تحریر: ممتاز ہاشمی
آج جب ایک مرتبہ پھر سے بھارت کے پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور اس سازش کو اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ناکامی سے دوچار کر دیا ہے جس کی وجہ سے آج نہ صرف دنیا بھر میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے بلکہ بھارت کے انفرادی سے بھی اس کے اس منصوبے کی ناکامی پر سوالات کھڑے کر ہو گئے ہیں۔
بھارت کی پاکستان دشمنی کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ کرنا لازم ہے۔
مسلمانوں کی اقلیت نے بھارت کی ہندو اکثریت پر تقریباً ہزار برس تک حکومت کی ہے جس میں کچھ علاقوں پر مکمل طور پر اور کچھ پر کم عرصے تک حکومت کرنا شامل ہے اس دور میں بھارت میں اسلامی شریعت نافذ تھی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو مکمل طور پر مذہبی آزادی میسر تھی بلکہ ان کے فیملی لاز ان کے مذہبی عقائد کے مطابق طے کئے جاتے تھے جو عین دین اسلام کا حقیقی تصور تھا۔
اس دور میں بھارت دنیا کی ترقی یافتہ ممالک میں سرفہرست تھا اور یہاں کی جی ڈی پی پوری دنیا کی جی ڈی پی کا تیسرا حصہ تھا عوام خوشحال تھے اور تعلیمی ریکارڈ کے مطابق تقریباً 90 فیصد آبادی خواندہ تھی۔ جبکہ اس دور میں انگلینڈ اور دیگر ممالک اس سے بہت پیچھے تھے یہ دراصل اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت تھی۔ اس کو سمجھنے کے لیے حیات انسانی کے تصور کو دوبارہ سے یاد کرنے کی ضرورت ہے۔
خالق کائنات نے تخلیق انسانی کا بنیادی مقصد اس کو ایک معین عرصہ اس عارضی زندگی کی شکل میں گزار کر اس کو پرکھنا ہے تاکہ وہ ایک طرح امتحانی مرحلے سے گزراتے ہوئے اپنے انفرادی اعمال کی بدولت اپنے لیے سزاو جزا کا انتخاب کر سکے ۔ اس امتحان میں کامیابی کا معیار رب کائنات نے صرف اور صرف اللہ سبحان و تعالٰی ٰ کی عبادت کرنے کو قرار دیا ہے اور اس کو قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے ۔
سورہ الذّٰرِیٰت آیت 56
میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔"
جب تک مسلمان ہند میں ایمان کا غلبہ رہا وہ دنیا پر غالب رہے مگر جب وقت کے ساتھ ساتھ وہ مصلحتوں، لالچ، جھوٹ و فریب کے گناہوں میں ملوث ہوتے گئے تو ان پر اغیار نے غلبہ حاصل کر لیا اور اسطرح سے انگریز نے بھارت پر تسلط حاصل کر کے اسلامی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
اس کے بعد ہندوؤں نے بخوشی انگریزوں کی غلامی قبول کر لی اور ان سے تعاون کرتے ہوئے مفادات حاصل کرنے لگے اور مسلمانوں کو کنارے لگا دیا گیا۔ مسلمانوں میں انگریزوں سے آزادی کا جذبہ ہمیشہ سے بیدار رہا اور وہ دوبارہ سے مسلمانوں کی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور اس سلسلے میں بہت قربانیاں دیں۔1857 کی جنگ آزادی اور تحریک خلافت اس کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
اس لیے پاکستان کے قیام کا تصور سامنے آیا تاکہ اس خطے کو اسلام کے غلبے کا مرکز بنایا جائے جس کا تصور مختلف احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
(۱) صحیح مسلمؒ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ (جو آنحضورﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے) سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ نے میرے لیے پوری زمین کو سمیٹ یا سکیڑ دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی‘ اور سن رکھو کہ میری اُمت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے سکیڑ یا لپیٹ کر دکھا دیے گئے!‘‘
او ر(۲) مسند احمد بن حنبل ؒ میں حضرت مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: ’’کل روئے ارضی پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا نہ اونٹ کے بالوں کے کمبلوں سے بنا ہوا خیمہ جس میں اللہ کلمۂ اسلام کو داخل نہ کر دے‘ خواہ کسی عزت کے مستحق کے اعزاز کے ساتھ اور خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کے ذریعے۔ یعنی یا تو اللہ انہیں عزت دے گااور اہل اسلام میں شامل کر دے گا یا انہیں مغلوب کر دے گا‘ چنانچہ وہ اسلام کی بالادستی قبول کر لیں گے!‘‘ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس پر میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ ’’تب وہ بات پوری ہو گی (جو سورۃ الانفال کی آیت ۳۹میں وارد ہوئی ہے) کہ دین کل کا کل اللہ ہی کے لیے ہو جائے!‘‘
ان احادیث کی سچائی تاریخ اور اج کے حالات کی گواہی ہیں ۔ اس بات میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ہم آج تیزی سے آخری دور کی جانب گامزن ہیں اور یہ دور قیامت سے پہلے پوری کائنات پر دین اسلام کے مکمل نفاذ کا دور ہو گا ۔
اس حقیقت کو اس عہد کے مفکر قرآن علامہ اقبال نے پہچانتے ہوئے بھولے بھٹکے مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی اور اپنے اصل مقصد حیات کی جانب دوبارہ سے گامزن ہونے کا جذبہ بیدار کیا ہوا اور اسطرح سے دوبارہ سے دو قومی نظریہ کی آفاقیت کو زندہ جاوید کر دیا۔ جو پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔
علامہ اقبال نے اپنے روحانی مشاہدہ کو اہل ایمان کے سامنے اسطرح پیش کیا ۔
آسماں ہوگا سحَر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظُلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
اس قدر ہوگی ترنّم آفریں بادِ بہار
نگہتِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی
آ ملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گُل کی ہم نفَس بادِ صبا ہو جائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی
دیکھ لو گے سطوَتِ رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیرِ پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
نالۂ صیّاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خُونِ گُلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
علامہ اقبال نے اس مقصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کو دوبارہ سے منظم ہونے اور اپنے لئے ایک خطہ کے حصول کی جدوجہد کرنے کی راہ دکھائی تاکہ اس خطہ ارض پر اللہ کے دین سلام کا نفاذ کیا جائے جس کا ذکر اوپر حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا واضح اعلان علامہ اقبال نے اس اندازِ میں کیا ہے ۔
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!
اسطرح سے پاکستان کے قیام کی بنیاد دو قومی نظریہ کی تجدید کرتے ہوئے قرآن کے عظیم مفکر علامہ اقبال نے رکھی۔ انہوں نے اس وقت جب کہ پوری ملت اسلامیہ پر شکست اور غلامی میں جکڑی ہوی تھی اور زمین کے کسی بھی علاقے میں اسلام کا نظام نافذ نہ تھا جس کی وجہ سے دین اسلام کا تصور مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا اور مسلمانوں میں ذہنی غلامی اور پسماندگی سرایت کر چکی تھی۔ اور پوری دنیا میں دین اسلام مکمل طور پر مغلوب ہو چکا تھا مسلمانوں میں اسلام کا تصور صرف ایک مذہبی عبادات اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ اس وقت علامہ اقبال کو اللّٰہ سبحانہ و تعالٰی نے یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ مسلمانوں کو دوبارہ سے بھولا ہوا سبق یاد دلا کر ان میں دوبارہ سے اسلام کی عظمت کو بحال کرنے کا عزم پیدا کریں ۔ اقبال نے مسلمانوں کو ان کے زوال کی وجوہات اور اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔ اس دوران انہوں نے اپنے پیغام کو اردو اور فارسی کے ذریعے مسلمانوں کی بیداری کے لیے استعمال کرتے ہوئے اس کے لیے عملی لائحہ عمل فراہم کیا۔
انہوں نے دنیا میں احیاء اسلام کے لیے پاکستان کا تصور بطور صدر مسلم لیگ پیش کیا۔ جس کے مطابق اس نئی مسلم مملکت پاکستان جو کہ ہندوستان کے اکثریتی مسلم آبادی والے صوبوں پر مشتمل ہو گی اس میں اسلام کا مکمل طور پر نفاذ کرنے کا موقع ملے گا اور اس طرح اسلام کے حقیقی تصور جو کہ خلافت راشدہ کا ماڈل ہو گا وہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہو گا کہ تمام دنیا اس نظام کے ثمرات کو دیکھے اور اس طرح سے دنیا اسلام کی طرف مائل ہو جائے گی۔اور آہستہ آہستہ دین اسلام دنیا بھر میں نافذ ہونے کا ذریعہ بنے گا۔ اقبال نے اس کام کی تکمیل کے لیے قائداعظم کو قائل کیا۔ اور قائداعظم جو کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کے رویے سے مایوس ہو کر لندن جا چکے تھے۔ ان کو علامہ اقبال نے قائل کیا کہ وہ ہندوستان واپس جا کر پاکستان کے قیام کی جدوجہد کریں اسطرح سے اللہ سبحانہ و تعالٰی کی حکمت عملی سے وہ واپس ہندوستان آئے اور پاکستان کی تخلیق کے لیے انتہائی محنت کی اور قیام پاکستان کو مکمل اور صرف اور صرف دین اسلام کے بنیادی مقاصد سے منسلک کر دیا۔ اس تحریک نے بہت جلد اپنی اہمیت کو اجاگر کر دیا اور اس طرح سے پاکستان کے قیام اوردین اسلام کے نفاذ کا نعرہ ایک مکمل تصور بن کر ہر جگہ پر اس طرح سے چھا گیا۔
پاکستان کا مطلب کیا
لا اللہ الا اللہ محمد رسول اللہ
تحریک پاکستان کے حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات تسلیم کرنے کے سواے کوئی چارہ نہیں ہے کہ پاکستان کی تخلیق ایک معجزہ ہے اور اس کی بہترین وضاحت ڈاکٹر اسرار احمد نے قرآن میں اس کو مندرجہ ذیل آیت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔
سورہ الْاَنْفَال آیت 26
"اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو۔"
قائداعظم نے اس عظیم جدوجہد میں قرآن کے عظیم اسکالر علامہ اقبال کے فراہم کردہ لائحہ عمل کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ اور اخرکار مارچ 23 کو پاکستان بنانے کی قرارداد منظور ہوئی اور اس کے بعد قائد اعظم کی انتھک محنت سے بالآخر اللہ سبحان و تعالٰی کی رحمت سے 14 اگست 1947 کو دنیا میں ایک نئی ریاست ظہور پذیر ہوئی جو دین اسلام کے نفاذ کے لئے وجود میں آئی۔
اس جدوجہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں ,عزتیں اور جائیدادیں کی قربانیاں دیں لاکھوں مسلمانوں نے نئی تخلیق شدہ پاکستان میں مکمل ہجرت کی تھی جس پر دین اسلام کے قیام کا عزم تھا۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت جس کو ہجرت مدینہ الثانی کہا جاتا ہے۔
اس ہجرت میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں ہزاروں کہانیاں ہماری تاریخ کا لازمی حصہ ہیں۔ اس بات کی تصدیق اور وضاحت قائد اعظم نے خود اپنے ذاتی معالج سے اپنے آخری ایام میں یوں کیا ہے
" تم جانتے ھو کہ جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا صلہ علیہ والہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمیں کی بادشاہت دے"
اگرچہ مسلمانان پاکستان اس کے قیام کے بعد اپنے اصلی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے جس کی وجوہات اور حالات کی ایک طویل داستان ہے
پاکستان کا قیام اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ایک خاص مقصد کے لیے کیا ہے اسلئے دنیا کی کوئی طاقت اس کو اس مقصد سے الگ نہیں کر سکتی۔ بھارت کے ہندوؤں کا لکق بھی اس کا اندازہ ہے اسلئے انہوں نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس کے خلاف سازشوں کو فروغ دینے پر کاربند ہیں جس کا آغاز انگریزوں سے ملک بھگت کر کے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے سے روکنا تھا اور اس کے ایک بڑے حصے پر عرصہ دراز ناجائز و غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ اس دوران اس نے اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی فراموش کر دیتے اور کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے شروع کر دئیے جو آج تک جاری و ساری ہیں۔ اس کے باوجود کشمیر کے غیور مسلمان اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ بھارت تمام تر وسائل کے استمال کئے باوجود کشمیر کے عوام کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ اس لیے وہ عرصے دراز سے کشمیر میں اپنی ناکامی کو پاکستان سے منسلک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت مختلف اوقات میں جنگ بھ کڑ چکے ہیں مگر کشمیر کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔
اللہ سبحانہ و تعالٰی نے پاکستان کو اب جس جدید ایٹمی صلاحیتوں اور دیگر معاملات میں بھارت و دیگر دیگر کے ممالک پر فوقیت عطا فرامہی ہے وہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
ان عوامل کی بناء پر بھارت و دیگر اسلام دشمن قوتوں نے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت سے ان سب کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آج جب دوبارہ سے بھارت نے ایک سازش کے تحت کشمیر میں ایک فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تو اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس کے ان عزائم کو ناپاک بناتے ہوئے اس کو دنیا بھر میں رسوائی سے دوچار کر دیا ہے۔
اس موقع پر بھارت کی پاکستان کو اس کے حصے کا پانی بند کرنے کی دھمکی ایک طرح سے اس کی شکست کا اعتراف ہے۔ سندھ طاس معاہدہ میں پاکستان، بھارت کے ساتھ ورلڈ بنک بھی فریق ہے اور اس معاہدے کی روح سے اس میں کسی قسم کی تبدیلی باہمی اتفاق رائے سے ہی ہو سکتی ہے اسلئے بھارت کا یکطرفہ اعلان کی کوہی قانونی اہمیت نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔
اس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے پاکستانی فضائی حدود کے استمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جس سے بھارت ہر روز نہ صرف مالی طور پر نقصان ٹھا رہا ہے بلکہ سفر کے دورانیہ میں اضافے سے دیگر مسائل سے دوچار ہو گیا ہے۔
آج پاکستانی قوم اپنے اندرونی اختلافات کو مکمل طور پر فراموش کر کے بھارت کے ناپاک عزائم کے خلاف متحد و منظم کھڑی ہے۔
جیسا کہ ہمیشہ اس بات کا ثبوت فراہم ہوا ہے کہ پاکستان اللہ سبحانہ و تعالٰی کا معجزہ ہے اور اس کی ہر مرحلے پر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے حفاظت کی ہے اور پاکستان کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ آج جس تیزی سے بھارت و دیگر اسلام دشمن عناصر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور پاکستان میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ اسلام دشمن قوتوں کو اس بات کا احساس ہے کہ دنیا بھر میں احیاء سلام کی تحریک کا مرکز پاکستان اور اس سے متحلق علاقہ جات ہوں گے۔
دور حاضر میں دنیا بھر کے مسلمانوں پر کفار جوظلم و ستم کے پہاڑ ٹکڑے جا رہے ہیں جن میں خاص طور پر فلسطین، کشمیر و دیگر ممالک شامل ہیں کفار کو اس بات کا احساس ہے کہ مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم کا جواب دینے کی صلاحیت اللہ سبحانہ و تعالٰی نے صرف پاکستان کو عطا کی ہے اور اس کے ریاستی ادارے کی عسکری صلاحیت ان سب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے اسی لیے وہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے پاکستان میں موجود کچھ ایجنٹوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان عناصر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سے تمام تر وسائل حاصل ہیں مگر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اب تک ان تمام قوتوں کو ناکامی سے دوچار کیا ہے اور آئندہ بھی ناکامی سے ہمکنار کرے گا ان شاءاللہ۔
اس صورتحال میں ہم جو ایمان کے دعویدار ہیں ان کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہیں اور ہمیں ان قوتوں کو شکست دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں وقت کا ضیاع نہیں کرنا چاہیے اور پورے ایمان کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے اور یہاں پر دین اسلام کے نفاذ میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت و دیگر اسلام دشمن قوتوں کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔
ہمارا یہی انفرادی اور اجتماعی عمل روز قیامت ہماری کامیابی کا ذریعہ ثابت ہو سکے گا۔ ان شاءاللہ

0 Comments