اگست 21، 2024 تحریر: ممتاز ہاشمی
پاکستان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے اور کے لیے ہمیں اپنے ماضی کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔
قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کی بقا ہی ایک اہم مسئلہ تھا اور اس کے لیے قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے انتھک محنت اور جدوجہد کی، کیونکہ تقسیم کے وقت زیادہ تر وسائل ہندوستان نے روک رکھے تھے۔
قائداعظم قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد فوت ہو گئے۔ پاکستان کے حصے میں جو بھی سول اور ملٹری بیوروکریسی آئی ، وہ اپنے برطانوی آقاؤں کی وفادار تھی۔ پاکستان یا اسلام سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ ان کو اس بات کا ادراک تھا کہ مسلم لیگ کی کمزور تنظیم اور نوزائیدہ جماعت کو قابو کرنا آسان ہو گا اور اسطرح سے اس نوزائیدہ مملکت کے کمزور نظام کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لینا اوع اپنے اقتدار کو یقینی بنانے کا اہتمام کرنا تھا۔
۔قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ کس طرح اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتے گئے اور آخر کار 1958ء میں فوجی اداروں نے مطلق اختیارات حاصل کر لیے۔ جس میں اس کو عدلیہ اور سول بیوروکریسی کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔
المیہ یہ ہے کہ قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اکابرین کو آہستہ آہستہ کنارے لگا دیا گیا۔یوں تمام ریاستی امور پر لالچی اور مفاد پرست عناصر کا مکمل غلبہ ہو گیا جس نے ایک مکمل استحصالی نظام اور استحصالی طبقات کو جنم دیا۔
ڈکٹیٹر ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد کی پاکستان کی تاریخ ایک بم طویل اندھیری رات ہے اس دوران جمہوری قوتوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں اور اس میں ہر مرحلے پر قربانیاں پیش کی جس کے نتیجے کے طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں انتخابات کرانے پر مجبور ہونا پڑا۔
اس طرح سے ملک میں کچھ وقفوں کے لیے نیم جمہوری دور بھی آتے ہیں۔ ان تمام عرصے میں ملک میں ریاستی و سرکاری اداروں مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ان میں قانون کی بالادستی ناپید ہو گئی اور نتیجتاً ملک کرپشن، لاقانونیت اور استحصالی نظام میں جکڑ گیا۔ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور استحصالی طبقات مکمل طور پر تمام ملکی وسائل پر قابض ہوتے چلے گئے۔ جس سے ہر قسم کی برائیوں نے جنم لیا جو بڑھتے بڑھتے ملک اور عوام کی اکثریت کو معاشی و سماجی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
اس سلسلے میں ہماری تاریخ کے چند تلخ حقائق کو دوبارہ سے ذہن نشین کرنا ضروری ہو گا:
1947: قائداعظم نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔
1948: ان کی موت خراب ایمبولنس میں جن حالات میں واقع ہوئی وہ ایک پراسرا کہانی ہے۔
1906: نواب محسن الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔
1960:ان کے نواسے حسن ناصر جو ایک عظیم انقلابی لیڈر تھے ان کو جنرل ایوب نے ازیتیں دے کر ماردیا۔
1948: فاطمہ جناح نے آزادی کشمیر کیلئے پیسے دیئے۔
1964: مس جناح کو غدار قرار دیا گیا۔
1949: بیگم رعنا لیاقت نے "ویمن نیشنل گارڈ" کی بنیاد رکھی۔
1951: رعنا لیاقت کوطوائف قرار دیا گیا۔
1940: فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کی ۔
1954: فضل الحق غدار قرار پائے۔
1947: شاہنواز بھٹو نے جونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق کروایا۔
1979: انکے بیٹے(زوالفقار علی بھٹو) کو پھانسی اور بعد میں ان کی پوتی (بینظیر بھٹو) اور پوتوں (میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو) کو قتل کردیا گیا۔
1947: کے- ایچ خورشید نے الحاق کشمیر کیلئے کوشش کی۔
1965: خورشید کو سڑک پر گھسیٹا گیا، جیل بھی کاٹی۔
1947: لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
1951: انہیں قتل کر دیا گیا اور اس کی انکوائری رپورٹ بھی ختم کر دی گئی ۔
1947: قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین مسلم لیگ کے پہلےصدر بنے۔
1964: خواجہ صاحب غدار قرار پائے۔
1947: سردار ابراہیم نے الحاق پاکستان کی مہم چلائی۔
2009: انکے بیٹے غدار قرار پائے۔
1943: جی- ایم سید نے قرارداد پاکستان سندھ اسمبلی میں پیش کی۔
1948: جی-ایم سید غدار قرار پائے۔
1947: شیخ مجیب نے مسلم اسٹوڈنٹ لیگ کی بنیاد رکھی۔
1971: شیخ مجیب کو غدار قرار دیا گیا۔
1940: بیگم سلمیٰ تصدق نے مسلم لیگ کیلئے مہم چلائی۔
1960: ایوب خان نے کرپٹ قرار دیکر نااہل کردیا۔
1946: افتخارالدین نے مسلم گارڈ کیلئے آبائی گھر مختص کیا۔
1960: ایوب خان نے افتخارالدین کو کرپٹ قراردیا۔
1946: حسین شہید سہروری نے مسلم گارڈ کیلئے ٹرینگ سینٹر بنایا ۔
1960:حسین شہید غدار قرار پائے ۔
1945: والی قلات احمد یار نے قائد کو سونے اور چاندی میں تولا۔
2006: پوتے کو جان بچانے کیلئے ملک چھوڑنا پڑا۔
1939: قاضی عیسیٰ نے بلوچستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ قاضی عیسیٰ قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور قومی ہیرو تھے اور ان کی کوششوں سے نہ صرف بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا بلکہ انہوں نے سرحد ( خیبر پختون خواہ ) کے پاکستان میں شامل ہونے والے ریفرنڈم میں بھی ایم کردار ادا کیا۔
2019: انکے بیٹے قاضی فائز عیسٰی کو ملک کے لےَ خطرہ قرار دیا گیا۔ اور ان کی پاکستان کے چیف جسٹس بننے کی راہ میں ہر سخت مزاحمت کی گئی اور ان کے خلاف نام نہاد ریفرنڈم دائر کیا گیا۔ اور ان کی دشمنی میں ان کے والد قاضی عیسٰی کو بھی غداری سے نوازا گیا۔
ان ماضی کے واقعات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان آزادی کے فوراً بعد محلاتی سازشوں کا شکار ہو گیا جس کا واحد مقصد پاکستان کے قیام کے مقاصد کو پا پشت ڈال کر ملک میں آمریت قایم کرنا تھا ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں استحصالی نظام مضبوط ہوتا گیا اور عوام کی غربت و پسماندگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جس سے ملکی معیشت، سماجی نظام انحطاط کا شکار ہوتا گیا۔
اس میں آخری کیل گاڑنے کا کام ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ایک جھوٹے، نااہل اور ہر قسم کی اخلاقی برائیوں میں ملوث عمران خان کو لانچ کر کے کیا۔ جس کے لیے تمام ریاستی وسائل کو بروئے کار لایا گیا اور ایک مستحکم جمہوری حکومت کا عدلیہ کے ذریعے خاتمہ کیا گیا اور آج اس عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار اللہ کی رحمت سے بے نقاب ہو کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔
عمران خان کی حکومت کے تین سالوں میں اس کی خاندان، دوستوں اور بیرونی عناصر نے ملکر پاکستان کو نہ صرف خوب لوٹا بلکہ اس عرصے میں بیرونی عناصر نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرا دیا اور تمام دوست ممالک پاکستان سے دور ہوتے چلے گئے اسطرح سے اس نے پاکستان کو تباہی و بربادی کے کنارے پر پہنچا دیا اور ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔
ان حالات میں اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک نئی سوچ نے جنم لیا اور اس کو اکثریت کی حمایت حاصل ہونے لگی اور اس کے نتیجے کے طور پر اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو سیاست سے دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا۔ اگرچہ اسوقت بھی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اس سوچ کے مخالف عناصر موجود تھے اور انہوں نے اپنی سازشوں کو جاری رکھا جنہوں کو عدلیہ کی حمایت حاصل تھی۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونے کے نتیجے کے طو عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
اس کے بعد یہ سازشی عناصر مسلسل اس بات کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ دوبارہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث کیا جائے اور اپنے استحصالی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا اہتمام کیا جائے جس کے لیے عدلیہ نے اہم کردار ادا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں موجود عناصر نے منظم ہو کر حکومت کے لیے مسائل پیدا کئے اور شہباز شریف کی حکومت اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے صرف کرنا پڑی اور ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے انتھک محنت کی اور ایسے فیصلے کرنا پڑے جن سے مہنگائی میں اضافے ہوا کیونکہ اس کے علاوہ ڈیفالٹ سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اس دوران استحصالی طبقات کی انتہائی کوشش ملک کو بحران میں مبتلا کرنے کی تھی تاکہ جنرل عاصم منیر جو کی ایک مکمل طور پر پروفیشنل فوجی ہیں اور جنہوں نے فوج کو سیاست سے الگ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ان کو آرمی چیف بننے سے روکا جائے۔ اس سلسلے میں بیرونی مداخلت کرانے کی بھی کوشش کی گئی اور اس کے لیے نادرہ جیسے ادارے کو استعمال کرتے ہوئے ان کے والد اور خاندان کے متعلق معلومات اور ریکارڈ کو بدلنے اور اس کو سعودی عرب جیسے دوست اسلامی ملک کو فراہم کرنے اور ان سے اس بارے میں مدد حاصل کرنے تک کی کوشش کی گئی جو ناکام ہو گئی اور ملٹری کے نادرہ میں تعینات اہلکاروں اور چیرمین نادرہ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد ان پاکستان دشمن اندرونی و بیرونی عناصر نے آخری کوشش 9 مئی کو ملک میں بغاوت کرنے کے ناپاک منصوبے پر عملدرآمد کر کے کیا۔
یہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت اور کرم ہے کہ ان پاکستان دشمن عناصر کی اس بغاوت کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور عوام نے اس میں ملوث عناصر کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کیا اور ان کے خلاف سخت قانونی ِ اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ۔
دوبارہ سے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے اور وہ تمام استحصالی طبقات متحدہ ہو کر ایک بار پھر سے جمہوری عمل کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مصروف عمل رہے جس کی پشت پناہی کرپٹ عدلیہ کرتی ہے۔
آج اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت سے ان تمام سازشی عناصر کو ان کے انجام تک پہنچانے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ان عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ہر آنے والے دنوں اور لمحوں میں ان سازشی عناصر کے کردار مزید نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ان تمام پاکستان، عوام اور اسلام دشمن اندرونی و بیرونی عناصر کے مکروہ چہرے بےنقاب ہوتے جا رہے ہیں۔
آج جب کے 9 مئی کی بغاوت کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے تو اب پاکستان مخالف اندرونی و بیرونی عناصر اس بغاوت میں ملوث عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں اور نام نہاد انسانی حقوق کے نام پر ان باغیوں کے لیے رعایتیں دینے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
دنیا بھر میں بغاوت کو کچلنے کے لیے ہمیشہ غیر معمولی اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ ملکی سالمیت اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور ان غیر معمولی حالات میں ہر وہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے جو ملکی سالمیت کے لئے ناگزیر ہوتی ہیں۔
اب جبکہ قاضی فائز عیسٰی کی قیادت میں عدلیہ اپنے اصل کام کی طرف واپس آگئی ہے اور ماضی میں کہے گئے غیر آئینی فیصلوں پر نظر ثانی کا عمل تیزی سے جاری ہے جس سے انصاف کی فراہمی کے عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے
0 Comments