دسمبر 1، 2024
آج جب نومبر 24 کو پاکستان دشمن عناصر نے ایک اور 9 مئی کی طرز پر بغاوت کرنے کی کوشش کو اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ناکام بنا دیا ہے اور ہماری سیکورٹی فورسز نے انتہائی مہارت سے اس بین الاقوامی سازش کو شکست فاش دے دی ہے ۔
24 نومبر کے واقعات بہت بڑی سازش کا حصہ ہیں اور اس میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح نشانات ہیں جو سیکورٹی فورسز نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے
اب مختلف لوگ اس کو ناکام بنانے کی حکمت عملی پر تبصرے کر رہے ہیں تو اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس حکمت عملی کے کیا متحرک تھے اور ان سے کس طرح کے نتائج حاصل کئے گئے ہیں۔
سب سے پہلے تو اس بات کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہو گا کہ 9 مئی کی بغاوت کی ناکامی کے بعد پاکستان دشمن عناصر نے ایک منظم انداز میں دوسری سازش پر کام شروع کر دیا گیا تھا اور اس میں دوسری غیر ملکی پاکستان دشمن عناصر کے علاوہ سب سے بڑا حصہ بھارت کا ہے جو اپنے پاکستان دشمن ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ہر وقت سرگرم عمل رہتا ہے۔
بھارت کی خفیہ ایجنسی را نے اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا جس میں اس کو خیر پختون خواہ اور افغانستان کی سرحد پر موجود پاکستان دشمن مسلح گروہوں کی حمایت حاصل تھی۔
ان سب کو ٹریننگ، جدید اسلحہ اور دیگر وسائل مہیا کئے گئے تھے خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت میں موجود عناصر اس میں سہولت کاری کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔
اس سے پہلے دو تین مرتبہ انہوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ کر کے اپنی ابتدائی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا اور تمام ضروری معلومات کا حصول تھا اسلئے اس سے پہلے وال مارچ بغیر کسی تصادم کے واپس چلے گئے تھے۔
اس سلسلے میں عدلیہ کی سہولت کاری کی وجہ سے جیل میں عمران خان کو تمام تیاریوں اور حالات سے آگاہ کیا جاتا تھا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ اس فائنل کال کا اعلان عمران خان ایک انتہائی اہم موقع پر کریں گے۔
اور یہ موقع اسوقت تجویز کیا گیا جب فیض حمید کا ملٹری ٹرائل مکمل ہو چکا تھا اور اس کے اعلان سے قبل ہی اس سازش کو پائہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اس عجلت کی وجوہات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ فیض حمید کے ملٹری ٹرائل کے نتیجے کے طور پر عمران خان کو بھی اس بغاوت کے کیس میں ملٹری حراست میں لیے جانے کے واضح امکانات ہیں۔
پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں اس صورتحال سے بخوبی آگاہ تھیں اور انہوں نے اس سے نمٹنے کیلئے ایک موثر پلان تیار کر لیا تھا۔
اد سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے واضح احکامات جاری کئے گئے تھے کہ یہ مارچ مکمل طور پر غیر قانونی ہوگا اور اس کو روکنے کے لیے انتظامیہ کو سخت احکامات جاری کئے گئے تھے۔
یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اس سازش کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ اس میں شامل بھارت اور دیگر شرپسندوں کو بے نقاب کرنے کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی۔
اسلئے اس دفعہ ان کو پہلے ہی دو دنوں تک مختلف مقامات پر روکنے کا اہتمام کیا گیا تھا جس سے اس میں شامل بہت سے افراد تھک ہار کر واپس چلے گئے تھے اور جب آخر میں زیادہ تر وہی افراد رہ گئے تھے جو اس بغاوت کرنے والوں میں سے تھے تو سیکورٹی فورسز کے لیے ان کے خلاف ایکشن لینا آسان ہوتا چلا گیا اور اسطرح انہوں نے انتہائی منظم انداز میں ایک قلیل مدت میں آپریشن کر کے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا اور ان سے بہت سا اسلحہ اور دیگر مواد حاصل کر لیا گیا تھا۔
اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ اور بشرا بی بی کو ان بھارتی ایجنٹوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا اور ان کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے کی بھی اطلاعات ہیں کیونکہ وہ اس حقائق کو جانتے تھے اور اس تصادم سے بچنا چاہتے تھے۔ اسی لیے جب آپریشن کا آغاز ہوا تو انہوں نے انتظامیہ سے رابطہ کیا اور ان کو وہاں سے ان شرپسندوں سے بچا کر بحفاظت نکال لیا گیا۔
اس کے بعد مختلف مقامات پر جو سیکورٹی فورسز نے ناکہ بندی کی ہوئی تھی وہاں پر بھاگتے ہوئے سینکڑوں شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا اور اسطرح سے ایک انتہائی قلیل مدت میں یہ آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ ان کی تمام پلاننگ کی تفصیلات سیکورٹی ایجنسیوں نے مختلف وسائل سے حاصل کر رکھی تھی اور ان کے مرکزی کنٹینر جس میں یہ سب میٹیریل اور مواد موجود تھا اس تک بھی رسائی حاصل کر لی گئی تھی۔
اسلئے شرپسندوں نے اس کنٹینر کو آگ لگا دی تھی۔
بہرکیف ایک منظم اور دیرپا آپریشن کے ذریعے سیکورٹی فورسز نے کم سے کم جانی و مالی نقصان کے ذریعے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ پورا میڈیا اس پورے آپریشن کے دوران وہاں پر موجود تھا اور بعض براہ راست کوریج بھی کر رہے تھے جہاں تک ممکن تھا۔
اسی وجہ سے اتنے دنوں کے بعد بھی بہت بڑے جانی ننقصانات کا ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا۔ کیونکہ جس علاقے میں یہ تمام کاروائی عمل میں لائی گئی تھی وہاں پر کسی بھی سڑک کر پانی سے صاف کیا گیا اور نہ ہی وہاں پر کسی قسم کے خون کے نشانات کسی میڈیا کو نظر آئے۔
اسلہے پی ٹی آئی کی قیادت جو خود بھی اس تصادم سے الگ تھی وہ انتہائی جھوٹ پر مبنی اور ایک دوسرے سے متضاد دعوٰی کرنے میں مصروف ہیں جس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام بلند و بالا جانوں کے ضیاع کے دعوٰی کو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مسترد کر دیا ہے۔ اور تمام پارٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پروپیگنڈہ مہم میں شامل نہ ہوں۔
اس سلسلے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس کال کو عمومی طور پر پاکستان کے عوام کی اکثریت نے مسترد کر دیا تھا پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کوئی بھی قابل ذکر شخص یا عوام اس موقع پر نظر آیا۔
دوسری طرف پنجاب کی صوبائی حکومت نے ایک کامیاب حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے سرپھرے لوگوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے میں کامیاب ہوئی۔ کیونکہ یہ ان شرپسندوں کے لیے استعمال ہو سکتے تھے اس آپریشن کے دوران۔
اب سیکورٹی فورسز نے ان تمام گرفتار شدگان سے تحقیقات کافی حد تک مکمل کر لی گئی ہیں اور اس میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
ان گرفتار شدگان میں نہ صرف را کے افغان افراد ہیں بلکہ بھارت کے ہندو افراد بھی شامل ہیں۔
اس سلسلے میں امید ہے کہ جلد ہی ریاست پاکستان اس سازش کو بین الاقوامی برادری اور عوام کے سامنے بےنقاب کرنے کا اہتمام کرے گی۔
اس موقع پر تمام محب وطن اور اہل ایمان کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے اپنی رحمت سے پاکستان کے خلاف اس گھناونی سازش کو ناکام بنایا ہے۔
م

0 Comments