ماضی کے جھروکوں سے
تحریر: ممتاز ہاشمی
گزشتہ روز جب عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری عمل میں آئی تو اس عمران خان اور پی ٹی آئی نے ایک طوفان برپا کر دیا تھا اور اس کے دفاع میں ہر طرح کے جواز پیش کیے جا رہے تھے اور میڈیا پر مسلسل جھوٹ بول جا رہا تھا کہ اس گرفتاری غیر قانونی طور پر کی گئی اور اس کو اغوا سے تعبیر کیا گیا اور گرفتاری کے وقت اس پر اور ڈرائیور پر تشدد کا پروپیگنڈہ کیا گیا
لیکن جب چند گھنٹوں کے بعد گرفتاری کی وڈیو اور کیس کی رجسٹریشن منظر نامہ پر آگئی تو ان سب کو سانپ سونگھ گیا اور کسی میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہ ہوئی کہ اپنے بیان پر معذرت خواہ ہوتے۔
اس کے بعد جب عوامی ردعمل عمران خان کے خلاف واضح ہونا شروع ہوا تو آج بہت سے لوگ عمران خان کے موقف سے پیچھے ہٹنے لگے پنجاب کے وزیر اعلی پرویز الٰہی نے شہباز گل کی شدید مذمت کی اور عمران خان کو کہا کہ وہ اس سے علیحدگی کا اعلان کریں
اس کا ایک واضح ثبوت آج شہباز گل کی کورٹ میں پیشی پر دیکھنے میں آیا جب عمران خان یا کوئی بھی پارٹی رہنما اس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے وہاں پر موجود نہیں تھا
اس بات سے اس بات کی تصدیق ئو جاتی ہے کہ عمران خان اور پارٹی صرف موقع پرست اور مفاد پرست عناصر کا ایک ٹولہ ہے جن کے کوئی اصول نہیں ہیں اور اپنے مفادات کے لیے ہر کام کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں
آج عمران خان کی تقریر اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عمران خان اپنے ایجنڈے کی ناکامی اور صرف ایک ہی شخص کی گرفتاری پر ایک دفعہ پھر یوٹرن لے لیا ہے اور آج فوج سے معافی مانگ رہا ہے اب جب اس کے پاس اپنے موقف کے دفاع کرنے میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس نے صرف اپنا زور اس بات پر دیا ہے کہ دوسرے لیڈروں نے بھی فوج پر ماضی میں تنقید کی تھی جو کہ ایک انتہائی احمقانہ اور بےتکی منطق ہے کیونکہ جن تقاریر کو اس نے آج پیش کیا ہے ان میں سے اکثر اس وقت کی ہیں جب وہ اقتدار میں تھا اور اس پر قانون کے مطابق ایکشن لینا اور عمل درآمد کرنا اسکی حکومت کی ذمہ داری تھی جو کہ اس نے ادا نہیں کی یا پھر وہ اس کی حکومت کے مطابق قانون کے خلاف نہیں تھیں۔
آج جب شہباز گل کے کیس میں تفتیش جاری ہے اور اس بات کے قومی امکانات موجود ہیں کہ اس واقعہ میں بہت اہم کردار سامنے آئے گئے اسلئے اب عمران خان فوج سے معافی مانگ کر اپنے آپ کو قانونی کارروائی سے بچانے کی کوشش میں مصروف ہے
0 Comments