تحریر: ممتاز ہاشمی
اگر ہم غیر جانبداری سے پچھلے چند ماہ کے واقعات کا جائزہ لیں تو یہ بات یقینی طور پر محسوس ہوتی ہے کہ عمران خان کا ایجنڈا صرف اپنی ذاتی اقتدار تک محدود ہے اور اس کو پاکستان کے مفادات اور عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد عمران خان کے تمام تر کوششیں صرف ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا ہے تاکہ اس کے کئے گئے کرپشن کے الزامات سے بچا جائے۔ اگرچہ مجودہ حکومت نے اس کو روکنے کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا بلکہ اس کی تمام تر کوششوں اور صلاحیتیں ملک خو اس اقتصادی اور معاشی بحران سے نکالنے پر مرکوز ہے جس سے عمران خان ملک کو روچار کر کے گیا تھا حکومت کی اس انتھک محنت اور کوشش سے آج پاکستان اس بحران سے باہر نکل آیا ہے اور آئندہ مستقبل روشن نظر ارہا ہے۔
مگر عمران خان جس کو پاکستان اور عوام کی خوشحالی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس تمام عرصے میں اس نے اپنی تمام توانائی ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے میں صرف کئی اور کر رہا ہے
آج عمران خان مختلف کیسوں میں ملوث ہونے پر انتہائی غصے میں ہے جبکہ اس کے دور میں اپوزیشن کے اکثر اراکین کو مختلف کیسوں میں طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا تھا
آج جب عمران خان نے آخری حربے کے طور پر افواج پاکستان میں بغاوت کرنے کی ناکام کوشش کی تو آخر کار قانون کو حرکت میں آنا پڑا اور شہباز گل کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی گئی مگر کیونکہ اس سازش کا مرکزی کردار خود عمران خان ہے اسلئے اس نے اس تفتیش کو روکنے کے لیے تمام غیر قانونی حربے استعمال کر رہا ہے۔
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہر ملزم کو دفاع کا مناسب موقع ملنا چاہئے اور دوران حراست ملزم پر کسی قسم کا تشدد قانون کے منافی ہے اور اگر شہباز گل یا کسی بھی شخص پر ایسا تشدد ہوا ہو تو اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ مگر اس بات کو عدالت میں ثابت کرنے کی ضرورت ہے ناکہ عدالت کے باہر ہجوم میں۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ شہباز گل جب دو روز کے ریمانڈ کے بعد شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے کسی قسم کے تشدد کی کوئی بات نہ خود کی اور نہ ہی اس کے وکیل نے کوئی ایسی درخواست دائر کی جس پر اس کا طبی معائنہ کرنے کا حکم دیا جاتا اس پر عدالت نے اس کو جیل بھیج دیا جو کہ پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس دوران پنجاب حکومت کے وزیر داخلہ وجیل نے اس سے ملاقات کی اور کسی قسم کے تشدد کی سختی سے تردید کی اس کے بعد پی ٹی آئی کے چھ ایم لیڈروں اور وکلاء کی ٹیم نے بھی اس سے جیل میں ملاقات کی مگر کسی نے بھی اس کے بعد عدالت میں تشدد کرنے کے بارے میں کوئی درخواست نہیں دی۔
بعد میں اپنی مرضی کے میڈیکل رپورٹ حاصل کرنے کے لیے عمران خان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اس نے جیل کے انچارج کو تبدیل کر دیا۔ اس کے بعد جب عدالت نے دوبارہ ریمانڈ دینے کا فیصلہ دیا تو اس کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی جس کا اظہار عدالت نے اپنے فیصلے میں کیا ہے اس کے بعد سے ابتک وہ پولیس کی کسٹدی میں نہیں بلکہ ہسپتال میں زیر علاج ہے اور آج اس کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے جس میں کسی قسم کے تشدد کا کوئی ذکر نہیں ہے آج دوبارہ سے عدالت نے اس کو ہسپتال منتقل کرنے اور دوبارہ طبی معائنہ کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے مگر عمران خان قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے احتجاج کی سیاست کو اپنا کر ملک میں انتشار اور لاقانونیت کو فروغ دینا چاہتا ہے
یہ بات قابل غور ہے کہ آج ملک کے اکثر علاقے شدید سیلاب، بارشوں اور آفات کا شکار ہیں اور ان میں سے اکثر حصوں پر عمران خان کی صوبائی حکومت اقتدار میں ہے مگر اس کو اس بات کی کوئی توفیق نہیں ہوئی کہ اس نازک موقع پر وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو چھوڑ کر مصیبت میں مبتلا عوام کے لیے کوئی کام کرتا اور اپنی توجہ اپنی صوبائی حکومتوں کو عوام کی امداد پر عمل پیرا ہونے پر صرف کرتا۔ مگر عمران خان ایک بے حس، خود غرض اور لالچی انسان ہے جس کو اپنے ذاتی مفادات کے علاوہ کسی کی بھی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی۔
اللہ پاکستان پر کرم کرے اور اس کے مذموم مقاصد کو ناکام بناے ہم سب کو اب اس کے ایجنڈے کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
0 Comments