Header Ads Widget

پاکستان کی تاریخ کا تلخ ماضی، حال اور مستقبل کا لائحہ عمل

 تحریر: ممتاز ہاشمی



پاکستان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے  کے لیے  ہمیں اپنے ماضی کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔

قیام پاکستان کے بعد نئے ملک کی بقا ہی ایک اہم مسئلہ تھا اور اس کے لیے قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے انتھک محنت اور جدوجہد کی، کیونکہ ہندوستان کی غیر منصفانہ تقسیم کے وقت زیادہ تر وسائل ہندوستان نے روک رکھے تھے۔ 


ایسی صورتحال میں قائداعظم قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد فوت ہو گئے۔ پاکستان کے حصے میں جو بھی سول اور ملٹری بیوروکریسی آئی ، وہ اپنے برطانوی آقاؤں کی وفادار تھی۔ پاکستان یا اسلام  سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ ان کو اس بات کا ادراک تھا کہ مسلم لیگ کی کمزور تنظیم اور نوزائیدہ جماعت کو قابو کرنا آسان ہو گا اور اس کا ایجنڈا اس نوزائیدہ مملکت  کے کمزور نظام کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے کر اپنے اقتدار کو یقینی بنانے کا اہتمام کرنا تھا۔

۔قیام پاکستان کے بعد کے واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ کس طرح اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتے گئے اور آخر کار 1958ء میں فوجی اداروں نے  مطلق اختیارات حاصل کر لیے۔ جس میں اس کو عدلیہ اور سول بیوروکریسی کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔

المیہ یہ ہے کہ  قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اکابرین کو آہستہ آہستہ کنارے لگا دیا گیا۔یوں  تمام ریاستی امور پر لالچی اور مفاد پرست عناصر کا مکمل غلبہ ہو گیا جس نے ایک مکمل استحصالی نظام اور استحصالی طبقات کو جنم دیا۔


ڈکٹیٹر ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد کی پاکستان کی تاریخ ایک بم طویل اندھیری رات ہے  اس دوران جمہوری قوتوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں اور اس میں ہر مرحلے پر قربانیاں پیش کی جس کے نتیجے کے طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں انتخابات کرانے پر مجبور ہونا پڑا۔

اس طرح سے ملک میں کچھ وقفوں کے لیے نیم جمہوری دور بھی آتے ہیں۔ ان تمام عرصے میں ملک میں ریاستی و سرکاری اداروں مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور ان میں قانون کی بالادستی ناپید ہو گئی  اور نتیجتاً ملک کرپشن،  لاقانونیت، لالچ کے شکنجے  میں جکڑ گیا۔ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور استحصالی طبقات مکمل طور پر تمام ملکی وسائل پر قابض ہوتے چلے گئے۔ جس سے ہر قسم کی برائیوں نے جنم لیا جس نے بڑھتے بڑھتے ملک اور عوام کی اکثریت کو معاشی و سماجی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔

اسلئے ہمیں اپنی تاریخ کے چند تلخ حقائق کو دوبارہ سے ذہن نشین کرنا ضروری ہو گا:


‏1947: قائداعظم نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔


1948: ان کی موت خراب ایمبولنس  میں جن حالات میں واقع ہوئی وہ ایک پراسرا کہانی ہے۔


1906: نواب محسن الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی ۔


1960:ان کے نواسے حسن ناصر جو ایک عظیم انقلابی لیڈر تھے ان کو جنرل ایوب نے ازیتیں دے کر ماردیا۔


1948: فاطمہ جناح نے آزادی کشمیر کیلئے پیسے دیئے۔


1964: مس جناح کو غدار قرار دیا گیا۔


‏1949: بیگم رعنا لیاقت نے "ویمن نیشنل گارڈ" کی بنیاد رکھی۔


1951: رعنا لیاقت کوطوائف قرار دیا گیا۔


1940: فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کی ۔


1954: فضل الحق غدار قرار پائے۔


1947: شاہنواز بھٹو نے جونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق کروایا۔


1979: انکے بیٹے(زوالفقار علی بھٹو) کو پھانسی اور بعد میں ان کی پوتی (بینظیر بھٹو) اور پوتوں (میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز  بھٹو) کو قتل کردیا گیا۔


‏1947: کے- ایچ خورشید نے الحاق کشمیر کیلئے کوشش کی۔


1965: خورشید کو سڑک پر گھسیٹا گیا، جیل بھی کاٹی۔


1947: لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔


1951: انہیں قتل کر دیا گیا اور اس کی انکوائری رپورٹ بھی ختم کر دی گئی ۔


1947: قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین مسلم لیگ کے پہلےصدر بنے۔


1964: خواجہ صاحب غدار قرار پائے۔


‏1947: سردار ابراہیم نے الحاق پاکستان کی مہم چلائی۔


2009: انکے بیٹے غدار قرار پائے۔


1943: جی- ایم سید نے قرارداد پاکستان  سندھ اسمبلی میں پیش کی۔


1948: جی-ایم سید غدار قرار پائے۔


1947: شیخ مجیب نے مسلم اسٹوڈنٹ لیگ کی بنیاد رکھی۔


1971: شیخ مجیب کو غدار قرار دیا گیا۔


‏1940: بیگم سلمیٰ تصدق نے مسلم لیگ کیلئے مہم چلائی۔


1960: ایوب خان نے کرپٹ قرار دیکر نااہل کردیا۔


1946: افتخارالدین نے مسلم گارڈ کیلئے آبائی گھر مختص کیا۔


1960: ایوب خان نے افتخارالدین کو کرپٹ قراردیا۔


1946: حسین شہید سہروری نے مسلم گارڈ کیلئے ٹرینگ سینٹر بنایا ۔


1960:حسین شہید غدار قرار پائے ۔


‏1945: والی قلات احمد یار نے قائد کو سونے اور چاندی میں تولا۔


2006: پوتے کو جان بچانے کیلئے ملک چھوڑنا پڑا۔ 


1939: قاضی عیسیٰ نے بلوچستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ قاضی عیسیٰ قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور قومی ہیرو تھے اور ان کی کوششوں سے نہ صرف بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا بلکہ انہوں نے سرحد ( خیبر پختون خواہ ) کے پاکستان میں شامل ہونے والے ریفرنڈم میں بھی ایم کردار ادا کیا۔


2019: انکے بیٹے قاضی فائز عیسٰی کو ملک کے لےَ خطرہ قرار دیا گیا۔ اور ان کی پاکستان کے چیف جسٹس بننے کی راہ میں ہر سخت مزاحمت کی گئی اور ان کے خلاف نام نہاد ریفرنس دائر کیا گیا۔ اور ان کی دشمنی میں ان کے والد قاضی عیسٰی کو بھی غداری سے نوازا گیا۔ 

اسطرح سے آزادی کے بعد  پاکستان کی تاریخ طویل مایوسی اور ناامیدی سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان میں راہح استحصالی نظام کی شکل میں واضح طور پر اس کا ثبوت ہے۔


اس استحصالی نظام میں  سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹز و دیگر سرکاری اہلکار افسران ، ادارے ، محکمے ، سیاستدان ، جنرل ، عدلیہ ، پیشہ ورانہ ماہرین، صنعتکار ، جاگیردار ، مذہبی سیاستدان وغیرہ ذاتی فوائد حاصل کرنے اور اس کو مستحکم کرنے  میں مصروف ہیں۔


زمینی حقائق اتنے خراب ہیں کہ مسائل کی سنگینی کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔ اندرونی محاذ پر ، عوام کی اکثریت انتہائی کسمپر کی  زندگی گزار رہے ہیں۔ عوام کی اکثریت غربت کی سطح پر زندگی گزار رہی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری  نے متوسط طبقے کی بڑی آبادی کو غریب طبقات میں دھکیل دیا ہے۔


ان مشکلات اور کٹھن مسائل میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے پاکستان کو دوبارہ سے سیدھے راستے پر چلنے کے لیے ایک موقع فراہم کیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا تاکہ ملک کو ان مسائل سے نجات دلانے کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔


ظاہر ہے کہ اس فیصلے سے ملک کے استحصالی طبقات ناخوش ہیں اور انہوں نے گزشتہ دو برس سے زائد  عرصے سے مسلسل اس کو ناکام بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں تاکہ دوبارہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث کرتے ہوئے اپنے طبقاتی  مفادات اور استحصالی نظام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔


اس کے لیے انہیں پاکستان دشمن بیرونی عناصر کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے اسلئے ان طبقات نے جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے اور اس کے بعد اس کے خلاف بغاوت تک کرنے کے تمام حربے استعمال کیے اور اس کے لیے بہت بڑی فنڈنگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔


لیکن  اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ان کی تمام مذموم مقاصد کو ناکامی سے دوچار کیا۔


واضح رہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوری قوتوں نے ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اقتدار پر قابض کی سخت مخالفت کی اور اس کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے قربانیوں کی تاریخ رقم کی مگر کبھی بھی اب جمہوری قوتوں نے ملٹری تنصیبات یا ہیڈ کوارٹر پر مظاہرے یا حملے نہیں کئے کیونکہ جمہوری قوتی پاکستان کی سالمیت اور تحفظ کو ہمیشہ مقدم سمجھتی ہیں ۔


 ان پاکستان دشمن عناصر نے پاکستان میں بغاوت کرنے کی ناکام کوشش کی اور 9 مئی کو پاکستان کی مسلح افواج پر حملے کئے۔ تاکہ ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرتے ہوئے ملک میں بغاوت کی صورتحال پیدا کی جائے اور  ملک دشمن عناصر کو اقتدار پر قابض کیا جا سکے۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت سے عوام نے ان کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ مگر کیونکہ 77 سالہ دور میں یہ استحصالی طبقات اس قدر طاقتور ہو چکے ہیں کہ انہوں نے اس وقتی ناکامی کے بعد مزید سازشوں کے جال بچھا دئے کیونکہ یہ عناصر ان تمام ریاستی اداروں میں موثر اثر و رسوخ رکھتے ہیں دوسری جانب ان کو میڈیا،  سوشل میڈیا اور عدلیہ میں موجود " کالے بھونڈوں " کی بھرپور حمایت حاصل ہیں۔


ان مشکلات کو عبور کرتے ہوئے اور آخر کار اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت سے پاکستان کو  سرخروئی اس وقت حاصل ہوئی جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ان سازشوں  اور بغاوت کے سرغنہ ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کو گرفتار کرنے اور اس کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کرنے کا اعلان کیا۔


اس اعلان سے پاکستانی عوام کی امید کی کرن روش ہو گئی اور اب اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ ان ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ پاکستان کو مستحکم بنانے کی جانب گامزن کیا جا سکے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔



یہ بات واضح رہے کہ پاکستان اللہ سبحانہ و تعالٰی کا معجزہ ہے اور اس کے قیام کا مقصد  دنیا بھر میں احیاء سلام کا اس کا مرکزی کردار ہے۔ اور اس کا ثبوت مختلف اوقات میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے فراہم کیا ہے ہماری کوتاہیوں کے باوجود اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس کے وجود کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔

اس کا واضح ثبوت حالیہ ہنود و یہود کی پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے دوران دنیا کو دیکھنے کو ملا۔



 ہمیں ان حالات و واقعات کو بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ کسطرح  چند گھنٹوں میں دنیا بھر میں صورتحال تبدیل ہوہی اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا دعوٰی کرنے والے کو اپنے موقف سے کچھ گھنٹوں میں ہی دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔


 بھارت نے ایک سازش تیار کی اور ایک فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ جس کا پاکستان نے بہت دانشمندی سے مقابلہ کیا اور اس جھوٹ کو بےنقاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح ہو جائے۔ مگر کیونکہ بھارت کو اپنے جھوٹ کا پتہ تھا اسلئے اس نے اس پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ پاکستان پر آبی جارحیت کا آغاز کر دیا اور پھر اچانک رات کی تاریکی میں پاکستان اور آزاد کشمیر پر فضائی حملہ کر دیا۔ پاکستانی فضائیہ نے اس کا منہ توڑ جواب دیا اور اللہ کی رحمت سے ایک ایسی تاریخ رقم کی جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔


پاکستان کی اس واضح فضائی برتری پر پوری دنیا حیران و پریشان ہے۔ اس کے بعد بھی بھارت جارحیت سے باز نہیں آیا اور اپنے صیہونی اتحادیوں کے وسائل کے بل بوتے پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں جارحیت جاری رکھی۔ دراصل یہ جارحیت اس کو حاصل دنیا کی طاقتوں کی پشت پناہی کی بنیاد پر تھی اور یہ بات یقینی بتاہی جا رہی تھی کہ وہ اپنے کثیر وسائل کی بنیاد پر پاکستان کو تباہ و برباد کر دیں گے۔


اس موقع پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے انتہائی عقل و دانش سے حکمت عملی ترتیب دی اور مکمل طور پر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ جس سے دنیا بھر کو باور کرانے میں کامیاب ہوا کہ پاکستان ایک پرامن اور قابل اعتماد ایٹمی قوت ہے۔ اور صرف مناسب وقت پر اپنے اوپر مسلط کی گئی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔


مگر پاکستان کی اس تحمل کی پالیسی کو بھارت نے ہوا میں اڑا دیا اور پاکستان پر جارحیت میں مسلسل اضافہ کرتا رہا۔


اس جارحیت کو اس کی پشت پناہی کرنے والوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور 24 گھنٹے پہلے تک ان کا یہ موقف تھا کہ بھارت اور پاکستان کی جنگ سے ان کا کوئی واسطہ یا مفاد وابستہ نہیں ہے اسلئے وہ اس جنگ میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے اور یہ ان دونوں ممالک کو خود اپنے معاملات طے کرنے ہوں گے اور اس بات کا اظہار کیا کہ یہ جنگ ایٹمی جنگ کئ طرف نہیں جاے گئی۔


اس دوران پاکستان نے اہم سفارتی سطح پر کامیابی حاصل کی اور چین،  ترکی،  آذربائیجان وغیرہ نے کھل کر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔


 جب بھارت نے جارحیت کی انتہا کرتے ہوئے مختلف جگہوں پر میزائل حملے شروع کر دیے تو اس کے جواب میں پاکستان نے  فجر کے وقت بھارت کو سخت جواب دینے کا اعلان کیا اور نعرہ تکبیر  اللہ اکبر کی گونج میں بھارت کی دفاعی تنصیبات پر میزائل حملے شروع کر دیئے آور ساتھ ہی فضائیہ بھی حرکت میں آ گئی اس کے ساتھ ہی بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی باؤنڈری پر بھارتی پوسٹوں پر حملہ کر دیا۔


اس کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کا معجزہ ہے کہا جا سکتا ہے کہ چند گھنٹوں میں بھارت مکمل طور پر پاکستان کی گرفت میں آ گیا اور اس کی دفاعی و عسکری تنصیبات کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا گیا۔ پاکستان نے ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کو مکمل طور پر شکست سے دوچار کر دیا اور اس کے تمام وسائل بے کار ثابت ہوے۔


پوری دنیا حیرت سے ان چند گھنٹوں کے واقعات کا جائزہ لئے رہی ہے جو ان کے لیے ناقابل یقین ہے۔


اس مکمل شکست کو دیکھتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقت جو چند گھنٹوں پہلے تک اس جنگ سے مکمل علیحدگی کا اعلان کر چکی تھی فوری طور پر سرگرم عمل ہو جاتی ہے تاکہ بھارت کو مزید شکست سے بچایا جائے اور تیسرا جاگتے ہوئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے جنگ بندی کی طرف جانے کی درخواست کی۔


پاکستان نے اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد اس جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی اور یوں آج مسلمانوں کو حالیہ تاریخ میں ایک عظیم الشان فتح سے ہمکنار کیا ہے۔


اس کامیابی پر آج دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں خاص طور پر غزہ کے مسلمانوں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس عظیم کامیابی جو اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ایک معجزہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اس کو دیکھتے ہوئے پوری دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہوہی اور اب پاکستان کو دنیا میں انتہائی اہمیت حاصل ہو چکی ہے پاکستان نے سیاسی،  معاشی،  اقتصادی،  سفارتی محاذوں پر اہم کامیابیاں حاصل کیں اور اب پاکستان ایک مضبوط و مستحکم مستقبل کی جانب گامزن ہے۔

ریاستی اداروں نے اپنے نظم و ضبط کے ذریعے ملک کے اداروں کو دوبارہ سے مستحکم کرنے میں سول حکومت کی مکمل طور پر مدد کر رہی ہے جس کی وجہ اسمگلنگ، مہنگائی و منی لانڈرنگ کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا گیا ہے اور دوسری طرف مراعات یافتہ طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے انتہائی اہم اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے 

یہ حالات و واقعات میں عوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ تمام کامیابیاں استحصالی طبقات کو قابل قبول نہیں ہیں اور وہ ایک نہی منصوبہ بندی کے ذریعے اس اصلاحاتی ایجنڈے کو ناکام بنانے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ مختلف نان ایشوز کو اچھالنے اور ان کے ذریعے سولین قیادت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ اس سلسلے  جھوٹ و فریب کو  میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ دینے کا کام زور و شور سے جاری و ساری ہے۔






اب وقت آگیا ہے کہ  ہم تمام  پاکستان مستقبل کے بارے میں سوچیں اور اسے صحیح راستے پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

اس لیے آج اس بات کی ضرورت ہے کہ عوام ان کے خلاف استحصالی طبقات کی ان سازشوں کو سمجھنے اور ان کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔


اس بات کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کا وجود اور بقا کا ضامن دین اسلام کا نفاذ ہے جس کے لیے اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس کو قائم کیا ہے اسلئے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہمیں اپنے لائحہ عمل کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ قیام پاکستان کے قیام کے مقاصد کو مکمل طور پر نفاذ عمل میں لایا جا سکے۔


اس بات میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش  موجود نہیں ہے کہ صرف دین اسلام ہی پوری انسانیت کو عدل فراہم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔  کیونکہ اس کو خالق کائنات نے تخلیق کیا ہے اور اس میں ہی تمام انسانیت کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے اس کے مقابلے میں دنیا بھر میں نافذ مختلف نظام جو انسانوں کے اپنے تخلیق کردہ ہیں ان میں مختلف طبقات کو برتری اور تحفظ فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے اسلئے وہ سب نظام ناکامی سے دوچار ہیں۔


جبکہ دین اسلام تمام بنی نوع انسان کو خلیفہ کے نظام کے ذریعہ تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ ایسے سماجی ، ثقافتی نظام مہیا کرتا ہے جو لوگوں میں لالچ کو روکتا ہے اور لوگوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرنے میں وقت گزاریں۔


اس بات کی صداقت میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ کہ ہمیں اس مقصد میں کامیابی اسی صورت میں مل سکتی ہے جبکہ ہم ایمان حقیقی سے ہمکنار ہوں گے۔


اس سلسلے میں اللہ سبحانہ و تعالٰی کا یہ ارشاد ہمیں ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔


سورہ آل عمران،  آیت 139


" تم نہ سستی کرو اور غمگین نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے ،اگر تم سچے ایمان والے ہو۔"


اسلئے ہمیں اللہ سبحانہ و تعالٰی سے صدق دل سے معافی مانگنی چاہیے اور اس بات کا عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم  ایمان حقیقی کا اپنا  کر اللہ کی کامل بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے اورمستقبل میں جھوٹ،  فریب   دھوکہ دہی جیسے عظیم گناہوں سے گریز کریں گے اور اپنی آخرت کی زندگی میں کامیابی کے لیے اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات کے نفاذ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اللہ کے دین کے نفاذ کی جدوجہد کر کے ہم اپنی ہی عاقبت کو سنواریں گے‘ کسی پر احسان نہیں کریں گے۔ قیامت کے روز ہر مسلمان کو اس کے حالات‘معاملات اور وسائل و صلاحیتوں کے پیمانے پر پرکھا جائے گا ‘جو کہ عین عدل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کے نفاذ کی جدّوجُہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق‘ طاقت اور ہمت عطا فرمائے ۔ آمین!

Post a Comment

0 Comments