ماضی کے جھروکوں سے
ایک برس قبل لکھا گیا مضمون
جنوری ،12 ،2024
تحریر: ممتاز ہاشمی
آج جب کہ 9 مئی کی بغاوت کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے اور تمام تر استحصالی طبقات کی سازشوں کے باوجود انتخابات کا انعقاد 8 فروری کو اب یقینی نظر آ رہا ہے۔
لیکن اس کے باوجود عوام دشمن استحصالی طبقات اپنی آخری کوششوں میں لگے ہوے ہیں تاکہ ملک میں انتشار، دہشتگردی کے حالات پیدا کئے جائیں اور ان کی بنیاد پر انتخابات کو ملتوی کرنے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دوبارہ سے مداخلت پر مجبور کیا جا سکے تاکہ ان کی سیاسی امور سے علیحدگی کے ایجنڈے کو ناکام بنایا جا سکے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان مخالف اندرونی و بیرونی عناصر اس مرحلے پر 9 مئی کی بغاوت میں ملوث عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں اور نام نہاد انسانی حقوق کے نام پر ان باغیوں کے لیے رعایتیں حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
دنیا بھر میں بغاوت کو کچلنے کے لیے ہمیشہ غیر معمولی اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ ملکی سالمیت اور خود مختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور اس مواقع پر غیر معمولی اقدامات کئے جاتے ہیں جو کہ عوامی حالات سے مختلف ہوتے ہیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملکی سالمیت کے لئے ناگزیر ہوتی ہیں۔
اس تمام عرصے میں پی ٹی آئی کی قیادت جو اس بغاوت میں ملوث ہے اس کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی اور ان کو کرپٹ عدلیہ اور کرپٹ سول بیوروکریسی و دیگر مافیاز ہر قسم کے تحفظ فراہم کرتے رہیں ہیں اسی وجہ سے اس بغاوت میں ملوث عناصر کو ابھی تک سزائیں دینے کا عمل شروع نہیں ہو سکا بلکہ ان باغیوں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے آزادی اور لیول پلینگ فییلڈ کا پراپگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے بہت بڑی ملکی و غیر ملکی فنڈنگ کا اہتمام کیا گیا ہے جو میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کو بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے جو کی زیادہ تر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتا ہے اور اس میں پی ٹی آئی خو مظلوم اور عوامی مقبولیت میں سرفہرست پیش کیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کا ان انتخابات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا اندازہ حالیہ دنوں میں ان کی طرف سے مختلف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں سے لگایا جاسکتا ہے اور جن کے مقاصد صرف انتخابات کا انعقاد نامکن بنانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے مگر سپریم کورٹ میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنے والے ججز نے ان حربوں کو ناکام بنا دیا۔
اب آخری حربے کے طور پی ٹی آئی اپنے انتخابی نشان کے حصول کے لیے نام نہاد تحریک چلا رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو الیکشن کمیشن نے ایک سال سے زائد عرصہ قبل ہی قوانین کے مطابق پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور جب آخری موقع فراہم کیا گیا تو انہوں نے
مکمل طور پر قوانین کے خلاف نام نہاد پارٹی انتخابات کرانے کا ڈرامہ رچایا جس کو الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا اور پی ٹی آئی نے اس کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ پشاور ہائی کورٹ کی اس معاملے غیر آئینی مداخلت بہت اہم معاملات کو ظاہر کرتی ہے۔ اب آج جب سپریم کورٹ میں اس معاملے پر سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے اس موقع پر سماعت کو ملتوی کرنے کی کوشش کی اور اپنی تیاری کے لیے وقت مانگا۔ جبکہ اب انتخابی نشانات کے اجراء کا وقت ختم ہونے والا ہے اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے آج اس کی سماعت کی وجہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ملتوی کر دیا اور ہفتہ و اتوار کو چھٹی کے باوجود اس کی سماعت مکمل کرکے فیصلہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔
اب امید ہے کل یا پرسوں اس کیس کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ اگرچہ قانون کے تحت پی ٹی آئی کو اس کا انتخابی نشان برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور شاید پی ٹی آئی یہی چاہتی ہے کہ اس کو اپنی انتخابات میں شکست کے جواز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
اسلئے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ قانون سے ہٹ کر بھی کسی طرح سے پی ٹی آئی کو اس اک انتخابی نشان واپس کر دیا جائے تاکہ وہ ان انتخابات میں اپنی شکست کا کوئی جواز پیش کرنے کے قابل نہ ئو۔
اب ان انتخابات میں اب تک کی صورتحال اور مختلف علاقوں میں انتخابی پوزیشن کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف سروے اور عوامی رائے پر بے شمار پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں مگر ہر ایک میں کرنے والے کا واضح رحجان کسی ایک جماعت کی طرف نظر آتا ہے اور ہر ایک اپنی پسند کے مطابق نتائج کی پیشن گوئی کرتا ہے۔
دنیا بھر میں انتخابات کے مواقع پر مختلف ادارے سروے شائع کرتے ہیں جو کہ مکمل یا کافی حد تک غیر جانبدارانہ ہوتے ہیں اور جو زمینی حقائق کو ظاہر کرتے ہیں اور ان سروے کے نتائج اور انتخابات کے نتائج میں زیادہ تر مماثلت ملتی ہے جبکہ ہمارے ہاں کئے گئے سروے ہمیشہ ہی غلط ثابت ہوئے ہیں جو ان اداروں کی جانبداری کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں الیکشن قوانین کے تحت ان سروے اور عوامی سے ان کے ووٹ کے متعلق سوالات پوچھنے اور نشر کرنا ممنوع ہے مگر تمام میڈیا ہی اس خلاف ورزی پر گامزن ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ووٹ ایک خفیہ چیز ہے اور کسی کو بھی اس کے ووٹ دینے کے متعلق پوچھنا اور اس کو نشر کرتا ووٹ کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں پیش پیش ہیں مگر چند جگہوں پر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ان پڑھ لوگوں نے ان اینکروں کو صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اپنے ووٹ کی شناخت کو ظاہر نہیں کریں گے کیونکہ ووٹ کو خفیہ رکھنا قانون کے تحت لازمی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر جو سروے کئے جاتے ہیں ان میں عوام کی شناخت نہیں کئی جاتی اور اس کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔
اب جب کہ انتخابی اتحاد اور جوڑ توڑ کافی حد تک واضح ہو چکا ہے تو سیاسی صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں دکھائی دیتی ہے۔ تفصیلات و جذبات پر الگ سے بحث کی جا سکتی ہے:
بلوچستان
یہاں پر مختلف جماعتوں اور اتحادیوں کو نشستیں حاصل ہونے کی توقع ہے اور کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی بلکہ ان انتخابات کے نتائج کی روشنی میں مختلف جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت کا زیادہ امکان ہے۔
خیر پختون خواہ
یہاں پر اگرچہ پی ٹی آئی کو دیگر جماعتوں پر کچھ برتری نظر آتی ہے مگر مختلف جماعتوں کو مختلف علاقوں میں نشستیں حاصل ہونے کے امکانات ہیں اور ان کے نتائج کی روشنی میں ایک مخلوط حکومت کے امکانات ہیں جس میں پی ٹی آئی شامل نہیں ہو گی۔ اس موقع پر یہ بات بہت حیران کن ہے اور وہ بیرونی ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ظاہر کرنے کا ذریعہ ہے کہ وہاں پر جس طرح سے دہشت گردی کا ماحول پیدا کیا گیا ہے اور اس میں سب سے زیادہ نشانہ پر جمعیت علماء اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی کی قیادتیں ہیں۔ جبکہ طالبان جمعیت علماء اسلام کے سب سے بڑے حمایتی ہیں اسلئے اس میں ان کی شمولیت نامکن ہے جبکہ اس دہشت گردی سے پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی مکمل طور محفوظ ہیں یہ ایک بہت بڑی سازش کو بے نقاب کرتا ہے۔
سندھ
اگرچہ اس دفعہ سندھ میں ایک بڑا اتحاد پیپلزپارٹی کے خلاف وجود میں آیا ہے مگر اس کے باوجود اس کا کوئی زیادہ اثر مرتب نہیں ہو گا اور لگتا ہے کہ آئندہ بھی سندھ میں پیپلزپارٹی دوبارہ سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔
پنجاب
پاکستان کی ساری سیاست کا دارومدار پنجاب کی سیاست پر ہوتا ہے کیونکہ اس کی آبادی اور نشستوں کی تعداد دوسرے تمام صوبوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے جو یہاں پر کامیابی حاصل کرتا ہے وہی مرکز میں بھی حکومت بناتا ہے اسی وجہ سے اس صوبے کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ کو اپنے امیدواروں کے انتخاب میں بہت وقت لگا اور اس میں دوسری جماعتوں کو ایڈجسٹ کرنا بھی شامل تھا اور اب جبکہ یہ عمل مکمل ہو گیا ہے تو ہر حلقہ میں انتخابی ماحول پیدا ہو چکا ہے۔
اگرچہ اس بات کا میڈیا پر دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو وہاں پر عوام کی اچھی حمایت حاصل ہے مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ پی ٹی آئی کو کچھ حد تک شہری علاقوں میں حمایت حاصل ہے مگر مجموعی طور پر مسلم لیگ سے اس کا کوئی قابل ذکر مقابلہ نظر نہیں آتا ماسوائے میڈیا پر۔ اور نہ ہی پیپلزپارٹی کو کوئی قابل ذکر پذیرائی حاصل ہے ماسوائے چند مخصوص حلقوں میں۔
اس لیے اس بات کے واضح امکانات ہیں کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ ہی کی حکومت قائم ہو گئی اور وہ دوسری اپ ی اتحادی جماعتوں کو بھی حکومت کا حصہ بناے گئی۔
اس انتخابی مہم میں ایک دوسرے پر جھوٹے سچے الزامات اور سیاسی حربوں کا استعمال دیکھنے کو ملے گا جو کہ ایک جمہوری عمل کا خاصہ ہے اور دنیا بھر میں انتخابات میں ایسے ہی حربوں کا استعمال کیا جاتا ہے اسلئے اس سیاسی کشیدگی اور کشمکش پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کو معمول کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔
بس ضرورت اس امر کی ہے ملٹری و سول اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، عوام اور جمہوری قوتیں مکمل طور چوکنا رہیں تاکہ انتخابات کے انعقاد کے عرصے میں سازشی عناصر پر گہری نظر رکھی جائے اور ان کو ان کے مزہوم مقاصد میں مکمل طور پر ناکام بنایا جائے تاکہ یہ عرصہ خیر و خیریت سے گزر جائے اور نئے انتخابات کے بعد ملک مکمل طور پر جمہوریت پر گامزن ہو سکے
.jpeg)
0 Comments