اگست 12، 2024
گزشتہ چند برسوں سے تحریک انصاف کے سب سے اہم لیڈر عمر ایوب خان جمہوریت کی حمایت میں زوردار تقریریں کر رہے ہیں اور جب ان سے ان کی جمہوریت سے محبت کی بناء پر اان سے اپنے دادا ڈکٹیٹر ایوب خان کے جمہوریت کش اقدامات یعنی ملک میں مارشل لاء کے نفاذ اور جمہوریت کی بیخ کنی کے اقدامات کی مذمت کرنے کا کہا تو وہ اس کا کوہی جواب نہ دے سکے۔
اب اگر ان کا اپنا سیاسی کردار ہی ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خاندان ہمیشہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں ماضی میں یہ خود نہ صرف مسلم لیگ، مشرف لیگ اور قاف لیگ میں شامل رہے ہیں بلکہ ان تمام کی حکومتوں میں وزارتوں پر بھی فائز رہے ہیں اور یہ کوئی زیادہ دور کی باتیں نہیں ہیں ۔
بلکہ اگر غور کریں تو پی ٹی آئی کی قیادت کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل اس جو کہ ماضی کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور جمہوریت اور اداروں کو مضبوط بنانے کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہیں ہیں۔
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اس طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے ماضی کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا اور اس میں ڈکٹیٹر ایوب خان کے گھناؤنے کردار کو یاد کرنے کی ضرورت ہے اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ڈکٹیٹر ایوب خان کو قائداعظم کا پہلا باغی جنرل کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل تاریخی واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:
قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے
اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا:
’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘
بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی
قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔
بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر
دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اسکے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر انکو ڈھاکہ بھیجا تھا۔
بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر
اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اسوقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔
بحوالہ:
کتاب: گوہر گزشت
مصنف: الطاف گوہر
لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی انکے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔
اور بد نصیبی دیکھئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال گک حکومت کرتا رہا۔
بحوالہ:
کتاب: The Crossed Sword
مصنف: شجاع نواز
قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔
اور بعد زاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا
اور بد نصیبی دیکھئیے، عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں
بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی
بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران انکو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا، اور انہیں احساس دلایا کہ انکا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔
بحوالہ:
کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل
مصنف: قیوم نظامی
بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہ میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘
بحوالہ:
کتاب: جنرل اور سیاست
مصنف: اصغر خان
جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کو پوچھا کہ "آپ کو تو ڈھاکہ میں رپورٹ کرنی تھی تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"جس پر ایوب خان نے کہا کہ وہ کراچی لیاقت علی خان سے ملنے جا رہے ہیں۔۔اس پر جنرل گریسی نے ایوب کے کورٹ مارشل کے آرڈر کیئے اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔
بحوالہ میموریز آف اے سولجر ۔۔جنرل وجاہت حسین"سیکریٹری جنرل گریسی"
برطانوی فوج کی نوکری کے دوران ایوب خان کا کیا کردار رہا آئیے اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں:
تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کے لیئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی جس کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کرنل کو بھی اس باؤنڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا ۔ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے ،اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ غصے میں بپھرے ہوئے لوگ راولپنڈی میں اس کرنل کے گھر کو نذرآتش نہ کردیں ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر گھر میں موجود اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائشگاہ پر منتقل کرنا پڑا۔اس کرنل کا نام ایوب خان تھا۔
کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کا افسر تھا ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
اور پھر ایک ایسا فوجی افسرجسے نااہلی کے باعث فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس کی صلاحیتیں ایسی نکھر کر سامنے آئیں کہ اس نے 4 سال کے مختصر عرصہ میں نہ صرف کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر باآسانی طے کرلیا بلکہ سنیئر فوجی افسروں کو مات دیکر سپہ سالار بننے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ کیسے ممکن ہوا؟
جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار خان کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کے لیئے برطانیہ بھیجا گیا ،بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور اب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی جانا تھی ،وہ بھی کورس کے لیئے برطانیہ جا رہے تھے ۔13دسمبر 1949ء کو جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائٹ پر سوار ہوئے تو ان کے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میں سوا رتھے ،یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیا اور تمام مسافر لقمہ اجل بن گئے۔
پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے غیر سیاسی جرنیل تھے۔
یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب لیاقت علی خان نے "مقصد قرارداد" پیش کیا ، جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے اہم دستاویز ہے۔ یہی واحد وجہ تھی کہ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اس پر عمل درآمد روکنے کے لئے سازشوں میں مصروف تھی۔ لیاقت علی خان کا قتل اس سازش کا پہلا قدم تھا اور اس کے بعد ڈکٹیٹر ایوب خان نے مارشل لاء لگا کر ملک کا اقتدار سنبھال لیا جو پاکستان کے قیام کے مقاصد سے غداری کے مترادف تھا اس کے بعد ہماری تمام سیاسی تاریخ ایک سیاہ باب ہے جس میں ہر وقت ملٹری اسٹیبلشمنٹ براہ راست یا بلاواسطہ اقتدار پر قابض رہی ہے اور جس بھی عوامی حمایت کے حامل شخص نے ان کو چیلنج کیا تو اس کو عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔
یہ تاریخ صرف ڈکٹیٹر ایوب خان کے خاندان کی پاکستان دشمن اور اقتدار کی ہوس کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ملک میں قابض ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر کام کرنے والے اکث خاندانوں کی تصویر ہے۔
ان ملٹری ڈکٹیٹروں اور ان کے خاندانوں کی ہوس نے آج پاکستان کو تباہی اور بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے۔
اس سے پاکستان کے معاشی اور سیاسی مسائل میں شدید اضافہ ہوتا گیا اور آج اسوقت جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو سیاست سے دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے تو یہ تمام سابقہ جرنیلوں کی اولادیں اور دیگر جمہوریت مخالف عناصر اور استحصالی طبقات عمران خان کے ساتھ ملکر دوبارہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان استحصالی طبقات کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان پر اللہ سبحانہ و تعالٰی کا کرم ہے کہ اس نے ان تمام پاکستان دشمن عناصر کے ایجنڈے کو ہمیشہ ناکامی سے ہمکنار کیا ہے اور اب بھی اللہ سبحانہ تعالٰی کی رحمت سے ان تمام قوتوں کو شکست ہوگی ۔ ان شاءاللہ۔
0 Comments