Header Ads Widget

اسلامی ہجری سال کی تاریخ اور اہمیت کا مختصر جائزہ

 


تحریر: ممتاز ہاشمی

آج جب ہم اسلامی ہجری کلینڈر کے نہے سال میں داخل ہو رہے  تو اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس موقع پر اس کی تاریخی پس منظر اور اہمیت کو ذہن نشین کریں

 اسلام سے پہلے عرب کافر اپنے مہینوں اور سالوں کا حساب لگانے کے لیے قمری کیلنڈر کا نظام استعمال کرتے تھے۔ مہینوں کا حساب قمری چکر کے مطابق کیا گیا تھا۔ تاہم، وہ شمسی کیلنڈر کے مطابق ہونے کے لیے قمری کیلنڈر میں 10-11 دن کا اضافہ کریں گے۔ اس لیے قبل از اسلام  عربی کیلنڈر ہر سال کے موسم خزاں میں شروع اور ختم ہوتا تھا

پیغمبرآخرالزماں محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اور خاص طور پر خلیفہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں، آپ نے ایک کیلنڈر کمیٹی مقرر کی۔ جو اس  قمری کیلنڈر کو بڑھتی ہوئی اسلامی سلطنت کے لیے متحد کرنے والے کیلنڈر کے طور پر  استعمال کرنے کا جائزہ اور اس کے نفاذ کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے جا سکے ۔ کمیٹی نے جمعہ 16 جولائی 622 عیسوی کو قمری ہلال کی شام کے طور پر منتخب کیا جو قمری سال کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی۔ چنانچہ ہجری کیلنڈر کا آغاز ہوا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں  پوری انسانیت کے لیے ہجرت کیلنڈر کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اللہ کےاس حکم  کو بھیاسی طرح نظر انداز کیا اور اس کی نافرمانی کی جس طرح ہم اللہ کے دوسرے احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں

اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی مندرجہ ذیل آیت اور اس کی تفسیر کو ذہن نشین رکھنا ہوگا۔

"مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے  اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے  پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں  یہی درست دین ہے  تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو  اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں  اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی متقیوں کے ساتھ ہے ۔"

سورہ التوبہ آیت 36

اسلام سے پہلے کے عربی مہینوں کے نام وہی ہیں جو ہم اسلامی کیلنڈر میں استعمال کرتے ہیں، اور بعض علماء کا خیال ہے کہ عربوں کو یہ کیلنڈر نظام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے سے وراثت میں ملا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام جب عرب میں آباد ہوئے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عربوں کے کیلنڈر میں وہی چار حرمت والے مہینے تھے جو اسلامی کیلنڈر میں بہت ملتے جلتے عبادات کے ساتھ تھے، مثلاً حج ذوالحجہ میں ہوگا، اور حرمت والے مہینوں میں لڑائی جھگڑا ممنوع تھا۔

تاہم، کافر عربوں نے ان 12 مہینوں اور ہر مقدس مہینے کی پوزیشن کو کاروباری اور سیاسی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ سال کے مہینوں کی یہ ہیرا پھیری وہ تھی جسے اسلام نے الناسی (یا انگریزی انٹرکلیشن میں) کہا ہے اور قرآن میں اسے منع کیا گیا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:                                      

"سورہ التوبہ آیت 37

" مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں ۔ ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت والا کر لیتے ہیں کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کرلیں پھر اسے حلال بنالیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے انہیں ان کے برے کام بھلے دکھا دیئے گئے ہیں اور قوم کفار کی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا "

 

اس کی تفسیر مولانا مودودی  نے انتہائی وضاحت سے یوں کی ہے :

 

سورة التَّوْبَة حاشیہ نمبر :37

"عرب میں نسی دو طرح کی تھی ۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ جنگ و جدل اور غارت گری اور خون کے انتقام لینے کی خاطر کسی حرام مہینے کو حلال قرار دے لیتے تھے اور اس کے بدلے میں کسی حلال مہینے کو حرام کر کے حرام مہینوں کی تعداد پوری کر دیتے تھے ۔ دوسری صورت یہ تھی کہ قمری سال کو شمسی سال کے مطابق کرنے کے لیے اس میں کبِیسہ کا ایک مہینہ بڑھا دیتے تھے ، تاکہ حج ہمیشہ ایک ہی موسم میں آتا رہے اور وہ ان زحمتوں سے بچ جائیں جو قمری حساب کے مطابق مختلف موسموں میں حج کے گردش کرتے رہنے سے پیش آتی ہیں ۔ اس طرح ۳۳ سال تک حج اپنے اصلی وقت کے خلاف دوسری تاریخوں میں ہو تا رہتا تھا اور صرف چونتیسویں سال ایک مرتبہ اصل ذی الحجہ کی ۹ – ۱۰ تاریخ کو ادا ہوتا تھا ۔ یہی وہ بات ہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےخطبہ میں فرمائی تھی کہ ان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق اللہ السمٰوٰت والارض ۔ یعنی اس سال حج کا وقت گردش کرتا ہو اٹھیک اپنی اس تاریخ پر آگیا ہے جو قدرتی حساب سے اس کی اصل تاریخ ہے ۔

اس آیت میں نَسی کو حرام اور ممنوع قرار دے کر جہلائے عرب کی ان دونوں اغراض کو باطل کر دیا گیا ہے ۔ پہلی غرض تو ظاہر ہے کہ صریح طور پر ایک گناہ تھی ۔ اس کے تو معنی ہی یہ تھے کہ خدا کے حرام کیے ہوئے کو حلال بھی کر لیا جائے اور پھر حیلہ بازی کر کے پابندی قانون کی ظاہری شکل بھی بنا کر رکھ دی جائے ۔ رہی دوسری غرض ، تو سرسری نگاہ میں وہ معصوم اور مبنی بر مصلحت نظر آتی ہے ، لیکن درحقیقت وہ بھی خدا کے قانون سے بدترین بغاوت تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عائد کردہ فرائض کے لیے شمسی حساب کے بجائے قمری حساب جن اہم مصالح کی بنا پر اختیار کیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے بندے زمانے کی تمام گردشوں میں ، ہر قسم کے حالات اور کیفیات میں اس کے احکام کی اطاعت کے خوگر ہوں ۔ مثلاً رمضان ہے ، تو وہ کبھی گرمی میں اور کبھی برسات میں اور کبھی سردیوں میں آتا ہے ، اور اہل ایمان ان سب بدلتے ہوئے حالات میں روزے رکھ کر فرمانبرداری کا ثبوت بھی دیتے ہیں اور بہترین اخلاقی تربیت بھی پاتے ہیں ۔ اسی طرح حج بھی قمری حساب سے مختلف موسموں میں آتا ہے اور ان سب طرح کے اچھے اور برے حالات میں خدا کی رضا کے لیے سفر کر کے بندے اپنے خدا کی آزمائش میں پورے بھی اُترتے ہیں اور بندگی میں پختگی بھی حاصل کرتے ہیں ۔ اب اگر کوئی گروہ اپنے سفر اور اپنی تجارت اور اپنے میلوں ٹھیلوں کی سہولت کی خاطر حج کو کسی خوشگوار موسم میں ہمیشہ کے لیے قائم کر دے ، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے مسلمان کوئی کانفرنس کر کے طے کرلیں کہ آئندہ سے رمضان کا مہینہ دسمبر یا جنوری کے مطابق کر دیا جائے گا ۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ بندوں نے اپنے خدا سے بغاوت کی اور خود مختار بن بیٹھے ۔ اسی چیز کا نام کفر ہے ۔ علاوہ بریں ایک عالمگیر دین جو سب انسانوں کے لیے ہے ، آخر کس شمسی مہینے کو روزے اور حج کے لیے مقرر کرے؟ جو مہینہ بھی مقرر کیا جائے گا وہ زمین کے تمام باشندوں کے لیے یکساں سہولت کا موسم نہیں ہو سکتا ۔ کہیں وہ گرمی کا زمانہ ہوگا اور کہیں سردی کا ۔ کہیں وہ بارشوں کا موسم ہوگا اور کہیں خشکی کا ۔ کہیں فصلیں کاٹنے کا زمانہ ہوگا اور کہیں بونے کا ۔

یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ نسی کی منسُوخی کا یہ اعلان سن ۹ ھجری کے حج کے موقع پر کیا گیا ۔ اور اگلے سال سن ۱۰ ھجری کا حج ٹھیک ان تاریخوں میں ہُوا جو قمری حساب کے مطابق تھیں ۔ اس کے بعد سے آج تک حج اپنی صحیح تاریخوں میں ہو رہا ہے ۔"

 

جب اسلام آیا تو اسے عربی کیلنڈر وراثت میں ملا۔ تاہم، اس نے اسے مندرجہ بالا کافرانہ طریقوں سے اسے پاک کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج میں (ناسی) تعامل کے ذریعے وقت کے ساتھ "کھیل" کے خاتمے کا اعلان کیا اور ایک سختی سے قمری تقویم (شمسی تقویم سے منقطع) اپنایا۔ جسے ہم آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ آپ کے خطبہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حج کی تاریخیں ایک طویل دورانیے کے بعد اپنے فطری اور مناسب وقت پر واقع ہوئی ہیں اور اس وقت سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

 

ناسی کی مشق کو الہی امن و امان کے خلاف بغاوت سمجھا جاتا تھا - مقدس مہینوں میں ہیرا پھیری کی کوشش یا معاشی مفادات کے مطابق حج کو منتقل کرنا۔ خلاصہ یہ کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی حرمت کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے عبادت گاہ کے طور پر اس کے اصل مقصد پر بحال کیا۔ اس نے اسلامی کیلنڈر کو اس کے الہی مقصد کے لیے بحال کیا اور اسے قمری چکر اور کائنات کے کامل توازن سے جوڑ دیا۔

کیلنڈر کے نظام سے انسانی ہیرا پھیری کو ہٹا کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانیت کو ایک طاقتور پیغام دے رہے تھے کہ ہمیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مرضی کے سامنے پوری طرح سر تسلیم خم کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام معاملات میں جس میں ہم اپنے دن، مہینوں اور سالوں کو کس طرح ترتیب دیتے ہیں اور سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے کیلنڈر کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیلنڈر کو مارکیٹ کے مفادات سے پاک کرنے کی وجہ سے اسلامی قمری کیلنڈر ان تمام صدیوں میں بغیر کسی تبدیلی کے زندہ رہا (رومن/عیسائی کیلنڈر کے مقابلے، جو صدیوں میں مختلف ایڈجسٹمنٹ اور تبدیلیوں سے گزرا)۔

 

یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی معمول کی زندگی کے تمام واقعات کے لیے ہجری کیلنڈر کو اپنائیں، کیونکہ یہ ہمارے "عبادات" کے نظام الاوقات اور ہمارے دین اسلام کے تمام اہم واقعات اس کیلنڈر کے نظام اوقات سے منسلک  ہیں

 اللہ کا منشاء اس کیلنڈر کی ترجیح اس بات میں پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی عبادات کو مخصوص اوقات اور موسمی حالات تک محدود کرنے سے روکنا اور ہمیں ہر قسم کے سخت موسمی حالات میں بھی بخوشی اللہ کی عبادات کو سرانجام دینے کی ترغیب دینا ہے۔ اس کیلنڈر کی غیر موجودگی میں یہ بات یقینی تھی کہ ہماری عبادات محض رسمی عبادات جو کہ پوری انسانی زندگی میں مخصوص اوقات اور حالات تک محدود ہو کر محض رسم میں تبدیل ہو جاتی اور اس میں کسی قسم کی قربانی اور سخت حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی۔

اس کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے اور حضرت ابراہیم کی قربانی کے عظیم سبق پر ختم ہوتا ہے اس کے تمام ماہ اسلام کی عبادات، واقعات اور اہم مرحلوں  سے وابستہ ہیں ۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ دوسرے روایتی سالوں سے نجات حاصل کریں  اور ہجرت کیلنڈر کی طرف واپس لوٹیں اور خالق یعنی اللہ کی بالادستی کو قبول کرنے اور اللہ کی راہ میں اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ کے دین کے نفاذ  میں وقف کرنے کے عزم کا اعادہ کریں ۔

یہ بات ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ صرف اسلامی ہجری کیلنڈر کو اپنانے سے اللہ کی رحمتیں اور برکات سے فیضیاب نہیں ہو سکتے۔بلکہ یہ صرف اور صرف  ریاستی سطح پر دین اسلام کا مکمل اور کامل نفاذ میں پنہاں ہے

اللہ ہم سب کو ہدایت آور ہمت عطا فرمائے اور اللہ کے احکامات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

 

تحریر:

ممتاز ہاشمی

 

حوالہ جات

https://en.wikipedia.org/wiki/World_Calendar

 

"اسلامی کیلنڈر کی مقدس نوعیت" از شیخ عبد الحکیم مراد۔

تفسیر مولانا مودودی سورہ التوبہ آیت 37

 

Post a Comment

0 Comments