ماضی کے جھروکوں سے
جنوری 10، 2023
تحریر: ممتاز ہاشمی
بلدیاتی انتخابات کا انعقاد 15 جنوری کو یقینی طور پربب ہونا طے پا گیا ہے ان انتخابات میں حصہ لینے والی مختلف جماعتوں کے امکانات کا جائزہ لینے سے پہلے کراچی کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
انگریز کے دور اقتدار میں اس خو سب سے زیادہ مزاحمت سندھ میں ملی اور اسی بناء پر وہ سندھ میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی منصوبوں پر کام نہ کرسکا۔ اگرچہ پورے ہندوستان میں برطانوی راج نے جو بھی ترقیاتی منصوبوں مکمل کیے وہ وہاں کے عوام کی ہمدردی میں نہیں کئے بلکہ ان کا واحد مقصد ان منصوبوں کی تکمیل اپنے من پسند تخمینوں کی بنیاد پر انتہائی مہنگے داموں میں کر کے ہندوستان کی دولت کو برطانیہ منتقل کرنا تھا۔
آزادی سے پہلے کراچی کی ترقی کا سارا سہرا مقامی لوگوں کو جاتا ہے جن میں سندھی, ہندو اور پارسیوں کا نمایاں کردار ہے آج بھی ان کے قائم کردہ تعلیمی، اور دیگر رفاہی ادارے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس وقت کراچی کی آبادی ساڑھے چار لاکھ تھی جن کی اکثریت سندھی، بلوچی، پارسی، کرسچین وغیرہ پر مشتمل تھی۔
اس زمانے میں اور آزادی کے بعد بھی کراچی کے میئر زیادہ تر پارسیوں یا سندھی رہے ہیں اور انہوں نے انتہائی محنت سے کراچی کو ایک مثالی ترقی یافتہ شہر بنایا تھا۔ اس ترقی میں ہندوستان کی اسوقت کی دنیا کے مقابلے میں زیادہ وسائل اور خوشحالی کا بھی اہم کردار ہے۔
اس کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی موجودگی کی بناء پر پاکستان بننے کے بعد کراچی کو اس کا دارالحکومت بنایا گیا تھا جب ہندوستان سے مسلمانوں کی ہجرت شروع ہوئی تو بہت زیادہ لوگوں نے کراچی کا رخ کیا۔ جس کی وجہ یہاں پر موجود انفراسٹرکچر اور پورٹ کی سہولت اور زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی محرکات تھے۔
اس بناء پر کراچی پر آبادی کا بوجھ بڑھتا گیا اور کیونکہ سول اور ملٹری بیوروکریسی کا بھی اسی شہر میں رہنا لازم تھا اسلئے یہ ملکی سیاست کا بھی مرکز بن گیا اور تمام تر معاملات میں نئی مملکت کو سیاسی طور پر مستحکم ہونے سے روکنے کی سازشوں کا بھی مرکز بھی کراچی بن گیا۔
ان حالات میں دن بدن اس کی آبادی میں اضافہ ہوا۔ مگر ریاستی مشینری اس کی منصوبہ بندی اور آبادی کی اس پیمانے پر منتقلی کو روکنے کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دینے میں ناکام رہیں۔ شہر کی بلدیہ اور ترقیاتی ادارے اپنا کام مناسب انداز میں نہیں کر سکے۔ اور صرف ایک محدود دائر کار میں ہی مصروف عمل رہے اور شہر کے لیے کوئی بہتر ماسٹر پلان اور ترجیحات میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
اس بے ہنگم آبادی کے بڑھنے میں بنیادی کردار ہماری مفاد پرست سرمایہ داروں کا ہے جنہوں نے ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں انڈسٹریل ڈولپمنٹ کی بجائے کراچی خو ترجیح دی جس کی بنیادی وجہ اس کے انفراسٹرکچر اور پورٹ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ منافع کا حصول تھا۔ اس کو صرف ایک مثال سے واضح طور سمجھا جا سکتا ہے کراچی میں انڈسٹری کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پر مشتمل ہے جب کی کاٹن کی پیداوار اس کے قریب نہ تھی اگر یہی انڈسٹری کاٹن کی پیداوار کرنے والے علاقوں کے نزدیک کی جاتی تو اس سے مقامی طور لوگوں کو روزگار فراہم ہوتا اور کراچی کی طرف نقل مکانی کو کافی حد تک روکا جا سکتا تھا۔ دوسرے اس سے پسماندہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی ترقی کا راستہ کھلا جاتا۔
مگر کیونکہ ان معاملات میں مکمل کوتاہی کی گئی اسلئے کراچی میں آبادی میں اضافہ کا تناسب ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت دوگنا یا اس سے بھی زیادہ رہا۔ ان انڈسٹریل ڈولپمنٹ کے ساتھ ساتھ ہی مزدوروں یعنی غریبوں کی آبادکاری شروع ہو گئی جو کہ ساہیٹ انڈسٹریل ایریا اور کورنگی انڈسٹریل ایریا سے ملحقہ علاقوں میں کچی آبادیوں کی صورت میں نمایاں ہوئیں۔ ان آبادیوں میں اکثریت کا تعلق کے پی کے اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں سے تھا ۔
مختلف زمانوں نے حکومتوں نے اس آبادی میں اضافہ کو روکنے کے لیے مختلف اسکیموں کا اعلان کیا۔ جس میں نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ اور حب انڈسٹریل اسٹیٹ انتہائی اہمیت کی حامل اسکیموں میں شمار ہوتی ہیں اس میں حکومتوں نے مختلف مراعات فراہم کی تاکہ وہاں پر روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں اور اس طرح آبادی کا کراچی کی طرف سیلاب رک سکے۔ مگر سرمایہ کاروں نے ان تمام مراعات سے فائدہ اٹھایا۔ ان اسکیموں کے نام پر ٹیکس فری مشینری درآمد کی کم شرح پر قرضے حاصل کیے اور زمین انفراسٹرکچر کے ساتھ تقریباً مفت میں فراہم کی گئی۔ ان تمام سہولیات سے سرمایہ کاروں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ٹیکس فری زون کے نام پر بہت سے گھپلے کئے۔ ان تمام فوائد کے حصول کے بعد مختلف بہانوں کا سہارا لے کر ان اسکیموں کو ناکام بنایا اور مشینری کو مختلف حکومتی ادارے کو رشوت دیکر وہاں سے کراچی منتقل کر دیا گیا اس طرح پاکستان کی قومی دولت کو بے پناہ نقصان پہنچایا اور اس حرام مال سامنے کاروبار میں مزید اضافہ کیا۔ مگر اس کا نقصان پاکستان اور کراچی کے عوام کو برداشت کرنا پڑا۔جس کی وجہ سے شہر کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گیا۔
اسطرح کراچی میں آبادی کی اکثریت کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہو گئی کیونکہ نہ ہی سرمایہ کاروں نے اور نہ ہی شہر کے بلدیاتی و ترقیاتی اداروں نے اس کی طرف کوئی توجہ دی۔ بلکہ یہ ادارے صرف ایک محدود آبادیوں کو ہی سہولیات کی فراہمی تک محدود رہے۔
اس بے ہنگم اور بغیر پلاننگ کے تحت وجود میں آنے والی آبادیوں کی وجہ سے شہر کے انفراسٹرکچر پر بہت بوجھ ڈالا۔
اب شہر کی آبادی کی تقسیم واضح طور پر طبقاتی تقسیم میں تبدیل ہو گئی شہر کے مرکزی علاقے جو کہ اپر اور میڈل کلاس کے لیے مخصوص ہو گئے اور مضافاتی علاقے لوئر مڈل اور غریب لوگوں کے لیے۔
اس تقسیم کے سیاسی مضمرات اور اثرات بھی واضح طور پر محسوس ہوے اور آج بھی یہ ایک حقیقت ہے۔
پاکستان کی آزادی کے بعد کیونکہ دنیا بھر میں سیاسی میدان میں دو واضح گروپ سامنے آ چکے تھے اس کے اثرات پاکستان اور کراچی میں بھی واضح طور پر نظر آنے لگے۔ شہر میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی سیاست کو فروغ ملا۔ جس میں طبا اور مزدوروں کا اہم کردار تھا۔ مارشل لاء نافذ ہونے کے بعد بائیں بازو نے آمریت کے خلاف اور جمہوریت اور مساوات کے لیے تحریکیں شروع کی جن کو آمریت نے ریاستی وسائل سے کچلنے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر یہ تحریک مزید مضبوط ہوتی گئی۔
اسی دوران دائیں بازو کی سب سے مضبوط قوت جماعت اسلامی نے اس دور میں ختم نبوت کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا اور مولانا مودودی کو گرفتار کرنے کے بعد سزا سنا دی گئی اور اس کے خلاف ردعمل کے بعد حکومت کو مولانا مودودی کو رہا کرنا پڑا۔ اس مرحلے پر جماعت اسلامی کی بیوروکریسی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے قائم ہوے اور اس کے نتیجے میں دونوں نے ایک دوسرے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے پر راضی ہوئے۔ اس دن کے بعد آج تک جماعت اسلامی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ایک بغل بچہ، کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہی ہے۔
اس معاہدے کے بعد جماعت اسلامی کو کراچی میں اپنے آپ کو حاوی کرنے کے لیے کھلی چھوٹ مل گئی اور اس نے تعلیمی اداروں میں دہشت گرد گروپ اپنی طلباء تنظیم کے اندر قائم کیا جس کو تھنڈر اسکوڈ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ اسطرح سے آمریت نے جمہوریت اور آزادی کی تحریکوں کو جن کے قیادت مڈل کلاس کے طلباء کرتے تھے ان کو کچلنے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ پاکستان اور کراچی میں سیاست میں تشدد کی بنیاد جماعت اسلامی ہی نے رکھی۔
اس طرح سے کراچی کی سیاسی تقسیم بھی واضح ہو کر 1970 کے انتخابات میں سامنے آئی۔ جس کے مطابق کراچی کے سنٹرل، شرقی ، نارتھ اور جزوی طور پر جنوبی علاقوں پر دائیں بازو کا قبضہ ہو گیا اور شہر کی مغربی، جزوی شرقی و جنوبی علاقوں میں پیپلزپارٹی کو پذیرائی ملی۔
اس طرح سے کراچی کی سیاسی تقسیم واضح طور پر طبقاتی تقسیم میں سامنے آئی۔ اس کے بعد 1977 کی پر تشدد تحریک جو کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر شروع کی گئی تھی اس کا مرکز بھی کراچی تھا اور اس کی قیادت جماعت اسلامی کے پاس تھی یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ کراچی کی تمام سیٹیں ماسوائے مضافاتی علاقوں کی دو سیٹوں کے جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے جیتیں تھیں مگر اس کے باوجود دھندلی کے الزامات کے تحت یہ تحریک کراچی سے شروع کی گئی جس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سرپرستی حاصل تھی اور جب اس میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی تو اس کو نظام مصطفٰی کا نام دے دیا گیا اسطرح جماعت اسلامی نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسلام کے نام کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کراچی کے عوام کو گمراہ کیا۔ اگرچہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئی اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا مگر اس نے جماعت اسلامی کا بھیانک چہرہ عیاں کر دیا تھا۔ اسلئے اب ملٹری اسٹیبلشمنٹ جماعت اسلامی پر انحصار نہیں کر سکتی تھی اسلئے نئے منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔
اس دوران میں بھی کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں میئر جماعت اسلامی کا تو ڈپٹی میئر پیپلز پارٹی کا منتخب ہوئے جو اس سیاسی تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔
اس دفعہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے جو منصوبہ بنایا وہ پاکستان اور کراچی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا۔ اس نے کراچی کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے مہاجر قومی موومنٹ کو قائم کیا جس کا واحد مقصد ملک اور کراچی میں عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے کسی بھی قومی تحریک کو روکنا اور اسطرح سے ملٹری ڈکٹیٹر شپ کو تحفظ فراہم کرنا تھا ۔ اس جماعت کے قیام کے بعد وہ تمام عناصر اور علاقے جو جماعت اسلامی کے گڑھ تھے وہ اس لسانی جماعت کے حوالے کر دیے گئے اور جماعت اسلامی کے تربیت یافتہ تھنڈر اسکوڈ نے اس لسانی جماعت میں نمایاں حیثیت اختیار کر لی اور کراچی کو بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے نہ ختم ہونے والے دور کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے ساتھ ہی ان مضافاتی علاقوں میں جہاں پر دوسری پارٹیوں کی اکثریت تھی وہاں پر بھی ردعمل کے طور پر لسانی بنیادوں پر تنظیموں نے جہنم لینا شروع ہو گیا۔ اور شہر بدترین فسادات اور تشدد کی زر میں آگیا جو کہ ایک طویل عرصے تک جاری رہا۔
اور اسطرح اب جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کا کام جماعت اسلامی کے بجائے ایم کیو ایم کو سونپ دیا گیا اور اس نے اس کو بخوبی انجام دیا۔
اسی دوران ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ایم کیو ایم کے درمیان کچھ معاملات میں اختلافات بھی پیدا ہوے اور اس کے اظہار کے لئے اس کے اندر دوسرے گروپ بھی پیدا کئے گئے۔ اور آخرکار جب اب ان سے بھی ایک طویل عرصے تک کام لینے کے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی اور دوبارہ سے کراچی کے عوام کو استعمال کرنے کے لیے پی ٹی آئی پر ہاتھ رکھا۔
اسطرح سے اب کراچی میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پیدا کردہ تین جماعتیں موجود ہیں جن کا ووٹ تقریباً ان مشترکہ علاقوں میں ہے جہاں پر وہ ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں
یہ تقسیم آج بھی حقیقت ہے مگر اس میں کچھ اور زمینی حقائق شامل ہو چکے ہیں۔ پچھلے بیس سال کے دوران افغان جنگ نے کے پی کے اور خاص طور پر وہاں کے قبائلی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا اور اس عرصے میں ایک بہت بڑی تعداد نے وہاں سے روزگار کے حصول کے لیےکراچی کا رخ کیا ان سب کا ٹھکانہ بھی کراچی کے مضافاتی علاقوں تک ہی محدود رہا۔ اگرچہ ان میں اکثریت نے اپنے آپ کو یہاں پر ووٹرز کے طور پر رجسٹر نہیں کرایا مگر یہ حقیقت ہے کہ آج کراچی کی آبادی میں پختون واضح برتری حاصل کر چکے ہیں اور اگر انہیں نہی ووٹرز لسٹ میں شامل کر دیا گیا تو آئندہ کراچی میں ہونے والے انتخابات میں مختلف نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ان سیاسی اور تاریخی حقائق کی روشنی میں کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بارے میں کچھ باتیں کر سکتے ہیں۔
اگرچہ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ووٹرز ان کے مشترکہ علاقوں میں مقیم ہیں مگر اس میں پی ٹی آئی کو کچھ برتری حاصل ہے کیونکہ اس کے ووٹرز کراچی کے مضافاتی علاقوں میں بھی موجود ہیں۔
پیپلزپارٹی کے ووٹرز ان کے مخصوص علاقوں میں ہیں اسلئے اس کو ان دیگر پارٹیوں کے ووٹرز سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اسطرح پیپلزپارٹی کا مقابلہ براہ راست ان دیگر جماعتوں سے نہیں ہے
مگر پچھلے چند سالوں سے ایک نئی حقیقت اور جماعت وجود میں آئی ہے اور اس کا ووٹرز تمام علاقوں میں موجود ہے جس کو تحریک لبیک کہتے ہیں اس جماعت نے پچھلے انتخابات میں بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کئے تھے اور ان بلدیاتی انتخابات میں یہ ہر علاقے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ان حالات میں کسیاسی بھی جماعت کو ان انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں ہو گی اور امکان ہے کہ ان انتخابات کے نتائج کے بعد مختلف پارٹیوں کے درمیان اتحاد قائم ہوں گے جو کی آئندہ کی بلدیہ کراچی کی قیادت کریں گے۔
بس چند دنوں کے انتظار کے بعد صورتحال واضح طور پر سامنے آ جائے گی۔
ان انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں مگر یہ بات بالکل واضح ہے کہ کراچی کے پیچیدہ مسائل کو کوئی بھی بلدیاتی نظام حل نہیں کر سکتا اس کے دنیا بھر کے میگا سٹی کے مسائل کے بارے میں تحقیق اور حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز، قومی اور صوبائی سطح پر یکجہتی ضروری ہے۔
ان مسائل کی نشاندہی اور ان کے ممکنہ حل کے بارے ان انتخابات کے بعد بحث کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
.jpeg)
0 Comments