اب سورۃ الصا فا ت میں (ازآیت ۱۰۰ تا آیت ۱۱۱) چھٹے اور آخری امتحان کا ذکر شروع ہوتا ہے اور نہایت مختصر ، لیکن جامع ترین الفاظ میں صورت حال کی ایک ایسی مکمل تصویر کھینچ دی جاتی ہے کہ ہم چشم تصوّر سے پورے واقعے کو ہر دور اور زمانے میں دیکھ سکتے ہیں۔
{رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ
السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ
فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ
اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚوَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ
یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙقَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ اِنَّا کَذٰلِکَ
نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ
﴿۱۰۷﴾وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی
الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ۖسَلٰمٌ
عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿۱۰۹﴾کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۱﴾} (الصافات: ۱۰۰تا۱۱۱)
’’(ابراہیمؑ نے کہا)اے پروردگار ! مجھے ایک بیٹا عطا کو جو صالحوں
میں سے ہو۔(اس کی دعا کے جواب میں ) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت
دی۔ وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو(ایک روز) ابراہیمؑ
نے اس کہا:بیٹا! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں،اب تو بتا تیرا
کیا خیال ہے اُس نے کہا: ابّا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالئے،
آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں کے میں سے پائیں گے۔آخر کو جب ان دونوں نے
سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا۔ اور ہم نے ندادی
کہ اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کرد کھایا۔ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی جزا دیتے
ہیں ۔ یقیناََ یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے بڑی عید قربانی فدیئے میں دے کر
اس (بچے) کو چھڑالیا اور اس (قربانی) کو (بطور یادگار ہمیشہ کے لئے)بعد کی نسلوں
میں چھوڑ دیا۔ سلام ہے ابراہیم پر۔ ہم نیکوں کاروں کو
ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناََ وہ ہمارے مؤمن بندوں میں سے
تھاَ‘‘
بڑھاپے میں دعا کر کر کے تو اللہ سے بیٹا لیا او ر وہ بھی کیسا بیٹا! حلیم
، نہایت بردبار ،سلیم الطبع،فرماں بردار ، صابر اور سعادت مند----- لیکن اب آخری
امتحان کے لئے اسٹیج سیٹ ہو رہا ہے۔ گویا قدرت مسکرارہی ہے کہ ایک سو سالہ بوڑھے
انسان کا امتحان ، بڑا کڑا امتحان ابھی باقی ہے۔ یہ بڑے بڑے امتحانوں سے گزر کر
آیا ہے لیکن ابھی آخری تیرا یک بھاری اور مشکل امتحان کی صورت میں ہمارے ترکش
میں موجود ہے------ امتحان کی گھڑی دیکھئے {فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ}
’’تو جب وہ (بیٹا )اس (باپ) کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کے قابل ہوا‘‘ تو اس امتحان
کاوقت بھی آپہنچا۔ بچہ اگر بالکل شیرخوار گی کی عمر میں ہوتا، بالکل چھوٹا سا
ہوتا تو قدرے ہلکا امتحان ہوتا۔ لیکن اب تو کڑی سے کڑی آزمائش مطلوب ہے۔ ادھر
بوڑھا باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو جوان ہوتے دیکھ رہا ہے، ادھر محبت و جذبات اور امیدوں
اور تمناؤں کا مرحلہ آگیا ----- اور اس کے لئے وقت منتخب کیا گیا جب زندگی کی
بھاگ دوڑ میں وہ بوڑھے باپ کی لاٹھی بننے کے قابل ہوگیا، جدّوجہد اور محنت و مشقت
میں ہاتھ بٹانے والا بن گیا ۔ جس کو ہم کہیں گے کہ فی الحقیقت دست و بازو بن
گیا----- اُس وقت حضرت اسماعیل ؑ کی عمر تیرہ سال تھی---- تو حضرت ابراہیم ؑ اس سے
کہتے ہیں : {یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ
فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ} اے میرے پیارے بچے! میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے
ذبح کر رہاہوں۔(روایات میں آتا ہے کہ مسلسل تین رات یہ خواب آیاہے) اب تم دیکھو،
غور کرو اور بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے!‘‘ بیٹے کی را ئے معلوم کر کے باپ بھی
بیٹے کا امتحان لے رہا ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھئے کہ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ سچا خواب بھی اسی
سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس کی آخری ، حتمی اور قطعی صورت ’’ وحی نبوّت‘‘ ہے۔
وحی نبوّت کا دروازہ نبی اکرم ﷺپر تا قیامِ قیامت بند ہو گیا، لیکن اس سے
کچھ کم تر چیزیں اب بھی باقی ہیں۔ الہام اب بھی ہے، کشف اب بھی ہے، القاء اب بھی
ہے۔ اللہ اپنے جس بندے کے دل میں جو بات چاہے ڈال دے، اس کے لئے نبوت شرط نہیں ہے۔
نبوت خواتین کے لیے تو ہے ہی نہیں لیکن اللہ نے اُمِّ موسیٰ ؑ کے دل میں بات ڈالی
اور کتنے یقین کے ساتھ ڈالی کہ اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں صندوق میں بند کر کے
دریا کے حوالے کر دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اگر یہ یقین نہ ہوتا کہ بات
مجھ پر القا ہوئی ہے، اگر ذرا بھی گمان ہوتا کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے، تو وہ یہ
اقدام ہرگز نہیں کر سکتی تھیں! پس الہام، القا، کشف اور رؤیاۓ صادقہ، یہ ساری
چیزیں اب بھی موجود ہیں۔ یہ چیزیں نبیوں کے لیے بھی تھیں اور غیر نبیوں کے لیے
بھی-----خود نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ وحی نبوت کا دروازہ مجھ پر بند ہو گیا، لیکن
رؤیاۓ صادقہ کا سلسلہ جاری رہے گا جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ایک روایت میں
سواں حصّہ بھی آیا ہے۔ البتہ نبیوں کے لیے یہ چیزیں، یعنی الہام، القا، کشف اور
رؤیا(خواب)بھی وحی کے درجے میں ہوتے ہیں اور ان میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں
ہوتی۔ لہٰذا وہ فوراً یقین کر لیتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔
اب بیٹے کی حلیمی کا اظہار ہو رہا ہے:
{قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ
شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾} ’’اس (بیٹے نے)کہا، ابّا جان! کر گزرئیے جو حکم
آپ کو مل رہا ہے، آپ ان شاءاللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘۔
{فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا} ’’تو جب وہ دونوں مسلمان ہو گئے…‘‘ یہاں میں
نے جان بوجھ کر ’’مسلمان ہو گئے‘‘ ترجمہ کیا ہے۔ اسلام، جس کو ہم نے بدنام کیا ہوا
ہے، اس کے اصل معنی ہیں گردن نہادن، سرِ تسلیم خم کر دینا۔ جو بھی اللہ کا حکم ہے
اسکی بلا چون و چرا اطاعت اور فرماں برداری کرنا ’’اسلام‘‘ ہے۔ بقول مولانا محمد
علی جوہر مرحوم ؎
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا!
اور بقول علامہ اقبال مرحوم ؎
چوں می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الٰہ را !
یہ ہے اسلام۔ {فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚ} پھر جب دونوں نے اسلام کا
مظاہرہ کیا، دونوں نے گردن جھکا دی، جب دونوں نے اللہ کے حکم کو بسر و چشم قبول کر
لیا۔اور اس (ابراہیمؑ)نے اس(اسماعیلؑ)کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا، تا کہ چہرہ سامنے
نہ رہے اور جذباتِ فطری عین وقت پر جوش میں نہ آ جائیں، بوڑھے ہاتھوں میں کہیں
لرزش نہ پیدا ہو جاۓ۔ سو برس کا بوڑھا ہے جو اپنے تیرہ برس کے اکلوتے بیٹے کے گلے
پر چھری پھیرنے کی تیاری کر رہا ہے----- وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙ ’’اور ہم نے اس کو پکارا اے
ابراہیم‘‘(بس کر) {قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ} ’’بلا شبہ تو نے خواب کو سچ کر
دکھایا‘‘ اس سے زائد ہمیں بھی درکار نہیں۔ یعنی ممتحن کو بس کرنا پڑی، جس کا
امتحان کا امتحان لیا جا رہا تھا اس نے بس نہیں کی۔ چشمِ فلک اس نظارے کی تاب نہ
لا سکی کہ ابراہیمؑ بیٹے کو بالفعل ذبح کر رہا ہے۔ امتحان پورا ہو گیا، تم آمادہ
ہو گئےاور اپنی محبوب ترین شے کو اللہ کی مَحبّت و اطاعت کی خاطر اور اس کی راہ
میں قربان کرنے کے لیے جی جان سے تیار ہو گئے، لہٰذا امتحان میں کامیاب ہو گئے۔
تمہاری کامیابی تسلیم۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ ’’ہم اسی طرح ان لوگوں کو جو
محسن ہوتے ہیں، جو درجہ احسان پر فائز ہو جاتے ہیں، اپنے انعامات اور جزا سے
نوازتے ہیں‘‘-----محسن، احسان کرنے والے نہیں۔ ایک احسان دوسروں پر ہوتا ہے۔ عام
طور پر یہ مفہوم اردو میں مستعمل ہے۔عربی میں احسان کا یہ مفہوم بھی ہے، لیکن اس
کا اصل اور حقیقی مطلب و معنی کسی کام کو نہایت خوبصورتی سے کرنا ہے۔ اسلام میں جب
کمال پیدا ہو جاۓ تو وہ احسان ہو جاۓ گا۔ حدیثِ جبرائیل میں یہ تین مراتب بیان
ہوۓ ہیں۔ جبرئیلؑ نے رسول اللہﷺ سے اسلام، ایمان اور احسان تینوں کے بارے میں
سوال کیا : اَخْبِرْ نِیْ عَلَی الْاِسْلَامِ ، اَخْبِرْنِیْ عَنِ
اَلْاِ یْمَانِ اور اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِ حْسَانِ -----یہ بتائیے اسلام
کسے کہتے ہیں؟ یہ بتائیے ایمان کسے کہتے ہیں؟ یہ بتائیے کہ احسان کسے کہتے ہیں؟ تو
احسان ہمارے دین میں بہترین اعمال کی ارفع و اعلیٰ یعنی بلند ترین سطح کو کہا جاتا
ہے۔ لہٰذا فرمایا : { اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾}
’’اسی طرح ہم نیکو کاروں اور خوب کاروں کو جزا دیتے ہیں‘‘۔
آگے فرمایا : {اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾}
’’واقعہ یہ ہے کہ بڑا کھلا امتحان تھا، بہت کڑی آزمائش
تھی‘‘-----اب آپ خود ہی سوچئے کہ اس سے بڑا کامیابی کا درجہ اور کیا ہو سکتا ہے
کہ خود ممتحن پکار اٹھے کہ امتحان واقعی بہت کڑا، بہت مشکل اور بہت کٹھن تھا۔ اب
معاملہ رہ کیا گیا تھا؟ چھری تو پھیر ہی دی تھی۔ لیکن اس چھری نے حکم الٰہی سے کام
کیا نہیں۔
ذبح عظیم
اب آگے بڑھنے سے قبل اس ابتلاء، آزمائش اور امتحانات پر ایک نگاہِ باز
گشت ڈال لیجئے جس سے گزرتا ہوا یہ سو سال کا بوڑھا اس آخری اور کڑے امتحان تک
پہنچا ہے۔ والدین اور گھر بار کو چھوڑا اللہ کے لیے،قوم سے اس نے منہ موڑا اللہ کی
توحید کے لیے، شہنشاہ اور اقتدارِ وقت سے وہ جا ٹکڑایا اللہ کی توحید کے لئے، اپنی
جان دینے پر آمادہ ہو گیا اللہ کی توحید کے لیے، وطن کو اس نے خیر باد کہا اللہ
کی توحید کیلئے-----اپنے اکلوتے تیرہ سالہ نو عمر بیٹے کو وہ ذبح کرنے کے لیے تیار
ہو گیا حکم الٰہی کی تعمیل میں----- یہ آخری امتحان تھا، سب سے کڑا، سب سے
مشکل-----اس کے نتیجے میں ہوا یہ کہ : { وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۷﴾} ’’اور ہم نے اس (اسماعیل)کو
چھڑایا ایک عظیم قربانی دے کر‘‘-----یعنی حضرت اسماعیل ؑ کی جگہ ان کے بدلے میں
ایک بڑی قربانی دے کر خود اللہ تعالیٰ نے ان کو چھڑایا۔
یہ ذبح عظیم کیا تھا؟ اس کے متعلق روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت کا
ایک مینڈھا تھا۔ قرآ ن مجید میں جس بات کو مجمل چھوڑ دیا گیا ہو تو اس کی تفصیل
کیلئے ہمیں
جناب محمدﷺکی طرف رجوع کرنا ہو گا، کیونکہ تبیین قرآن آپؐ کا فرضِ منصبی
ہے، ازروۓ آیت قرآنی :
{ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا
نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ } (النحل : ۴۴)
’’(اے محمدؐ) ہم نے یہ ذکر (قرآن مجید)آپ پر نازل کیا ہے تا کہ آپ
لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و تو ضیح کرتے جائیں جو ان کے لئے اتاری گئ
ہے‘‘۔
تو حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جنّت کا وہ مینڈھا حضرت اسماعیلؑ کی جگہ
ذبح ہوا ہے۔ اس کو ’’ذبح عظیم‘‘ اس اعتبار سے کہا گیا کہ جنّت کا وہ مینڈھا زمین
پر لا کر ذبح کیا گیا۔ اب اس ذبح عظیم کا سلسلہ ہے جو عیدالاضحی کے موقع پر ہر سال
لاکھوں جانوروں کی قربانی کی شکل میں تواتر سے چلا آ رہا ہے۔ وہ یاد ہزاروں سال
سے منائی جا رہی ہے۔ یہ جو جانور ہزاروں سال سے عیدالاضحی کے موقع پر ذبح ہوتے
ہیں، یہ ایک اعتبار سے حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ والسلام کا فدیہ ہیں اور دوسرے
اعتبار سے ان کا مفادیہ ہے کہ امّتِ مسلمہ کے ہر فرد کے دل میں یہ جذبہ ہر سال
تازہ ہوتا رہے کہ وہ متاعِ دنیا کی محبوب ترین شے بھی اللہ کی راہ میں قربان کرنے
کے لیے تیار رہے۔ چنانچہ فرمایا :
{ وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾ۖسَلٰمٌ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿۱۰۹﴾کَذٰلِکَ نَجۡزِی
الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۱۰﴾}
’’اور ہم نے بعد کی نسلوں کے لیے اس (قربانی) کو (بطورِ یادگار)
چھوڑ دیا۔ سلامتی ہو ابراہیم پر (جو اس کڑے امتحان میں پورا اترا) اور اسی طرح ہم
محسنوں کی قدر دانی کرتے ہیں اور ان کو جزاء سے نوازتے ہیں‘‘۔
ابراہیمؑ کی اس قربانی کے جذبے کی یادگار اللہ تعالیٰ نے آنے والوں کے لئے
قائم کر دی------آپ غور کریں کہ ابراہیمؑ پر سلام بھیجنے والوں کی اس وقت دنیا
میں دو تہائی تعداد ہے۔ یہودی ہوں، عیسائی ہوں، وہ سب حضرت ابراہیمؑ کی تعظیم کرنے
اور ان پر سلام بھیجنے والے ہیں اور ان کے نام لیوا ہیں۔ رہے مسلمان، تو وہ اس کا
سب سے زیادہ حق رکھتے ہیں: { اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ
اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾} (آل عمران:۶۸)
’’ابراہیم سے قریب ترین رشتہ اور نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق
اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی، اور اب
یہ نبیؐ اور اس پر ایمان لانے والے اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ او راللہ صرف ان
کا دوست ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
پھر دیکھئے کہ ہر نماز میں آپ جو درود پڑھتے ہیں اس میں حضرت ابراہیم ؑ پر
بھی درود بھیجا جاتا ہے، اس لئے یہ درودِ ا براہیمی کہلاتا ہے۔
آگے حضرت ابراہیمؑ کی مدح میں فرمایا: {اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۱﴾}
’’یقیناََ وہ (یعنی ابراہیمؑ)ہمارے مؤمن بندوں میں سے تھا ‘‘۔
اب یہاں تین الفاظ نوٹ کر لیجئے: پہلا ’’اسلام‘‘ {فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ
تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚ} ------ یہ اسلام ہے۔ اسی اسلام کا حضرت ابراہیمؑ
کے بیان کے ضمن میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۳۱ میں ذکر ہے: { اِذۡ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسۡلِمۡ ۙ
قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾} ’’ ابراہیم ؑ کا یہ حال تھا کہ جب اس کے رب نے اس
سے کہا مسلم ہو جاو تو اس نے فوراََ کہا : میں ربِّ کائنات کا مسلم ہو
گیا‘‘-------- حضرت ابراہیم کی اسی کیفیت تسلیم کو سورۃ الصٰفٰت کی آیت ۸۴ میں یوں بیان کیا گیا ہےکہ {اِذۡ
جَآءَ رَبَّہٗ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿۸۴﴾} ’’ جب وہ اپنے رب کے حضور قلبِ سلیم کے ساتھ پیش
ہوا۔‘‘ ان کے مسلم ہونے کی اللہ نے خود ہی سند عطا فرما رہے ہیں ۔ دوسرا ’’ایمان‘‘
----- اب اللہ تعالیٰ کسی کو ’’مؤمن ‘‘ مان لے تو گویا اس کی طرف سے اسے ایک بہت
بڑا سرٹیفکیٹ دے دیا گیا۔ چنانچہ فرمایا: {اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۱﴾} اب زرا اسلام اور ایمان کی ان دو کسوٹیوں پر اپنے اسلام اور ایمان کو پر
کھئے کہ ہم نے اعتبار ات سے کس مقام پر کھڑے ہیں ؟ ہم کتنے پانی میں ہیں؟
اللہ کی راہ اپنی محبوب ترین چیز کو عملا ً قربان کرنے پر
آمادہ ہوجا نا ، زبانی کلامی نہیں ، یہ ہے درجہ احسان ----- اسلام،ایمان اور
احسان ، تینوں کی حقیقتیں اس ایک واقعہ سے ہمارے سامنے آگئیں ۔ ان ہی امتحانات سے
گزرنے کے بعد حضرت ابراہیم ؑ اس مرتنے کو پہنچے کہ ان کو امام النّاس کے مقام پر
فائز کیا گیا اور ان کو خلّتِ الہیٰ سے نوازا گیا: {وَ اتَّخَذَ اللّٰہُ
اِبۡرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا ﴿۱۲۵﴾} (النساء:۱۲۵) فریضۂ حج اور حیات ابراہیمی ؑ کے مراحل
اب ایک اور بات جا ن لیجئے کہ حج کا یہ جو پورا سلسلہ ہے، یہ در حقیقت ایک
فرض عبادت ہے ہر زادِ راہ رکھنے والے صاحبِ استطاعت مسلمان پر، ازروئےنصِّ قرآنی:
وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ
سَبِیۡلًا (آلعمران:۹۷)
’’ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس کے گھر (بیت اللہ) تک
پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ‘‘۔
پھر حج جو مناسک ادا کئے جاتے ہیں ان کو شعائر اللہ قرار دیا گیا ہے------
سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا:
{اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ
حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا
ؕ } (آیت ۱۵۸)
’’یقیناََ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، لہذا جو
شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں
پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے‘‘۔
سورۃالحج میں فرمایا کہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں : وَ
الۡبُدۡنَ جَعَلۡنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ----- جبکہ بیت اللہ اس
زمین پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا شعیرہ ہے------ شعائر کے مجازی معنی ہیں ’’ وہ
چیز جب کے ادب و احترام کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے "۔ اس کے ایک
مجازی معنی نشانی اور علامت بھی آتے ہیں۔ حج کے یہ
سب شعائر کیا ہیں ؟ دراصل یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے مختلف
مراحل ہیں ۔ یہ اسی داستان عزیمت و امتحان کے مختلف ابواب اور ان کے اوراق ہیں جن
کی ہر سال یاد منائی جاتی ہے۔ یہ جو {بَینَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ} سعی ہو رہی
ہے یہ حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کی اس عالم بے تابی کی
نشانی ہے جبکہ حضرت ابراہیم ؑ ان کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور
وہ ننھی سی جان اسماعیلؑ پیاس تڑپ رہی تھی اور حضرت ہاجرہ نے پانی کی تلاش میں صفا
اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ دوڑی تھیں اور ہر چکر میں پہاڑ پر چڑھ کر پانی
ڈھونڈنے کے لئے چاروں طرف نگاہیں دوڑاتی تھیں ----- اللہ تعالیٰ کو اپنی اس مؤمنہ
بندی کی یہ ادا اتنی بھائی کہ حج اور عمرہ کرنے والوں کے لئے مسعیٰ میں دوڑنے کو
شعائر اللہ میں سے قرار دے دیا ۔ اس لئے بھی ہوا کہ یہ حضرت ہاجرہ کے اللہ پر توکل
اور صبر کی بھی ایک عظیم الشا ن نشانی ہے۔ جب حضرت ابراہیمؑ اس لق و دق صحرا کی
پہاڑیوں میں ان کو اور شیر خوار بچے کو چھوڑ کر جا رہے تھے تو حضرت ہاجرہ نے ان سے
دریافت کیا تھا کہ آپ ہم کو کس کے حوالے کر کہ جا رہے ہیں ۔ اس پر حضرت ابراہیم ؑ
نے جواب دیا تھا کہ اللہ کے حوالے ۔ جس پر حضرت ہاجرہ نے کہا تھا : یہ صورتحال ہے
تو میں راضی ہوں ، آپ تشریف لے جایئے۔ حضرت اسماعیلؑ کے بے چینی کے عالم میں
ایڑیاں رگڑنے سے معجزانہ طور پر چاہِ زم زم کا ظہور ہوا جس سےچا ر ہزار سال گزرنے
کے بعد آج بھی لاکھوں بند گانِ خدا سیراب ہوتے ہیں۔
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف حضرت ابراہیم ؑ ہی امتحان سے نہیں گزرے
، بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ؑ بھی نو عمری میں ہی امتحان سے گزر ےہیں ۔ گویا ع
’’ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی مشکل ہے‘‘۔ سب سے زیادہ کھٹن امتحان سے حضرت ابراہیم
ؑ گزرے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جن کا رتبہ بُلند سے بُلند تر ہو گا اسی
مناسبت سے ان کو آزمائشوں سے واسطہ بھی پڑے گا ۔ جیسے جو
پرائمری کا امتحان پاس کر لے اسے مڈل ، میڑک اور پھر آگے کے امتحانات سے گزرنا ہو
گا اور جو پرائمری ہی میں فیل ہو جائے اس کے لئے اگلے امتحانات کا کیا سوال ؟ اگلے
امتحان کا موقع تو بتدریج آتا ہے ؎
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں !
چنانچہ حج اور عید الضحیٰ یہ وہ اسلامی عبادات اور شعار دونوں حضرت ابراہیم
علیہ الصلوۃ و السلام کی شخصیت کے گرد گھومتے ہیں ، جن کی تعظیم و تکریم کرۂ ارض
کے بسنے والوں کی دو تہائی آبادی کرتی ہے۔
عید الضحیٰ اور فلسفۂ قربانی
حج کا رُکنِ رکین تو وقوفِ عرفات ہے----- اس کے علاوہ سورۃ الحج میں
دوبنیادی ارکان کا ذکر ملتا ہے، ایک اللہ کے نام پر جانور کی قربانی اور دوسرے بیت
اللہ کا طواف۔ اور ان میں بھی زیادہ زور اور تکرار و اصرار قربانی پر ہے----- جیسا
کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حج ارکانِ اسلام میں سے جامع ترین رکن ہے۔ لیکن اس کا
معاملہ یہ ہے کہ یہ ایک خاص مقام اور جگہ سے متعلق ہے۔ حج آپ کسی دوسرے مقام پر
کر ہی نہیں سکتے۔ اس کی ادایئگی کے لئے تو آپ کو مقررہ تاریخوں اور دنوں میں ارضِ
مقدس جانا پڑے گا اور اس میں {مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ} کی شرط موجود
ہے۔ اس کی استطاعت ہر ایک کو تو حاصل نہیں ہے------تو ’’مَا لَا یُدْرَکُ کُلّہٗ
لَا یُتْرَکُ کُلُّہٗ‘‘ یہ ایک اصول ہے۔عقل عام (commom sence) کے تحت یہ کہا جاتا ہے
کہ جو چیز کُل کی کُل حاصل نہ ہو سکتی ہو تو اسے کُل کی کُل کو چھوڑ ہی نہیں دینا
چاہئے۔ اس میں سے کچھ بھی ملتا ہو وہ تو لو۔ بس اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ حج کے
ارکان میں سے ایک رکن قر بانی ہے۔ گویا بلا شبہ عید الضحیٰ اور اس کے ساتھ ’’قربانی‘‘
حج ہی کی توسیع کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے کہ حج اس اعتبار سے ایک محدودیت کا حامل
ہے کہ اس کے تمام مراسم و مناسک ایک متعین علاقے یعنی مَکہ مکرمہ اور اس کے نواح
ہی میں ادا کئے جاتے ہین اور کئے جا سکتے ہیں ۔ اس لئے اس لئے اس کے ایک رکن یعنی
اللہ کے نام پر جانورں کی قربانی کو وسعت دے دی گئی ہے، تاکہ اس روئے زمین پر بسنے
والا پر مسلمان اس میں شریک ہو جائے اور یہی عید الاضحی اور اس کے ساتھ قربانی کی
اصل حکمت ہے------ لہذا واجب ہے کہ استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان عید الضحیٰ پر
قربانی کرے۔ وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کر پا رہا ، وہ سعی بین الصفاو المروۃ نہیں
کر پا رہا ، وہ منیٰ میں قیام نہیں کر سکتا ، وہ وقوفِ عرفہ سے محروم ہے۔ وہ ان
تمام برکات سے تہی دست رہ گیا ہے تو اس میں ایک حصہ ایسا ہے کہ جو مقام و مکان کی
قید سے آزاد ہے، اس لئے وہ پورے کرۂ ارضی کے تمام مسلمانوں میں بانٹ دیا گیا ہے،
سب کو جس میں شریک کر لیا گیا ہے۔ وہ ہے نماز عید الاضحی اور اس کے ساتھ جانورں کی
قربانی ۔ تا کہ دنیا بھر کے مسلمان اس کام میں شریک ہو جائیں۔
ایک بات نوٹ کر لیجئے کہ شریعتِ محمدی علیٰ صا حبہا الصلوۃ و
السلام سے قبل ارکانِ حج میں سے بہت بڑا رکن یہ قربانی ہی تھا ۔ مثلا ًٍ سورۃ الحج
میں، جس کا اکثر و بیشتر حصّہ مکّی ہے اور کچھ دورانِ ہجرت نازل ہوا ہے، حج کے
احکام کا جوذکر آتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے سب سے زیادہ زور طواف اور
قربانی پر ہے۔ لیکن سورۃ البقرۃ میں حج کے ارکان کا جو بیان آیا ہے اس میں قیام ِ
معنی ٰٰٰٰ، وقوف ِ عرفات ، قیام مزدلفہ اور وہاں پر ذکر الہیٰ کا بڑی تفصیل سے ذکر
کیا گیا ہے۔ اور وہاں قربانی کا ذکر نہیں ہے۔ آپ کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہو گی
۔ اصل بات سمجھئے ، وہ یہ کہ شریعتِ محمدی ؐ میں حج کے موقع پر قربانی کی اہمیت کم
ہو گئی ہے، اتنی نہیں رہی جتنی پہلے تھی یہ باہر سے آنے والے جو قربانی دیتے ہیں
یہ ’’ تمتّع‘‘ کی قربانی دیتے ہیں ، کیونکہ ایک ہی سفر میں وہ عمرہ بھی کر رہے
ہوتے ہیں اور حج بھی ۔ ’’تمتّع‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔ یہ اس تمتع کا شکرانہ ہے جو ہر
شخص قربانی کی شکل میں کر رہا ہے ۔ وہاں کا یعنی
عرب کا جو مفرد حاجی ہے ، اس پر قربانی واجب نہیں ہے۔ لیکن یہ قربانی پوری دنیا
میں عام کر دی گئی ہے۔
اب ہمارے ہاں جو منکرینِ حدیث ہیں ان کی عقل بالکل الٹی ہے ، ان کی مت ماری
گئی ہے لہذا غلط استدلال کرتے ہیں ۔ وہ وہاں کی قربانی کے تو قائل ہیں ، یہاں کی
قربانی کے قائل نہیں ہیں ۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہاں قربانی کا گوشت ضائع ہوتا ہے
۔ حالانکہ عقلی طور پر یہ موقف بالکل غلط ہے۔ یہاں گوشت کی ایک بوٹی بھی ضائع نہیں
ہوتی ۔ گوشت ضائع تو وہاں ہوتا ہے ۔ وہاں کا معاملہ یہ ہے کہ ایک ہی مقام پر
لاکھوں جانور ذبح ہوتے ہیں ۔ ضیاع بھی اگرکسی درجہ میں کوئی دلیل ہے تو ضیاع تو
وہاں ہوتا ہے، یہاں تو نہیں ہے۔ یہاں تو قربانی کے جانور کی اکثر و بیشتر کوئی چیز
بھی ضائع نہیں ہوتی ۔ کھالیں ضائع نہیں ہوتیں ۔ ان کی قیمت فروخت سے ملک کے بے
شمار دارالعلوموں اور رفاہی ادراوں کو ایک معقول آمدنی ہوتی ہے اور اس آمدنی سے
بے شمار رفاہی کام انجام پاتے ہیں۔ بال ضائع نہیں ہوتے، ان کے اون تیار ہوتی ہے
اور مختلف نوع کی صنعتوں میں کام آتی ہے۔ یہاں رَودے ضائع نہیں ہوتے ، آنتیں اور
انتڑیاں تک ضائع نہیں ہوتیں ، ان کو بھہ کام میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو خون
بھی جمع ہو رہا ہے جو پولٹری فیڈ میں استعمال ہورہا ہے۔ ہڈیاں جمع ہو کر استعمال
ہوتی ہیں ۔ گویا قربانی کے گوشت کے علاوہ ، جو کھانے کے کام آتا ہے اور ناس کا
کافی حصہ ان لوگوں کو بھی پہنچ جاتا ہے جن چاروں کو اس مہنگائی کے دور میں شاید
سال بھر کے دوران گوشت خرید نا نصیب نہ ہوتا ہو ، اس کی ہر چیز استعمال میں آجاتی
ہے۔ لہذا یہاں تو کسی چیز کے ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں توقربانی
کے جانور کا ریزہ ریزہ آپ استعمال کر لیتے ہیں ، جبکہ ’’منیٰ‘‘ میں منحر کے مقام
پر جو قربانی ہوتی ہے اس کے گوشت کا کچھ حصہّ تو استعمال میں آتا ہے باقی رات بلڈ
وزر آتے ہیں اور تمام ذبح شدہ جانورں کو کھال سمیت سمیٹ کر ایک گہرے گھڑے میں دبا
دیتے ہیں ------ مزید یہ کہ مّکہ فتح ہوا ہے ۰۸ھ میں ، جس کے بعد مسلمانوں کو حج
کا موقع ملا ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مدینہ منورہ میں اس فتح سے قبل
ہی عیدالاضحی کے موقع پر نبی اکرم ؐ اور صحابہ کرامؓ قربانی کیا کرتے تھے ۔ میں
آپ کو وہ حدیث سنا چکا ہو ں کہ آنحضور ؐ سے صحابہ ؓ نے دریافت کیا تھا کہ ’’ یا
رسول اللہ ؐ! ان قربانیوں کی نوعیت کیا ہے؟‘‘ تو جواباً آپ ؐ نے ارشاد فرمایا
تھا: ((سُنّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھم))۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جب سیدھی راہ سے ہٹتا
ہے تو اس کی عقل اندھی ہو جاتی ہے تو وہ عقل عام یعنی common sense سے بھی تہی دست ہو جاتا
ہے۔
دوسرے وہاں جو لو گ گئے ہیں وہ حرم شریف میں نمازیں ادا کر رہے ہیں ، کعبہ
شریف کا دیدار اور پھر کا طواف کر رہے ہیں ۔ منیٰ میں قیام ہو رہا ہے۔ وقوفِ عرفات
سے شاد کام ہو رہے ہیں۔ مزدلفہ میں ذکر الہیٰ ہورہا ہے، جیسا کہ حکم قرآنی ہے:
{فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ
الۡحَرَامِ ۪} ان کو طوافِ قدوم ، طوافِ افاضہ اور طوافِ وداع کی سعادتیں بھی نصیب
ہو رہی ہیں ۔ وہ سعی بھی کر رہے ہیں ۔ تو ان کے لئے تو بہت سی بر کات ہیں ، جن میں
ایک اضافی برکت قربانی بھی ہے۔ اور جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں کہ قربانی
مفرد پر تو واجب ہی نہیں ہے۔ اسی طرح قران کی نیت کرنے والے پر بھی قربانی واجب
نہیں ہے۔ قران اس حج کو کہتے ہیں کہ اس نیت سے احرام باندھا جائے کہ اسی احرام میں
عمرہ بھی کروں گا اور حج بھی ------- قربانی تو صرف تمتع کرنے کی نیت والے حاجی پر
واجب ہے یعنی وہ پہلےعمرے کی نیت کرے اور پھر عمرے کے بعد احرام کھول دے۔ پھر حج
کے موقع پر دوبارہ حج کی نیت سے احرام باندھے۔ یعنی ایک ہی سفر میں آپ نے عمرہ
اور حج دونوں کی سعادت حا صل کی۔لہذا اس سہولت یعنی اس تمتع کے شکرانے کے طور پر
آپ پر قربانی واجب ہو گی۔ اب میری بات غور سے سماعت فرمایئے۔ وہ یہ کہ اصل میں
شریعت محمدی علیٰ صاحبہاالصلوۃوالسلام میں قربانی کی اہمیت اور وجوب زیادہ ان
لوگوں کے لیے ہے
جو حج پر نہیں گئے تھے ، لہذا حج کے سلسلہ کی بقیہ برکات سے
محروم ہیں ۔ ان کے لئے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد رکنِ رکین در حقیقت یہ قربانی
ہے، جو سنّتِ ابراہیمؑ سے تعلق ہے۔ گویا بھیڑوں، بکروں ، گایوں اور اونٹوں کی
قربانی اصلاً علامت کی حیثیت رکھتی ہے اطاعت و فر ماں برداری اور تسلیم و انقیاد
اور اس پر مداومت اور استقامت کی اس روح کے لئے جو حضرت ابراہیم (علیٰ نبینا و
علیہ الصلوۃ و السلام) کی پوری شخصیت میں رچی بسی ہوئی تھی اور ان کی پوری زندگی
میں جاری و ساری تھی۔
قربانی کی اصل روح:
البتہ یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ ہر چیز کا ایک ظاپر ہوتا ہے اور ایک
باطن ۔ نماز کا ایک ظاہر ہے ، یعنی قیام ہے، رکوع ہے، سجودہے ، قعدہ ہے، یہ ایک
خول اور ڈھانچہ ہے ۔ اس کا باطن ہے یعنی توجہ اور رجوع الی اللہ، خشوع و خضوع،
بارگاہِ رب میں حضوری کا شعور اور اک ، انایت ، محبّتِ الہیٰ ----- نماز کی اصل
روح اور جان تو یہی چیزیں ہیں ؎
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا سجود بھی حجاب، میرا قیام بھی حجاب !
اسی طرح اس بات کو سمجھ لیجئے کہ جانور کو ذبح کرنا اور قربانی دینا ایک
ظاہری عمل ہے۔ یہ ایک خول ہے۔ اس کا ایک باطن بھی ہے اور وہ ’’تقویٰ‘‘ ہے۔ چنانچہ
قرآن حکیم میں قربانی کےحکم کےساتھ متنبہ کر دیا گیا کہ:
{لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ
یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ} (الحج:۳۷)
’’ اللہ تک نہیں پہنچتا ان قربانیوں کا گوشت اور ان کا
خون------ہاں اس تک اس تک رسائی ہے تمہارے تقویٰ کی‘‘۔
اگر تقویٰ اور روح تقویٰ موجود نہیں ، اگر یہ ارادہ اور عزم نہیں کہ ہم
اللہ کے دین کے
لئے اپنی مالی و جانی قربانی کے لئے تیار ہیں تو اللہ کے ہاں
کچھ بھی نہیں پہنچے گا۔ یعنی ہمارے نامہ اعمال میں کسی اجروثواب کا اندراج نہیں ہو
گا ۔ گوشت ہم کھا لیں گے ، کچھ دوست احباب کو بھیج دیں گے، کچھ غرباء کھانے کو لے
جائیں گے، کھالیں بھی کوئی جماعت یا دارالعلوم والے لے جائیں گے۔ لیکن اللہ تک کچھ
نہیں پہنچے گا اگر وہ روح بھی موجود نہیں ہے------ وہ روح کیا ہے؟ وہ امتحان ،
آزمائش اور ابتلاء ہے اور اس میں کامیابی کا وہ تسلسل ہے جس میں سے سیدنا حضرت
ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی پوری زندگی عبارت ہے۔
ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم سوچیں ، غور کریں اور اپنے اپنے
گریبانوں میں جھانکیں کہ کیا واقعتاً ہم اللہ کی راہ میں اپنے جذبات و احساسات کی
قربانی دے سکتے ہیں ؟ کیا واقعتاً ہم اپنی محبوب ترین اشیاء اللہ کی راہ میں قربان
کر سکتے ہیں ؟ کیا واقعتاً ہم اللہ کے دین کی خاطر اپنے وقت کا ایثار کر سکتے ہیں
؟ کیا ہم اپنے ذاتی مفادات کو اللہ اور اس کے دین کے لئے قربان کر سکتے ہیں ؟
اپنےعلائق دنوی ، اپنے رشتے اور اپنی محبتیں اللہ کے دین کی خاطر قربان کر سکتے
ہیں ؟ اگر ہم یہ سب کر سکتے ہیں تو عید الاضحی کے موقع پر یہ قربانی بھی نُوۡرٌ
عَلٰی نُوۡرٍ ----- اور اگر ہم اللہ کے دین کے لئے کوئی ایثار کر نے کے لئے تیا ر
نہیں تو جانوروں کی یہ قربانی ایک خول اور ڈھانچہ ہے جس میں کوئی روح نہیں ۔ بقول
علامہ اقبال مرحوم ؎
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین ِ غزالی نہ رہیٍٍ!
جانورں کا ذبح کرنا رہ گیا ہے، اس میں جو روہِ ابراہیمی رگی وہ موجود نہیں
ہے۔
اس نقطہ نظر سے ہم میں سے ہر شخص کو اپنے دل کا ٹٹولنا چاہئے کہ میں کہاں
کھڑا ہوں۔ میری زندگی سنّت ابراہیمی کے مطابق ہے یا نہیں !! اگر ہے تو جانوروں کی
قربانی بھی ہماری زندگی کے ساتھ ایک مطابقت ہے۔ اگر نہیں ہے تو یہ ایسا ہی ہے کہ
نیم کے درخت پر ثمر بہشت کا ایک آم لا کر ہم نے دھاگے سے باندھ دیا ہے۔ اللہ
اللہ خیر سلاّ!------اس سے وہ درخت آم کا نہیں ہو جائے گا‘ وہ تو نیم ہی
کا درخت ہے اور وہی رہے گا۔ ہماری جو کیفیات بالفعل ہیں وہ تو یہی ہیں کہ ہم نے
نیم کے درختوں پر اِدھر اُدھر سے کچھ آم لا کر ٹانک لئے ہیں۔ اور جس طرح ہم نے
دین کے دوسرے بہت سے حقائق کو محض رسموں میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اسی طرح
قربانی کی اصل روح بھی ہمارے دلوں سے غائب ہو چکی ہےاور اب اس کی حیثیت بعض کے
نزدیک ایک رسم کی سی ہے اور اکثر کے نزدیک اس سے بھی بڑھ کر ایک قومی تہوار
کی------یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ہر سال پندرہ بیس لاکھ سے بھی زائد کلمہ گو حج کرتے
ہیں اور بلا مبالغہ پورے کرۂ ارض پر ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر کروڑوں جانوروں
کی قربانی دی جاتی ہے لیکن وہ روحِ تقویٰ کہیں نظر نہیں آتی جس کی رسائی اللہ تک
ہے۔ بقول علامہ اقبال مرحوم
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے وہ دل‘ او آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں تُو باقی نہیں ہے!
یعنی اللہ کا تقویٰ مسلمانوں میں کم یاب‘ بلکہ عنقا شے بن کر رہ گیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عقل و شعور کے ساتھ ہم میں اس بات کی طلب پیدا ہو‘
ہم متوجّہ ہوں اور معلوم کریں کہ کُل روحِ دین کیا ہے! روحِ قربانی کیا ہے! جس کا
ایک نمونہ اور جس کی ایک یادگار ہم ہر سال جانوروں کی قربانیوں کی شکل میں مناتے
ہیں-----اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی اصل حقیقت کا فہم عطا فرمائے اور ہمیں ہمت دے
کہ ہم واقعتاً اپنے مفادات‘ اپنے جذبات‘ اپنے احساسات اور اپنی محبتیں‘ ان سب کو
اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام پر قربان کر سکیں-------اور ہمیں توفیق دے کہ ہم
اصل روحِ قربانی کو اپنی شخصیتوں میں جذب کر سکیں اور عیدِ قربان پر جب اللہ کے
نام پر جانور کی قربانی کریں اور اسے ذبح کریں تو ساتھ ہی یہ عزمِ صمیم بھی کر لیں
کی ہم اپنا تن‘ من‘ دھن اس کی رضا کے لئے‘ اس کے دین کی سر بلندی کے لئے اس کی راہ
میں قربان کر دیں گے۔
اقول قولی ھذا واستغفراللہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلمات

0 Comments