Header Ads Widget

ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب بیان القرآن حصّہ پنجم سے اقتباس



سُورۃُ السَّجدَۃ آیات 23 تا 30

{وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖ وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾وَ جَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۲۵﴾اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا
مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَ اَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾}
آیت ۲۳ {وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ} ’’اور ہم نے موسیٰؑ کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘
 {فَلَا تَکُنۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآئِہٖٖ} ’’تو آپ کسی شک میں نہ رہیے اُس کی ملاقات سے‘‘
 یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو یہاں سلسلہ کلام کے درمیان میں آیا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں حضورﷺ کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شب معراج کے موقع پر ہونے والی ملاقات کی طرف اشارہ ہے۔ اس حوالے سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبیﷺ! شب معراج میں آپ نے موسیٰ علیہ السلام سے جو ملاقات کی تھی اس کے بارے میں آپؐ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے‘ وہ یقینا موسیٰؑ ہی تھے جو آپ کو وہاں ملے تھے۔ لیکن آیت کا زیادہ قرین قیاس مفہوم جو سیاق و سباق کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے وہ یہی ہے کہ اے نبی ﷺ !ہم نے موسیٰؑ کو تورات عطا کی تھی اور اس کتاب کا موسیٰؑ کو ملنا ہماری ہی طر ف سے تھا۔ اسی طرح آپؐ کو اس کتاب یعنی قرآن کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس بارے میں آپؐ کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ انداز بیان سمجھنے کے لیے قرآن کا وہی اسلوب ذہن میں رکھئے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہو چکا ہے کہ اکثر ایسے احکام جو حضورﷺ کو صیغۂ واحد میں مخاطب کرکے دیے جاتے ہیں وہ دراصل امت کے لیے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ میں گویا ہم سب مخاطب ہیں اور اس کا مفہوم دراصل یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم لوگوں کو اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے پہلے موسیٰؑ کو جو کتاب (تورات) ملی تھی وہ بھی انہیں اللہ ہی نے دی تھی اور محمد(ﷺ) کو اس کتاب (قرآن) کا ملنا بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ 
 {وَ جَعَلۡنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ۚ۲۳﴾} ’’اور اس (تورات) کو ہم نے بنا دیا تھا راہنمائی بنی اسرائیل کے لیے ۔‘‘
آیت ۲۴ {وَ جَعَلۡنَا مِنۡہُمۡ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ } ’’اور ہم نے ان میں سے ایسے امام اُٹھائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے‘ جب کہ انہوں نے صبر کی روش اختیار کی۔‘‘
 یعنی بنی اسرائیل کے ائمہ اور پیشواؤں کو تورات کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کے لیے صبر کی روش پر کاربند رہنا پڑتا تھا۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات کو سیکھنے اور پھر لوگوں تک پہنچانے کے لیے وقت درکار ہے جو انسانی سطح پر بذاتِ خود ایک بہت بڑی قربانی ہے ۔ دولت اور عیش و عشرت کے حصول کی حرص ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا بیشتر وقت دنیا اور اس کی آسائشوں کے حصول کے لیے صرف کر
 دے گا تو اُس کے شب وروز میں دعوت و تبلیغ اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کے لیے وقت کہاں سے آئے گا؟ چنانچہ اگر کسی کو اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے کمربستہ ہونا ہے تو صبر و استقامت کا دامن تھام کر اسے لازمی طور پر دنیا کی بہت سی آسائشوں کو خیرباد کہنا ہو گا۔ اس کے علاوہ اس راستے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے بھی صبر درکار ہے۔ کتاب اللہ کی تعلیم و تبلیغ کے حوالے سے یہ دونوں فرائض گویا بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن جب بھی کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا علمبردار بن کر نکلے گا تو لوگ اس کی مخالفت کریں گے‘ اس راہ میں اسے گالیاں بھی سننا پڑیں گی‘ جسمانی و ذہنی اذیتوں کا سامنا بھی کرنا ہو گا اور مال و جان کے نقصانات بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔ بہر حال اس راستے پر جس پہلو سے بھی کوئی جدوجہد کرے گا‘اسے قدم قدم پر ایسے سنگ ہائے میل سے سابقہ پڑے گا جو صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کے رنگا رنگ مطالبات سے عبارت ہوں گے۔
 آج قرآن کی تبلیغ و ترویج کے میدان میں یہ آیت ہمارے لیے نشانِ منزل بن سکتی ہے۔ جس انداز میں یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ’’ائمہ‘‘ کی تعریف فرمائی ہے اس کے لطیف احساس سے ہمارے دلوں میں ترغیب و تشویق کے جذبات کی نئی نئی کونپلیں پھوٹنی چاہئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بنی اسرائیل کے ان ’’ائمہ‘‘ کے کردار اور خوش نصیبی سے متعلق اپنے دلوں میں رشک پیدا کریں اور پھر اللہ سے توفیق مانگیں کہ وہ ہمیں بھی اس کام کے لیے ُچن لے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ یہ ’’رتبہ بلند‘‘ محض دعائوں اور تمناؤں کے سہارے نہیں ملا کرتا۔ اس کے لیے ہمیں صبر و استقامت اور ایثار و قناعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر عملی کوشش کرنا ہو گی۔ اپنی بہت سی خواہشات کو قربان کرنا ہو گا‘ اپنے معیارِ زندگی (living standard) کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہو گا اور یوں اپنے تبلیغی بھائیوں کے بقول ’’تفریغ الاوقات‘‘ (دینی جدوجہد کے لیے وقت نکالنا) کو ممکن بنانا ہو گا۔ 
 اس سلسلے میں ہم میں سے ہر ایک کو سنجیدہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایک دفعہ اپنا بیشتر وقت پیسہ کمانے اور معیارِ زندگی بلند کرنے کی کوششوں میں صرف کر نے کی روش کو اپنا لیا تو یوں سمجھیں کہ ہم نے خود کو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں ڈال لیا۔ یعنی خود کو ایک نام نہاد معیارِ زندگی کے ’’سراب‘‘ کو پا لینے اور پھر اس کو برقرار رکھنے کی خواہشات کا اسیر بنا لیا۔ اگر خدانخواستہ ہم نے اپنی زندگی اسی ’’دنیاداری‘‘ میں گزار دی تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایک خاص ’’معیار زندگی‘‘ کو اپنے معبود کا درجہ دے کر گویا ساری عمر اسی کی پوجا میں گزار دی ہے۔اس کے برعکس اگر ہم اللہ کی توفیق سے قرآن کا دامن مضبوطی سے تھام لیں‘ اپنی زندگی کے لیے راہنمائی صرف اور صرف قرآن سے حاصل کرنے کا تہیہ کر لیں تو اللہ کے راستے پر چلنے کے لیے ہمارے سامنے ان شا ء اللہ اسباب کے نت نئے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مسجودِملائک بنایا ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا نقطہ ٔعروج (climax) ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جب یہ عزمِ صمیم کا زادِ سفر لے کر کسی راہ پر چل پڑتا ہے تو مشکلات اس سے کنی کترا نے لگتی ہیں اور منزلیں خود آگے بڑھ کر اس کے قدم چومتی ہیں۔
 {وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۲۴﴾} ’’اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔‘‘
 بنی اسرائیل کے ائمہ جو کتاب کی تعلیم و تبلیغ میں مصروف تھے وہ صبر کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات پر پختہ یقین بھی رکھتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھنا‘ اُس کے وعدوں کو من و عن سچ ماننا اور اس پر توکل کرنا راہِ حق کی جدوجہد کی لازمی شرائط ہیں۔ 
آیت ۲۵ {اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ یَفۡصِلُ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۲۵﴾} ’’یقینا آپؐ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن اُن چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کرتے تھے۔‘‘
آیت ۲۶ {اَوَ لَمۡ یَہۡدِ لَہُمۡ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ یَمۡشُوۡنَ فِیۡ مَسٰکِنِہِمۡ ؕ} ’’کیا اس بات نے انہیں ہدایت نہ دی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں‘ جن کے مساکن میں یہ گھومتے پھرتے ہیں۔‘‘
   قریش کے قافلے اپنے سفر ِشام کے دوران میں قومِ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے تھے اور یہاں یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِہِمْ کے الفاظ میں دراصل اسی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی یہ لوگ ان بستیوں کی تباہی کی خود تصدیق کر چکے ہیں۔ 
  حال ہی میں کچھ برطانوی محققین نے بحر ِمردار (Dead Sea) کے ساحل کے ساتھ پانی کے نیچے قوم لوط کی بستیوں کے آثار کی نشان دہی کر کے اس بارے میں تورات اور قرآن کے بیانات کی تصدیق کی ہے۔ ان بستیوں کے بارے میں میرا خیال یہی تھا کہ وہ سمندر کے اندر آ چکی ہیں اور متعلقہ سمندر کو شاید Dead Sea کا نام بھی اسی لیے دیا گیا ہے کہ اس کے نیچے ان شہروں کے باسیوں کی اجتماعی قبریں ہیں۔ مستقبل میں سائنس کی ترقی کے باعث قرآن میں دی گئی اس نوعیت کی بہت سی معلومات کے حوالے سے مزید انکشافات کی بھی امید ہے۔ 
 {اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ؕ اَفَلَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۶﴾} ’’یقینا اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں!‘‘
آیت ۲۷ {اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ} ’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم پانی کو ہانک کر لے جاتے ہیں بے آب و گیاہ زمین کی طرف‘‘ 
 {فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَ اَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾} ’’پھر ہم اس سے کھیتی اُگاتے ہیں‘ جس میں سے کھاتے ہیں ان کے مویشی بھی اور یہ خود بھی۔ تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں!‘‘
آیت ۲۸ {وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾} ’’اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کب ہو گا یہ فیصلہ اگر تم سچے ہو؟‘‘
 مشرکین کا یہ سوال قیامت کے بارے میں بھی تھا اور عذاب سے متعلق بھی کہ اے مسلمانو! اگر تم لوگ اپنے دعوے میں سچے ہوتو پھر بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی یا جس عذاب کا تم ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو وہ آخر کب آئے گا؟

آیت ۲۹ {قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ } ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہو گا‘‘
 انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان لانے کا فائدہ انہیں تبھی ہو گا اگر وہ اپنی دنیوی زندگی کے دوران ایمان لائیں گے‘ جبکہ آخرت کے تمام حقائق پردۂ غیب میں چھپے ہوئے ہیں ‘لیکن جب یہ لوگ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تب ان کا ایمان لانا ان کے لیے مفید نہیں ہو گا۔ 
 { وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾} ’’اور نہ ہی (اُس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔‘‘
 آج انہیں جو مہلت ملی ہے اس میں اگر وہ توبہ کر لیں تو یہ ان کے لیے مفید ہو سکتی ہے۔ لیکن موت کے آثار ظاہر ہوتے ہی یہ مہلت ختم ہو جائے گی ۔
آیت ۳۰ {فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ وَ انۡتَظِرۡ اِنَّہُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾} ’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان سے اعراض فرمائیں اور انتظار کریں‘یہ بھی انتظار ہی کر رہے ہیں۔‘‘
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایّاکم بالآیات والذِّکر الحکیم
 

Post a Comment

0 Comments