ماضی کے جھروکوں سے
جولائی 10، 2022 ( دو برس قبل لکھا گیا مضمون )
تحریر: ممتاز ہاشمی
پاکستان کے قیام کے بعد ملکی سیاسی ماحول انتہائی خوشگوار اور عزت و احترام پر مبنی تھا اس کی بنیادی وجہ صرف سیاسی جماعتوں اور قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کے ذاتی کردار ہی نہیں تھا بلکہ معاشرے میں لالچ کی غیر موجودگی اور خاندانوں کے بزرگوں کی تربیت کا بہت حصہ تھا۔
اس معاشرے میں اخلاقی اقدار کی پامالی اور گراوٹ کا آغاز ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور سے شروع ہوتا ہے جب اس نے محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں انتہائی جھوٹے الزامات لگائے گئے اگرچہ اس وقت معاشرے کے تمام طبقات نے ایوب خان کی شدید مذمت کی مگر کھچ مفادات پرست لوگ اس میں شامل رہے اور اس طرح انہوں نے ذاتی مفادات حاصل کیے اور اس طرح مشہور زمانہ 22 خاندانوں کا وجود عمل میں آیا جو ملک کے تمام وسائل کے مالک بن گئے اور عام آدمی کے لئے کچھ نہیں چھوڑا اسی بناء پر صوبائیت کا فروغ ہوا اور چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی نے جنم لیا جو آخرکار اس فوجی آمریت کے تسلسل میں پاکستان کے دولخت ہوئے اور بنگلہ دیش کے وجود کی صورت میں ظاہر ہوا۔
اس کے بعد ہر زمانے میں معاشرے میں یہ بدتہذیبی کا فروغ لالچ اور موقع پرستی کیے بڑھتے رحجانات کی طرح ہوتا رہا۔ اور اس میں اہم کردار ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اقتدار میں قبضے کی ہوس اور اس کے لیے سیاسی قوتوں کا استعمال شامل ہے۔
اسی کی دہائی کے آخرمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف غیر اخلاقی مہم میں بھی اسٹیبلشمنٹ کا واضح ثبوت ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی سے حسین حقانی کو منتخب کیا جو مسلم لیگ میں شامل ہو کر اس غیر اخلاقی مہم کے اہم کردار تھے بعد میں اسی شخص کو اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی میں شامل کرایا اور آخرکار وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سے نکل کر دوسروں کے پاس چلا گیا۔
اسی وقت اسٹیبلشمنٹ نے سندھ کے شہری علاقوں میں ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں لایا جو کہ ایم کیو ایم کے نام سے جانی جاتی ہے اس کا واحد مقصد ملک میں سیاسی قوتوں کو کمزور کرنا تھا تاکہ عوام ان غیر قانونی قوتوں کے خلاف متحد نہ ہو سکے۔ اس جماعت کو مکمل سرپرستی کے علاوہ کھلی چھوٹ دی گئی اور اس کے نتائج کے طور پر ملک کے ایک اہم اورپڑھے لکھے طبقے کو تمام غیر اخلاقی اور بر تہذیبی میں مبتلا کر دیا جس کے نقصانات کو دوسری نسل بھگت رہی ہیں
اس بدتہذیبی اور اخلاقی گراوٹ کا عروج آج سے بارہ برس پہلے اس وقت شروع ہوا جب اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو لانچ کیا۔ اور یہ بڑھتے بڑھتے اج معاشرے میں ناسور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان کے جواب میں دوسری جماعتوں میں بھی یہی رحجانات بڑھنے میں دیکھا گیا ہے
ایم کیو ایم کی وجہ سے جو اخلاقی گراوٹ صرف چند جگہوں تک محدود تھی وہ آج عمران خان نے پورے ملک میں پھیلا دیا ہے اور ہر آنے والے دنوں میں اس اخلاقی گراوٹ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سب سے خطرناک اور مایوس کن بات یہ ہے کہ آج اس اخلاقی گراوٹ میں صنف نازک کا زیادہ حصہ ہے
کچھ عرصہ پہلے اگر کہیں رشتہ طے کرنا ہوتا تھا تو عام طور پر اس بات کی تصدیق کی جاتی تھی کہ کہیں لڑکا این کیو ایم کے جرائم اور غیر اخلاقی اقدام میں تو ملوث نہیں ہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ لوگ رشتہ کرنے سے پہلے اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ کہیں لڑکی پی ٹی آئی سے تعلق تو نہیں رکھتی ہے
یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور ہمارے عمل اسلام کی بنیادی اقدار کے صریحا خلاف ہیں
اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور ان اخلاقی گراوٹ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

0 Comments