Header Ads Widget

ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب بیان القرآن حصّہ پنجم سے اقتباس



سُورۃُ لُقمٰن
تمہیدی کلمات

سورۂ لقمان کی ابتدائی آیات سورۃ البقرۃکی ابتدائی آیات سے بہت مشابہ ہیں۔ مشابہت کے ساتھ ساتھ دونوں سورتوں کی آیات میں لطیف فرق بھی ہے جس کے بارے میں مطالعہ کے دوران وضاحت کر دی جائے گی۔

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ 
آیات ۱تا ۱۱ 
{الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّلۡمُحۡسِنِیۡنَ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۷﴾اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ ۙ﴿۸﴾خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۹﴾خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ؕ وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۰﴾ہٰذَا خَلۡقُ اللّٰہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿٪۱۱﴾}
آیت ۱ {الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾} ’’الف‘ لام ‘میم۔‘‘ 
سورۃ البقرۃ کی پہلی آیت بھی انہی تین حروف پر مشتمل ہے۔
آیت ۲ {تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾} ’’یہ حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔‘‘ 
سورۃ البقرۃ سے تقابل کریں تو وہاں آیت ۲میں {ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ } کے الفاظ ہیں۔
آیت ۳ {ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّلۡمُحۡسِنِیۡنَ ۙ﴿۳﴾} ’’ہدایت اور رحمت محسنین کے حق میں۔‘‘ 
یعنی قرآن محسنین کے لیے سراسر ہدایت اور سراپا رحمت ہے۔ یاد رہے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲میں اس کے مقابل
 {ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ کے الفاظ ہیں کہ یہ ہدایت ہے اہل تقویٰ کے لیے ۔ یہاں پرایک تو ہدایت کے ساتھ لفظ ’’رَحْمَۃ‘‘ کا اضافہ فرمایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہاں کتاب سے استفادہ کے حوالے سے ’’متقین‘‘ کے بجائے ’’محسنین ‘‘کا ذکر ہے۔ محسنین دراصل متقین سے بلند تر درجے پر فائزوہ لوگ ہیں جن کا ایمان ترقی پاتے پاتے ’’احسان‘‘ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے ---- ’’احسان ‘‘ قرآن کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں سورۃ المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں کی جا چکی ہے: {اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾} ’’ جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور پھر تقویٰ میں بڑھیں اور ایمان لائیں ‘پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اور پھر درجہ احسان پر فائز ہو جائیں۔اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ یہ اس درجہ بندی کی طرف اشارہ ہے جس میں سب سے پہلے اسلام ‘ اس کے بعد ایمان‘ اور پھر اس کے اوپر احسان کا درجہ ہے۔ اسلام‘ ایمان اور احسان کی یہ تین منازل ’’حدیث ِجبریل ؑ‘‘ میں بھی بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ اللہ کے راستے کے مسافروں کی اعلیٰ ترین منزل ’’احسان‘‘ ہے۔
آیت ۴ {الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ } ’’ جو نماز قائم کرتے ہیں‘‘
 اب یہاں محسنین کے اوصاف کا ذکر ہے اور ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ نما زقائم کرتے ہیں۔ 
 {وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ } ’’اور زکوٰۃ دیتے ہیں‘‘
 ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ اپنے تزکیے کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ سورۃ البقرۃ کی آیت ۳میں اس حوالے سے {وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾} کے الفاظ آئے ہیں ‘جبکہ یہاں باقاعدہ ’’زکوٰۃ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ 
 {وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ؕ﴿۴﴾} ’’اور آخرت پر یہی لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں۔‘‘ 
 ’’ایمان بالآخرۃ ‘‘کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ یہاں ’’یقین‘‘ کا ذکر ہواہے۔ دراصل آخرت کا عقیدہ وہ عامل (factor) ہے جو انسان کے عمل اور کردار پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس ضمن میں ایک بندۂ مسلمان سے یقین والے ایمان کا تقاضا کرتا ہے۔
آیت ۵ {اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۵﴾} ’’یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ 
 یہاں اس سورت کی پانچویں آیت بعینہٖ وہی ہے جو سورۃ البقرۃ کی پانچویں آیت ہے۔
آیت ۶ {وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡتَرِیۡ لَہۡوَ الۡحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ} ’’ اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کھیل تماشے کی چیزیں خریدتے ہیں تا کہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے بغیر علم کے ‘اور اس کو ہنسی بنا لیں۔‘‘
 یہاں خصوصی طور پر نضر بن حار ث کے کردار کی طرف اشارہ ہے جو روسائے قریش میں سے تھا۔ دراصل نزول 
 قرآن کے وقت عرب کے معاشرہ میں شعر و شاعری کا بہت چرچا تھا۔ ان کے عوام تک میں شعر کا ذوق پایا جاتا تھا اور اچھی شاعری اور اچھے شاعروں کی ہر کوئی قدر کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں قرآن کریم جیسے کلام نے گویا اچانک کھلبلی مچا دی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کلام کے گرویدہ ہونے لگے تھے‘ اس کی فصاحت و بلاغت انہیں مسحور کیے دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ جو شخص قرآن کو ایک بار سن لیتا وہ اسے بار بار سننا چاہتا۔ یہ صورتِ حال مشرکین کے لیے بہت تشویش ناک تھی۔ وہ ہر قیمت پر لوگوں کو اس کلام سے دور رکھنا چاہتے تھے اور دن رات اس کی اس ’’قوتِ تسخیر‘‘ کا توڑ ڈھونڈنے کی فکر میں تھے۔ چنانچہ نضر بن حارث نے اپنے فہم کے مطابق اس کا حل یہ ڈھونڈا کہ وہ شام سے ناچ گانے والی ایک خوبصورت لونڈی خرید لایااور اس کی مدد سے مکہ میں اس نے راتوں کو ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرانا شروع کر دیں۔ بظاہر یہ ترکیب بہت کامیاب اور مؤثر تھی کہ لوگ ساری ساری رات ناچ گانے سے لطف اندوز ہوں ‘ اس کے بعد دن کے بیشتر اوقات میں وہ سوتے رہیں اور اس طرح انہیں قرآن سننے یا اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی کبھی فرصت ہی میسر نہ آئے۔
 یہاں ضمنی طور پر اس صورت حال کا تقابل آج کے اپنے معاشرے سے بھی کر لیں۔ مکہ میں تو ایک نضربن حارث تھا جس نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا‘ لیکن آج ہمارے ہاں سپورٹس میچز ‘ میوزیکل کنسرٹس (concerts) اور بے ہودہ فلموں کی صورت میں لہو و لعب اور فحاشی و عریانی کا سیلابِ بلا گھر گھر میں داخل ہو چکا ہے جو پورے معاشرے کو اپنی رو میں بہائے چلا جا رہا ہے۔ فحاشی و عریانی کے تعفن ّکا یہ زہر ہمارے نوجوانوں کی رگوں میں اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کے قلوب و اَذہان میں موت یا آخرت کی فکر سے متعلق کوئی ترجیح کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ ان میں سے کسی کو (الّا ما شا ء اللہ) اب یہ سوچنے کی فرصت ہی میسر نہیں کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے ؟ کس طرف جا رہاہے ؟ اس کی زندگی کا مقصد و مآل کیا ہے؟ اس کے ملک کے حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں اور اس ملک کا مستقبل کیا ہے؟ اس سب کچھ کے مقابلے میں ذہن ِاقبالؔ کے ابلیس کی سوچ تو گویا بالکل ہی بے ضرر تھی جس نے بقولِ اقبال ؔمسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے کارندوں کو یہ سبق پڑھایا تھا: ؎ 
مست رکھو ذکر و فکر ِصبح گاہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے!
گویا اُس دور میں ابلیس کو معلوم تھا کہ مسلمان کسی قیمت پر بھی ’’عریاں الحاد‘‘ کے جال میں پھنسنے والا نہیں۔ اس لیے وہ کھل کر سامنے آنے کی بجائے ’’مزاجِ خانقاہی‘‘ کا سہارا لے کر مسلمانوں کو ’’شرعِ پیغمبر ‘‘سے برگشتہ کرنے کا سوچتا تھا۔ مگر آج صورت حال یکسر مختلف ہے۔ آج ابلیس کی ’’جدوجہد‘‘ کی کرامت سے ’’نوجواں مسلم‘‘ اس قدر ’’جدت پسند‘‘ ہو چکا ہے کہ فحاشی و عریانی کے مظاہر کو وہ جدید فیشن اور نئی ترقی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کے سٹیج پر ابلیسیت کوئی بہروپ بدلنے کا تکلف ّکیے بغیر اپنی اصل شکل میں برہنہ محو ِرقص ہے اور ہماری نئی نسل کے نوجوان بغیر کسی تردّد کے اپنی تمام ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اس تماشہ کو دیکھنے میں رات دن مگن ہیں۔ گویا یہی ان کی زندگی ہے اور یہی زندگی کا مقصد و مآل !
  {اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾} ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔‘‘
آیت ۷ {وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسۡتَکۡبِرًا} ’’جب اسے سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو وہ پیٹھ موڑ کر چل دیتا ہے استکبار کرتے ہوئے‘‘
  {کَاَنۡ لَّمۡ یَسۡمَعۡہَا کَاَنَّ فِیۡۤ اُذُنَیۡہِ وَقۡرًا ۚ} ’’جیسے کہ اُس نے انہیں سنا ہی نہیں‘ گویا اُس کے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘
 گویا وہ بہرا ہے اور جو کچھ اللہ کے رسولﷺ نے اسے سنایا ہے اس نے وہ سنا ہی نہیں۔ 
 {فَبَشِّرۡہُ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۷﴾} ’’تو (ا ے نبیﷺ!) آپ اس شخص کو دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے ۔‘‘
 تاویل خاص کے اعتبار سے دونوں آیات مذکورہ شخص نضر بن حارث کے بارے میں ہیں اور ان میں عذاب کے حوالے سے اسی کا ذکر ہے۔
آیت ۸ {اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ ۙ﴿۸﴾} ’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے نعمتوں بھرے باغات ہیں۔‘‘
آیت ۹ {خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۹﴾} ’’وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو سچا ہے۔اور وہ زبردست ہے حکمت والا۔‘‘ 
آیت ۱۰ {خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَہَا} ’’اُس نے آسمانوں کو تخلیق کیا بغیر ایسے ستونوں کے کہ جنہیں تم دیکھ سکو ‘‘
  {وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ} ’’اور اُس نے زمین میں لنگر ڈال دیے تا کہ وہ تمہیں لے کر ایک طرف لڑھک نہ جائے‘‘
 یعنی زمین کا توازن (isostasy) برقرار رکھنے کے لیے اس میں پہاڑ گاڑ دیے۔
  {وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ؕ} ’’اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیے۔‘‘
  {وَ اَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۰﴾} ’’اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا‘ پھر اُگائے اس میں ہر طرح کے (نباتات کے) خوبصورت جوڑ ے۔‘‘ 
 آج کی سائنس ’’نباتات کے جوڑوں‘‘ کی بہتر طور پر تشریح کر سکتی ہے۔ بہر حال دوسرے جانداروں کی طرح پودوں اور نباتات میں بھی نر اور مادہ کا نظام کار فرماہے اور ان کے ہاں باقاعدہ خاندانوں اور قبیلوں کی پہچان اور تقسیم بھی پائی جاتی ہے۔
آیت ۱۱ {ہٰذَا خَلۡقُ اللّٰہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ} ’’یہ تو ہے اللہ کی تخلیق‘ اب تم مجھے دکھاؤ کہانہوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اُس کے سوا (تمہارے معبود) ہیں!‘‘
 قرآن میں مشرکین کے اس عقیدے کا بار بار ذکر ہوا ہے کہ وہ اللہ کو اس کائنات اور اس میں موجود ہر شے کا خالق 
 مانتے تھے۔چنانچہ یہاں ان سے یہ سوال ان کے اسی عقیدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ 
 { بَلِ الظّٰلِمُوۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿٪۱۱﴾} ’’بلکہ یہ ظالم کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ 
 دراصل اس دلیل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ عقیدے کے اعتبار سے اگرچہ وہ لوگ اپنے چھوٹے معبود وں کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے‘ لیکن وہ گمراہی میں اتنے دور جا چکے تھے کہ ایسی باتوں کی طرف کبھی متوجہ ہی نہیں ہوتے تھے۔

 

Post a Comment

0 Comments