Header Ads Widget

اگست 13، 2022 کو منعقدہ دو مختلف اجتماعات کا تقابلی جائزہ ماضی کے جھروکوں سے


تحریر: ممتاز ہاشمی 

کل پاکستان کی تاریخ میں دو مختلف اجتماعات منعقد ہوے اور دونوں پاکستان کے بڑے شہروں میں ہوے ایک پی ٹی آئی کا جلسہ لاہور میں منعقد ہوا اور دوسرا تحریک لبیک کا راولپنڈی اسلام آباد میں ہوا۔ یہ دونوں اجتماعات ایک ہی وقت میں منعقد ہونے۔ ان دونوں اجتماعات کا ایک تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے 
لاہور میں ہونے والا پی ٹی آئی کے جلسہ کا بہت پہلے اعلان کیا گیا تھا اور تمام میڈیا پورا ہفتہ اس کی تشہیر میں مصروف رہا اور پی ٹی آئی کی طرف سے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ یہ جلسہ تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا گویا کہ پاکستان کے ماضی کے تمام جلسوں کا ریکارڈ جن میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی تھی اور اس میں عمران خان سب سے اہم اعلان کریں گے اس جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے پنجاب اور کے پی کے حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا تمام میڈیا اس کی سارا دن لائیو کوریج کرنے میں مصروف رہا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ میڈیا اسلام آباد میں ٹریفک کے نظام میں تبدیلی کی خبریں دیتا رہا لیکن عوام کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کی وجہ تحریک لبیک کے جلوسوں کی آمد ہے۔ یہ میڈیا کے کردار پر انتہائی بدنما داغ ہے میڈیا کا کام بغیر کسی تعصب کے ہر ایونٹ کی مناسب کوریج کرنا ہے ناکہ اپنی پسند اور ناپسند کو لوگوں پر مسلط کرتے ہوئے لوگوں کو ایک بہت بڑے ایونٹ سے مکمل طور پر لاعلم رکھنا ہے اس روش سے میڈیا اپنا اعتماد کھو سکتا ہے اس لیے اس کو آئندہ ہر معاملے میں تمام جماعتوں کو ان کی حیثیت کے مطابق مناسب کوریج دینی چاہئے 

اس کے برعکس تحریک لبیک کے اجتماع کا شاید ہی کسی کو علم ہو۔کسی بھی میڈیا نے نہ پی اس کی خبر دی اور نہ ہی اس کی چند سیکنڈ کوریج کی۔ تحریک لبیک نے تمام تو اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس عظیم الشان اجتماع کو منعقد کیا۔




دونوں اجتماعات میں عوام کی شرکت کم و بیش برابر کی کئی جاسکتی ہے۔ جبکہ تحریک لبیک کے اجتماع میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی جبکہ پی ٹی آئی کے جلسے میں ایک بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں اس طرح اگر تحریک لبیک کی خاتون اراکین کا بھی اندازہ ذہن میں رکھیں تو ان کا اجتماع بڑا کہا جاسکتا ہے 

یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ گزشتہ انتخابات میں تحریک لبیک پنجاب میں تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی جبکہ دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی تھی اور جس طرح سے اس کو دوسرے نمبر پر لایا گیا تھا اس کو دوبارہ سے تذکرہ کرتے کی ضرورت نہیں ہے اور ہر زی ہوش پاکستانی اس بات کا ادراک رکھتا ہے۔
اس کے بعد تحریک لبیک نے مزید تقویت حاصل کی ہے اور عمران خان کے دور میں ریاستی تشدد کا بھرپور مقابلہ کیا ہے جس سے اس کی تنظیمی صلاحیتوں اور قابلیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور اب وہ پورے ملک میں ایک اہم سیاسی قوت کا درجہ رکھتی ہے 
عمران خان کے جلسے میں کوئی بھی نہی بات نہیں کی گئی سواے اس کے کہ وہ مزید جلسے کرے گا یا پھر اپنے آپ کو قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کی جس کے لیے وہ مقتدر اداروں کو پیغام دینا تھا۔ 
جبکہ تحریک لبیک نے اپنے منشور جو کہ اسلام کے فلاحی ریاست کے تصور کے مطابق ہے اس کو عوام میں پہنچانے میں سرگرم ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت اور اس کے حمایتیوں کا تعلق غریب اور متوسط طبقات سے ہے جو کہ ہماری سیاسی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے
اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ آئندہ انتخابات میں تحریک لبیک ایک اہم سیاسی قوت بن کر ابھرے گئی اور ایک صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت بن کر حکمرانوں کو راہ راست پر رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی 
یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ آج ملک کی دینی جماعتوں میں ایک بہت بڑا اضافہ ہوا ہے اور آئندہ اس کا کردار ملک میں نظام کی درستگی کے لیے ایک اہم کردار ہو گا

Post a Comment

0 Comments