Header Ads Widget

سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں کا فیصلہ اور اس کے مضمرات

 جولائی14، 2024

 تحریر: انجینئر ممتاز ہاشمی 


 سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی  اس کو مخصوص نشست

وں سے محروم کرنے کے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر دائر درخواست پر جو  فیصلہ  دیا ہے۔ یہ فیصلہ 5 کے مقابلے میں 8 کی اکثریت سے جاری کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کو اگر صرف سرسری طور پر ہی دیکھیں تو ایک عمومی یہل تاثر یہ ملتا ہے کہ عدلیہ نے ایک بار پھر سے " نظریہ ضرورت" کو زندہ کرنے کا اہتمام کیا  ہے۔ یہی  ایک تلخ حقیقت  ہے جو اس بات پر   مہر ثبت کرتی ہے کہ آج پاکستان کی عدلیہ کیونکر انصاف کی فراہمی میں دنیا میں سب سے نچلے درجے پر ہے۔

اس فیصلے کا تقابل اگر ہماری عدلیہ کے ان فیصلوں سے کیا جائے جو اس نے ملٹری ڈکٹیٹروں ضیاء الحق اور مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے کہے تھے تو اس فیصلے میں ان ماضی میں " نظریہ ضرورت " کے غیر آئینی فیصلوں میں مکمل مماثلت نظر آتی ہے۔

عدلیہ نے ماضی میں نہ صرف ملٹری ڈکٹیٹروں  غیر آئینی عمل کو قانونی قرار دییا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو آئین میں اپنی مرضی سے ترامیم کرنے تک کے اختیارات دے دئیے تھے جس کے لیے ان ملٹری ڈکٹیٹروں نے درخواست تک بھی دائر نہیں کی تھی اور خود  عدلیہ کو بھی آئین میں ترمیم کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا اور نہ ہی ہے۔  

 اس غیر آئینی فیصلے میں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کا کہا گیا ہے جس نے اس بارے میں نہ ہی کوئی درخواست دائر کی تھی اور نہ  ہی اس کیس میں فریق تھی۔

اس لیے اس بارے میں اس مقدمے میں نہ ہی دلائل پیش کئے گئے اور نہ ہی اس پر کوئی بحث ہوئی۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اہم رہنما علی ظفر نے بھی آج اس فیصلے پر اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تو توقع کر رہے تھے کہ یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دی جائیں گی اور جس کے لیے ہم نے درخواست دائر کی تھی مگر یہ فیصلہ ہماری اپنی امیدوں سے بڑھ کر ہے جو اس فیصلے کے پس منظر اور ہماری عدلیہ کے گھناؤنے چہرے کو بےنقاب کرنے کے لیے کافی ہے 

اس سے بھی آگے بڑھ کر اس فیصلے نے  پارلیمنٹ اور آئینی ادارے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں غیر آئینی طور پر مداخلت کی ہے۔

اس نے خودبخود  ان تمام اراکین کو جو قانونی طور پر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے تھےاورآج بھی نہ صرف ان کا حصہ ہیں بلکہ اس کے تمام امور میں اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے حصہ لیتے رہے ہیں  جن میں مختلف عہدوں کے انتخبات میں بھی حصہ لینا  بھی شامل تھا ان کو پی ٹی آئی میں شامل کر دیا اور دیگر کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی ہے۔ اس طرح سے آج سپریم کورٹ نے فلور کراسنگ کو قانونی جواز فراہم کر دیا ہے۔ اور ان کو دوبارہ سے اپنے کاغذات درست کرنے اور اس عمل کی تکمیل کے لیے ان اکثریتی ججز کے چیمبر رجوع کرنے کا کہا ہے جو عدلیہ کے اختیارات میں نہیں ہے اسطرح سے سپریم کورٹ کے آفس کو ایک غیر قانونی سہولت کاری کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔


واضح رہے کہ جب الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے قانونی طور پر اس کا انتخابی نشان واپس لیا تھا اور اس کی سپریم کورٹ میں اپیل بھی خارج کر دی تھی تو پی ٹی آئی کے امیدواروں نے خود ہی اپنے طور پر آزاد امیدواروں کے ان انتخابات میں نہ صرف حصہ لیا تھا بلکہ ان کی اکثریت نے اس بارے میں اپنے حلف نامے بھی جمع کرائے تھے ۔ کسی نے بھی اپنی پی ٹی آئی سے وابستگی کو شامل نہ کرنے کے خلاف کوئی اپیل کس بھی کورٹ میں دائر نہیں کی۔

کامیابی کے بعد بھی ان آزاد امیدواروں نے اپنی مرضی سے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی جبکہ ان کے لیے پی ٹی آئی میں شمولیت کا راستہ بھی کھلا تھا۔

اسلئے یہ فیصلہ سنی اتحاد کونسل کے اراکین  پارلیمنٹ،  الیکشن کمیشن اور خود پارلیمنٹ کے اختیارات میں غیر قانونی مداخلت کے مترادف ہوگا۔

قانونی طور پر زیادہ سے زیادہ عدلیہ ان مخصوص نشستوں کو سنی اتحاد کونسل کو دینے کا قانونی راستہ بھی اختیار کر سکتی تھی۔ مگر یہ فیصلہ ان کے مفادات کا مکمل طور پر تحفظ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان مخصوص نشستوں میں خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں شامل ہیں اور قانونی طور پر سنی اتحاد کونسل کو کسی طور پر بھی اقلیتوں کی نشستیں نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس جماعت کے آئین کے تحت کوئی غیر مسلم اس جماعت کا رکن نہیں بن سکتا ہے۔

اب اس اکثریتی فیصلے کے بعد ملک میں دوبارہ سے سیاسی اور آئینی بحران شروع ہو گیا ہے اور اس پر نہ صرف بحث و مباحث جاری رہیں گے بلکہ اس کے خلاف شاہد اپیلیں بھی دائر کی جائیں گی۔

اب اگر اس فیصلے کے سیاسی مضمرات پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اس فیصلے سے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ساخت پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور تمام قومی و صوبائی حکومتیں اسی طرح کام کرتی رہیں گی۔

جہاں تک آئینی ترمیم کا تعلق ہے تو وہ حکمران اتحاد کے لئے ایک مسئلہ رہے گا مگر اگر حکومتی اتحاد اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کا اعتماد حاصل کر لے گئی تو یہ مرحلہ بھی آسان ہو جائے گا یا کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے چند مطلوبہ پی ٹی آئی کے اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

بہرحال آئندہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے مضمرات پر بحث جاری رہے گی۔ 

اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کی ملک جس معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہے اس میں کسی قسم کی بھی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ۔

اس فیصلے میں " مخصوص حالات " کا جگہ جگہ پر ذکر کیا گیا ہے جو اس بات پر مہر ثبت کوتا ہے کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا گیا ہے بلکہ خود سے"  مخصوص حالات " کو تصور پیش کرتے ہوئے مکمل طور پر نظریہ ضرورت کا دوبارہ سے زندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسلئے اب یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے اہنا کردار ادا کرتے ہوئے عدلیہ کے غیر آئینی فیصلوں کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات کرے تاکہ ملک میں آئین  قانون اور عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو سکے اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہوجائے جو موجودہ معاشی مسائل سے نمٹنے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

واضح رہے کہ چند ملکی و غیر ملکی عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں سے سازشوں میں مصروف ہیں اور اس کے لیے بہت بھاری فنڈنگ بھی کی جا رہی ہے جس کے ذریعے ریاستی اداروں میں موجود عناصر کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے اور اس موقع پر عوام اور ریاستی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

دعا ہے کہ اللہ سبحان و تعالٰی پاکستان کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بناے۔ ان شاءاللہ۔





Post a Comment

0 Comments