Header Ads Widget

موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داریاں Present Situation and Our Responsibilities

 دسمبر 6، 2025 تحریر: ممتاز ہاشمی

پاکستان کی تخلیق ایک معجزہ ہے اور بقول ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ قرآن میں اس کی تمثیل ان آیات میں ملتی ہے:

سورہ الانفال آیت 26

اور اس حالت کو یاد کرو جب کہ” تم زمین میں قلیل تھے کمزور شمار کیے جاتے تھے ‘ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں‘سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کوبہترین پاکیزہ رزق عطا فرمایا تاکہ

تم شکر کرو۔"

پاکستان کا قیام کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے ممکن بنایا۔ دراصل اس کے ذریعے ہمارے بزرگوں کے وعدے‘عزم اور عمل کو جانچنا مقصود تھا ۔

قیامِ پاکستان کی فکری بنیاد قرآن کے عظیم سکالر علامہ اقبال نے رکھی۔ ان کے دور میں پوری ملّت ِاسلامیہ غلامی میں جکڑی ہوئی تھی ۔دنیاکے کسی بھی علاقے میں اسلام کانظام نافذ نہ تھا۔ دین اسلام کا کامل تصوّر ختم ہو گیا تھا اور مسلمانوں میں ذہنی غلامی اور پس ماندگی مکمل طور پر سرایت کر چکی تھی۔ دین ِاسلام مکمل طور پر مغلوب ہو چکا تھا اور مسلمانوں میں اسلام صرف مذہبی عبادات اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ ان حالات میں علامہ اقبال کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ مسلمانوں کو بھولا ہوا سبق یاد دلا کر ان میں اسلام کے غلبے اور عظمت کو بحال کرنے کا عزم پیدا کریں۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو نہ صرف ان کے زوال کی وجوہات سے آگاہ کیا بلکہ اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ بھی دکھایا۔انہوں نے اپنا پیغام اردو اور فارسی میں شاعری اور نثر کی صورت میں پیش کیا اور دین اسلام کے احیاء و نفاذ کے لیے عملی لائحہ عمل فراہم کیا۔

بطور صدر مسلم لیگ‘ انہوں نے احیاء اسلام کے لیے پاکستان کا تصوّر دیا۔ اس کے مطابق ایک نئی مسلم مملکت ہندوستان کے مسلم اکثریتی آبادی والے صوبوں پر مشتمل ہو گی۔ اس میں دین اسلام کے مکمل نفاذ کا موقع ملے گا اوریہ ریاست خلافت راشدہ کا ماڈل ہو گی۔ تمام دُنیا عدل پر مبنی اس نظام کے ثمرات دیکھے گی اور اس طرح اسلام کی طرف مائل ہو جائے گی۔پھر آہستہ آہستہ دین اسلام دنیابھر میں نافذ ہونے لگے گا۔ اس کام کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیےعلامہ اقبال نے قائداعظم کو قائل کیا۔یہ وہ وقت تھا جب قائداعظم مسلم لیگ کے رہنماؤں کے رویوں سے مایوس ہو کر لندن منتقل ہو چکے تھے۔پھرانہوں نے ہندوستان واپس آ کر اس عظیم مشن کی تکمیل کے لیے جدّوجُہد شروع کی۔ اقبال کے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی تخلیق کے لیے دن رات انتہائی محنت کی اور اس کے قیام کو صرف اور صرف دین اسلام کےمکمل نفاذ سے منسلک کر دیا۔ یوں یہ تحریک جلدہی عوامی مقبولیت حاصل کر گئی اور اس نے عوام میں جذبہ حریت پیدا کر دیا۔ مسلمانوں میں دین اسلام کے نفاذ کا احساس نمایاں ہونے لگاا اورنعرہ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ! ‘‘ہر جگہ چھا گیا۔

اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ تصور پاکستان کو ملّت ِاسلامیہ سے کیوں منسلک کیا گیا تھا!دراصل کسی ملک کی تخلیق جن جغرافیائی بنیادوں پر ہوتی ہے ان میں سے کسی اعتبار سے بھی اسلامیانِ پاکستان ایک قوم کی تعریف پر پورے نہیں اُترتے تھے۔ کہیں بھی زبان‘ ثقافت‘رسم و رواج کی مماثلت نہیں تھی۔ اتحاد کی اگر کوئی بنیاد تھی تو وہ صرف اور صرف دین ِاسلام تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے اس جدّوجُہد کو کامیابی سے ہم کنار کیا اورآخر کار ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو دنیا کے نقشے پر مملکت پاکستان کا ظہور ہوا ۔اس جدّوجُہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان‘ عزت اور جائیداد کی قربانی دی۔اس موقع پر جو ہجرت ہوئی وہ تاریخ ِانسانی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ اسے ’’ہجرتِ مدینہ الثانیہ‘‘ کا نام بھی دیا گیا کیونکہ یہ پاکستان میں دین ِاسلام کے قیام کے لیے ہوئی تھی۔اس حوالے سے ہزاروں واقعات ہماری قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش حصہ ہیں۔

پاکستان کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے اور اس کو آنے والے دور میں ہنود و یہود کو شکست دینے اور دنیا بھر میں احیاء اسلام کا فریضہ انجام دینا ہے۔

اسی وجہ سے قیام پاکستان کے فوری

بعد اسلام دشمن قوتوں نے اس کو ناکام بنانے کیلئے مختلف حربوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا تھا جس میں ہمارے کچھ لوگ دانستہ یا نادانستہ ان کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکا اور دین اسلام کے حقیقی عدل پر مبنی نظام سے مستفید نہ ہو سکا۔ نتیجتاً عوام کے مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور استحصالی طبقات مضبوط ہوتے چلے گئے۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران حالات

انتہائی مخدوش ہوتے چلے گئے۔

اس دوران پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر نے عمران خان کی حکومت میں کلیدی حیثیت حاصل کر لی اور وہ اپنے پاکستان دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام سرانجام دینے لگے جس میں پاکستان کو معاشی طور پر مکمل طور پر ناکام بناتے ہوئے اس کو ڈیفالٹ کرنا تھا اگرچہ پاکستان دوست اسلامی ممالک اور چین نے ہر موقع پر پاکستان کی امداد جاری رکھی مگر ایک خاص ایجنڈے کے تحت ان سے پاکستان کے تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا تاکہ پاکستان دشمن ایجنڈے کی تکمیل کو ممکن بنایا جا سکے۔

یہ صرف اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت اور کرم ہی تھا کہ اس نے ان پاکستان دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیا اور پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو یہ احساس اجاگر ہوا کہ پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے کی ضرورت ہے اور اسطرح سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو سیاست سے دستبردار کرنے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی کٹھ پتلی عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا

اس کے بعد آجتک پاکستان دشمن عناصر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اور وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو دوبارہ سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اور ان پاکستان دشمن عناصر نے پاکستان میں بغاوت کرانے کی ناکام کوششیں کیں جو 9 مئی اور 24 نومبر کے واقعات کی صورت میں منظر عام پر آنے۔ ان کو اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ناکام بنا دیا مگر ان سازشی عناصر کو ابتک ان گھناؤنے جرائم کی سزائیں نہیں دی جا سکیں جس کی وجہ عدلیہ کا گھناؤنا کردار ہے۔

آج پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ و سیاسی قوتوں کے اتحاد نے

 پاکستان دشمن عناصر کے ایجنڈے کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر ابھی تک میڈیا، سوشل میڈیا کے ذریعے ڈیجیٹل دہشت گردی بہت تیزی سے جاری ہے اور اس کے سدباب کے لیے انتہائی اقدامات کی سخت اور فوری ضرورت ہے۔

ہنود و یہود کی قوتوں نے پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے گزشتہ برس مئی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس کو ہماری مسلح افواج نے اللہ کی مدد سے نہ صرف ناکام بنا دیا بلکہ ان کو اسی عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے کہ آجتک پوری دنیا حیرت سے اس کو دیکھ رہی ہے اور آج پاکستان ایک مضبوط ملک بن کر دنیا بھر میں ایک اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

پاکستان کی اس تاریخی کامیابی ہنود و یہود کو ہضم نہیں ہو رہی اور اب انہوں نے اپنے تمام وسائل کو فتنہ الخوارج کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے استعمال کرنے رہے ہیں۔

اس کا مقابلہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام ملکر کر رہے ہیں اور عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔

 مگر عمران خان جیسے ملک دشمن پاکستانی اور اس کے حمایتی جن میں سے اکثریت بیرون ممالک میں مقیم ہیں وہ ہنود و یہود کی ان سازشوں میں سہولت کاروں کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اور سوشل میڈیا یعنی دجالی میڈیا پر جھوٹ، فریب اور دروغ گوئی پر مبنی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔

اسلئے اب ریاست پاکستان نے ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس سے ان کے

 جھوٹ، فریب اور درو گوئی پر مبنی پروپیگنڈہ کو ناکام بنایا جا سکے گا۔

ان شاءاللہ ریاست پاکستان جلد ہی ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس موقع پر یہ ہم سب اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا شکر ادا کریں کہ اس نے اپنی رحمت سے ان تمام اسلام، پاکستان اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دیتے ہوئے عبرتناک انجام سے دوچار کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی ان اسلام، پاکستان اور عوام دشمن قوتوں کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو اس کی تخلیق کے اصل مقصد کی جانب پیش قدمی کی جا سکے۔

اللہ ہم سب کو اس عظیم عمل میں اپنی توانائیوں کو صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

 

 

Post a Comment

0 Comments