سُورۃُ السَّجدَۃ آیات 15 تا 22
{اِاِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ۫ وَّ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا
یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫ نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾ }
آیت ۱۵ {اِنَّمَا یُؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡا بِہَا} ’’ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے تو وہی لوگ ہیں کہ جب ان کے ذریعے انہیں نصیحت کی جاتی ہے‘‘
{خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوۡا بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ ہُمۡ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ٛ۱۵﴾} ’’تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘
آیت ۱۶ {تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ} ’’(راتوں کو) ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ‘‘
سورۃ الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کے اس خاص معمول کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے: {وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾} ’’اور وہ لوگ راتیں بسر کرتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے‘‘۔ یعنی ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو ساری ساری رات غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کے یہ بندے ہیں جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں‘ کبھی اس کے حضور قیام کر کے اور کبھی سجدے میں گر کر۔
{یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ۫ } ’’وہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں خوف اور امید کی کیفیت میں‘‘
ایک طرف تو وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بارے میں ُپر امید ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنی کوتاہیوں پر پکڑے جانے کا خوف بھی انہیں لاحق رہتا ہے۔
{وَّ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۱۶﴾} ’’اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (ہماری رضا جوئی کے لیے ) خرچ کرتے ہیں۔‘‘
آیت ۱۷ {فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ} ’’تو کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔‘‘
آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر عمومی طور پر قرآن میں ملتا ہے اور جن کے بارے میں ہم کسی حد تک اندازہ بھی کر سکتے ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمانی (نُزُل) سے ہے‘ جبکہ جنت کی اصل نعمتوں کا نہ تو کسی کو علم ہے اور نہ ہی ان کا تصور انسانی فہم و ادراک میں آ سکتا ہے۔ اس آیت کی وضاحت حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ)) (۱)
’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اپنے صالح بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھاہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا گمان ہی گزرا۔ (پھر آپﷺ نے فرمایا:) اگر تم چاہو تویہ آیت پڑھ لو : ’’پس کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ ان(اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کررکھاگیاہے۔‘‘
{جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾} ’’اُن کے اعمال کے بدلے کے طور پر۔‘‘
آیت ۱۸ {اَفَمَنۡ کَانَ مُؤۡمِنًا کَمَنۡ کَانَ فَاسِقًا ؕؔ لَا یَسۡتَوٗنَ ﴿۱۸﴾} ’’تو بھلا جو کوئی مؤمن ہے کیا وہ اُس کی مانند ہو جائے گا جو فاسق ہے!وہ (دونوں) ہرگز برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘
آیت ۱۹ {اَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ جَنّٰتُ الۡمَاۡوٰی ۫} ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ان کے لیے باغات ہیں ٹھکانے کے طور پر۔‘‘
{نُزُلًۢا بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۹﴾} ’’ابتدائی مہمان نوازی کے طور پر ‘ ان کے اعمال کے بدلے میں۔‘‘
لغوی اعتبار سے ’’نُزُل‘‘ کا تعلق نازل ہونے یا اترنے سے ہے۔ جوکوئی مہمان آپ کے دروازے پر آیا اور اپنی سواری سے اترا وہ ’’نَزِیل‘‘ ہے اور آپ نے موسم اور رواج کے مطابق فوری طور پر جو کچھ اس کو پیش کیا وہ نُزُل (ابتدائی مہمان نوازی)ہے ۔ جبکہ باقاعدہ مہمان نوازی کے لیے لفظ ’’ضیافت‘‘ استعمال ہوتا ہے جو نُزُل کے بعد کا مرحلہ ہے۔ ضیافت کا لفظ ’’ضیف‘‘ (مہمان) سے بنا ہے۔یعنی جب آپ اپنے مہمان کے لیے باقاعدہ قیام کا بندوبست کریں گے اوراس کے آرام و طعام کا اہتمام کریں گے‘ تب وہ ’’ضیف‘‘ کے درجے میں آئے گا ۔اس مرحلے میں آپ اس کی مہمان نوازی کے لیے جو خاطر مدارات کریں گے وہ ’’ضیافت‘‘ کہلائے گی۔ چنانچہ آخرت کے حوالے سے جن باغوں اور نعمتوں کا ذکر قرآن میں عمومی طور پر آیا ہے ان کا درجہ دراصل اہل جنت کے لیے نُزُل(ابتدائی مہمان نوازی) کا ہے‘ جبکہ ان کی اصل ضیافت اس کے بعد ہو گی۔ اس ضیافت کے دوران جو نعمتیں اور آسائشیں اہل جنت کو مہیا کی جائیں گی ان کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔جیسا کہ ابھی حدیث بیان ہوئی ہے۔
آیت ۲۰ {وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰىہُمُ النَّارُ ؕ} ’’اور جن لوگوں نے نافرمانی کی اُن کا ٹھکانہ آگ ہے۔‘‘
{کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا} ’’جب بھی وہ اس میں سے نکلنا چاہیں گے تو انہیں اسی میں لوٹا دیا جائے گا ‘‘ ____________________________ (۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا‘ باب۔ یہ حدیث بخاری و مسلم اور صحاح ستہ کی دیگر کتب کے متعدد ابواب میں بیان ہوئی ہے۔
{وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۰﴾} ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب مزہ اس آگ کے عذاب کا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
آیت ۲۱ {وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾} ’’اور ہم لازماً چکھائیں گے انہیں مزہ چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے‘ شاید کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔‘‘
اس آیت کی سورۃ الروم کی آیت ۴۱ کے ساتھ خاص مناسبت ہے: {ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ لِیُذِیۡقَہُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۱﴾} ’’بحر و بر میں فساد رونما ہوچکا ہے لوگوں کے اعمال کے سبب ‘تا کہ اللہ انہیں مزہ چکھائے ان کے بعض اعمال کا‘تا کہ وہ لوٹ آئیں۔‘‘
دونوں آیات کے مضمون کا تعلق دراصل اللہ تعالیٰ کے اس انتہائی اہم قانون سے ہے جس کے تحت دنیا میں لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ان پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں خبردار کرنا ہو تا ہے کہ شاید اس طرح وہ خوابِ غفلت سے جاگ کر توبہ کی روش اپنا لیں اور بڑے عذاب سے بچ جائیں۔ اس قانونِ الٰہی کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ۔ مثلاًسورۃ الانعام میں اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا: {وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾} ’’اور ہم نے بھیجا (دوسری)امتوں کی طرف بھی آپؐ سے قبل (رسولوں کو) ‘پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے ‘ شاید کہ وہ عاجزی کریں‘‘۔ اسی طرح سورۃ الاعراف میں اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ اس قانون کی یوں وضاحت کی گئی : {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾} ’’اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اس کے بسنے والو ں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تاکہ وہ گڑ گڑائیں ( اور ان میں عاجزی پیدا ہو جائے )۔‘‘
آیت ۲۲ {وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ } ’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اُس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی مگر پھر بھی اس نے اعراض کیا۔‘‘
اگر کوئی شخص کسی عام نصیحت کی پروا نہ کرے اور کسی شخصی فلسفہ ومنطق کو ٹھکرا دے تو اور بات ہے ‘چہ جائیکہ کوئی بدنصیب اللہ کی آیات پر مبنی تذکیر و نصیحت کو نظر انداز کر دے۔
{اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾} ’’یقینا ہم ایسے مجرموں سے انتقام لے کر رہیں گے۔‘‘

0 Comments