Header Ads Widget

انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ . ماضی کے جھروکوں سے

ایک برس قبل لکھا گیا مضمون 

فروری 13، 2024
تحریر: ممتاز ہاشمی 

آب جبکہ انتخابات کے نتائج مکمل ہو چکے ہیں تو ان کے نتائج پر مزید تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔
ان انتخابات میں قومی اسمبلی میں کسی بھی جماعت نے سادہ اکثریت حاصل نہیں کی اسلئے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مرکز میں کوئی جماعت تنہا حکومت سازی کرنے سے قاصر ہے اور مختلف جماعتیں ملکر ہی اتحادی مخلوط حکومت تشکیل دے سکتی ہیں۔ اور اس کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ تاکہ پاور شیرنگ کا فارمولا طے کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں جو پارٹی پوزیشنیں واضح ہو چکی ہیں اس کے مطابق پی ٹی آئی کسی بھی اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنانے سے قاصر ہے کیونکہ اس نے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سے ملکر حکومت بنانے سے انکار کردیا ہے اس کی ایک ممکنہ اتحادی جماعت اسلامی کا قومی اسمبلی میں کوئی نمائندہ موجود نہیں ہے اسلئے اس پی ٹی آئی کے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر کے مخصوص نشستوں حاصل کرنے سے قاصر ہیں دوسرا اتحادی مجلس وحدت المسلمین ہے جس کا ایک نمائندہ قومی اسمبلی میں منتخب ہوا ہے لیکن اس جماعت نے مخصوص نشستوں کے لئے کوئی لسٹ ہی جمع نہیں کرائی تھی اسلئے اس میں شمولیت سے بھی اس کو مخصوص نشستوں کا کوٹہ نہیں مل سکتا دوسرا یہ مذہبی فرقہ پر مبنی جماعت ہے اور اس میں پی ٹی آئی کے حمایتی آزاد امیدوار مشکل ہی سے شمولیت پر تیار ہوں گے بہرحال اب دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے کوٹہ کو حاصل کرنے کے لیے کیا قانونی راستہ اختیار کرتی ہے۔
مسلم لیگ نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لی ہے اور وہ تنہا حکومت بنانے کے قابل ہے اس کے علاوہ اس نے پنجاب میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر اکثریت حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد اراکین جنہوں نے پی ٹی آئی کے مقابلے میں الیکشن میں حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے ہیں وہ بھی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں پی ٹی آئی کے حمایتی آزاد اراکین اسمبلی بھی لگتا ہے کہ کچھ تعداد میں مسلم لیگ کا حصہ بننے کی تیاری کر رہے ہیں ان کی پوزیشن چند روز میں واضح ہو جائے گی۔
سندھ میں پیپلزپارٹی نے قومی اور صوبائی اسمبلی میں واضح برتری حاصل کی ہے مگر ایم کیو ایم کو بھی کراچی و حیدرآباد سے کامیابی حاصل ہوئی ہے اسلئے دونوں جماعتوں کو ملکر ایک ایجنڈے پر متفق ہونا ہوگا تاکہ صوبائی معاملات میں ہم آہنگی پیدا ہو۔
بلوچستان میں پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ نے برابر کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اسلئے وہاں پر دو کی بجائے تینوں جماعتوں کو یا دو جماعتوں کو دوسری چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔
ان حقائق کی روشنی میں پاور شیرنگ فارمولا صرف مرکزی حکومت کے لیے نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے صوبائی حکومتوں کا بھی فارمولا طے کرنا ہوگا اسلئے یہ مذاکرات مشکل اور وقت طلب ہیں اور ظاہر ہے کہ ان حقائق کی روشنی میں ہر جماعت اپنے لیے زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔
 نتائج کے مطابق پی ٹی آئی نے زیادہ تر نشستوں پر کے پی کے میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہاں پر ووٹنگ کی شرح صرف 42 فیصد رہی جس کی بنیادی وجہ وہاں پر دہشتگردی کی کاروائیاں تھیں اور خاص طور پر اس کا نشانہ صوبے کی اہم جماعتیں جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی تھیں اور ان کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے میں انتہائی مشکلات پیش آئیں سیکورٹی اداروں نے مولانا فضل الرحمن کو اپنے حلقہ میں جانے سے روکا کیونکہ ان کے لیے وہاں پر بہت زیادہ سیکورٹی رسک تھا اور الیکشن سے ایک روز قبل بھی اس علاقے میں ایک بہت بڑی دہشتگردی کی کاروائی ہونی۔ اسی بناء پر مولانا فضل الرحمن نے پہلی مرتبہ بلوچستان سے الیکشن میں حصہ لیکر کامیابی حاصل کی۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو مکمل تحفظ اور آزادانہ انتخابی مہم چلانے کی سہولت میسر تھی اسی وجہ سے دوسرے جماعتوں کے ووٹرز بہت کم تعداد میں باہر نکلے اور ووٹنگ میں حصہ لیا جس کے نتیجے کے طور پر کم شرح ووٹنگ ہوئی اور اسطرح وہاں کی بیشتر نشستوں پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کر لی۔
جبکہ پنجاب میں ووٹنگ کی شرح زیادہ رہی مسلم لیگ کی ضرورت سے زیادہ خوش فہمی، انتخابی مہم میں سست روی اور جیت کے اطمینان کے باعث وہ ووٹنگ والے دن زیادہ متحرک نہیں ہوئی اور اس وجہ سے وہ زیادہ نشستوں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اسطرح اس کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکی۔
ان انتخابات کے بعد ملک میں انتشار اور لاقانونیت پیدا کرنے کے لیے پہلے سے ہی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور اس کے لیے پاکستان اور پاکستان کے باہر پاکستان دشمن اور استحصالی طبقات نے بے پناہ فنڈنگ فراہم کی۔ اور اس کا آغاز میڈیا اور سوشل میڈیا سے انتخابات کا وقت ختم ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی شروع کر دیا گیا۔ اور صرف چند فیصد غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کی بنیاد پر پی ٹی آئی کی جیت کے دعوے کرنے شروع ہو گئے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان تمام چینلز کے پاس پی ٹی آئی کے حمایتی امیدواروں کی لسٹ موجود تھیں مگر انہوں نے ان تمام آزاد امیدواروں کو جو پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے ان کی برتری کو بھی پی ٹی آئی کی برتری دکھاتے رہے اور چار دن بعد کچھ چینلز نے اب اس کو صحیح کیا ہے مگر ابھی تک چند چینلز اسطرح سے اس کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
دوسری طرف انہوں نے نتائج کے سرکاری اعلان میں تاخیر کا بہانہ بنا کر انتخابات میں دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیا اور دوبارہ سے احتجاجی و پر تشدد مظاہرے شروع کر دیں۔ میڈیا پر اس بات کو پھیلانے کا اہتمام کیا گیا کہ انتخابی نتائج کا اعلان جو فارم 47 پر کیا گیا ہے وہ فارم 45 سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس پروپیگنڈا میں تمام وسائل کو بروئے کار لایا گیا تاکہ ان انتخابات کے نتائج کو مشکوک بنایا جائے۔ 
اگر کسی کو پاکستان کے انتخابات کے نظام کا علم ہو تو وہ ان پروپیگنڈا میں ہرگز نہیں آ سکتا مگر کیونکہ ہمارے ہاں کی اکثریت ان معاملات سے لاعلم ہے اسلئے وہ اس پروپیگنڈا کا شکار ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے انتخابات میں دستاویزات کی تیاری ایک کھٹن اور مشکل مراحل پر مشتمل ہے پریزایڈنگ افسران کی بہت بڑی آزمائش اور ذمہ داری ہوتی ہے ووٹنگ ختم ہونے کے بعد اس کی اصل ڈیوٹی شروع ہوتی ہے جس میں سب سے پہلے ووٹوں کی گنتی سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے اس عمل میں پہلے تمام امیدواروں کے ووٹوں کو الگ الگ کیا جاتا ہے اور پھر ہر ایک کے ووٹوں کی گنتی کی جاتی ہے اس میں اگر کوئی بیلٹ پیپرز پر نشان لگانے میں غلطی ظاہر ہو یا اگر کوئی نمائندہ اس پر اعتراض کرے تو اس کو الگ کیا جاتا ہے۔ اسطرح سے ہر امیدوار کے ووٹوں کو الگ الگ لفافوں میں سیل کیا جاتا ہے اور ان کا اکاؤنٹ فارم 45 پر اندراج کیا جاتا ہے اور عام طور پر ہر پولنگ اسٹیشن پر تین سے زیادہ امیدوار کے ووٹ ہوتے ہیں اسلئے اس کام میں کافی وقت صرف ہوتا ہے۔ اس کے بعد فارم 45 کو مکمل کر کے اس پر دستخط کرتا ہے اور اسوقت موجود امیدواروں کے نمائندوں سے بھی دستخط کرائے کی کوشش کی جاتی ہے ضروری نہیں کہ تمام پولنگ ایجنٹوں کے دستخط ہوں بعض اوقات کوئی بھی پولنگ ایجنڈے موجود نہیں ہوتا اور اکثر اوقات جو یار رہا ہوتا ہے وہ وہاں سے پہلے ہی چلا جاتا ہے اور بعض جان بوجھ کر دستخط نہیں کرتے اور صرف گنتی کے اعدادوشمار لیکر چلے جاتے ہیں اس سلسلے میں قوانین بالکل واضح ہیں اور کسی بھی امیدوار یا اس کے نمائندوں کو فارم 45 پر دستخط کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا صرف پریزایڈنگ آفسر کے دستخط لازمی ہوتا ہے۔ اس کی کاپیاں بنائی جاتی ہیں جو کہ اسوقت موجود امیدواروں کے نمائندوں کو بھی دی جاتی ہے۔ اور ایک کاپی پولنگ اسٹیشن کے باہر آویزاں کی جاتی ہے اور ایک کاپی تمام بیلٹ پیپرز کے بیگ میں رکھی جاتی ہے۔ یہی عمل صوبائی اسمبلی کے ووٹوں کی گنتی میں دہرایا جاتا ہے 
 اس عمل میں رات کے نو یا 10 بج جاتے ہیں اور اس کے بعد جب پولیس، رینجرز کی گاڑی پولنگ اسٹیشن نہیں آتی اسوقت تک پولنگ اسٹیشن پر انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب ریٹرنگ آفسر کے دفتر میں تمام میٹیریل بمعہ نتائج کے فارم 45 کے اور اس فارم کی کاپی اس بیگ میں بھی ہوتی ہے یہ تمام مواد جمع کرانے کے لیے جن ریٹرنگ آفسر پہنچتے ہیں سیکورٹی اداروں کی نگرانی میں تو وہاں پر گاڑیوں کی لاہن لگی ہوتی ہے کیونکہ ایک حلقے میں کم از کم چار سو کے قریب پولنگ اسٹیشن ہوتے ہیں اس طویل لاہن میں لگ کر تمام مواد ریٹرنگ آفسر کے حوالے کرنے میں بہت زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے بعد ریٹرنگ آفس کا سٹاف ان اعدادوشمار کا اندراج شروع کرتے ہیں اور اس کی مختلف طریقوں سے چیکنگ اور جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو اس کے باوجود کچھ حد تک غلطی کا امکان ہمیشہ سے موجود ہوتا ہے بعض اوقات حلقے کے چند پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ دوسرے دن صبح کو پہنچتا ہے جس کی وجہ وہاں پر کاونٹنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور دیگر مسائل ہوتے ہیں۔ 
کوئی بھی ریٹرنگ آفسر اس حلقے کے نتیجے کا اعلان اسوقت تک نہیں کر سکتا جبتک اس حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ مل جائے اور اس کا اندراج ہو جائے اور اس کے بعد نتیجے کا اعلان فارم 47 پر کیا جاتا ہے۔ اسلئے اگر کوئی جعلی فارم 45 بنا کر مختلف پولنگ اسٹیشن کے نتائج کو بدلنے کی کوشش کرے گا تو اس کا سدباب کرنے کا مناسب انتظام موجود ہے۔ 
پاکستان میں عام طور پر ہمارا ایمان میں کمزوری ہے اور اس کی وجہ سے معاشرے میں جھوٹ اور فریب کا دور دورہ ہے اسلئے ہر قسم کی بے ضابطگی اور دھندلی کی توقع ہر ایک جماعت سے کی جا سکتی ہیں اور وہ کوشش بھی کرتے ہیں حتی کہ اسلام کا نام لینے والی دینی جماعت بھی ان دھندلی میں ملوث ہوتی ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر پاکستان کے انتخابی عمل اور ضوابط کو بہت سخت بنایا گیا ہے تاکہ اس میں ہر قسم کی دھندلی کو پکڑا جا سکے اس کا موثر سیکورٹی نیٹ ورک موجود ہے جس کی بناء پر انتخابی بے ضابطگی کو ثابت کرنا آسان ہے اور اس خو ثابت ہونے کی صورت میں اس حلقے کے انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسلئے اگر کسی کے پاس ان میں بےضابطگی کا ثبوت ہے تو اس کا قانونی طریقہ کار موجود ہے صرف الزامات لگانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
ماضی کے ایک کیس سے اس کی ان انتخابی بے ضابطگی سے نمٹنے اور اس میں شفافیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جب گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے قاسم سوری جو کہ ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بھی فائز تھا اس کے خلاف انتخابی دھندلی کی اپیل پر اس بات کو بھی ثابت کیا گیا کہ اس نشست پر پچاس ہزار ووٹنگ پر انگوٹھا کے نشان انسانی انگوٹھا کے نہیں ہے اور وہ نادار کے ریکارڈ سے ثابت ہوا۔ اسلئے ہمارے ملک کے انتخابات میں اسقدر مواد اور چیک اینڈ بیلنس موجود ہے کہ کسی قسم کی دھندلی کو با آسانی سامنے لایا جا سکتا ہے صرف بات قانونی راستہ اختیار کرنے کا ہے
پہلے ہی ٹی آئی نے 180 نشستوں پر کامیابی کا دعوٰی کیا جس کا میڈیا پر خوب پروپیگنڈا کیا گیا دو دن بعد اس کی تعداد 150 پر آگئی لیکن جب ان نتائج کو چیلنج کرنے کا قانونی مرحلہ آیا تو کم و بیش 30 کے قریب درخواستیں الیکشن کمیشن کے پاس داہر ہوہی اور وہ صرف پی ٹی آئی کے حمایتی امیدواروں کی ہی نہیں اس میں دوسری جماعتوں کے امیدواروں کی درخواستیں بھی شامل ہیں اور ان میں سے کچھ پر کارروائی مکمل ہو گئی ہے اور بقایا پر کاروائی جاری ہے۔
اسوقت پاکستان کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے اور کسی بھی حکومت کے لیے ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا پاکستان کو اگلے چند ماہ میں 30 بلین ڈالرز واپس کرنے ہیں اور اس کے انتظامات مکمل کرنے کا انتہائی مشکل اور کٹھن مرحلہ درپیش ہے اسلئے ملک کسی بھی قسم کی ہنگامہ آرائی اور محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اسلئے تمام جماعتوں کو جو پاکستان سے مخلص ہیں ان کو تشدد اور ہنگامہ آرائی سے مکمل گریز کرتے ہوئے صرف اور صرف قانونی طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
اس بات کو دوبارہ سے ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار کے دوران پاکستان کے اپنے دوست اور خاص کر اسلامی ممالک سے تعلقات انتہائی خراب ہو چکے تھے جس کی وجہ بانی پی ٹی آئی کی حرکات تھیں اسلئے اس کی حکومت کے خاتمے کے بعد اتحادی مخلوط حکومت کو ان تعلقات کی بحالی میں کافی دشواریاں پیش آئی اور آخرکار وہ تعلقات بحال ہو گئے اور انہوں نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے جو کہ مشروط ہے اور اس وقت اگر ملک میں دوبارہ سے پی ٹی آئی کی حکومت کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہوی تو یہ تمام منصوبے التواء کا شکار ہو جائیں گے اور پاکستان کے لیے معاشی بحران سے نمٹنے ناممکن ہو جائے گا۔
دوسری جانب کے پی کے میں جس وزیر اعلی کا اعلان کیا ہے وہ ریاست کے خلاف بغاوت کے کیس میں ملوث ہے اور اس کی شناخت شہد والی بوتل بھی ہے جو ریاست کے سیکورٹی کے لیے ایک چیلنج ہو گا اور اس صورتحال میں کے پی کے میں پاکستان دشمن عناصر سے نمٹنے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی۔
پاکستان کا قیام اللہ سبحان تعالٰی کا ایک معجزہ اور رحمت ہے اور یہ جس مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے اس کی تکمیل لازم ہے اسلئے پاکستان دشمن عناصر لی تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا جس کا ثبوت حالیہ دنوں میں 9 مئی کی بغاوت کی ناکامی سے ظاہر ہے اور اللہ سبحان تعالٰی کی رحمت سے آئندہ بھی ایسی تمام سازشوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
اس مرحلے پر عوام اور ریاستی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان تمام ملک دشمن عناصر کے مزہوم مقاصد کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
 


Post a Comment

0 Comments