Header Ads Widget

اگست 6، 2023 ( ایک برس قبل لکھا گیا مضمون ) تحریر: ممتاز ہاشمی توشہ خانہ کیس کا فیصلہ

ماضی کے جھروکوں سے 

کل الیکشن کمیشن کے داہر کردہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ جس کے مطابق ان اثاثوں کو الیکشن کمیشن کے ہر سال کے لئے ہر ممبر پارلیمنٹ کے مقرر کردہ فارم پر ظاہر نہ کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا سنائی دی گئی ہے یہ ایک بہت ہی سادہ اور آسان سا کیس تھا اور اس میں کسی قسم کی طویل بحث مباحثہ کی ضرورت نہیں تھی۔ تمام ثبوت الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں موجود ہیں اور ان اثاثوں کو مسلسل کی سالوں تک مقررہ فارم پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا دراصل ان اثاثوں کو الیکشن کمیشن ہر سال عوام کو جاری کرتا ہے اور یہ ایک پبلک دستاویز ہوتی ہے جس کے ذریعے عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے ہر سال بڑھتے یا کم ہوتے ہوئے اثاثوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ یہ الیکشن ایکٹ کی مقرر کردہ قانونی ضرورت ہے اور اس کی تکمیل نہ کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی رکنیت اس وقت تک معطل کر دی جاتی ہے جبتک وہ یہ معلومات مقررہ فارم پر جمع نہیں کراتا۔
اس میں اگر کسی قسم کی غلط بیانی کی جائے یا کوئی اثاثوں کو چھپایا جائے تو قانون کے مطابق اس کی سزا مقرر ہے۔
اسی قانون کے تحت عمران خان کو سزا سنائی دی گئی ہے۔
اس پر مختلف قسم کے تبصرے اور تنقید بھی کی ج رہی ہے۔ مگر اس کی قانونی حیثیت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ اس کیس میں کوئی لمبی چوڑی شہادتوں اور گواہیوں کی ضرورت نہیں تھی صرف ریکارڈ کو اثاثوں کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ بات کیونکہ عمران خان خود تسلیم کر چکے ہیں اور اس کے دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ جو اثاثے توشہ خانہ سے حاصل کئے گئے تھے وہ ان مقررہ فارم پر ظاہر نہیں کئے گئے تھے۔
اس کیس کو طویل دینا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنا اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ عمران خان کے پاس اپنے دفاع کے لئے کچھ نہیں ہے اس کے باوجود عدالت نے انتہائی تحمل و صبر سے ان تمام ہتھکنڈوں کو برداشت کیا اور آخرکار جب اعلی عدلیہ نے عدالت کو اپنا کام جاری رکھنے کا حکم دیا تو عدالت نے یہ فیصلہ سنا دیا جو مکمل طور پر حقائق اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
 ایک بات کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہوگا کہ توشہ خانہ کا اصل کیس نیب میں ہے یہ تو صرف توشہ خانہ سے حاصل کردہ اثاثوں کو الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ فارم میں ظاہر نہ کرنے کا کیس تھا۔
اصل کیس تو ان تحائف کو خریدنے کے لیے رقوم کی ادائیگی اور ان کی فروخت کی جعلی رسیدوں کا ہے جس کے مطابق ان کی اصل قیمت فروخت ظاہر نہیں کی گئی اور اس رقم کو ٹیکس میں ظاہر نہ کرنے کا ہے۔
اس کیس میں بہت سے اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں کہ کسطرح سے یہ تحائف پاکستان سے باہر گئے اور رقوم کسطرح سے پاکستان منتقل ہوئی اور لگتا ہے کہ اس میں نہ صرف ٹیکس کی عدم ادائیگی بلکہ منی لانڈرنگ بھی شامل ہے۔
امید ہے کہ اب یہ کیس جلد از جلد شروع ہو کر اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور بہت سارے چہرے بےنقاب 
ہوں گے۔


August 6, 2023 (Article written a year ago) Written by: Mumtaz Hashmi Toshakhana case verdict

  
From the folds of the past 

Yesterday, the decision of Tosha Khana case filed against Imran Khan by the Election Commission was pronounced. According to which, for non-disclosure of these assets on the form prescribed by the Election Commission for each year, each Member of Parliament has been sentenced to imprisonment and fine. This was a very simple and easy case and there was no There was no need for long discussions. All the proofs are in the records of the Election Commission and these assets were not disclosed on the prescribed form for years. Your elected representatives are aware of the increasing or decreasing assets each year. This is a statutory requirement set out in the Election Act and Members of Parliament who do not comply will have their membership suspended until they submit this information on the prescribed form.
If any kind of misrepresentation is made in it or any assets are hidden, the punishment is fixed according to the law.
Imran Khan has been sentenced under the same law.
Various comments and criticisms are being made on it. But no one can challenge its legitimacy. In this case, there was no need for lengthy evidence and testimony, only the record needed to be proved according to the assets. This is because Imran Khan himself has admitted and there are documentary evidences that the assets that were acquired from Tosha Khana were not declared on the prescribed forms.
Prolonging the case and getting away with it confirmed that Imran Khan had nothing to defend himself, yet the court tolerated all these tactics with great patience and finally when the high The Judiciary ordered the court to continue its work, so the court pronounced this judgment which is fully in accordance with the facts and the requirements of justice.
 One thing must be kept in mind that the original case of Tosha Khana is in NAB, it was only a case of not declaring the assets obtained from Tosha Khana in the form prescribed by the Election Commission.
The real case is of payment of money for purchase of these gifts and fake receipts of their sale, according to which their actual sale price has not been disclosed and the amount has not been disclosed to tax.
There are many important revelations in this case about how these gifts went out of Pakistan and how the funds were transferred to Pakistan and it seems that it involves not only non-payment of taxes but also money laundering.
It is hoped that now this case will start at the earliest and reach its logical conclusion and many faces will be exposed.


Post a Comment

0 Comments