دو قومی نظریہ، پاکستان، اور قرآن کا تعلق
آج جب تمام قوم یوم آزادی منانے کی تیاریاں کر رہی ہے تو یہ ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اللہ سبحانہ و تعالٰی کے معجزہ یعنی پاکستان کی تخلیق کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے اس کے قیام کی حکمت کا تاریخی پس منظر میں جائزہ لیں۔
خالق کائنات نے تخلیق انسانی کا بنیادی مقصد اس کو ایک معین عرصہ اس عارضی زندگی کی شکل میں گزار کر اس کو پرکھنا ہے تاکہ وہ ایک طرح سے امتحانی مرحلے سے گزراتے ہوئے اپنے انفرادی اعمال کی بدولت اپنے لیے سزاو جزا کا انتخاب کر سکے ۔ اس امتحان میں کامیابی کا معیار رب کائنات نے صرف اور صرف اللہ سبحان و تعالٰی ٰ کی عبادت کرنے کو قرار دیا ہے اور اس کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے ۔
سورہ الذّٰرِیٰت آیت 56
وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾"
میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔"
اگرچہ اللہ سبحانہ و تعالٰی تمام کائنات کا خالق ہے اور تمام مخلوقات اس کی تابع ہیں لیکن یہاں پر صرف انسانوں اور جنوں کو ہی کیوں مخاطب کیا گیا ہے اس کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کائنات میں انسان اور جن کے علاوہ کسی بھی مخلوق کو خالق کائنات نے اس بات کی آزادی نہیں دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی اختیار کر سکے بلکہ ساری کائنات ہی صرف خالق کے احکامات کی عملداری پر پابند ہے انسانوں اور جنوں کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو خالق کائنات کی بندگی ( عبادت) اختیار کریں یا کسی اور کی۔ اسی عطا کردہ آزادی عمل اور اس کے انفرادی اعمال کی بنیاد پر ہی قیامت کے دن اس کا حساب ہو گا۔ گویا کہ ابدی زندگی میں کامیابی اور ناکامی کا دارومدار صرف خالق کائنات کی بندگی اختیار کرنے پر منحصر ہوگا۔
یہاں پر اس بات کی وضاحت بہت ضروری ہے کہ بندگی کا تعلق صرف عبادات تک محدود نہیں ہے بلکہ عبادات بندگی کا صرف ایک حصہ ہیں بندگی کا حقیقی تصور اللہ کے تمام احکامات کی ہمہ وقت پابندی اور عملداری ہے۔ اس کا واحد طریقہ تمام خلاف شریعت احکامات اور نظام کو مسترد کرتے ہوئے ان کے خاتمے اور اللہ کے احکامات یعنی دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد میں پنہاں ہے۔
اس بنیادی تفریق کی بنیاد پر نسل انسانی اس عارضی زندگی میں واضح طور دو گرروں میں تقسیم نظر آتی ہے ایک وہ جو اللہ کو خالق حقیقی تسلیم کرتے ہوے اس کے احکامات پر عملدرآمد کیلئے ہمہ وقت متحرک اور تیار ہوجائے دوسرا وہ گروہ جو اللہ سبحانہ و تعالٰی کی حاکمیت کا انکار کرتےھوے اپنی عقل و دانش کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات پر ترجیح دیتا ہے اور اسطرح سے شرک کا مرکتب ہوتا ہے۔
اس بنیاد پر نسل انسانی کی تخلیق کو دو قومی نظریہ پر مشتمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یعنی ایک اللہ سبحانہ و تعالٰی کی بندگی کرنے والے یعنی مسلم امت اور دوسرا اللہ سبحانہ و تعالٰی کے باغی یعنی کفار۔
سورہ التَّغَابُن آیت 2
"ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ فَمِنۡکُمۡ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمۡ مُّؤۡمِنٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲﴾"
" اسی نے تمہیں پیدا کیا سو تم میں سے بعض تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالٰی خوب دیکھ رہا ہے "
سورہ الْكَهْف آیت 29
"وَ قُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ ۙ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِہِمۡ سُرَادِقُہَا ؕ وَ اِنۡ یَّسۡتَغِیۡثُوۡا یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالۡمُہۡلِ یَشۡوِی الۡوُجُوۡہَ ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ ؕ وَ سَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿۲۹﴾"
" اور اعلان کر دے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے ۔ اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے ۔ ظالموں کے لئے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی ۔ اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاہ ( دوزخ ) ہے "
سورہ حٰمٓ السَّجْدَة آیت 40
"اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾"
" بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں کج روی کرتے ہیں وہ ( کچھ ) ہم سے مخفی نہیں ( بتلاؤ تو ) جو آگ میں ڈالا جائے وہ اچھا ہے یا وہ جو امن و امان کے ساتھ قیامت کے دن آئے؟ تم جو چاہو کرتے چلے جاؤ وہ تمہارا سب کیا کرایا دیکھ رہا ہے"
ان آیات میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نسل انسانی کی اھل ایمان اور کفار میں واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم کا اعلان کیا ہے اور ان کے انجام کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ان گروہوں کو امت مسلمہ اور کفار کا نام دیا گیا تھا اور یہ ہی دو قومی نظریہ کی فکری اور عملی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر دور میں نسل انسانی کوخسارے سے بچانے کے لیے انبیاء اور رسولوں کو مختلف اقوام کے درمیان بھیجا اور ان کےساتھ اپنی ہدایات اور احکامات کو نازل فرمایا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے اور اس کی تکمیل پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بر ہوتی ہے اس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قیامت تک کامل ہدایت تمام انسانیت کے لیے قران حکیم اور سنت رسول آخرالزماں محمد صلی علیہ وسلم کی صورت میں محفوظ کر دیا۔
اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسانی تقسیم کو امت مسلمہ اور کفار کی شکل میں واضح کیا تو ان کے درمیان ہونے والے تضاد کا بھی اعلان سورہ الکافرون میں واضح کیا:
"سورہ الکافرون
آیت 1
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو!
آیت 2
لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو.
آیت 3
وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ۚ﴿۳﴾
نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں.
آیت 4
وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ ۙ﴿۴﴾
اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو.
آیت 5
وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿۵﴾
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں.
آیت 6
لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ ٪﴿۶﴾ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے"
االلہ سبحانہ و تعالٰی ٰ نے امت مسلمہ کے لیے آفاقی اور اجتماعی نظام حیات جس کو دین اسلام کا نام دیا ہے اس کو کامل طور پر اس زمین پر رسول آخرالزماں محمد صلی علیہ وسلم کے ہاتھوں نافذ کیا ۔
اور ہر آنے والے دور کے لیے دین اسلام کے نفاذ کا مکمل لائحہ عمل رسول آخرالزماں محمد صلی علیہ وسلم کی سیرت کی شکل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہ جدوجہد عظیم ترین قربانیوں سے عبارت ہے جو رسول آخرالزماں محمد صلی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ غنہ نے پیش کیں اس میں مکہ مکرمہ میں دعوت اسلام، اہل ایمان کی تربیت اور صبرواستقامت کا مظاہرہ، دوسرے ملحقہ علاقوں میں تبلیغ اسلام کے مراحل شامل ہیں
ان تمام مراحل میں رسول آخرالزماں محمد صلی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے انتہائی سختیاں اور تکالیف برداشت کیں اور ہر مرحلے پر اللہ پر اپنے کامل ایمان کا ثبوت دیا اور کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔
جب ایک تعداد میں اہل ایمان کی جماعت تیار ہو گئی تو اللہ سبحانہ و تعالی ٰ کے حکم سے دین اسلام کے نفاذ کے لیے مسلمانوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے پہلی ہجرت ہے جو کہ اللہ سبحان تعالیٰ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے لیے کی گئی تھی ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اہل ایمان نے اپنا گھر بار, رشتہ داروں وغیرہ ہر چیز کو چھوڑ کر کے رسول آخرالزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ منورہ ہجرت کی۔ مدینہ منورہ میں مہاجرین کا جس طرح سے انصار مدینہ نے استقبال کیا اور ان کے لئے ایثار کے ایسے پیمانے قائم کئے جن کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مدینہ منورہ میں دین اسلام کو فوری طور پر نافذ کیا گیا اور اس کا واضح اعلان قبلہ کی تبدیلی اور نماز کے نظام کے قیام سے کیا گیا۔ اس سے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ اب اس نئی امت مسلمہ کا ظہور ہو گیا ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کے نفاذ کے لئے قیامت تک جدوجہد کرے گی اور دین اسلام کے اس کرہ ارض پر نفاذ کا فریضہ انجام دے گی۔
اس کے ساتھ ہی امت مسلمہ کے تہواروں کو دوسروں سے الگ کرتے ہوئے عید الفطر اور عید الاضحٰی کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ روزے کی کیفیت اور اوقات کو بھی دوسروں سے جدا کیا گیا۔ زکوۃ کا نظام قائم کیا گیا دین اسلام کے اصولوں پر مامور معاشرتی و سماجی اقدار کے تمام اجزاء کو نافذ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں دین اسلام کی تبلیغ اور نفاذ کے لئے عملی جدوجہد شروع کی گئی اور بہت جلد اللہ کی مدد سے دین اسلام کا مکمل غلبہ دنیا کے مختلف علاقوں تک پھیلتا چلا گیا۔ اور خلافت راشدین کے دور میں مسلمانوں کی خلافت دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں تک پھیل گی اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کے فضل سے دنیا بھر میں عدل پر مبنی ایک عالمگیر نظام وجود میں آیا اور اس کی برکات سے ترقی و خوشحالی کے نئے پیمانے متعارف ہوئے ۔
خلافت راشدین کے بعد اگرچہ اسلامی خلافت کی حدود میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاستی امور میں خلافت کی جگہ ملوکیت قدم جماتی گئی یعنی مسلمانوں کا تو عروج جاری رہا لیکن دین اسلام کا مکمل نظام اور تصور دھندلانے لگا۔
اس بات کو سمجھنے اور ماضی , حال و مستقبل کے ادوار کا صحیح احاطہ کرنے کیلئے مندرجہ ذیل حدیث کو سامنے رکھنا ضروری ہے ۔
"امام احمد بن حنبل ؒ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے مطابق آنحضور ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’تمہارے مابین نبوت موجود رہے گی‘ (آپ ؐ کا اشارہ خود اپنی ذاتِ اقدس کی جانب تھا) جب تک اللہ چاہے گا‘ پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔ اس کے بعد نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہو گی اوریہ بھی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ قائم رہے‘ پھر جب اللہ چاہے گا اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی (یعنی ظالم) ملوکیت آئے گی اور وہ بھی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا‘ پھر جب اللہ چاہے گا اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر مجبوری کی ملوکیت (غالباً مراد ہے مغربی استعمار کی غلامی) کا دور آئے گا اور وہ بھی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا‘ پھر جب اللہ چاہے گا اسے بھی اٹھا لے گا ---- اور پھر دوبارہ نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی!‘‘ راوی کے قول کے مطابق اس کے بعد آپ ؐ نے خاموشی اختیار فرمالی۔ (اور آپ ؐ کی یہ خاموشی بھی بلا سبب نہ تھی‘ تاہم اس کا بیان بعد میں ہوگا)۔ اس حدیث کی ایک دوسری روایت میں صراحت ہے کہ جب وہ نظام دنیا میں دوبارہ قائم ہو جائے گا تو آسمان بھی اپنی ساری برکات نازل فرمادے گا اور زمین بھی اپنی تمام برکتیں باہر نکال کر رکھ دے گی۔ (چنانچہ بعض دوسری احادیث میں ان برکات کی تفصیلات بھی بیان ہوئی ہیں)"
آج کے دور میں پوری دنیا کے مسلمان انتہائی پستی اور ذلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا ان کو کسی معاملے میں کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ باوجود اس کے کہ آج دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہ نہایت قیمتی اور نایاب وسائل سے مالا مال ہیں۔ اس زوال کی بنیاد ڈھونڈنے کے لئے ہمیں ذرا ماضی قریب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ زیادہ دور کی بات نہیں جبکہ مسلمانوں کی خلافت دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر قائم تھی اور وہاں دین اسلام کسی حد تک نافذ تھا اگرچہ اس میں ملوکیت کے اثرات نمایاں تھے۔ اس کے باوجود رب العالمین کی رحمت سے وہاں پر خوشحالی اور امن قائم تھا۔ اس کیفیت میں لوگوں کو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا قریب حاصل کرنے کے وافر مواقع دستیاب تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حکمرانوں اور لوگوں میں شیطانیت غالب آتی گئی اور پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے جال میں پھنسنے لگے۔ ۔مسلمانوں میں لالچ اور خود غرضی فروغ پانے لگی۔ اسطرح معاشرے میں برائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا۔ ان میں خوف خدا ختم ہونے لگا اور بدترین برائیوں یعنی جھوٹ، دھوکہ دہی، دروغ گوئی، فریب، غیبت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانا کی بیماریاں فروغ حاصل کرنے لگیں۔ ان تمام محرکات کی بنیادی وجہ ایمان کی کمزوری اور آخرت پر یقین کا فقدان تھا۔ مسلمانوں کی ان کمزوریوں سے کفار نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ان کے درمیان مزید نفرتوں کو فروغ دینے کے لیے ان میں سے لوگوں کو لالچی کی بناء پر غیر ضروری مسائل میں الجھا کر فرقوں کو فروغ دیا۔ جب وہ مسلمانوں میں فرقہ بندیوں میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہوے تو انہوں نے مسلمانوں کے درمیان میں سے کچھ لوگوں کو لالچ دیکر اپنے ساتھ شامل کرنے اور ان کے ذریعے مسلمانوں کو شکست دیتے ہوئے ان پر قابض ہونے کا عمل شروع کیا۔ اسطرح سے مسلمانوں کو شکست دیتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمانوں پر حکمرانوں کی حیثیت سے غیر مسلم مسلط ہو گئے اور مسلمانوں پر غلامی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ ان صدیوں کی غلامی نے مسلمانوں میں دین اسلام کا تصور مکمل طور پر دھندلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
موجودہ امت مسلمہ کے حالات اور واقعات کو ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔ "
سنن ابوداؤد حدیث 4297
اس کی روشنی میں آج ہم مسلمانوں اور عالم اسلام کا حال دیکھیں تو یہ مکمل طور پر اس حدیث کی سچائی کی گواہی دے رہی ہے۔
اج دنیا جس دورانیہ میں داخل ہو گئی ہے اور تیزی سے اپنے احتشام کی جانب گامزن ہے اس دور میں اہل ایمان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جو ان کو اپنے ایمان کی تجدید اور حفاظت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
مجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ذیل کی دو نہایت اہم احادیث ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب جب دین اسلام کا نظام قائم ہو گا وہ پورے عالم انسانیت اور کل روئے ارضی پر محیط ہو گا۔
چنانچہ (۱) صحیح مسلمؒ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ (جو آنحضورﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے) سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ نے میرے لیے پوری زمین کو سمیٹ یا سکیڑ دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی‘ اور سن رکھو کہ میری اُمت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے سکیڑ یا لپیٹ کر دکھا دیے گئے!‘‘
او ر(۲) مسند احمد بن حنبل ؒ میں حضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: ’’کل روئے ارضی پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا نہ اونٹ کے بالوں کے کمبلوں سے بنا ہوا خیمہ جس میں اللہ کلمۂ اسلام کو داخل نہ کر دے‘ خواہ کسی عزت کے مستحق کے اعزاز کے ساتھ اور خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کے ذریعے۔ یعنی یا تو اللہ انہیں عزت دے گااور اہل اسلام میں شامل کر دے گا یا انہیں مغلوب کر دے گا‘ چنانچہ وہ اسلام کی بالادستی قبول کر لیں گے!‘‘ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس پر میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ ’’تب وہ بات پوری ہو گی (جو سورۃ الانفال کی آیت ۳۹میں وارد ہوئی ہے) کہ دین کل کا کل اللہ ہی کے لیے ہو جائے!‘‘
ان احادیث کی سچائی تاریخ اور اج کے حالات کی گواہی ہیں ۔ اس بات میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ہم آج تیزی سے آخری دور کی جانب گامزن ہیں اور یہ دور قیامت سے پہلے پوری کائنات پر دین اسلام کے مکمل نفاذ کا دور ہو گا ۔
اس حقیقت کو اس عہد کے مفکر قرآن علامہ اقبال نے پہچانتے ہوئے بھولے بھٹکے مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی اور اپنے اصل مقصد حیات کی جانب دوبارہ سے گامزن ہونے کا جذبہ بیدار کیا ہوا اور اسطرح سے دوبارہ سے دو قومی نظریہ کی آفاقیت کو زندہ جاوید کر دیا۔
علامہ اقبال نے اپنے روحانی مشاہدہ کو اہل ایمان کے سامنے اسطرح پیش کیا ۔
آسماں ہوگا سحَر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظُلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
اس قدر ہوگی ترنّم آفریں بادِ بہار
نگہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی
آ ملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گُل کی ہم نفَس بادِ صبا ہو جائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی
دیکھ لو گے سطوَتِ رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیرِ پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
نالۂ صیّاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خُونِ گُلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
علامہ اقبال نے اس مقصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کو دوبارہ سے منظم ہونے اور اپنے لئے ایک خطہ کے حصول کی جدوجہد کرنے کی راہ دکھائی تاکہ اس خطہ ارض پر اللہ کے دین سلام کا نفاذ کیا جائے جس کا ذکر اوپر حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا واضح اعلان علامہ اقبال نے اس اندازِ میں کیا ہے ۔
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!
اسطرح سے پاکستان کے قیام کی بنیاد دو قومی نظریہ کی تجدید کرتے ہوئے قرآن کے عظیم مفکر علامہ اقبال نے رکھی۔ انہوں نے اس وقت جب کہ پوری ملت اسلامیہ پر شکست اور غلامی میں جکڑی ہوی تھی اور زمین کے کسی بھی علاقے میں اسلام کا نظام نافذ نہ تھا جس کی وجہ سے دین اسلام کا تصور مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا اور مسلمانوں میں ذہنی غلامی اور پسماندگی سرایت کر چکی تھی۔ اور پوری دنیا میں دین اسلام مکمل طور پر مغلوب ہو چکا تھا مسلمانوں میں اسلام کا تصور صرف ایک مذہبی عبادات اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ اس وقت علامہ اقبال کو اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی نے یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ مسلمانوں کو دوبارہ سے بھولا ہوا سبق یاد دلا کر ان میں دوبارہ سے اسلام کی عظمت کو بحال کرنے کا عزم پیدا کریں ۔ اقبال نے مسلمانوں کو ان کے زوال کی وجوہات اور اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔ اس دوران انہوں نے اپنے پیغام کو اردو اور فارسی کے ذریعے مسلمانوں کی بیداری کے لیے استعمال کرتے ہوئے اس کے لیے عملی لائحہ عمل فراہم کیا۔
انہوں نے دنیا میں احیاء اسلام کے لیے پاکستان کا تصور بطور صدر مسلم لیگ پیش کیا۔ جس کے مطابق اس نئی مسلم مملکت پاکستان جو کہ ہندوستان کے اکثریتی مسلم آبادی والے صوبوں پر مشتمل ہو گی اس میں اسلام کا مکمل طور پر نفاذ کرنے کا موقع ملے گا اور اس طرح اسلام کے حقیقی تصور جو کہ خلافت راشدہ کا ماڈل ہو گا وہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہو گا کہ تمام دنیا اس نظام کے ثمرات کو دیکھے اور اس طرح سے دنیا اسلام کی طرف مائل ہو جائے گی۔اور آہستہ آہستہ دین اسلام دنیا بھر میں نافذ ہونے کا ذریعہ بنے گا۔ اقبال نے اس کام کی تکمیل کے لیے قائداعظم کو قائل کیا۔ اور قائداعظم جو کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کے رویے سے مایوس ہو کر لندن جا چکے تھے۔ ان کو علامہ اقبال نے قائل کیا کہ وہ ہندوستان واپس جا کر پاکستان کے قیام کی جدوجہد کریں اسطرح سے اللہ سبحانہ و تعالٰی کی حکمت عملی سے وہ واپس ہندوستان آئے اور پاکستان کی تخلیق کے لیے انتہائی محنت کی اور قیام پاکستان کو مکمل اور صرف اور صرف دین اسلام کے بنیادی مقاصد سے منسلک کر دیا۔ اس تحریک نے بہت جلد اپنی اہمیت کو اجاگر کر دیا اور اب پاکستان کے قیام اوردین اسلام کے نفاذ کا نعرہ ایک مکمل تصور بن کر ہر جگہ پر اس طرح سے چھا گیا۔
پاکستان کا مطلب کیا
لا اللہ الا اللہ محمد رسول اللہ
تحریک پاکستان کے حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات تسلیم کرنے کے سواے کوئی چارہ نہیں ہے کہ پاکستان کی تخلیق ایک معجزہ ہے اور اس کی بہترین وضاحت ڈاکٹر اسرار احمد نے قرآن میں اس کو مندرجہ ذیل آیت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
سورہ الْاَنْفَال آیت 26
"وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾"
"اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو۔"
قائداعظم نے اس عظیم جدوجہد میں قرآن کے عظیم اسکالر علامہ اقبال کے فراہم کردہ لائحہ عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ اور اخرکار مارچ 23 کو پاکستان بنانے کی قرارداد منظور ہوئی اور اس کے بعد قائد اعظم کی انتھک محنت سے بالآخر اللہ سبحان و تعالٰی کی رحمت سے 14 اگست 1947 کو دنیا میں ایک نئی ریاست ظہور پذیر ہوئی جو دین اسلام کے نفاذ کے لئے وجود میں آئی۔
اس جدوجہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں ,عزتیں اور جائیدادیں کی قربانیاں دیں لاکھوں مسلمانوں نے نئی تخلیق شدہ پاکستان میں مکمل ہجرت کی تھی جس پر دین اسلام کے قیام کا عزم تھا۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت جس کو ہجرت مدینہ الثانی کہا جاتا ہے۔
اس ہجرت میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں ہزاروں کہانیاں ہماری تاریخ کا لازمی حصہ ہیں۔ اس بات کی تصدیق اور وضاحت قائد اعظم نے خود اپنے ذاتی معالج سے اپنے آخری ایام میں یوں کیا ہے
" تم جانتے ھو کہ جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا صلہ علیہ والہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمیں کی بادشاہت دے"
اگرچہ مسلمانان پاکستان اس کے قیام کے بعد اپنے اصلی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے جس کی وجوہات اور حالات کی ایک طویل داستان ہے اور اس ناکامی کے بنیادی کردار پاکستان کے حصے میں آنے والی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ان کے دیگر سہولت کار ہیں جن کا پاکستان کے قیام میں کوئی کردار نہیں تھا بلکہ وہ اپنے برطانوی آقاؤں کے زیر اثر اس تحریک کو ناکام بنانے میں استعمال ہوتے رہے تھے ان کی سازشوں کے نتیجے میں نئی مملکت پاکستان میں مسلمانوں میں باہمی اعتماد کا فقدان نظر آنے لگا اور گروہی منافرت نے جہنم لینا شروع کر دیا ۔ واضح رہے کہ پاکستان کی بنیاد ہی دین اسلام کا نفاذ تھا جس کی غیر موجودگی میں ان اختلافات کا ابھرنا فطری عمل تھا۔ جب اس کے ادراک میں کوتاہی کی گئی تو نتیجتاً بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا ۔ لیکن بنگلہ دیش کا اپنا علیحدہ وجود آج بھی دو قومی نظریہ کی سچائی کی گواہی دے رہا ہے ۔
اس بات میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ آج پوری دنیا میں احیاء سلام کی تحریکوں کا محرک صرف اور صرف دو قومی نظریہ ہے۔ جو روز اول سے روز آخر تک زندہ رہے گا ۔
اس کی مثالیں انقلاب ایران اور حالیہ افغانستان میں مسلمانوں کی عظیم الشان کامیابی کی صورت میں نمایاں ہیں ۔
علامہ اقبال نے امت مسلمہ میں احیاء سلام بیداری اور اس عظیم الشان مقصد کے حصول میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار ایسے کیا ہے ۔
اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی
اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصار
قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاں
اور جمعیّت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی
جیسا کہ ہمیشہ اس بات کا ثبوت فراہم ہوا ہے کہ پاکستان اللہ سبحانہ و تعالٰی کا معجزہ ہے اور اس کی ہر مرحلے پر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے حفاظت کی ہے اور پاکستان کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ آج جس تیزی سے اسلام دشمن عناصر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور پاکستان میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ اسلام دشمن قوتوں کو اس بات کا احساس ہے کہ دنیا بھر میں احیاء سلام کی تحریک کا مرکز پاکستان اور اس سے متحلق علاقہ جات ہوں گے۔
دور حاضر میں دنیا بھر کے مسلمانوں پر کفار جوظلم و ستم کے پہاڑ ٹکڑے جا رہے ہیں جن میں خاص طور پر فلسطین، کشمیر و دیگر ممالک شامل ہیں کفار کو اس بات کا احساس ہے کہ مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم کا جواب دینے کی صلاحیت اللہ سبحانہ و تعالٰی نے صرف پاکستان کو عطا کی ہے اور اس کے ریاستی ادارے کی عسکری صلاحیت ان سب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے اسی لیے وہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے پاکستان میں موجود کچھ ایجنٹوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان عناصر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سے تمام تر وسائل حاصل ہیں مگر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اب تک ان تمام قوتوں کو ناکامی سے دوچار کیا ہے اور آئندہ بھی ناکامی سے ہمکنار کرے گا ان شاءاللہ۔
اس صورتحال میں ہم جو ایمان کے دعویدار ہیں ان کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہیں اور ہمیں ان قوتوں کو شکست دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں وقت کا ضیاع نہیں کرنا چاہیے اور پورے یقین کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوے پاکستان میں دین اسلام کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قیامت کے دن کامیابی کی توقع کر سکیں ہمارا یہی عمل ہمیں اپنی تخلیق کے جوزا کو صحیح ثابت کرنے کا باعث بنے گا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی بنیاد اسی عمل میں پنہاں ہے۔
ہمیں وقت کی قلت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے روز مرہ کے معمولات اور مصروفیات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے آپ کو اپنی آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا مستحق بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں ۔
واضح رہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد کر کے ہم کسی پر احسان نہیں کریں گے بلکہ یہ صرف اور صرف ہر ذی ہوش انسان انفرادی طور پر اپنے ذاتی فائدہ کی لیے ہی کرتا ہے جس کا مقصد آخرت میں کامیابی کا حصول ہے۔
اللہ ہم سب پر کرم کرے اور ہمیں اپنی صلاحیتوں اور توانائیاں کو اللہ کی احکامات کے نفاذ کے لئے مختص کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
(مندرجہ بالا مضمون کا ماخذ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دروس ہیں۔)
0 Comments