جون 10، 2024
تحریر: ممتاز ہاشمی
کل رات میں بہت پرسکون سویا جس دن کرکٹ میچ میں پاکستان کو شکست ہوئی۔اس کی وجہ پاکستان کی شکست پر کوئی خوشی نہیں ہے بلکہ یہ تو افسوس کا مقام ہے کہ اتنے قومی وسائل خو اس کھیل میں لگانے کے بعد بھی کوئی اچھی کارکردگی سامنے نہیں آئی۔
اس سکوں کی وجوہات مختلف ہیں جو ہماری قومی زندگی میں اس کے منفی اثرات ہیں ان کا تذکرہ کرنا اور کو سمجھنا ہم سب کا فرض ہے تاکہ اس کی روشنی میں اپنا جائزہ لیتے ہوئے ان منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جا سکے۔
کیونکہ پوری قوم کو میڈیا نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے بہت قبل ہی ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا تھا اور ہر وقت پوریے میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی برپا تھا ہر کوئی اس میں آگے نکلنے کے لیے نت نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔
تمام اہم قومی و بین الاقوامی امور کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور اس وقت مسلمانوں پر جو قیامت غزہ میں جاری ہے اس کو مکمل طور پر فراموش کر دیا گیا ہے اور اس سنگین انسانی حقوق کی خلاف وردیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے وقت و وسائل کو کھیل کود کے لیے وقف کردیا گیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس ایک غیر سنجیدہ چھوٹی سے کھیل کو اسطرح سے پیش کیا جا رہا تھا کہ جیسے اس سے بڑا دنیا میں کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔ میڈیا اس پر بھاری وسائل اور وقت کا ضیاع کر رہا ہے۔ جس سے لوگوں کی بھاری تعداد اس میں شامل ہو جاتی ہے۔
اس کھیل کود کو ذاتی تفریح کا ذریعہ بنانے کے لیے اکثریت اپنے وقت اور وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے اس کے لیےپر تعیش محفلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور گھنٹوں پر محیط اس کھیل کود میں قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے معاشرے کے پسماندہ طبقات میں ان کے خلاف نفرت جنہم لیتی ہے جو معاشرے میں انتشار اور افراتفری کا باعث بن سکتا ہے اور یہی طرز فساد فل الرض کے زمرے میں آتا ہے۔
اس کھیل کود نے جوے کو فروغ دیا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں تباہی وبربادی پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اگرچہ ہمارا دین کھیلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کھیل کو انسانی صحت اور قوت حاصل کرنے کا نام دیا گیا ہے جس کا اصل مقصد تمام لوگوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ جسمانی طور پر اس سختی برداشت کر سکے جو کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد میں پیش آ سکتیں ہیں۔ ناکہ یہ وقت اور وسائل کے ضیاع کا موجب بنے۔
لیکن آج کے دور میں کھیل صرف چند محدود افراد تک ہی محدود ہو گیا ہے اور اکثریت اس میں عملی طور پر کوئی حصہ نہیں لیتی بلکہ صرف اپنی ذہنی تفریح اور عیش و عشرت کا ایک اور ذریعہ بنانے میں مصروف ہیں۔
اس بات کو ذہن نشین رکھنی کی ضرورت ہے کہ اس قسم کے کھیل کود کو فروغ دینے میں بہت سی کاروباری اداروں کا بہت حصہ ہے جو اس کے ذریعے اپنی مارکیٹنگ کو فروغ دیتے ہیں
دوسری جانب اس طرح کے کھیل کود دنیا میں وطن پرستی کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں اور لوگوں کے درمیان جھگڑے و فساد کا موجب بن جاتے ہیں جو بعض اوقات ایک انتہائی خطرناک صورتحال بھی پیدا کر سکتا ہے اسلئے آج کے دور کے اس قسم کے کھیل کود معاشرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
کیوں کہ اس سے ان جذبات کو ابھارنے کام لیا جاتا ہے جو کہ انسانوں میں رنگ، وطن، زمین کی بنیاد پر تقسیم کر کے اللہ کے احکامات کی نفی کرنے کا سبب بنتے ہیں
اگرچہ ہر شخص کو ان کھیلوں میں شرکت اور ان سے باخبر رہنا کوئی معیوب بات نہیں ہے مگر اس کو اس قدر اہمیت دینا کہ انسان اپنی تخلیق کے مقاصد سے ہی بے خبر ہو جائے مکمل طور پر اللہ سبحان تعالٰی کے احکامات کی نفی ہے۔
اسلئے ہمیں ہمشہ ان تمام باتوں کو ذہن نشین رکھنے کے ساتھ ان تمام کھیل کود کے معاملات میں اعتدال اور اللہ سبحان تعالٰی اور رسول کے احکامات کے تابع ہی ردعمل کا اظہار کرنا چاہئے۔اللہ ہم سب کو اللہ سبحان تعالٰی کے احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

0 Comments