Header Ads Widget

رسول آخرالزماں محمد ﷺ سے محبّت کا تقاضا



 تحریر: ممتاز ہاشمی 

آج امت مسلمہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے 1500 برس کی تقریبات منانے میں مصروف عمل ہے  اور آپﷺ سے محبت اور عقیدت کا بڑھ چڑھ کراظہار کیا جا رہا ہے۔یہ موقع اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم یہ جائزہ لیں کہ کیا واقعی ہم اپنے رسول محمد ﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں یا اس کی کوشش کر رہے ہیں؟

اللہ سبحانہ و تعالٰی نے انسان کی پیدائش کا واحد مقصد اس طرح سے بیان کیا ہے:

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۝۵۶ (الذاريات : 56)

"میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔"

اللہ تعالیٰ اگرچہ تمام کائنات کا خالق ہے اور تمام مخلوقات اس کی تابع ہیں لیکن یہاں پر صرف انسانوں اور جنوں کو ہی مخاطب کیا گیا ہے۔  اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کائنات میں انسان اور جنات کے علاوہ کسی  بھی مخلوق کو اس بات کی آزادی نہیں دی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی اختیار کر سکے، بلکہ ساری کائنات صرف خالق کے احکامات کی عملداری کی پابند ہے۔ انسانوں اور جنوں کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں چاہیں تو خالق کائنات کی بندگی اختیار کریں یا کسی اور کی۔ اس اختیار کی وجہ سے  ان کے عمل کی بنیاد پر قیامت کے دن ان کا حساب ہو گا۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر دور میں نسل انسانی کوخسارے سے بچانے کے لیے انبیاء اور رسولوں کو مختلف اقوام کی طرف بھیجا اور ان کےساتھ اپنی ہدایات اور احکامات کو نازل فرمایا۔ یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے اور اس کی تکمیل پیغمبر آخرالزماں محمدﷺ پر ہوتی ہے۔ اس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قیامت تک تمام انسانیت کے لیے کامل ہدایت قران حکیم اور سنت رسول آخرالزماں محمد ﷺ کی صورت میں محفوظ کر دی۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے کا لائحہ عمل رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنت اور اسوہ حسنہ میں واضح فرما دیا ہے۔ چنانچہ  قرآن مجید میں بار بار اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ۝۳۳ (محمد :33)

 " اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ "



قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ۝۵۴ (النور:54)

"کہہ دیجئے:اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ۔ پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کر دیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے۔ ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو!  رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے ۔ "

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حق صرف اسی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ اطاعت کلی ہو نا کہ جزوی۔جزوی اطاعت کا واضح مطلب اپنے نفس کی اطاعت ہے، کیونکہ ایسی اطاعت میں صرف ان احکامات کی پابندی کی جاتی ہے جو اپنے نفس کو مرغوب ہوں۔ اور نفس کی یہ اطاعت انسان کو شرک کے درجے تک پہنچا دیتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لے اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ایک خود احتسابی نظام واضح کیا ہے جس پر  ہر شخص انفرادی طور پر اپنا  جائزہ لے سکتا ہے۔ ارشاد ہے:

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ِ۟اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠۝۲۴ (التوبۃ:24)

"آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو، اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول (ﷺ)سے اور اُس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں ، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے ۔ اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔"

یہ بہت سخت تنبیہ ہے اور اس پر ہر اہل ایمان اپنے آپ کو پرکھ سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کلی طور پر اور کمال محبت سے کرتا ہے تو اس کا اظہار اس کی زندگی میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے عیاں ہوگا۔

آج ہم جب امت مسلمہ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ تلخ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطہ ارضی پر اللہ کا دین اسلام قائم ونافذ نہیں ہے،  باوجود اس کے کہ دنیا کی ایک واضح اکثریت ایمان کی دعوے  دار ہے اور مسلمانوں کے آبادی کے اکثر ممالک وسائل سے مالا مال ہیں۔ اس سے  ہم اہل ایمان کی اکثریت میں ایمان کا فقدان واضح ہوتا ہے۔

اس صورتحال میں ہم جو ایمان کے دعویدار ہیں ان کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ ہمیں وقت کا ضیاع نہیں کرنا چاہیے اور پورے یقین کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالٰی کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے پاکستان اور دنیا بھر میں دین اسلام کے قیام ونفاذ کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،  تاکہ قیامت کے دن کامیابی کی توقع کر سکیں۔ ‎ہمارا یہی عمل دنیا میں ہماری تخلیق کو سندِ جواز عطا کرے  گا اور آخرت میں فوز وفلاح کی بنیاد بن سکے گا۔ہمارا یہی عمل اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ سے ہماری محبت کا حقیقی ثبوت ہو گا۔اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک میں ہمیں اس عہد کو دہرانے اور اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں اللہ کے احکامات کے نفاذ کے لیے مختص کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Post a Comment

0 Comments