تحریر : عروبہ عدنان
یہ حقیقت ہے کہ انسان اور حیوان میں بنیادی فرق عقل و شعور اور زبان کا ہے ۔ انسان دماغ سے سوچتا ہے اور اپنی سوچ ،خیالات اور احساسات کا اظہار اپنی زبان کے ذریعے کر دیتا ہے ۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان ہوتی ہے یہ اس لیے ہے کہ زبان سماجی و ثقافتی روایات اور اقدار کے اظہار کا زریعہ ہے ۔دنیا میں بے شمار زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں جن میں سے کئ ایک صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہتی ہیں ۔ لیکن کچھ زبانیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ایک ساتھ کئ علاقوں ، ریاستوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں جن میں عربی ،انگلش، جرمن ،چینی اور اردو شامل ہیں ۔ ایسی زبانوں کو عالمگیر زبانیں کہا جاتا ہے ۔۔۔ یہ زبانیں دنیا بھر میں ایکدوسرے سے رابطے کے لیے استعمال ہوتی ہیں ۔ اسی طرح ہر ملک کی بھی اپنی رابطہ زبان ہوتی ہے جو اس ملک کے عوام ایکدوسرے سے رابطہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں ،یہ زبان ان کی قومی زبان کہلاتی ہے ۔ دنیا میں ٢۵٠ میں سے ١۴٢ ممالک کی قومی زبان ہی ان کی تعلیمی و سرکاری زبان ہے ۔۔ اور وہی ممالک آج ترقی یافتہ کہلا رہے ہیں جنھوں نے اپنی قومی زبان کو اپنی سرکاری و تعلیمی زبان بنایا ۔۔ مثلا امریکہ ،چین ،جاپان ،فرانس اور انگلیڈ وغیرہ ۔۔۔ تاریخ گواہ ہے جن قوموں نے غیروں کی زبان اپنائ وہ تباہ ہوئیں ۔ برطانیہ جب تک فرانس اور جرمنی کے زیرِ تسلط رہا اس کے نام سے بھی کم لوگ واقف تھے مگر جب اس نے آزادی حاصل کی اور اپنی رابطہ زبان کو تعلیمی و سرکاری زبان بنایا وہ تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے آج ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا واضح نظر آ رہا ہے ۔
برصغیر پاک و ہند میں اردو سمجھنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ مگر افسوس آج بھی پاک و ہند میں انگریزی زبان کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ فرنگیوں کے جانے کے بعد سے اب تک ہمارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام کے رنگ میں رنگا ہو نظر آتا ہے اور یہی ہماری ترقی نہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔۔ ماہرِ لسانیات کا کہنا ہے کہ اگر کسی ریاست کے تعلیمی نظام کو اس ریاست کی رابطہ زبان سے الگ کر دیا جائے تو ایسی ریاست کبھی ترقی نہیں کر سکتی ۔انتہائ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں ایسا ہی کیا جا رہا ہے ۔۔ گزشتہ ٧٧ سال کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم ریاستی طور پہ تو یقیناً آزاد ہو چکے ہیں مگر ذہنی طور پر اب تک فرنگیوں کی سوچ کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں ۔۔. پاکستان میں ٩٨ فیصد افراد کی رابطے کی زبان اردو ہے ۔۔ ہر صوبے کی اپنی کئ مادری زبانیں ہیں لیکن صوبائ سطح پہ صوبوں کے درمیان رابطے کی واحد زبان اردو ہے ۔ بلاشبہ یہی ہمارا قومی تشخص ہے ۔ ١٩٧٣ کے آئین کی شق ٢۵١ کے تحت اردو زبان کو ١۵ سال میں پاکستان کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو جانا چاہیے تھا مگر افسوس اردو زبان اب تک اپنا حق حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئ ہے جس کی ایک وجہ وہ صاحبِ اقتدار طبقہ ہے جو اپنی غلامانہ سوچ کی وجہ سے فرنگیوں کی زبان ہی ملک بھر رائج رکھنا چاہتا ہے۔۔۔ محبانِ اردو، نفاذِ اردو کےلیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اس سلسلے میں پاکستان قومی زبان تحریک کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔۔. ان ہی کی جدوجہد کے نتیجے میں ٨ ستمبر ٢٠١۵ کو عدالتِ عظمی نے باقاعدہ طور پر اردو زبان کو سرکاری زبان بنانے اعلان کر دیا اور حکومت کو پابند کیا کہ وہ جلد از جلد اردو زبان کو ملک بھر میں رائج کرے ۔۔۔ لیکن افسوس صد افسوس حکومتِ وقت کی عدم دلچسپی کے باعث اب تک اردو زبان کو تعلیمی و سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا ہے ۔
٢١ مارچ ١٩۴٨ کو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ڈھاکہ کے اجلاس میں بالکل واضح الفاظ میں کہا کہ “میں واضح الفاظ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہو گی ۔جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے میں ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے ۔ایک مشترکہ زبان کے بغیر نہ تو پوری قوم متحد ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئ کام کر سکتی ہے ” بانی پاکستان قائرِ اعظم محمد علی جناح زبان کی اہمیت کو سمجھتے تھے تبھی انہوں نے کئ جگہوں پہ اپنے خطابات میں زبان کی اہمیت کے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ اردو ہی ہماری رابطے کی زبان ہے اور ہمارا قومی تشخص ہے. قرآن پاک میں فرمانِ الہی ہے کہ “قوم کو اس کی زبان میں تعلیم دی جائے “سورہء ابراہیم، آیت نمبر ۴ ۔ ایسا اس لیے ہے کہ قوم اپنی رابطے کی ہی زبان کو سمجھ پاتی ہے کجا کہ کسی غیر کی زبان کو ۔ لہزا ہمیں اپنے ملک کا تعلیمی نظام مکمل طور ہر اردو زبان میں رائج کر دینا چاہیے اور دیگر زبانوں کو اختیاری زبان کے طور پر اپنانا چاہیے ۔۔ یعنی جو شخص اگر کسی وجہ سے کوئ دوسری زبان سیکھنا چاہے وہ کوئ بھی زبان اختیاری طور پر سیکھ سکتا ہے ۔ پچھلی حکومت کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا تھا کہ” جلد پرائمری تک ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جا رہا ہے ۔ صرف اسلامیات کا نصاب اردو زبان میں ہو گا” ۔۔یہ بیان محبانِ اردو کے لیے بیحد تکلیف دہ تھا ۔۔
انتہائ افسوس کی بات ہے کہ اس بیان میں ایک بار پھر اردو کی مکمل حق تلفی کی گئ ۔ جس کی ناصرف محبانِ اردو بلکہ ہر محبِ وطن پاکستانی شدید مزمت کرتا ہے ۔۔۔ یکساں تعلیمی نظام کا نفاذ بغیر قومی زبان کے مستقبل کے معماروں کے ساتھ زیادتی ہے ۔۔۔ تعلیمی نصاب کا اردو میں ہونا ان بچوں کے لیے انتہائ ضروری یے جو دیہی علاقوں میں ہیں اور انہیں انگلش پڑھنی اور ان کے اساتزہ کو انگلش صحیح معنوں میں پڑھانی تک نہیں آتی ۔۔ حکومتِ وقت کو ان ١٠فیصد غلامانہ سوچ کے مالک افراد کے بجائے ان ٩٠ فیصد بچوں کا سوچنا چاہیے جن کے ہاتھوں میں آگے چل کر ملک کی باگ دوڑ ہو گی ۔۔۔ محبانِ اردو کی حکومتِ وقت سے دردمندانہ التماس ہے کہ خدا را ملک کے مستقبل کو چند موقع پرست ،غلامانہ سوچ رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے داو پہ نہ لگائیں اور ماضی کی حکومتوں کی طرح تعلیمی نظام کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ہنگامی بنیادوں پہ یکساں تعلیمی نظام اردو نصابِ کے ساتھ ملک بھر میں رائج کر کے محبِ وطن ہونے کا ثبوت دیں ۔۔۔ ہم حکومتِ وقت سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ اردو کو اس کا حق دلایا جائے اور ملک کے ہر شعبے جس میں تعلیمی و سرکاری شعبے سب شامل ہیں ان پہ اردو مکمل طور پر نافذ کی جائے کیونکہ اردو ہی پاکستانی زبان ہے اور پاکستان کا قومی تشخص ہے ۔۔
ہرلفظ معتبر اور ، گفتار میں بھی اعلی
اردو زباں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے
ڈاکٹر صابر مرزا
اردو زبان ۔۔۔ زندہ باد پاکستان پائندہ باد
تحریر ۔۔۔ عروبہ عدنان
0 Comments