Header Ads Widget

سال 2025 کا جائزہ اور 2026 کے لیے لائحہ عمل An Analysis of 2025 and Agenda for 2026

 تحریر: ممتاز ہاشمی

 


اب جبکہ سال 2025 احتشام پذیر ہو رہا ہے یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس سال میں ہوے واقعات و حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آئندہ سال کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

2025 کا آغاز اسی صورتحال میں ہوا تھا جس میں پاکستان اندرونی و بیرونی سازشوں میں گھرا ہوا تھا اور اسلام و پاکستان دشمن عناصر نے ہنود و یہود کی پشت پناہی میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بھرپور کوششیں کیں۔ ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی مذموم کوششوں کے ساتھ ساتھ ملک اور خاص طور پر کے پی کے اور بلوچستان میں ان قوتوں نے شدید دہشت گردی کی اور جس سے ملک میں جانی و مالی نقصان پہنچا مگر ہماری ریاستی اداروں ے ان دہشت گردوں کو کافی حد تک نقصان پہنچایا۔ عدلیہ میں اہم کردار ان ملک دشمن عناصر کے لیے سہولت کاری انجام دے رہے تھے۔

حکومت نے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن کرنے کے لیے کافی اقدامات اٹھائے جن میں آی ایم ایف کی پالیسیوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری تھا۔

اکتوبر 2024 میں ایک سازش کے تحت اسلام آباد پر چڑھائی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جس کا مقصد ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا اور ریاست پاکستان کو غیر مستحکم کرنا تھا۔

مگر اللہ نے اپنی رحمت سے ان اسلام و پاکستان دشمن قوتوں کو شکست فاش دی اور پاکستان اس بحران سے نمٹنے میں کامیاب رہا۔

اس کے بعد 2025 سے پاکستان نے معاشی بحالی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرنے کا کام تیزی سے جاری کیا اور ریاستی اداروں نے اس سلسلے میں انتہائی قابل قدر خدمات انجام دیں۔

پاکستان کی معاشی بگاڑ کی بنیادی وجوہات میں جی ڈی پی میں آبادی کے حساب سے مناسب اضافے کا فقدان، اسمگلنگ اور ٹیکس کلیکشن خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا شامل ہیں 

جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے میں ہماری معیشت کی بنیاد زرعی شعبے میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہ ہونا ہے ملک میں خاطر خواہ ریسرچ کی کمی، اور زراعت کے جدید طریقوں سے ہم آہنگی نہ ہونا ہے۔ دنیا بھر میں فی ایکڑ پیداوار ہم سے کہیں زیادہ ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم منصوبے پر عملدرآمد شروع ہونے جا رہا تھا جس میں زرعی شعبے میں بہت بڑی سرمایہ کاری سعودی عرب اور دیگر ممالک کی طرف سے کی جا رہی تھیں جس کے تحت 15 لاکھ زرعی اراضی کو قابل کاشت بنانے کے لیے کارپوریٹ فارمنگ کا معاہدہ کیا گیا تھا جس سے نہ صرف اس غیر پیداواری اراضی کو قابل کاشت بنانے کیلئے ساہنسی بنیادوں پر کاشت کاری کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔بلکہ موجودہ زرعی اراضی پر بھی سائنسی بنیادوں پر پیداواری صلاحیت میں اضافہ کے منصوبے شامل تھے اس پر بہت بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری بھی ملک میں آرمی تھی جس سے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہوتا بلکہ بے شمار زراعت سے وابستہ صنعتوں کو ترقی ملتی اور روزگار کی فراہمی میں اضافہ ہوتا۔

مگر عین موقع پر اس اہم منصوبے کو نام نہاد سندھی قوم پرست عناصر نے ناکام بنا دیا۔ پیپلزپارٹی جو اس منصوبے کی منظوری میں پوری طرح شامل تھی ان عناصر کا سندھ میں مقابلہ نہ کر سکی اور اپنی سیاسی بقاء کے لیے اپنے ہی منظور کردہ منصوبے سے منہ موڑ لیا جس سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا۔

اسمگلنگ کا اہم عنصر افغان ٹریڈ ٹرازٹ کی سہولیات ہیں اور اس نام سے درآمد کردہ اشیاء کر اکثریت پاکستان میں ہی رہ جاتی تھی اور یہ اسمگلنگ کا ایک بہت بڑا مافیا تھا جو کراچی سے خیبر تک متحرک تھا اور پاکستان بھر میں اس مد میں درآمد کی گئی اشیاء بآسانی دستیاب تھیں جبکہ ان اشیاء کی افغانستان میں کھپت نہ ہونے کے برابر تھی اس میں رشوت خور ریاستی اہلکار اہم کردار ادا کرتے تھے۔ بلکہ اس دھندے میں پاکستان کے ڈالرز کی اسمگلنگ ایک الگ کہانی ہے۔ 

اس کامیاب آپریشن کے لیے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ جس سے پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزرو میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اور روپے کی شرح تبادلہ میں استحکام ممکن ہوا۔

پاکستان کے وسائل اور اخراجات میں گیپ کو صرف قرضوں سے ہی ہمیشہ پورا کیا جاتا ہے اور وسائل کی کمیابی کی بنیادی وجہ ٹیکس کلیکشن میں ناکامی اور کرپشن ہے جس میں استحصالی طبقات مکمل طور پر کنٹرول حاصل کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں اور دکانداروں پر کبھی بھی ٹیکس نافذ نہ یو سکا۔ لیکن اس بار حکومت نے سختی سے ان کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے کچھ حد تک ٹیکس کلیکشن میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے مگر یہ بہت ہی کم ہے کروڑوں روپے ماہانہ کی سیل کرنے والے تاجر کوئی ٹیکس نہیں دیتے اور لیں دین نقد میں کرتے ہیں اس بارے میں اب حکومت نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں۔ جس سے امید ہے کہ ٹیکس کلیکشن میں مزید اضافہ ہو گا۔

2024 میں حکومتوں کے قیام کے بعد رفاہی ایجنڈے پر کام شروع کیا گیا اور عوام کو سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جانے لگی۔

جس میں زیادہ تر اختیارات اور وسائل صوبوں کو 18 ترمیم کے تحت منتقل ہو چکے تھے۔

اس میں جن منصوبوں پر کام اور پلاننگ 2024 کے بعد کی گئی تھی وہ 2025 میں عملی طور پر کام کرتے ہوئے نظر آنے لگے۔

اس میں جو کامیابیاں پنجاب حکومت کو حاصل ہوئی وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے۔

پنجاب حکومت نے سو سے زائد منصوبوں پر کام شروع کیا تھا جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو فوقیت دی گئی اور آج پنجاب ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ایک نئے روپ میں دنیا کے سامنے نظر آ رہا ہے۔

ان میں ستھرا پنجاب، تجاوزات کا خاتمہ، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی بحالی، موبائل ہیلتھ یونٹس، انواریمنٹل فرینڈلی پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر، ریڑھی بانوں کو سٹالز کی فراہمی اور ان کی منظم منصوبہ بندی، سہولت بازار کا جال اور دیگر قابل ذکر منصوبے شامل ہیں۔

ستھرا پنجاب کی مثال اور اس کو اپنانے کے لیے انتہائی ترقی یافتہ ملک برطانیہ کے برمنگھم سٹی کے حکام نے رابطہ کیا ہے اور دنیا بھر میں اس کی پذیرائی کی جا رہی ہے۔اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ صرف شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار، ڈسٹرکٹ، تحصیل اور گاؤں تک یکساں طور پر نافذ عمل ہے

اس نے ہمارے عقیدے " صفائی نصف ایمان ہے " کو بھی سچ کر دکھایا ہے۔ اب جب عوام اس سے مستفید ہو رہے ہیں تو یہ صاف ستھرا ماحولیاتی نظام صحت کے لیے بھی ایک اہم جز ثابت ہوگا۔

مزید اس نظام کے تحت کوڑا کرکٹ کے استمال سے سستی بجلی کے منصوبے بھی شروع کئے جائیں گے۔

اگرچہ دوسرے صوبوں نے عوامی فلاح کے لیے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کئے۔ بلوچستان، سندھ اور کے پی کے میں اس کی وجہ کرپشن اور بدانتظامی ہیں۔

اس لیے اب دیگر صوبوں کی حکومتوں کو بھی چاہئے کہ وہ پنجاب حکومت کی تقلید کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے کام کریں۔

سال 2005 میں اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ایک بہت بڑا معجزہ رونما ہوا۔

اس سال مئی کے مہینے میں بھارت نے اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا اور اس علاقے کی سرداری کے دعویدار نے پاکستان پر فوجی حملہ کر دیا۔ جس میں ہنود و یہود کا گٹھ جوڑ اور دیگر اسلام و پاکستان دشمن قوتوں کی حمایت حاصل تھی اس کا مقصد پاکستان کو تباہ و برباد کرتے ہوئے اس سے اپنے مطالبات منوانے تھے۔

مگر اللہ نے اپنے معجزے سے ہنود و یہود کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور ان کو تاریخ کی عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔

بھارت جو پاکستان سے دس گنا زیادہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگی جہازوں اور اسلحہ سے لیس تھا وہ چاروں شانے چت گر پڑا۔ پاکستان نے دنیا کے 8 جدید ترین جنگی جہازوں کو نہ صرف گرایا بلکہ اس سے بہت زیادہ کو نشانے پر لیکر چھوڑ دیا۔

ہمارے میزائیل حملوں نے بھارت کے دفاع نظام کو تباہ و برباد کر دیا اور یہ مفلوج ہو کر رہ گیا۔

اسوقت پوری دنیا حرکت میں آتی ہے اور وہ بھارت کو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے روکنے کا اہتمام کرتی ہے امریکہ صدر نے اس میں نمایاں کردار ادا کیا اور آخرکار بھارت چار دنوں کے بعد شکست خوری سے دوچار ہوتے ہوئے جنگ بندی پر آگیا۔

دنیا آج بھی پاکستان کی اس تاریخی کامیابی پر حیرت انگیز ہے۔ اس جنگ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا گیا اور آج پوری دنیا فیلڈ مارشل کی گرویدہ ہے اور امریکہ صدر تو اس کی صلاحیتوں کے سب سے زیادہ گرویدہ ہیں۔

فیلڈ مارشل نے جب یہ بات کہی کہ اس جنگ میں انہوں نے اللہ کی مدد کو دیکا اور محسوس کیا تو یہ بالکل سچائی پر مبنی ہے کیونکہ اللہ نے پاکستان کو ایک معجزانہ طور پر تخلیق کیا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ پر ہے کیونکہ پاکستان نے دنیا بھر میں احیاء اسلام کی تحریک کا مرکزی کردار ادا کرنا ہے۔

اس عظیم کامیابی نے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک اہم اور بلند مقام عطا کیا اور آج پوری دنیا پاکستان کی طاقت کی متعرف ہے۔ دنیا پاکستان سے تعلقات استوار کر رہی ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی جارہی ہیں اور مختلف ممالک نے پاکستان کو اربوں ڈالرز کے جنگی طیاروں اور اسلحہ کے آرڈرز دے دیے ہیں۔

اسطرح سے 2025 پاکستان کے لیے ایک انتہائی خوش قسمتی کا سال ہے اور اب 2026 میں داخل ہوتے ہوئے ان کامیابیوں کے ثمرات سے مستفید ہونے کا سال ہو گا۔ ان شاءاللہ۔

اس کے لیے ایک مکمل اوع مربوط لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ جس میں صوبوں اور وفاق کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم کو حل کرنا ہوگا۔ اگر صوبے اپنے شیرز میں کمی کرنے کو تیار نہیں ہے تو وفاق کو صوبوں کو ذمہ داریاں منتقل کرنا یو گا۔ کیونکہ وفاق جو قرضے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے لیتا ہے اس کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے اسلئے ان قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ایک حصہ میں صوبوں کو منتقل کردیا جائے۔ اس سلسلے میں اندرونی قرضوں کی ادائیگی اور ان پر واجب الادا سور کی رقم کو دوبارہ سے لکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سور ہمارے دین کے حساب سے قطعی حرام ہے۔ اسلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر اس مسئلے کا قابل قبول حل نکالنا ہوگا۔

میرے خیال میں ملکی اداروں سے لیے گئے قرضوں کو سونے کی قیمت سے منسلک کر دینا چاہیے اور جس وقت جو رقم ادا کی جائے وہ اس وقت سونے کی قیمت کے مطابق ایڈجسٹ کی جائے۔ اس طرح سے سرمایہ کاروں کو بھی نقصان نہیں ہوگا اور حکومت اور سرمایہ کاری دونوں سور کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

بجلی اور گیس کی چوری اور اس کے نتیجے میں سرکر ڈیبت کو صوبوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے اور بجلی و گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامات صوبوں کو منتقل کرنے ہوں گے۔

کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے پر بلا رکاوٹ کام شروع کردیا جائے اور پانی کی تقسیم کو اس سے منسلک کرنے کی کوشش ناکام بنانے کے ضرورت ہے۔

کیونکہ صوبوں کو پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے ٹیکس میٹرنگ کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں صوبوں کو بھی برابر کا حصہ ڈالنا چاہئے۔ اسطرح سے ملک میں معاشی بحران بہت حد تک حل ہو جائے گا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

اس موقع پر ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اللہ کی رحمت کا صدق دل سے شکر ادا کریں اور اپنے آپ کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کی بندگی اور دین اسلام کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات کرنے کا عہد کریں۔اللہ ہم کو اس پر عملدرآمد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین 

 

 

Post a Comment

0 Comments