سُورۃُ الرُّوم آیات 54 تا 60
{اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ ضُؔعۡفًا وَّ شَیۡبَۃً ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡقَدِیۡرُ ﴿۵۴﴾وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ۙ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۵۵﴾وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡم
وَ الۡاِیۡمَانَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوۡمِ الۡبَعۡثِ ۫ فَہٰذَا یَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَ لٰکِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۶﴾فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۵۷﴾وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ لَئِنۡ جِئۡتَہُمۡ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۹﴾فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لَا یَسۡتَخِفَّنَّکَ الَّذِیۡنَ لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾}
آیت ۵۴ {اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ} ’’اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا کمزوری سے‘‘
یعنی انسان کا بچہ اپنی پیدائش کے وقت بہت کمزور ہوتا ہے۔
{ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّۃً} ’’پھر اُس نے طاقت عطاکی کمزوری کے بعد‘‘
پھر اللہ کی قدرت اور مشیت سے وہی ناتواں بچہ بڑا ہو کر کڑیل جوان بن جاتا ہے۔
{ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ ضُؔعۡفًا وَّ شَیۡبَۃً ؕ } ’’پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا طاری کر دیا۔‘‘
پھر رفتہ رفتہ انسان کی تمام صلاحیتیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں اور بڑھاپے میں ایک دفعہ پھر انسان کمزوری اور بے بسی کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔
{یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡقَدِیۡرُ ﴿۵۴﴾} ’’وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتاہے ‘اور وہ سب کچھ جاننے والا ‘بہت قدرت والا ہے۔‘‘
آیت ۵۵ {وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُقۡسِمُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۬ۙ مَا لَبِثُوۡا غَیۡرَ سَاعَۃٍ ؕ} ’’اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرمین قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔‘‘
کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے۔
{کَذٰلِکَ کَانُوۡا یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۵۵﴾} ’’اسی طرح وہ (دُنیا میں بھی) اُلٹے پھرائے جاتے رہے ہیں۔‘‘
جس طرح وہ لوگ روز قیامت اپنی زندگی کے دورانیے کے بارے میں انتہائی غیر معقول بات کریں گے بالکل ایسے ہی دنیا میں بھی ان کی سوچ اور فکر حقیقت سے بہت دور تھی۔
آیت ۵۶ {وَ قَالَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَ الۡاِیۡمَانَ لَقَدۡ لَبِثۡتُمۡ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوۡمِ الۡبَعۡثِ ۫} ’’اور (اُس وقت) کہیں گے وہ لوگ جنہیں علم اور ایمان عطا کیا گیا تھا کہ تم ٹھہرے ہو اللہ کے فیصلے کے مطابق دوبارہ اٹھنے کے دن تک۔‘‘
تب اہل علم اور صاحب ایمان لوگ انہیں بتائیں گے کہ اے بدبختو! تم جسے ایک گھڑی کہہ رہے ہووہ دراصل عالم برزخ کا طویل عرصہ تھا جو اللہ کے فیصلے کے مطابق تم پر گزرا۔ ظاہر ہے ایک شخص اگر آج سے پانچ ہزار سال قبل فوت ہو اتھا تو آج تک وہ عالم برزخ میں ہی ہے اور نہ معلوم قیامت تک اور کتنا عرصہ وہ مزید وہاں رہے گا۔ اور یومِ بعث کب آئے گا؟اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے ۔چنانچہ انہیں بتایا جائے گا کہ تم لوگ اللہ کے حساب اور اس کے
فیصلے کے مطابق یومِ بعث تک وہاں رہے ہو۔
{فَہٰذَا یَوۡمُ الۡبَعۡثِ وَ لٰکِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۶﴾} ’’تو یہ ہے یومِ بعث ‘لیکن تم لوگ تو علم ہی نہیں رکھتے تھے۔‘‘
ابھی تمہاری آنکھ کھلی ہے توتم یوم بعث کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو‘مگر دنیا میں تو تم لوگوں نے آخرت کی زندگی اور اس دن کے بارے میں کبھی غور کرنا پسند ہی نہیں کیا تھا۔
آیت ۵۷ {فَیَوۡمَئِذٍ لَّا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَعۡذِرَتُہُمۡ} ’’تو آج کے دن کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی ظالم لوگوں کو ان کی معذرت‘‘
جن لوگوں نے دنیا میں گناہ کی زندگی بسر کی اور ساری عمر ظلم و زیادتی کا رویہ اپنائے رکھا‘قیامت کے دن ان کا معذرت کرنا‘بہانے بنانا اور معافیاں مانگنا کام نہیں آئے گا۔
{وَ لَا ہُمۡ یُسۡتَعۡتَبُوۡنَ ﴿۵۷﴾} ’’اور نہ ہی انہیں توبہ کا موقع دیا جائے گا۔‘‘
دنیا میں ہر شخص کے لیے موت کے آثار ظاہر ہونے تک (مَا لَمْ یُغَرْ غِرْ) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور جو لوگ اپنی دُنیوی زندگی میں اس موقع سے فائدہ نہ اٹھائیں ‘قیامت کے دن انہیں یہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔
آیت ۵۸ {وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ} ’’اورہم نے تو لوگوں کے لیے قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کر دی ہیں۔‘‘
؏’’اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں!‘‘ کے مصداق قرآن میں اللہ کا پیغام ہر پہلو سے لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے اور ہر انداز سے حقیقت ان پر واضح کر دی گئی ہے۔
{وَ لَئِنۡ جِئۡتَہُمۡ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾ } ’’اور اگر آپ لے آئیں ان کے پاس کوئی بھی نشانی تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہ نہیں ہو تم لوگ مگر جھوٹ گھڑنے والے۔‘‘
اگر آپؐ ان لوگوں کو کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو یہ اسے بھی جادو قرار دے کر الٹا آپؐ پر جھوٹ کا بہتان لگادیں گے۔
آیت ۵۹ {کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۹﴾} ’’اسی طرح اللہ مہر لگا دیا کرتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو علم نہیں رکھتے۔‘‘
آیت ۶۰ {فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ’’تو (اے نبیﷺ!) آپ صبر کیجیے‘بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘
جیسا کہ قبل ازیں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن میں بہت سے مقامات پر صیغہ واحد میں حضورﷺ سے خطاب کیا گیا ہے مگر دراصل آپؐ کی وساطت سے تمام اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اہل ِ ایمان کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھو اور ہر حال میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہو۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور بالآخر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا ۔جہاں تک تمہارے موجودہ حالات اور مصائب و
مشکلات کا تعلق ہے تو یہ تمہارے امتحان کا حصہ ہیں : {اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتۡرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَ ہُمۡ لَا یُفۡتَنُوۡنَ ﴿۲﴾} ( العنکبوت) ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا؟‘‘اس سلسلے میں ہمارا قانون بہت واضح ہے: {وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ} ( البقرۃ:۱۵۵) ’’ اور ہم ضرور آزمائیں گے تم لوگوں کو کسی قدر خوف ‘بھوک اور مال و جان اور پھلوں کے نقصانات سے‘‘۔ چنانچہ اے مسلمانو! ہمت سے کام لو ؏ ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!‘‘ اگر تم لوگ ان امتحانات میں سرخروہو گئے تو اللہ کے وعدے کے مطابق کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔
{وَّ لَا یَسۡتَخِفَّنَّکَ الَّذِیۡنَ لَا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾} ’’اور آپؐ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔‘‘
اگرچہ یہ خطاب بھی صیغہ واحد میں حضورﷺ سے ہے مگر یہاں بھی اہل ایمان کی تثبیت ِقلبی مقصود ہے کہ اے مسلمانو! ایسا نہ ہوکہ مخالفین کے دباؤ کی وجہ سے تمہارے پاؤں میں لغزش آ جائے ا ور انہیں تمہارے بارے میں یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ لوگ تو کمزور اور بودے ثابت ہوئے ہیں۔ چنانچہ تم اپنے موقف پر کوہِ ہمالیہ کی طرح ڈٹے رہو۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس کے راستے میں اپنا تن من اور دھن کھپانے کی حکمت عملی بدستور اپنائے رکھو۔ اللہ کی مدد اس راستے میں ضرور تمہارے شامل حال رہے گی اور اللہ تمام مشکلات کو دور کر کے تمہیں لازماًکامیاب کرے گا ‘دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی!
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم
0 Comments