Header Ads Widget

Intp Labour Day یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن

 تحریر: ممتاز ہاشمی 



یوم مئی  - مزدوروں کا عالمی دن 

 

آج دنیا بھر میں محنت کشوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے جو کہ ان محنت کشوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہوتا ہے جنہوں نے حالیہ تاریخ میں استحصالی نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اگرچہ ان کی قربانیوں کے نتیجے میں دنیا کے کچھ حصے میں محنت کشوں کو کچھ حقوق بھی حاصل ہوے 

لیکن یہ ناکافی اور مکمل طور پر عدل کے نظام کے منافی ہیں آج پوری دنیا میں محنت کشوں کی اکثریت انتہائی پستی اور ذلت کی زندگی گزار رہی ہے اور آج کے دور کا سخت استحصالی نظام جو کہ سرمایہ دارنہ اور سود پر مبنی ہے اس نے مکمل طور پر لوگوں کو اکثریت کو غلامی اور پسماندگی میں مبتلا کر رکھا ہے 

اج کسی بھی جگہ منصفانہ اور عدل پر مبنی نظام نافذ نہیں ہے خالق کائنات نے انسانوں کو استحصالی نظام سے بچانے اورعدل پر مبنی   زندگی گزارنے کے لیے دین اسلام کا انتخاب کیا ہے۔ یہ وہ واحد نظام حیات ہے جو انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے اور صرف اللہ کی بندگی اختیار کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ اسی لیے خخالق کائنات نے انسان کی پیدائش کا واحد مقصد ہی اللہ کی بندگی اختیار کرنے کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔

دین اسلام کے اقتصادی نظام میں ہر انسان کی بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی ذمہ داری ریاست ( خلافت) پر ہے اسمیں دنیاوی وسائل اور ذرائع کی منصفانہ و عادلانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ تمام انسانیت کو  اس بات پر قائل کرتا ہے  کہ اس کے پاس جو وسائل اور دولت حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہے وہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے اور اسمیں اس کا حق صرف اس کی ضروریات تک محدود ہے اور بقیہ دوسروں کی امانتیں ہیں  جن کو ان حق داروں تک پہنچانے کا اہتمام کرنا ہر اہل ایمان پر لازم ہے اپنی جاہز ضروریات کا تعین کرنا اللہ نے  انفرادی طور ہر ایک کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے اس کا ایک پیمانہ البتہ ضرور فراہم کیا ہے کہ جس شخص کا ایمان مضبوطی کی جانب گامزن ہو گا اسی طرح اس کی جائز ضروریات کا پیمانہ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

آج کی دنیا میں اس منصفانہ اور عدل پر مبنی اقتصادی نظام کا تصور ہی محال ہے کیونکہ اس کا کوئی نمونہ اس دنیا میں موجود نہیں ہے ان حالات میں جب دنیا کی اکثریت آج کے بدترین استحصالی نظام کا شکار ہے تو اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم سب اپنے  حصے کا کام کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان مظلوم طبقات کی امداد کے لئے جو کچھ  کرسکتے ہیں وہ فرض ادا کریں اور اس کا اجر اللہ آخرت کی زندگی میں عطا فرمائے گا۔

پاکستان میں اکثریت کا تعلق ان مظلوم طبقات سے ہے جس کے پاس زندہ رہنے کے وسائل ناپید ہیں جبکہ دوسری طرف ایک طبقہ کے پاس وسائل و دولت کے بےپناہ انبار ہیں اس گھمبیر صورتحال کی وجہ سے معاشرے میں جرائم اور نفرت کا فروغ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کے لیے اگرچہ حکومتوں نے اپنی حد تک کچھ کوششیں کی ہیں لیکن یہ بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہے اس میں ایک اچھا اقدام بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے جس سے کچھ حد تک مظلوم طبقات کو فائدہ پہنچانے کا اہتمام کیا گیا ہے اس کے علاوہ مختلف رفاہی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بھی ان طبقات کی امداد کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے جس پر وہ تمام تنظیمیں اور افراد خراج تحسین کے مستحق ہیں لیکن ان تمام کاوشوں کے باوجود محنت کشوں کے حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی اور بے روزگاری کے اثرات سے مزید غربت کی شرح میں اضافہ کا موجب بن رہا ہے۔

ان حالات میں ایک تنظیم کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے جو کہ پاکستان میں ان مظالم طبقات کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جو ک اخوت کے نام سے جانی جاتی ہے جس کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب ( جن کو نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا تھا )۔ انہوں نے اپنی ذاتی حیثیت سے اس کام آغاز چند ہزار روپے سے کیا تھا جس کی بنیاد اسلام کی اساس قرض حسنہ کی فراہمی ہے جو کہ بلا سود  کے لوگوں کو فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اس سے اپنے پاوں پر کھڑے ہو سکیں اور اس کے بعد اپنی سہولت کے مطابق قسطوں میں جو بھی واپس کرنا چاہیے وہ واپس لوٹا دیں تاکہ اس سے دوسرے لوگ مستفید ہو سکیں۔ اس کا اصول مواخات پر مبنی  اسلامی تصور ہے۔ اس وجہ سے اللہ نے اس کارخیر میں برکت عطا فرمائی ہے اور آج صرف ان کے قرض حسنہ سے 254 ارب روپے لوگوں کو دیئے جاتے ہیں اور واپسی کی شرح  تقریبا سو فیصد ہے۔ بلکہ اکثریت جو ان سے مستفید ہوتے ہیں بعد میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے بعد اس کا حصہ بن کر جود بھی اس میں  اپنا حصہ ڈال رہیں ہیں۔ آج دنیا  اس تنظیم کے کام کو قدر کے ساتھ دیکھتے ہوئے اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے اس کو اپنانے  کا سوچ رہے ہیں۔ یہ واقعی اللہ کی برکت اور اس کے اصولوں پر کارخیر کرنے کا نتیجہ ہے۔

آج ہمیں اس قسم کے لوگوں کی ہمت افزائی کرنی چاہیے 

مگر یہ مسائل کا حل نہیں ہے مسائل کا کامل اور دیرپا حل صرف اور صرف اللہ کے دین کے نفاذ میں پنہاں ہے جو یر انسان کے بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور جس کو خالق کائنات نے اس عارضی زندگی میں اپنانے کا حکم دیا ہے اور اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنا ہی ہمارے لیے  اپنی عاقبت میں کامیابی کی ضمانت ہے آئیں ملر عہد کریں کہ  دین اسلام کے قیام کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں گے  جو ہمارے لیے ہی اپنی آخرت کی کامیابی کا عمل ہوگا۔ اللہ سبحان تعالٰی ہم سب کو ہدایت، ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Post a Comment

0 Comments