Header Ads Widget

ایران و امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ US-Iran Peace and Ceasefire Agreement (June 2026)

 تحریر: ممتاز ہاشمی 

ایران و امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 

آخر کار تین ماہ سے زائد عرصہ تک جاری اسرائیل و امریکی اتحاد کی ایران پر جارحیت کے خاتمے کیلئے ایک حتمی معاہدہ طے پا گیا ہے جس پر باضابطہ طور پر دستخط 19 جون کو جینوا میں ہوں گے اور اس کے فوری طور پر نافذ العمل ہونے کے بعد جنگ مکمل طور پر بند ہو جائے گی اور آبنائے حرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور امریکہ ایران کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دے گا دیگر معاملات پر کمیٹیاں مذاکرات کے ذریعے تفصیلات طے کریں گی۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اس پیچیدہ صورتحال میں فریقین کو راضی کرنا ایک انتہائی مشکل کام تھا کیونکہ ان دوران اسرائیل و امریکہ نے متعدد بار مختلف بہانوں سے عارضی جنگ بندی کی خلاف وردیاں کیں جس سے ان مذاکرات کی ناکامی بھی نظر آ رہی تھی۔ مگر یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے دنیا کو ایک انتہائی تشویشناک اور خطرناک صورتحال سے دوچار ہونے سے بچا لیا اور پوری دنیا اس جنگی ماحول سے شدید متاثر ہو رہی تھی ان کے لیے سکھ کا سانس لینے کا وقت قریب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے پاکستان کو اس اہم فریضہ انجام دینے کے کلیدی کردار ادا کرنے کا اعزاز عطا کیا۔ آج اس موقع پر دنیا پاکستان کو انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس پر تمام مسلمانوں اور خاص کر پاکستانیوں کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس مرحلے پر ہمیں اس معرکہ کے اہم نتائج پر دوبارہ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اس کا آغاز اسرائیلی اور امریکی اتحاد کے اچانک فروری کے اختتام پر ایران پر حملہ سے ہوا جس کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت دیگر افراد کو شہید کر دیا گیا ۔

 اس ننگی جارحیت جو تمام جنگی قوانین کے خلاف تھی جس کے بعد ایران اور جارحیت کی مرتکب قوتوں اور اور ان کے سہولت کاروں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہو گئی جو اب اس معاہدے کے بعد مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔

اس جنگ کے دوران ایران نے امریکہ واسرائیل کو بھرپور طریقے سے جواب دیا اور نہ صرف ان کے تمام عزائم کو خاک میں ملا دیا بلکہ ان کو بھاری جنگی نقصان پہنچایا گیا جو دنیا کے لیے ناقابل یقین واقعہ ہے اس سے امریکی سہولت کاری میں ملوث مسلم ممالک کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ مجبوراً ایران کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر زور دیتے نظر آے۔

اس جنگ کے دوران ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور اسرائیل و امریکی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور دنیا کا سب سے محفوظ اور بڑے دفاعی نظام کا دعوٰی کرنے والے نظام کی حقیقت دنیا کے سامنے عیاں کر دی۔

اس شکست سے دنیا کے سامنے امریکی کی سپریم پاور خاک میں مل گئی ہے اور اب وہ دنیا کی واحد سپریم پاور کے اعزاز سے محروم ہو چکا ہے۔ روس اور چین نے اس کے دفاعی نظام کی ناکامی کا قریبی مشاہدہ کر لیا ہے اور اب وہ اس محاذ پر سبقت لے جا رہے ہیں۔

اس جارحیت نے امریکہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی طاقت کا بھرم پاش پاش ہو گیا ہے۔ 

 عرب ممالک جو اس جارحیت میں اسرائیلی و امریکی ایجنڈے پر مکمل طور سہولت کاری سر انجام دے رہے تھے اور زیادہ تر حملے ان ہی کی سرزمین پر قائم امریکی اڈوں سے ہو رہے تھے اور جب ایران ان اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کرتا تھا تو انہی اڈوں سے ان حملوں کو ناکام بنانے کیلئے کاروائیاں کی جاتی تھیں جس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی بہت تباہی ہوئی ہے اور عرب ممالک کے عوام میں امریکہ، اسرائیل اور اپنے حکمرانوں کے خلاف نفرت بڑھ چکی ہے۔ جس کے بعد عرب ممالک اپنے آپ کو بچانے کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ایک طویل عرصے سے امریکی دباؤ پر اکثر دنیا نے ایران پر تجارتی و دیگر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور اس سے ایرانی عوامی پر شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس جنگ کے دوران امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کو ضروریات زندگی کی سپلائی میں واضح طور پر کمی واقع ہوئی اور ملک میں مہنگائی کا شدید طوفان برپا ہو گیا مگر عوام کی اکثریت نے یہ دباؤ اور اس کے نتیجے میں روزمرہ کی زندگی میں سختیوں کو انتہائی صبر و تحمل سے برداشت کیا جو ان کے ایمان کے پختہ ہونے کا عملی مظاہرہ ہے۔

اس جنگ نے دنیا کو جس معاشی بحران میں مبتلا کر دئا ہےاور نہ صرف یورپ و ایشیائی ممالک میں انتہائی تشویشناک صورتحال ہے بلکہ اس سے امریکہ و نارتھ امریکہ کے ممالک پر بھی اس کے انتہائی منفی مرتب ہوے ہیں اور دنیا بھر کے کاروباری اداروں کے کھربوں ڈالرز ڈوب گئے ہیں اور مزید نقصان ہو رہا ہے۔ پوری دنیا مہنگائی سے شدید متاثر ہو رہی ہے اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس صورتحال پر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے مراکز نے ٹرمپ پر جنگ بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے دوسرے امریکہ کے اندر ٹرمپ کی مقبولیت میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور وہ ہر قیمت پر جنگ بندی چاہتا ہے۔

 اس جنگ کا اختتام تو ہونا ہی تھا مگر جو شکست و ذلت امریکہ و اسرائیل کے حصے میں آئی ہے وہ ناقابل تلافی ہے۔ اس کامیابی کے بعد ایران پر دنیا بھر کے دروازے کھل جائیں گے اور ایران دوبارہ سے اپنے وسائل کو استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گا اور نتیجتاً مخلص، دیانت دار اور دین اسلام سے مخلص قیادت کے زیر اہتمام وہ دنیا میں ایک اہم دفاعی و اقتصادی طاقت بن کر سامنے آئے گا۔ دنیا میں دوبارہ سے صف بندیاں ہوں گی اور مسلم ممالک میں انتہائی اہم تبدیلیاں رونما ہوں گی جس سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ ہو گا اور ایک اسلامی تشخص کا پھر سے آغاز ہو گا۔ ان شاءاللہ۔

 

 

 

Post a Comment

0 Comments