جون 19، 2022 ( دو برس قبل لکھا گیا مضمون )
تحریر:
ممتاز ہاشمی
آج مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کی عمران خان نے جو کال ری تھی وہ مجموعی طور پر کوئی بڑے پیمانے پر عوام کو متحرک کرنے میں ناکامی سے دوچار ہوئی اس کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے
اس احتجاج کی تیاریاں لانگ مارچ کی ناکامی کے فورا بعد شروع کر دی گئی تھیں اور اس کا تذکرہ اور مشورہ مشورہ دانشور نے بھی بہت پہلے عمران خان کو دیا تھا
اس احتجاج کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ مہنگائی سے عوام انتہائی شدید طور پر متاثر ہو رہے ہیں اور خاص طور پر یہ موضوع غریب اور متوسط طبقات کے لیے سب سے اہم ہے جو اس سے شدید متاثر ہو رہے ہیں اسلئے اس بات کا قوی امکان تھا کہ یہ طبقات جو کہ ملک کی آبادی کا پچاسی فیصد سے زائد ہے ان کو اس میں شرکتِ کے قوی امکانات موجود تھے
وقت اور چھٹی کے دن کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا اور امکانات تھے کہ رات کو موسم خوشگوار ہونے پر عوامی شمولیت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گا
جگہوں کا انتخاب بھی اپنی مکمل آزادی اور سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ عوامی شمولیت کو یقینی بنایا جائے
انتظامیہ نے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کو ہر قسم کا تعاون پیش کیا
پارٹی اور اشرافیہ نے اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کیا تاکہ اس کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے
ان تمام زمینی حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم اج عوام کی ان احتجاج اجتماعات میں شرکت کا تجزیہ کریں تو یہ بات مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ آج کا احتجاج مجموعی طور پر مکمل ناکامی سے دوچار ہوا۔
پاکستان کی آبادی کی اکثریت کا تعلق پنجاب اور سندھ سے ہے ان صوبوں کے ہر ڈویژن میں قومی اسمبلی کی درجن سے زائد سیٹیں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں کئی قوی اسمبلی کی سیٹوں پر مشتمل ہیں۔
اگر حالیہ الیکشن کے نتائج پر نظر ڈالیں تو ان میں اکثر حلقوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ووٹر نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور جیتنے والے امیدواروں نے ساٹھ ہزار سے نوے ہزار ووٹ حاصل کیے
اج کے ان تمام اجتماعات میں کسی بھی مقام پر صرف ایک قوی اسمبلی کے حلقے میں جیتنے والے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کا پانچ تا سات فیصد سے زیادہ شریک نہیں ہوا۔
یہ ایک انتہائی اہم حقیقت ہے جو کہ اس بات پر مہر ثبت کرتے ہیں کہ عوام کی اکثریت نے عمران خان کے کسی بھی بیانہ سے مجموعی طور پر مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے
عمومی طور صرف مراعات یافتہ اور اعلی طبقات پر مشتمل افراد نے ان احتجاجی اجتماعات میں شرکت کی ان طبقات نے ہمیشہ آمریت کی حمایت اور جمہوری قوتوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے
آج جب ایک طویل سیاسی جدوجہد اور عوام کی قربانیوں کی بدولت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو وقتی طور پر سیاسی منظر نامہ سے دور رہنے پر مجبور کر دیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کےاس غیر جانبدارانہ روپے پر وہ تمام طبقات جو ہمیشہ سے آمرانہ ادوار میں مستفید ہوتے رہے ہیں اس رویہ پر غم و غصہ کا اظہار کر رہیں ہیں اور ان کا واحد ایجنڈا اسٹیبلشمنٹ کو دوبارہ غیر آئینی کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ میں لانا ہے اور اس طرح وہ اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ان حالات و واقعات کی بنیاد پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ عوام نے مجموعی طور پر عمران خان کا جھوٹ پر مبنی بینایے کو مسترد کر دیا ہے
دیکھنا یہ ہے کہ اج کی ناکامی کے بعد عمران خان پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات جو ان کی خالی کردہ نشستوں پر ہو رہیں ہیں میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں امکان ہے کہ وہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے عین موقع پر ان انتخابات کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں جس کے لئے وہ مختلف حیلے بہانے تلاش کر رہیں ہیں
0 Comments