ماضی کے جھروکوں سے
کل الیکشن کمیشن کے داہر کردہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ جس کے مطابق ان اثاثوں کو الیکشن کمیشن کے ہر سال کے لئے ہر ممبر پارلیمنٹ کے مقرر کردہ فارم پر ظاہر نہ کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا سنائی دی گئی ہے یہ ایک بہت ہی سادہ اور آسان سا کیس تھا اور اس میں کسی قسم کی طویل بحث مباحثہ کی ضرورت نہیں تھی۔ تمام ثبوت الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں موجود ہیں اور ان اثاثوں کو مسلسل کی سالوں تک مقررہ فارم پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا دراصل ان اثاثوں کو الیکشن کمیشن ہر سال عوام کو جاری کرتا ہے اور یہ ایک پبلک دستاویز ہوتی ہے جس کے ذریعے عوام کو اپنے منتخب نمائندوں کے ہر سال بڑھتے یا کم ہوتے ہوئے اثاثوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ یہ الیکشن ایکٹ کی مقرر کردہ قانونی ضرورت ہے اور اس کی تکمیل نہ کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی رکنیت اس وقت تک معطل کر دی جاتی ہے جبتک وہ یہ معلومات مقررہ فارم پر جمع نہیں کراتا۔
اس میں اگر کسی قسم کی غلط بیانی کی جائے یا کوئی اثاثوں کو چھپایا جائے تو قانون کے مطابق اس کی سزا مقرر ہے۔
اسی قانون کے تحت عمران خان کو سزا سنائی دی گئی ہے۔
اس پر مختلف قسم کے تبصرے اور تنقید بھی کی ج رہی ہے۔ مگر اس کی قانونی حیثیت کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ اس کیس میں کوئی لمبی چوڑی شہادتوں اور گواہیوں کی ضرورت نہیں تھی صرف ریکارڈ کو اثاثوں کے مطابق ثابت کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ بات کیونکہ عمران خان خود تسلیم کر چکے ہیں اور اس کے دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ جو اثاثے توشہ خانہ سے حاصل کئے گئے تھے وہ ان مقررہ فارم پر ظاہر نہیں کئے گئے تھے۔
اس کیس کو طویل دینا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنا اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ عمران خان کے پاس اپنے دفاع کے لئے کچھ نہیں ہے اس کے باوجود عدالت نے انتہائی تحمل و صبر سے ان تمام ہتھکنڈوں کو برداشت کیا اور آخرکار جب اعلی عدلیہ نے عدالت کو اپنا کام جاری رکھنے کا حکم دیا تو عدالت نے یہ فیصلہ سنا دیا جو مکمل طور پر حقائق اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
ایک بات کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہوگا کہ توشہ خانہ کا اصل کیس نیب میں ہے یہ تو صرف توشہ خانہ سے حاصل کردہ اثاثوں کو الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ فارم میں ظاہر نہ کرنے کا کیس تھا۔
اصل کیس تو ان تحائف کو خریدنے کے لیے رقوم کی ادائیگی اور ان کی فروخت کی جعلی رسیدوں کا ہے جس کے مطابق ان کی اصل قیمت فروخت ظاہر نہیں کی گئی اور اس رقم کو ٹیکس میں ظاہر نہ کرنے کا ہے۔
اس کیس میں بہت سے اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں کہ کسطرح سے یہ تحائف پاکستان سے باہر گئے اور رقوم کسطرح سے پاکستان منتقل ہوئی اور لگتا ہے کہ اس میں نہ صرف ٹیکس کی عدم ادائیگی بلکہ منی لانڈرنگ بھی شامل ہے۔
امید ہے کہ اب یہ کیس جلد از جلد شروع ہو کر اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور بہت سارے چہرے بےنقاب
ہوں گے۔
0 Comments