ماضی کے جھروکوں سے
فروری 10، 2024
تحریر: ممتاز ہاشمی
اسوقت تک انتخابات کے نتائج تقریباً مکمل طور پر سامنے آ چکے ہیں ماسوائے بلوچستان کے کچھ حلقوں کے۔ اس سے پہلے ان انتخابات کے نتائج اور ممکنہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں ان انتخابات کے پرامن اور منظم انعقاد کرانے میں ریاستی سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا جانا ضروری ہے جنہوں نے ایک بہت بڑے سیکورٹی چیلنج جو کی پاکستان دشمن عناصر نے منصوبہ بندی کی تھی اور جس میں اندرونی و بیرونی عناصر اور وسائل شامل تھے اس کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اگرچہ انتخابات کے ایک روز قبل تخریبی کارروائیوں کے دوران بہت سی قیمتی جانوں کا نقصان بھی ہوا۔ یہ تخریبی کاروائیاں گزشتہ برسوں سے بلوچستان اور کے پی کے میں جاری ہیں اور ان سیکورٹی چیلنجز کی بناء پر مختلف سیاسی جماعتوں کو خاص کر نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کو انتخابی مہم کے پی کے میں چلانے سے سیکورٹی وجوہات پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں وہاں کی اہم جماعتیں جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی خاص طور پر شامل ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو مکمل طور پر انتخابی مہم چلانے کی سہولت فراہم کی گئی تھی جس کا اثر ان جماعتوں کی انتخابی نتائج پر بھی واضح طور پر نظر آیا۔
سیکورٹی اداروں نے تخریبی کاروائیاں کے سدباب کے لیے عین انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل ہی موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی۔ جس کا اثر ان انتخابات کے نتائج پر بھی واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
اب ذرا ان نتائج کا جائزہ لیں تو یہ نتائج کم و بیش انتخابات کے انعقاد کے کچھ روز قبل لکھے گئے تجزیے کی عمومی طور تصدیق کرتے ہیں البتہ ان میں کچھ تبدیلیاں بھی دیکھنے کو ملیں جس کا ان اسوقت دستیاب مواد کی روشنی میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے ۔
سندھ اور بلوچستان کی صورتحال تقریباً وہی رہی جس کی پہلے ہی نشاندہی کی تھی مگر کے پی کے میں پی ٹی آئی کے حمایتی آزاد امیدواروں کی مکمل اور واضح برتری نے پی ٹی آئی کی وہاں پر مقبولیت، حکمت عملی اور تیاری کو نمایاں کیا ہے جس کی تعریف کی جانا چاہیے۔ مگر یہ مقبولیت اس نے پچھلے دو سال کے ایک منفی بیانیہ کی بنیاد پر حاصل کی ہے اور اس نے کے پی کے میں اس کے حمایتیوں کے ذہن میں ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں اور سیکورٹی اداروں کے خلاف نفرت گھول دی ہے جو کہ ملکی سالمیت اور خودمختاری کے لیے بہت خطرناک ہے اس کا مناسب سدباب اور حل نکالنا ضروری ہے تاکہ وہاں کے لوگوں کو پاکستان دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روکنے کا مناسب بندوبست کیا جا سکے اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہوگا کے پی کے میں گزشتہ 10 برسوں سے پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے اور یہ صوبہ اب برسوں میں شدید خسارے میں جانے چکا ہے اور نہ ہی صوبے میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی منصوبوں پر کام ہوا ہے اسلئے اس صوبے کے عوام کی معاشی بدحالی اور غربت دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی نے توقع سے کچھ زیادہ کامیابی حاصل کی ہے جس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اصل انتخابی دنگل پنجاب میں ہوا جس کی توقع بھی کی جا رہی تھی انتخابی مہم میں بظاہر مسلم لیگ کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت فعال نہیں تھی اسلئے مسلم لیگ کی انتخابی مہم بھی انتہائی سست روی کا شکار رہی اور انہوں نے بڑی انتخابی مہم سے گریز کیا اور یہاں تک کہ اہم شہروں میں بھی قیادت نے انتخابی اجتماعات منعقد نہیں کئے۔ یہ ضروت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتا ہے دوسری جانب پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹرز کو مکمل طور پر متحرک اور باخبر رکھا اور ایک منظم انداز میں خاموش انتخابی مہم جاری رکھی اور قپنی حکمت عملی کو مکمل طور پر خفیہ رکھا۔ اور اس کا مظاہرہ انتخابات کے روز دیکھنے میں آیا۔ جب صبح کے وقت پی ٹی آئی کے ووٹرز باہر نہیں نکلے اور مسلم لیگ کے روایتی ووٹرز ہی نظر آئے کیونکہ دوسری جانب مخالف امیدواروں کے کیمپ بھی نہ ہونے کے برابر تھے تو مسلم لیگی راہنما اور کارکنوں نے اس کو اپنی بآسانی جیت سمجھ کر سست روی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت دوپہر 12 بجے کے بعد اچانک پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا اور لمبی لائنیں لگ گئی جس پر مسلم لیگ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا مگر اس وقت کچھ تاخیر ہو گئی تھی اور انہوں نے دوبارہ سے اپنے ووٹرز کو نکالنے کا آغاز کیا مگر موبائل فون کی بندش نے ان کی راہ میں سخت مشکلات پیدا کئی کیونکہ انہوں نے اس کے متبادل کا کوئی انتظام نہیں کیا ہوا تھا جبکہ پی ٹی آئی نے متبادل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ووٹرز کو متحرک رکھا۔
اس کوتاہی کا مسلم لیگ کو کئی شہری حلقوں ناقابل تلافی نقصان پہنچا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ کو لاہور کے اس حلقے میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں کوئی مخالف فریق بھی نہیں سوچ سکتا تھا اور وہ لاہور میں شیخ روحیل اصغر کے حلقے میں شکست ہے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اس حلقے میں ووٹنگ کی شرح صرف 40 فیصد رہی جو دیگر حلقوں کی بنسبت کافی کم ہے۔
اس کے باوجود مسلم لیگ نے اپنی عوامی مقبولیت کی بناء پر پنجاب میں سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی مگر اس کو پنجاب میں مکمل، واضح اور بڑی برتری حاصل نہ ہوسکی جس کی نہ صرف وہ توقع کر رہے تھے بلکہ عمومی طور پر تجزیہ کاروں کی اکثریت کم و بیش اس پر متفق تھے
موجودہ انتخابی نتائج کی بنیاد پر مسلم لیگ اکیلے ہی مرکز میں حکومت سازی نہیں کر سکتی۔ اگرچہ پنجاب میں اس کو صوبائی اسمبلی میں واضح برتری حاصل ہے جہاں اس کے لیے حکومت سازی آسان ہے۔
اگرچہ ان انتخابات میں بہت سے امیدواروں نے لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح بہت زیادہ رہی ہے دراصل پچھلے پانچ سال میں جسطری سے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اسی رفتار سے ووٹرز کی تعداد بھی بڑھی ہے جب مکمل نتائج کے اعداد وشمار سامنے آئیں گے تو معلوم ہو گا کہ ووٹنگ کی شرح شاہد گزشتہ انتخابات سے بھی کم ہوگئی ابتدائی نتائج کے مطابق ووٹنگ کی شرح 48 فیصد رہی جو کہ گذشتہ انتخابات کی نسبت بہت کم ہے اور اس کی وجوہات کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔
اسوقت کی صورتحال میں آزاد منتخب افراد جن کو پی ٹی آئی کے حمایتی کہا جاتا ہے ان کی تعداد سو کے قریب ہے ان میں کم از کم 8 ایسے آزاد منتخب نمائندے بھی شامل ہیں جو واقعی آزاد ہیں اور ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ پی ٹی آئی کو شکست دے کر منتخب ہوئے ہیں اسی طرح مسلم لیگ کی 73 اور پیپلزپارٹی کی 53 اور ایم کیو ایم کی 17 ہے اس بات کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ مسلم لیگ نے استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ قاف اور ایم کیو ایم سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی تھی اسلئے ان سیٹوں پر منتخب افراد کو بھی اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے جن حلقوں کے نتائج کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا وہ بلوچستان سے متعلق ہیں اور وہاں پر پی ٹی آئی کے لیے کوئی مزید نشست حاصل کرنا ناممکن ہے۔
اس طرح سے کوئی جماعت مرکز میں اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور وہ تنہا حکومت نہیں بنا سکتی۔ اسلئے منتخب جماعتوں کو ایک اتحادی حکومت بنانا پڑے گی اس سلسلے میں مسلم لیگ نے دوسری جماعتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے اور امید ہے کہ آئندہ چند روز میں واضح صورتحال سامنے آ جائے گی۔
اس وقت ملک جس معاشی بحران میں مبتلا ہے اور غریب عوام جسطری سے اس عذاب سے گزر رہے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ملک میں ایک مستحکم اور مضبوط حکومت ہو جو معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہو۔ ملک اب مزید کسی قسم کی محاز آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ایک اہم بات انتخابی نتائج کے اعلانات کے طریقہ کار اور تاخیر ہے الیکشن کمیشن نے میڈیا کو اپنے طور پر بلا تصدیق جزوی نتائج کے اعلان کی جو اجازت دے رکھی ہے اس کا نہ صرف غلط استعمال کیا جاتا ہے بلکہ یہ عوام میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دو درجن سے زائد چینلز پر مختلف قسم نتائج نشر ہو رہے تھے جو ہی چینلز نے اپنے طور پر حاصل کر کے بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کر رہا تھا جبکہ اکثریت نے اس کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور اپنے نمائندوں سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ہی نشر کر دیں جن میں سے بھی ایک بہت بڑی تعداد میں ان نمائندوں نے سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کرنے کی بجائے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے حاصل کی اور ظاہر ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے کارکن ہمیشہ اپنے حق میں ہی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
اگرچہ سرکاری اعلانات میں کافی تاخیر ہوئی مگر اس کو سمجھنے کے لیے اس پورے نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس میں بہتری پیدا کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے دوسری طرف میڈیا کو غیر سرکاری غیر حتمی نتائج نشر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تاکہ عوام میں کنفیوژن پیدا نہ ہو۔
آخر میں ایک اہم بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ہر انتخابات میں کچھ حد تک بے ضابطگی ہوتی ہیں اور گزشتہ انتخابات میں تو اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے آر ٹی ایس کر بند کر کے کیا گیا تھا۔ اب بھی اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اس کو قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اس کا مداوا کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ہائی کورٹس کو الیکشن کمیشن کے کام میں غیر ضروری مداخلت کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور تمام فریقین کو قانون کے مطابق اپنی شکایات کے ازالے کے لیے ریٹرنگ افسران، الیکشن کمیشن، یا الیکشن ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے اور اس کے بعد اپیل میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ جانے کا راستہ کھلا ہے۔
جو لوگ اسوقت ہنگامہ آرائی اور تشدد کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کےر رہے ہیں وہ ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل میں خود کو شامل کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں سیکورٹی اداروں کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت اور معمولات زندگی معمول کے مطابق چلیں اور ساتھ ساتھ سیاسی عمل میں بھی قانونی راستہ کے ذریعے آگے بڑھانے کا عمل جاری رہے۔

0 Comments