ہو کر نکلے‘ لیکن دوسری طرف اس آزمائش سے منافقین کے نفاق کا پردہ بھی چاک ہو گیااور ایک ایک منافق کا ُخبث ِباطن اس کی زبان پر آ گیا۔ یہی دراصل اس آزمائش کا مقصد بھی تھا: {لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ }
(الانفال : ۳۷) ’’ تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے چھانٹ کر الگ کر دے‘‘---- سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع میں یہی اصول اور قانون اللہ تعالیٰ نے سخت تاکیدی الفاظ میں دو دفعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے فرمایا: {فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾} ’’چنانچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گااُن کو جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔‘‘پھر اس کے بعد دوبارہ فرمایا: {وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾} ’’اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو‘اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی!‘‘
 اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح ۵نبویؐ میں مکہ کے اندر غلاموں‘نوجوانوں اور بے سہارا مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا (اس کی تفصیل سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے) بالکل اسی طرح ۵ ہجری میں مدینہ کے اندر بھی مسلمانوں کو غزوۂ خندق کی صورت میں سخت ترین آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔ بلکہ اس ضمن میں میری رائے (واللہ اعلم) تو یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ پر ذاتی طور پر سب سے مشکل وقت آپؐ کے سفر ِطائف کے دوران آیا تھا‘ جبکہ مسلمانوں کو اجتماعی سطح پر شدید ترین تکلیف دہ صورت حال کا سامنا غزوۂ خندق کے موقع پر کرنا پڑا۔ 
آیت ۹ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ } ’’اے اہل ِایمان! یاد کرو اللہ کے اُس انعام کو جو تم لوگوں پر ہوا‘‘
  {اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ } ’’جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکر‘‘
 یہ لشکر مدینہ پر چاروں طرف سے چڑھ آئے تھے۔ بنو غطفان اور بنو خزاعہ کے لشکروں نے مشرق کی طرف سے چڑھائی کی ‘جنوب مغرب کی طرف سے قریش ِمکہ حملہ آور ہوئے‘ جبکہ شمال کی جانب سے انہیں بنو نضیر اور خیبر کے دوسرے یہودی قبائل کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔
  {فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ } ’’تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔‘‘
 یعنی آندھی کی کیفیت تو تم لوگوں نے بھی دیکھی تھی ‘لیکن اس کے علاوہ ہم نے ان پر فرشتوں کے لشکر بھی بھیجے تھے جو تم کو نظر نہیں آئے۔
  {وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾} ’’اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔‘‘
  اس ایک جملے میں محاصرے کے دوران ہر فرد کے رویے کا احاطہ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کس کا ایمان غیر متزلزل رہا ‘کس کی نیت میں نفاق تھا اور کون اپنے نفاق کو زبان پر لے آیا‘اللہ کو سب معلوم ہے۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک رہا۔ اس دوران اِکا دکا ّمقامات پر معرکہ آرائی بھی ہوئی۔ اس حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عرب کے مشہور پہلوان عبد ِوُدّ کے درمیان ہونے والا مقابلہ تاریخ میں بہت مشہورہے۔ عبد ِوُدّ پورے عرب کا مانا ہوا شہسوار تھا۔ اس کی عمر نوے ّسال تھی مگر وہ اس عمر میں بھی ہزار جنگجوئوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ کوئی اکیلا شخص اس کے مقابلے میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔وہ گھوڑے کو بھگاتے ہوئے ایک ہی زقند میں 
خندق پار کرنے میں کامیاب ہو گیااور تن ِتنہا اس طرف آ کر دعوتِ مبارزت دی کہ تم میں سے کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے؟ ادھر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔ 
 حضرت علیؓ کے سامنے آنے پر اُس نے کہا کہ میں اپنے مقابل آنے والے ہر شخص کو تین باتیں کہنے کا موقع دیتا ہوں اور ان میں سے ایک بات ضرور قبول کرتا ہوں۔ اس لیے تم اپنی تین خواہشات کا اظہار کرو۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری پہلی خواہش تو یہ ہے کہ تم ایمان لے آؤ۔ اُس نے کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا۔ حضرت علیؓ نے اپنی دوسری خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم جنگ سے واپس چلے جاؤ! اُس نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں۔ ان دونوں باتوں سے انکار پر آپؓ نے فرمایا کہ پھر آؤ اور مجھ سے مقابلہ کرو! اس پر اس نے ایک بھر پور قہقہہ لگاتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ آج تک پورے عرب میں اس کے سامنے کسی کو ایسا کہنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ بہر حال دو بدو مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے واصل ِجہنم کر دیا۔ اس طرح کے اِکا ّدُکا انفرادی مقابلوں کے علاوہ دونوں لشکروں کے درمیان کسی بڑے اجتماعی معرکے کی نوبت نہیں آئی۔
 محاصرے کے غیر متوقع طور پر طول کھینچنے سے کفار کے لشکر میں روز بروزبد دلی پھیلتی جا رہی تھی۔ اس دوران حضرت ُنعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی سے بھی بنو قریظہ اور حملہ آور قبائل کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہو گئی۔طویل محاصرے کے بعد اچانک خوفناک آندھی نے بھی اپنا رنگ دکھایا۔ اس پر مستزاد فرشتوں کے لشکروں کی دہشت تھی جس کی کیفیت کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس سب کچھ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر کو اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ناکام و نا مراد لوٹنا پڑا ---- آئندہ آیات میں محاصرے کے دوران کی صورتِ حال پر مزید تبصرہ کیا جا رہا ہے:
آیت ۱۰ {اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ } ’’جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی‘‘
 جزیرہ نمائے عرب کا جغرافیائی محل وقوع پہلے بھی کئی بار زیر بحث آ چکا ہے۔ اس میں شمالاً جنوباً حجاز کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔ مکہ ‘طائف اور مدینہ حجاز ہی میں واقع ہیں‘ جبکہ اسی علاقے میں اوپر شمال کی طرف تبوک کا علاقہ ہے۔ اس پہاڑی سلسلے اور ساحل سمندر کے درمیان ایک وسیع میدان ہے جس کا نام تہامہ ہے۔ حجاز کے پہاڑی سلسلے اور تہامہ کے درمیان سطح مرتفع ہے جو اگرچہ پہاڑی علاقہ تو نہیں مگر میدانی سطح سے بلند ہے۔ اس علاقے میں بنو غطفان وغیرہ قبائل آباد تھے۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ مدینہ کے اوپر کی طرف سے بنو غطفان وغیرہ جبکہ نیچے تہامہ کی طرف سے قریش مکہ حملہ آور ہوئے تھے۔
  {وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ } ’’اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آ گئے تھے‘‘
 یہ اُس غیر معمولی کیفیت کا نقشہ ہے جب انتہائی خوف اور دہشت کی وجہ سے انسان کی آنکھیں حرکت کرنا بھول جاتی ہیں‘اس کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے اور اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا دل اُچھل کر اب سینے سے باہر نکل جائے گا۔
 {وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾} ’’اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کر نے لگے۔‘‘
آیت ۱۱ {ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾} ’’اُس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے۔‘‘
 اس شدید آزمائش کا نتیجہ یہ نکلا کہ منافقین کے اندر کا خبث ان کی زبانوں پر آ گیا۔
آ یت ۱۲ {وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾} ’’اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اُس کے رسولؐ نے مگر دھوکے کا۔‘‘
 یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ محض فریب نکلے۔ ہمیں تو انہوں نے سبز باغ دکھا کر مروا دیا ۔ ہم سے تو کہا گیا تھا کہ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں گی‘ مگر اس کے برعکس آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نکلنے سے عاجز ہیں۔ ظاہر ہے اس دور میں آج کل کی طرز کے بیت الخلاء تو تھے نہیں‘چنانچہ محاصرے کے دوران اس نوعیت کے جو مسائل پیدا ہوئے ان پرمنافقین نے خوب واویلا مچایا۔ 
آیت ۱۳ {وَ اِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا ۚ } ’’اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں‘چنانچہ تم لوٹ جائو!‘‘
 کہ اب تمہارے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خندق کے سامنے اتنے بڑے لشکر کے مقابلے میں تم کیسے ٹھہر سکو گے؟ چنانچہ تم اپنی جانیں بچانے کی فکر کرو اور شہر کی طرف پلٹ چلو۔
  {وَ یَسۡتَاۡذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوۡرَۃٌ ؕۛ} ’’اور ان میں سے ایک گروہ نبیؐ سے اجازت طلب کر رہا تھا‘وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔‘‘
 محاصرے کے دوران شہر کی صورت حال کچھ یوں تھی کہ حملہ آوروں کے مقابلے کے لیے تمام مرد شہر سے باہر ایک جگہ پر اکٹھے تھے۔ حضورﷺ نے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا تھا کہ انہیں مدینہ کے وسطی علاقے میں ایک بڑی حویلی کے اندر جمع کر کے وہاں پہرے وغیرہ کا بندوبست فرما دیا تھا۔ جب بنو قریظہ کی طرف سے عہد شکنی کی خبریں آئیں تو اس یہودی قبیلہ کی طرف سے عورتوں اور بچوں پر حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اس صورت حال میں منافقین بار بار آ کر حضورﷺ سے اس بہانے واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مانگتے تھے کہ اب ان کے گھر غیر محفوظ ہو گئے ہیں اور ان کے اہل و عیال کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
  { وَ مَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ } ’’حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔‘‘
 اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے ان کے اہل و عیال کی حفاظت کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا اور بظاہر انہیں کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔
 {اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾} ’’حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔‘‘
 ان کی ایسی باتوں کی اصلیت کچھ نہیں تھی ۔ اصل میں وہ جنگ سے بھاگنے کے بہانے تلاش کر رہے تھے۔
آیت ۱۴ {وَ لَوۡ دُخِلَتۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَۃَ لَاٰتَوۡہَا } ’’اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے‘پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا‘تو وہ اسے قبول کر لیتے‘‘
 اگر خدانخواستہ کفار و مشرکین کے لشکر واقعی مدینہ میں داخل ہو جاتے اور وہ ان منافقین کو علانیہ ارتداد اور مسلمانوں سے جنگ کی دعوت دیتے توایسی صورتِ حال میں یہ لوگ بلا تردد ان کی بات مان لیتے۔
  {وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا ﴿۱۴﴾} ’’اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔‘‘
 چونکہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ ہوا ہی نہیں تھا‘ اس لیے جونہی انہیں ایمان کے دعوے سے پھرنے کا موقع ملتا وہ فوراً ہی اللہ اور اس کے رسولؐ سے بری ٔالذمہ ہونے کا اعلان کر دیتے۔
آیت ۱۵ {وَ لَقَدۡ کَانُوۡا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ لَا یُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ ؕ } ’’حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کر چکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔‘‘
 اس سے پہلے وہ بحیثیت مسلمان اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ وہ باطل کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے۔
  {وَ کَانَ عَہۡدُ اللّٰہِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۵﴾} ’’اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔‘‘
آیت ۱۶ {قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ } ’’(اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا‘اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو‘‘
 موت سے بھلا کوئی کیسے بھاگ سکتا ہے؟ موت تو ہر جگہ اپنے شکار کا پیچھا کرسکتی ہے۔
  {وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾} ’’اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔‘‘
 اگر وقتی طور پر کوئی شخص ایک جگہ سے بھاگ کر اپنی جان بچا نے میں کامیاب ہو بھی جائے تو بھی وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ تو نہیں ہو سکتا۔ اس کی یہ کوشش اسے اس سے زیادہ بھلا کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے کہ کچھ عرصہ وہ مزید جی لے گا۔ آخر ایک نہ ایک دن تو اسے موت کے منہ میں جانا ہی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کا بس اسی قدر لطف اٹھا سکتا ہے جتنا اس کے لیے مقدر ہے۔ 
آیت ۱۷ {قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعۡصِمُکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ سُوۡٓءًا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ رَحۡمَۃً ؕ } ’’آپؐ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگروہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا؟‘‘
 وہ تمہارے ساتھ جیسا بھی معاملہ کرنا چاہے کوئی اس کے آڑے نہیں آ سکتا۔
  {وَ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾} ’’اوریہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے
اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔‘‘
آیت ۱۸ {قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ } ’’ اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں‘‘
 جیسا کہ قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ مدینہ کی دو اطراف تو قدرتی رکاوٹوں کی وجہ سے محفوظ تھیں‘جبکہ عقب میں بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور جب تک انہوں نے معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی نہیں کی تھی تب تک ان کی طرف سے بھی بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت حملہ آور لشکر کے سامنے خندق کی اندرونی جانب مورچہ بند تھی اور جنگ کا اصل محاذ وہی مقام تھا۔ منافقین نہ صرف خود اس محاذ کی طرف جانے سے کتراتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی روکتے تھے کہ اس طرف مت جائو۔
  {وَ الۡقَآئِلِیۡنَ لِاِخۡوَانِہِمۡ ہَلُمَّ اِلَیۡنَا ۚ } ’’اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جاؤ‘‘
 وہ اپنے دوسرے بھائی بندوں کو بھی ناصحانہ انداز میں سمجھاتے تھے کہ ہمارے پاس آ جاؤ اور ہماری طرح تم بھی اپنے گھروں میں چھپے رہو اور محاذ کی طرف مت جاؤ۔
  {وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۙ۱۸﴾} ’’اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔‘‘
 اگر وہ دکھاوے کے لیے محاذِ جنگ پر آتے بھی تھے تو حیلے بہانوں سے واپس جانے کی فکر میں رہتے تھے۔
آیت ۱۹ {اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ ۚۖ } ’’(اے مسلمانو!) تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں۔‘‘
  {فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَیۡتَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ } ’’تو جب خطرہ پیش آ جاتا ہے تو (اے نبیﷺ!) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں‘‘
  {تَدُوۡرُ اَعۡیُنُہُمۡ کَالَّذِیۡ یُغۡشٰی عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ۚ } ’’کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اُس شخص کی (آنکھوں کی) طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔‘‘
 اللہ کے راستے میں جہاد کی خبر سنتے ہی انہیں اپنی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اور خطرات کے اندیشوں کی وجہ سے ان پر نزع کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
  {فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ } ’’پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے‘‘
  سَلَقَ یَسْلُقُ سَلْقًا کے معنی ہیں کسی پر ہاتھ یا زبان سے حملہ آور ہونا۔ فقرے کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ آپؐ پر حملہ آور ہوتے ہیں اپنی لوہے کی زبانوں سے۔ یہ گویا محاورہ کا اسلوب ہے ‘جیسے اردو میں ’’قینچی کی طرح زبان کاچلنا‘‘ ایک محاورہ ہے۔ خطرہ گزر جانے کے بعد ان کی زبانیں آپ لوگوں کے سامنے قینچی کی طرح چلنے لگ جاتی ہیں اور یہ اپنے ایمان کا اظہار اور مسلمانوں پر تنقید کرنے لگ جاتے ہیں۔
  {اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ } ’’لالچ کرتے ہوئے مال پر۔‘‘
 ان کی خواہش ہو تی ہے کہ سارا مالِ غنیمت انہیں ہی مل جائے۔
  {اُولٰٓئِکَ لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ } ’’یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے ۔‘‘
  {وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۹﴾} ’’اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘
 یہ لوگ زبان سے ایمان کادعویٰ تو کرتے ہیں لیکن دل سے ہرگز ایمان نہیں لائے۔ انہوں نے ا س حالت میں جو بھی نیک اعمال کیے ہیں ان کی انہیں کوئی جزا نہیں ملے گی۔ ظاہر ہے یہ لوگ ایمان کے دعوے کے ساتھ نمازیں بھی پڑھتے تھے اوروہ بھی مسجد نبوی ؐکے اندر رسول اللہﷺکی اقتدا میں۔ لیکن ان کے یہ سارے اعمال ضائع ہو چکے ہیں ‘کیونکہ منافقت کی کیفیت میں کیا گیا نیکی اور بھلائی کاکوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ۔
آیت ۲۰ {یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ } ’’وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔‘‘
 اگرچہ کفار کے تمام لشکر واپس جا چکے ہیں مگر ان پر ایسا خوف طاری ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لشکر کسی حکمت عملی کے تحت تھوڑی دیر کے لیے منظر سے اوجھل ہوئے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ آ جائیں گے۔ جیسے کسی خوفناک حادثے کی دہشت دیر تک ایک شخص کے اعصاب پر سوار رہتی ہے اسی طرح ان کے اعصاب پر ابھی تک ان لشکروں کا خوف مسلط ہے۔
  {وَ اِنۡ یَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ یَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّہُمۡ بَادُوۡنَ فِی الۡاَعۡرَابِ یَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ ؕ } ’’اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہو جائیں تو ان کی خواہش ہو گی کہ وہ ّبدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے(اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔‘‘ 
 ایسی صورت میں یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش وہ لوگ مدینہ کو چھوڑ کر ریگستان میں چلے گئے ہوتے‘ وہاں اہل بدو کے درمیان محفوظ جگہ پر پناہ لیے ہوئے مدینہ کی خبریں پوچھتے رہتے کہ جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔
  {وَ لَوۡ کَانُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۲۰﴾} ’’اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔‘‘
 اگر وہ لوگ تمہارے درمیان موجود بھی ہوتے تو کسی نہ کسی بہانے جنگ سے جان چھڑا ہی لیتے اور کبھی کبھار محض دکھانے کے لیے کسی مہم میں با دلِ نخواستہ برائے نام حصہ لے لیتے۔ 

 Sent from Outlook for Android ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب بیان القرآن حصہ ششم سے اقتباس
سُورۃُ الاَحزَاب آیات 9 تا 20
{یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾وَ اِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا ۚ وَ یَسۡتَاۡذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوۡرَۃٌ ؕۛ وَ مَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾وَ لَوۡ دُخِلَتۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَۃَ لَاٰتَوۡہَا وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا ﴿۱۴﴾وَ لَقَدۡ کَانُوۡا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ لَا یُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ ؕ وَ کَانَ عَہۡدُ اللّٰہِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۵﴾قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعۡصِمُکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ سُوۡٓءًا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ رَحۡمَۃً ؕ وَ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الۡقَآئِلِیۡنَ لِاِخۡوَانِہِمۡ ہَلُمَّ اِلَیۡنَا ۚ وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۙ۱۸﴾اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ ۚۖ فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَیۡتَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ تَدُوۡرُ اَعۡیُنُہُمۡ کَالَّذِیۡ یُغۡشٰی عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ۚ فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۹﴾یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ یَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّہُمۡ بَادُوۡنَ فِی الۡاَعۡرَابِ یَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ ؕ وَ لَوۡ کَانُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۲۰﴾}
  اب دوسرے اور تیسرے رکوع میں غزوۂ احزاب کا ذکر ہے۔ یہ غزوہ ۵ ہجری میں ہوا اور اس کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار مدینہ سے نکالے گئے یہودی قبیلہ بنو نضیر کے سرداروں نے ادا کیا۔ بنو نضیر کو عہد شکنی کی سزا کے طور پر ۴ ہجری میں مدینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ مدینہ سے نکلنے کے بعد وہ لوگ خیبر میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا قلع قمع ہو جائے تو انہیں دوبارہ مدینہ میں آباد ہونے کا موقع مل جائے گا۔چنانچہ انہوں نے بڑی تگ ودو سے عرب کی تمام مسلم مخالف
قوتوں کو متحد کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ابو عامر راہب(جس کا تذکرہ اس سے پہلے سورۃ التوبہ کے مطالعے کے دوران مسجد ضرار کے حوالے سے آیت ۱۰۷ کی تشریح کے ضمن میں ہو چکا ہے) کی مدد سے قریش ِمکہ ‘نجد کے بنو غطفان اور عرب کے دیگر چھوٹے بڑے قبائل سے رابطہ کیا۔ اپنی اس مہم کے نتیجے میں وہ لگ بھگ بارہ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک بہت بڑا لشکر تیار کرنے اور اس کو مدینہ پر چڑھا لانے میں کامیاب ہو گئے۔ عربوں کےمخصوص قبائلی نظام کی تاریخ کو مد نظر رکھا جائے تو اس زمانے میں اتنے بڑے پیمانے پر لشکر کشی ایک انہونی سی بات تھی۔
 دوسری طرف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد مشکل سے تین ہزار تھی اور اس میں بھی منافقین کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ اس کے علاوہ ایک بہت طاقتور یہودی قبیلے بنو قریظہ کی مدینہ میں موجودگی بھی ایک بہت بڑے خطرے کی علامت تھی۔ مدینہ میں ان لوگوں نے مضبوط گڑھیاں بنا رکھی تھیں۔اس سے پہلے مدینہ کے دو یہودی قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میثاقِ مدینہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں سے غداری کر چکے تھے۔ اس پس منظر میں اس طاقتور یہودی قبیلے کی طرف سے بھی نہ صرف غداری کا اندیشہ تھا‘ بلکہ حملہ آور قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ گٹھ جوڑ کے بارے میں ٹھوس اطلاعات بھی آ چکی تھیں۔ ان حالات میں مٹھی بھر مسلمانوں کے لیے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنا بظاہر ممکن نہیں تھا۔
 اس صورت حال میں حضورﷺ نے جب صحابہؓ سے مشورہ کیا تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خندق کھودنے کی تجویز سامنے آئی۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا تعلق ایران سے تھا۔ آپؓ نے ایران میں رائج اس مخصوص طرزِ دفاع کے بارے میں اپنی ذاتی معلومات کی روشنی میں یہ مشورہ دیا جو حضورﷺ نے پسند فرمایا۔ محل وقوع کے اعتبار سے مدینہ کی آبادی تین اطراف سے قدرتی طور پر محفوظ تھی۔ مشرق اور مغرب میں ّحرات (لاوے کی چٹانوں) پر مشتمل علاقہ تھا۔ اس علاقے میں اونٹوں اور گھوڑوں کی نقل و حرکت نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان دونوں اطراف سے کسی بڑے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔ عقب میں جنوب کی طرف بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور چونکہ ان کے ساتھ حضورﷺ کا باقاعدہ معاہدہ تھا اور ابھی تک ان کی طرف سے کسی بد عہدی کا اظہار نہیں ہوا تھا اس لیے بظاہر یہ سمت بھی محفوظ تھی۔ اس طرح مدینہ کی صرف شمال مغربی سمت میں ہی ایسا علاقہ تھا جہاں سے اجتماعی فوج کشی کا خطرہ باقی رہ جاتا تھا۔ اس لیے اس علاقہ میں حضورﷺ نے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔ خندق کا مقصد اس سمت سے کسی بڑے حملے‘خصوصاً گھڑ سوار دستوں کی یلغار کو نا ممکن بنانا تھا۔ اگر یکبارگی کسی بڑے حملے کا امکان نہ رہتا تو انفرادی طور پر خندق پار کرنے والے جنگجوئوں کے ساتھ آسانی سے نپٹا جا سکتا تھا۔
 حضورﷺ کے حکم سے خندق کی کھدائی کا کام شروع ہو گیااو ر چھ دن کے اندر اندر یہ خندق تیار ہو گئی۔ لیکن خندق تو محض ایک مسئلے کا حل تھا‘جبکہ حالات تھے کہ انسانی تصور سے بھی بڑھ کر گھمبیر تھے۔ جزیرہ نمائے عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر سے مقابلہ‘منافقین کی مدینہ کے اندر آستین کے سانپوں کی حیثیت سے موجودگی‘ شدید سردی کا موسم ‘قحط کا زمانہ‘رسد کی شدید کمی اور یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف سے بد عہدی کا خدشہ! غرض خطرات و مسائل کا ایک سمندر تھا جس کی خوفناک لہریں پے درپے مسلمانوں پر اپنے تھپیڑوں کی یلغار کیے بڑھتی
ہی چلی جا رہی تھیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے صبر اور امتحان کے لیے ایک بہت ہی سخت اور خوفناک صورت پیدا کر دی تھی۔
 اسی دوران حضرت ُنعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنوغطفان کی شاخ اَشجع قبیلے سے تھا‘ حضورﷺ سے ملنے مدینہ آئے اور عرض کیا کہ میں اسلام قبو ل کر چکا ہوں مگر اس بارے میں ابھی تک کسی کو علم نہیں ۔ اگر آپﷺ مجھے اجازت دیں تو میں بڑی آسانی سے حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے مابین بد اعتمادی پیدا کر سکتا ہوں۔ واضح رہے کہ بنوقریظہ اور حملہ آور قبائل کے مابین سلسلہ ٔجنبانی کا آغاز ہو چکا تھا۔ بنونضیر کا یہودی سردار حُیّ بن اخطب بنوقریظہ کے پاس پہنچا تھا اور انہیں مسلمانوں کے ساتھ بدعہدی پر آمادہ کر چکا تھا۔ اس طر ح بنوقریظہ عہدشکنی کے مرتکب ہو چکے تھے۔چنانچہ حضورﷺ کی اجازت سے حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ بنوقریظہ کے پاس گئے اور انہیں سمجھایا کہ دیکھو محمد (ﷺ) کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اگر تم ان سے عہد شکنی کر کے حملہ آور قبائل کا ساتھ دو گے تو عین ممکن ہے کہ تم اپنی توقعات کے مطابق مسلمانوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاؤ۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اگر یہ منصوبہ ناکام ہوا تو تمہارا کیا بنے گا؟ آخر اس کا امکان تو موجود ہے نا‘ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو!ایسی صورت میں باہر سے آئے ہوئے سب لوگ تو محاصرہ اٹھا کر چلتے بنیں گے اور تمہیں مسلمانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ جائیں گے۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ حملہ آور قبائل کا ساتھ دینے سے پہلے تم لوگ اپنی حفاظت کی ضمانت کے طور پر ان سے کچھ افراد بطور یرغمال مانگ لو۔
 اس کے بعد حضرت نعیم رضی اللہ عنہ حملہ آور قبائل کے سرداروں کے پاس گئے اور انہیں خبردار کیا کہ بنو قریظہ تم لوگوں سے مخلص نہیں‘وہ تم سے کچھ آدمی بطور یرغمال مانگنے کا منصوبہ بنارہے ہیں تا کہ تمہارے آدمی مسلمانوں کے حوالے کر کے انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ چنانچہ تم لوگ ان سے خبردار رہنا اور کسی قیمت پر بھی اپنے آدمی ان کے سپرد نہ کرنا! حملہ آور قبائل اور بنو قریظہ کے درمیان مسلمانوں پر مشترکہ حملے کے بارے میں معاہدہ طے پانے ہی والاتھا ‘لیکن معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے جب بنو قریظہ نے حملہ آور قبائل سے کچھ افراد بطور ضمانت مانگے تو انہوں نے ان کا یہ مطالبہ رد کر دیا۔اس طرح فریقین کے اندر بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خطرناک منصوبہ ناکام ہو گیا۔
 بنو قریظہ کی طرف سے عدم تعاون کے بعد حملہ آور لشکر کی کامیابی کی رہی سہی امید بھی دم توڑ گئی۔ دوسری طرف انہیں موسم کی شدت اور رسد کی قلت کی وجہ سے بھی پریشانی کا سامنا تھا۔ ان حالات میں ایک رات قدرتِ الٰہی سے شدید آندھی آئی جس سے ان کے کیمپ کی ہر چیز درہم برہم ہو گئی۔ خیمے اُکھڑ گئے‘کھانے کی دیگیں الٹ گئیں اور جانور دہشت زدہ ہو گئے۔ اس غیبی وار کی شدت کے سامنے ان کی ہمتیں بالکل ہی جواب دے گئیں۔ چنانچہ اسی افراتفری کے عالم َمیں تمام قبائل نے واپسی کی راہ لی۔
 یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک جاری رہا۔ مسلمانوں کے لیے تویہ ایک بہت سخت امتحان تھا ہی‘ جس سے وہ سرخرو ہو کر نکلے‘ لیکن دوسری طرف اس آزمائش سے منافقین کے نفاق کا پردہ بھی چاک ہو گیااور ایک ایک منافق کا ُخبث ِباطن اس کی زبان پر آ گیا۔ یہی دراصل اس آزمائش کا مقصد بھی تھا: {لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ }
(الانفال : ۳۷) ’’ تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے چھانٹ کر الگ کر دے‘‘---- سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع میں یہی اصول اور قانون اللہ تعالیٰ نے سخت تاکیدی الفاظ میں دو دفعہ بیان فرمایا ہے۔ پہلے فرمایا: {فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾} ’’چنانچہ اللہ ظاہر کر کے رہے گااُن کو جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں۔‘‘پھر اس کے بعد دوبارہ فرمایا: {وَ لَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ﴿۱۱﴾} ’’اور یقینا اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچے اہل ایمان کو‘اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی!‘‘
 اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جس طرح ۵نبویؐ میں مکہ کے اندر غلاموں‘نوجوانوں اور بے سہارا مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا (اس کی تفصیل سورۃ العنکبوت کے پہلے رکوع کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہے) بالکل اسی طرح ۵ ہجری میں مدینہ کے اندر بھی مسلمانوں کو غزوۂ خندق کی صورت میں سخت ترین آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔ بلکہ اس ضمن میں میری رائے (واللہ اعلم) تو یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ پر ذاتی طور پر سب سے مشکل وقت آپؐ کے سفر ِطائف کے دوران آیا تھا‘ جبکہ مسلمانوں کو اجتماعی سطح پر شدید ترین تکلیف دہ صورت حال کا سامنا غزوۂ خندق کے موقع پر کرنا پڑا۔
آیت ۹ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ } ’’اے اہل ِایمان! یاد کرو اللہ کے اُس انعام کو جو تم لوگوں پر ہوا‘‘
  {اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ } ’’جب تم پر حملہ آور ہوئے بہت سے لشکر‘‘
 یہ لشکر مدینہ پر چاروں طرف سے چڑھ آئے تھے۔ بنو غطفان اور بنو خزاعہ کے لشکروں نے مشرق کی طرف سے چڑھائی کی ‘جنوب مغرب کی طرف سے قریش ِمکہ حملہ آور ہوئے‘ جبکہ شمال کی جانب سے انہیں بنو نضیر اور خیبر کے دوسرے یہودی قبائل کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔
  {فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ } ’’تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیجی اور ایسے لشکر بھی جو تم نے نہیں دیکھے۔‘‘
 یعنی آندھی کی کیفیت تو تم لوگوں نے بھی دیکھی تھی ‘لیکن اس کے علاوہ ہم نے ان پر فرشتوں کے لشکر بھی بھیجے تھے جو تم کو نظر نہیں آئے۔
  {وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾} ’’اور جو کچھ تم لوگ کر رہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔‘‘
  اس ایک جملے میں محاصرے کے دوران ہر فرد کے رویے کا احاطہ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران کس کا ایمان غیر متزلزل رہا ‘کس کی نیت میں نفاق تھا اور کون اپنے نفاق کو زبان پر لے آیا‘اللہ کو سب معلوم ہے۔ یہ محاصرہ تقریباً پچیس دن تک رہا۔ اس دوران اِکا دکا ّمقامات پر معرکہ آرائی بھی ہوئی۔ اس حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عرب کے مشہور پہلوان عبد ِوُدّ کے درمیان ہونے والا مقابلہ تاریخ میں بہت مشہورہے۔ عبد ِوُدّ پورے عرب کا مانا ہوا شہسوار تھا۔ اس کی عمر نوے ّسال تھی مگر وہ اس عمر میں بھی ہزار جنگجوئوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ کوئی اکیلا شخص اس کے مقابلے میں آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔وہ گھوڑے کو بھگاتے ہوئے ایک ہی زقند میں
خندق پار کرنے میں کامیاب ہو گیااور تن ِتنہا اس طرف آ کر دعوتِ مبارزت دی کہ تم میں سے کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے؟ ادھر سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے۔
 حضرت علیؓ کے سامنے آنے پر اُس نے کہا کہ میں اپنے مقابل آنے والے ہر شخص کو تین باتیں کہنے کا موقع دیتا ہوں اور ان میں سے ایک بات ضرور قبول کرتا ہوں۔ اس لیے تم اپنی تین خواہشات کا اظہار کرو۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میری پہلی خواہش تو یہ ہے کہ تم ایمان لے آؤ۔ اُس نے کہا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا۔ حضرت علیؓ نے اپنی دوسری خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم جنگ سے واپس چلے جاؤ! اُس نے کہا کہ یہ بھی ممکن نہیں۔ ان دونوں باتوں سے انکار پر آپؓ نے فرمایا کہ پھر آؤ اور مجھ سے مقابلہ کرو! اس پر اس نے ایک بھر پور قہقہہ لگاتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ آج تک پورے عرب میں اس کے سامنے کسی کو ایسا کہنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ بہر حال دو بدو مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے واصل ِجہنم کر دیا۔ اس طرح کے اِکا ّدُکا انفرادی مقابلوں کے علاوہ دونوں لشکروں کے درمیان کسی بڑے اجتماعی معرکے کی نوبت نہیں آئی۔
 محاصرے کے غیر متوقع طور پر طول کھینچنے سے کفار کے لشکر میں روز بروزبد دلی پھیلتی جا رہی تھی۔ اس دوران حضرت ُنعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی سے بھی بنو قریظہ اور حملہ آور قبائل کے درمیان بد اعتمادی پیدا ہو گئی۔طویل محاصرے کے بعد اچانک خوفناک آندھی نے بھی اپنا رنگ دکھایا۔ اس پر مستزاد فرشتوں کے لشکروں کی دہشت تھی جس کی کیفیت کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس سب کچھ کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کی تاریخ کے سب سے بڑے لشکر کو اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ناکام و نا مراد لوٹنا پڑا ---- آئندہ آیات میں محاصرے کے دوران کی صورتِ حال پر مزید تبصرہ کیا جا رہا ہے:
آیت ۱۰ {اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ } ’’جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی‘‘
 جزیرہ نمائے عرب کا جغرافیائی محل وقوع پہلے بھی کئی بار زیر بحث آ چکا ہے۔ اس میں شمالاً جنوباً حجاز کا طویل پہاڑی سلسلہ ہے۔ مکہ ‘طائف اور مدینہ حجاز ہی میں واقع ہیں‘ جبکہ اسی علاقے میں اوپر شمال کی طرف تبوک کا علاقہ ہے۔ اس پہاڑی سلسلے اور ساحل سمندر کے درمیان ایک وسیع میدان ہے جس کا نام تہامہ ہے۔ حجاز کے پہاڑی سلسلے اور تہامہ کے درمیان سطح مرتفع ہے جو اگرچہ پہاڑی علاقہ تو نہیں مگر میدانی سطح سے بلند ہے۔ اس علاقے میں بنو غطفان وغیرہ قبائل آباد تھے۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ مدینہ کے اوپر کی طرف سے بنو غطفان وغیرہ جبکہ نیچے تہامہ کی طرف سے قریش مکہ حملہ آور ہوئے تھے۔
  {وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ } ’’اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آ گئے تھے‘‘
 یہ اُس غیر معمولی کیفیت کا نقشہ ہے جب انتہائی خوف اور دہشت کی وجہ سے انسان کی آنکھیں حرکت کرنا بھول جاتی ہیں‘اس کے دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے اور اسے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا دل اُچھل کر اب سینے سے باہر نکل جائے گا۔
 {وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾} ’’اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کر نے لگے۔‘‘
آیت ۱۱ {ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾} ’’اُس وقت اہل ایمان کو خوب آزما لیا گیا اور وہ شدت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالے گئے۔‘‘
 اس شدید آزمائش کا نتیجہ یہ نکلا کہ منافقین کے اندر کا خبث ان کی زبانوں پر آ گیا۔
آ یت ۱۲ {وَ اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾} ’’اور جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہ نہیں وعدہ کیا تھا ہم سے اللہ اور اُس کے رسولؐ نے مگر دھوکے کا۔‘‘
 یعنی اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے جو وعدے کیے تھے وہ محض فریب نکلے۔ ہمیں تو انہوں نے سبز باغ دکھا کر مروا دیا ۔ ہم سے تو کہا گیا تھا کہ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال رہے گی اور قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں گی‘ مگر اس کے برعکس آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نکلنے سے عاجز ہیں۔ ظاہر ہے اس دور میں آج کل کی طرز کے بیت الخلاء تو تھے نہیں‘چنانچہ محاصرے کے دوران اس نوعیت کے جو مسائل پیدا ہوئے ان پرمنافقین نے خوب واویلا مچایا۔
آیت ۱۳ {وَ اِذۡ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡہُمۡ یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا ۚ } ’’اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں‘چنانچہ تم لوٹ جائو!‘‘
 کہ اب تمہارے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خندق کے سامنے اتنے بڑے لشکر کے مقابلے میں تم کیسے ٹھہر سکو گے؟ چنانچہ تم اپنی جانیں بچانے کی فکر کرو اور شہر کی طرف پلٹ چلو۔
  {وَ یَسۡتَاۡذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوۡرَۃٌ ؕۛ} ’’اور ان میں سے ایک گروہ نبیؐ سے اجازت طلب کر رہا تھا‘وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔‘‘
 محاصرے کے دوران شہر کی صورت حال کچھ یوں تھی کہ حملہ آوروں کے مقابلے کے لیے تمام مرد شہر سے باہر ایک جگہ پر اکٹھے تھے۔ حضورﷺ نے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا تھا کہ انہیں مدینہ کے وسطی علاقے میں ایک بڑی حویلی کے اندر جمع کر کے وہاں پہرے وغیرہ کا بندوبست فرما دیا تھا۔ جب بنو قریظہ کی طرف سے عہد شکنی کی خبریں آئیں تو اس یہودی قبیلہ کی طرف سے عورتوں اور بچوں پر حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اس صورت حال میں منافقین بار بار آ کر حضورﷺ سے اس بہانے واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت مانگتے تھے کہ اب ان کے گھر غیر محفوظ ہو گئے ہیں اور ان کے اہل و عیال کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
  { وَ مَا ہِیَ بِعَوۡرَۃٍ ۚۛ } ’’حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔‘‘
 اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی طرف سے ان کے اہل و عیال کی حفاظت کا مناسب بندوبست کیا گیا تھا اور بظاہر انہیں کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔
 {اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾} ’’حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔‘‘
 ان کی ایسی باتوں کی اصلیت کچھ نہیں تھی ۔ اصل میں وہ جنگ سے بھاگنے کے بہانے تلاش کر رہے تھے۔
آیت ۱۴ {وَ لَوۡ دُخِلَتۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِہَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَۃَ لَاٰتَوۡہَا } ’’اور اگر کہیں ان پر دشمن گھس آئے ہوتے مدینہ کے اطراف سے‘پھر ان سے مطالبہ کیا جاتا فتنے (ارتداد) کا‘تو وہ اسے قبول کر لیتے‘‘
 اگر خدانخواستہ کفار و مشرکین کے لشکر واقعی مدینہ میں داخل ہو جاتے اور وہ ان منافقین کو علانیہ ارتداد اور مسلمانوں سے جنگ کی دعوت دیتے توایسی صورتِ حال میں یہ لوگ بلا تردد ان کی بات مان لیتے۔
  {وَ مَا تَلَبَّثُوۡا بِہَاۤ اِلَّا یَسِیۡرًا ﴿۱۴﴾} ’’اور اس میں بالکل توقف نہ کرتے مگر تھوڑا سا۔‘‘
 چونکہ ایمان ابھی ان کے دلوں میں راسخ ہوا ہی نہیں تھا‘ اس لیے جونہی انہیں ایمان کے دعوے سے پھرنے کا موقع ملتا وہ فوراً ہی اللہ اور اس کے رسولؐ سے بری ٔالذمہ ہونے کا اعلان کر دیتے۔
آیت ۱۵ {وَ لَقَدۡ کَانُوۡا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ لَا یُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ ؕ } ’’حالانکہ اس سے قبل وہ اللہ سے وعدہ کر چکے تھے کہ وہ کبھی پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔‘‘
 اس سے پہلے وہ بحیثیت مسلمان اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ وہ باطل کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے۔
  {وَ کَانَ عَہۡدُ اللّٰہِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۵﴾} ’’اور اللہ سے کیے گئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہے۔‘‘
آیت ۱۶ {قُلۡ لَّنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡفِرَارُ اِنۡ فَرَرۡتُمۡ مِّنَ الۡمَوۡتِ اَوِ الۡقَتۡلِ } ’’(اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے کہ تمہارا یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا‘اگر تم لوگ موت یا قتل سے بھاگ رہے ہو‘‘
 موت سے بھلا کوئی کیسے بھاگ سکتا ہے؟ موت تو ہر جگہ اپنے شکار کا پیچھا کرسکتی ہے۔
  {وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۱۶﴾} ’’اور (اگر بھاگو گے) تب بھی تم (زندگی کے سازوسامان سے) فائدہ نہیں اٹھا سکو گے مگر تھوڑا سا۔‘‘
 اگر وقتی طور پر کوئی شخص ایک جگہ سے بھاگ کر اپنی جان بچا نے میں کامیاب ہو بھی جائے تو بھی وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ تو نہیں ہو سکتا۔ اس کی یہ کوشش اسے اس سے زیادہ بھلا کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے کہ کچھ عرصہ وہ مزید جی لے گا۔ آخر ایک نہ ایک دن تو اسے موت کے منہ میں جانا ہی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی کا بس اسی قدر لطف اٹھا سکتا ہے جتنا اس کے لیے مقدر ہے۔
آیت ۱۷ {قُلۡ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَعۡصِمُکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَ بِکُمۡ سُوۡٓءًا اَوۡ اَرَادَ بِکُمۡ رَحۡمَۃً ؕ } ’’آپؐ کہیے کہ کون ہے وہ جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ نقصان کا؟ یا (اُس کی رحمت کو روک سکتا ہے) اگروہ ارادہ کرے تمہارے ساتھ رحمت کا؟‘‘
 وہ تمہارے ساتھ جیسا بھی معاملہ کرنا چاہے کوئی اس کے آڑے نہیں آ سکتا۔
  {وَ لَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾} ’’اوریہ لوگ نہیں پائیں گے اپنے لیے
اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی مدد گار۔‘‘
آیت ۱۸ {قَدۡ یَعۡلَمُ اللّٰہُ الۡمُعَوِّقِیۡنَ مِنۡکُمۡ } ’’ اللہ خوب جانتا ہے تم میں سے ان لوگوں کو جو روکنے والے ہیں‘‘
 جیسا کہ قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ مدینہ کی دو اطراف تو قدرتی رکاوٹوں کی وجہ سے محفوظ تھیں‘جبکہ عقب میں بنو قریظہ کی گڑھیاں تھیں اور جب تک انہوں نے معاہدے کی اعلانیہ خلاف ورزی نہیں کی تھی تب تک ان کی طرف سے بھی بظاہر کوئی خطرہ نہیں تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی اکثریت حملہ آور لشکر کے سامنے خندق کی اندرونی جانب مورچہ بند تھی اور جنگ کا اصل محاذ وہی مقام تھا۔ منافقین نہ صرف خود اس محاذ کی طرف جانے سے کتراتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی روکتے تھے کہ اس طرف مت جائو۔
  {وَ الۡقَآئِلِیۡنَ لِاِخۡوَانِہِمۡ ہَلُمَّ اِلَیۡنَا ۚ } ’’اور اپنے بھائیوں سے یہ کہنے والے ہیں کہ ہماری طرف آ جاؤ‘‘
 وہ اپنے دوسرے بھائی بندوں کو بھی ناصحانہ انداز میں سمجھاتے تھے کہ ہمارے پاس آ جاؤ اور ہماری طرح تم بھی اپنے گھروں میں چھپے رہو اور محاذ کی طرف مت جاؤ۔
  {وَ لَا یَاۡتُوۡنَ الۡبَاۡسَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿ۙ۱۸﴾} ’’اور وہ نہیں آتے جنگ کی طرف مگر بہت تھوڑی دیر کے لیے۔‘‘
 اگر وہ دکھاوے کے لیے محاذِ جنگ پر آتے بھی تھے تو حیلے بہانوں سے واپس جانے کی فکر میں رہتے تھے۔
آیت ۱۹ {اَشِحَّۃً عَلَیۡکُمۡ ۚۖ } ’’(اے مسلمانو!) تمہارا ساتھ دینے میں یہ سخت بخیل ہیں۔‘‘
  {فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَیۡتَہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ } ’’تو جب خطرہ پیش آ جاتا ہے تو (اے نبیﷺ!) آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح تاک رہے ہوتے ہیں‘‘
  {تَدُوۡرُ اَعۡیُنُہُمۡ کَالَّذِیۡ یُغۡشٰی عَلَیۡہِ مِنَ الۡمَوۡتِ ۚ } ’’کہ ان کی آنکھیں گردش کرتی ہیں اُس شخص کی (آنکھوں کی) طرح جس پر موت کی غشی طاری ہو۔‘‘
 اللہ کے راستے میں جہاد کی خبر سنتے ہی انہیں اپنی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں اور خطرات کے اندیشوں کی وجہ سے ان پر نزع کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
  {فَاِذَا ذَہَبَ الۡخَوۡفُ سَلَقُوۡکُمۡ بِاَلۡسِنَۃٍ حِدَادٍ } ’’پھر جب خطرہ جاتا رہتا ہے تو وہ تم لوگوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اپنی تیز زبانوں سے‘‘
  سَلَقَ یَسْلُقُ سَلْقًا کے معنی ہیں کسی پر ہاتھ یا زبان سے حملہ آور ہونا۔ فقرے کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ آپؐ پر حملہ آور ہوتے ہیں اپنی لوہے کی زبانوں سے۔ یہ گویا محاورہ کا اسلوب ہے ‘جیسے اردو میں ’’قینچی کی طرح زبان کاچلنا‘‘ ایک محاورہ ہے۔ خطرہ گزر جانے کے بعد ان کی زبانیں آپ لوگوں کے سامنے قینچی کی طرح چلنے لگ جاتی ہیں اور یہ اپنے ایمان کا اظہار اور مسلمانوں پر تنقید کرنے لگ جاتے ہیں۔
  {اَشِحَّۃً عَلَی الۡخَیۡرِ ؕ } ’’لالچ کرتے ہوئے مال پر۔‘‘
 ان کی خواہش ہو تی ہے کہ سارا مالِ غنیمت انہیں ہی مل جائے۔
  {اُولٰٓئِکَ لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰہُ اَعۡمَالَہُمۡ ؕ } ’’یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے ۔‘‘
  {وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۹﴾} ’’اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘
 یہ لوگ زبان سے ایمان کادعویٰ تو کرتے ہیں لیکن دل سے ہرگز ایمان نہیں لائے۔ انہوں نے ا س حالت میں جو بھی نیک اعمال کیے ہیں ان کی انہیں کوئی جزا نہیں ملے گی۔ ظاہر ہے یہ لوگ ایمان کے دعوے کے ساتھ نمازیں بھی پڑھتے تھے اوروہ بھی مسجد نبوی ؐکے اندر رسول اللہﷺکی اقتدا میں۔ لیکن ان کے یہ سارے اعمال ضائع ہو چکے ہیں ‘کیونکہ منافقت کی کیفیت میں کیا گیا نیکی اور بھلائی کاکوئی عمل بھی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ۔
آیت ۲۰ {یَحۡسَبُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ لَمۡ یَذۡہَبُوۡا ۚ } ’’وہ لشکروں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ گئے نہیں ہیں۔‘‘
 اگرچہ کفار کے تمام لشکر واپس جا چکے ہیں مگر ان پر ایسا خوف طاری ہے کہ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لشکر کسی حکمت عملی کے تحت تھوڑی دیر کے لیے منظر سے اوجھل ہوئے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر کے بعد وہ دوبارہ آ جائیں گے۔ جیسے کسی خوفناک حادثے کی دہشت دیر تک ایک شخص کے اعصاب پر سوار رہتی ہے اسی طرح ان کے اعصاب پر ابھی تک ان لشکروں کا خوف مسلط ہے۔
  {وَ اِنۡ یَّاۡتِ الۡاَحۡزَابُ یَوَدُّوۡا لَوۡ اَنَّہُمۡ بَادُوۡنَ فِی الۡاَعۡرَابِ یَسۡاَلُوۡنَ عَنۡ اَنۡۢبَآئِکُمۡ ؕ } ’’اور اگر لشکر (دوبارہ) حملہ آور ہو جائیں تو ان کی خواہش ہو گی کہ وہ ّبدوئوں کے ساتھ صحرا میں رہ رہے ہوتے(اور وہیں سے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہتے۔‘‘
 ایسی صورت میں یہ لوگ خواہش کریں گے کہ کاش وہ لوگ مدینہ کو چھوڑ کر ریگستان میں چلے گئے ہوتے‘ وہاں اہل بدو کے درمیان محفوظ جگہ پر پناہ لیے ہوئے مدینہ کی خبریں پوچھتے رہتے کہ جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔
  {وَ لَوۡ کَانُوۡا فِیۡکُمۡ مَّا قٰتَلُوۡۤا اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿٪۲۰﴾} ’’اور اگر وہ تمہارے درمیان رہتے تو قتال نہ کرتے مگر بہت ہی تھوڑا۔‘‘
 اگر وہ لوگ تمہارے درمیان موجود بھی ہوتے تو کسی نہ کسی بہانے جنگ سے جان چھڑا ہی لیتے اور کبھی کبھار محض دکھانے کے لیے کسی مہم میں با دلِ نخواستہ برائے نام حصہ لے لیتے۔

Post a Comment

0 Comments