روزے کی فرضیت اور حکمت کا مختصر جائزہ
تحریر: ممتاز ہاشمی
روزہ دین اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے ‘چنانچہ اس کی فرضیت اور حکمت کو سمجھنا اہل ایمان کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ روزہ اسلام کے ظہور سے پہلے دیگر اُمتوں پر بھی فرض کیا گیا تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے ‘مگر اہل عرب اس سے واقف نہیں تھے۔ ان کے ہاں ’’صوم‘‘ سے مراد اپنے گھوڑے کو بھوک پیاس اور سخت حالات میں رہنے کی عادت ڈالنا تھا۔ وہ جنگ وجدل اور لوٹ مار جیسی کارروائیوں کے لیے گھوڑے استعمال کرتے تھے۔ان کارروائیوں کے بعد جلد از جلد اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے کا ذریعہ گھوڑا ہی تھا‘ اس لیے وہ اسے بھوکا پیاسا رکھ کر ان نامساعد حالات میں مضبوطی سے کھڑا رہنے کا عادی بناتے تھے۔
قرآن مجید میں روزے کی فرضیت اور حکمت کا واضح اعلان اس طرح کیا گیاہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ:۱۸۳)
’’اے ایمان والو !تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا ‘ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘
تقویٰ کا لفظی معنی ہے بچنا۔ یعنی خود کو تمام برائیوں سے‘ کج روی سے ‘غلط روی سے بچانا ۔ اس آیت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد مسلمانوں کو تقویٰ کی جانب راغب کرنا ہے۔ اس کے ذریعے ایک مقررہ وقت اور مدت تک نہ صرف حرام بلکہ حلال اشیاء سے بھی پرہیز کی مشق کرائی جاتی ہے تاکہ انسان سال کی بقیہ مدت میں بھی اپنے نفس پر قابو پاتے ہوئے حرام کاموں سے بچنے کا اہتمام کرے۔ یہ مشق مسلمانوں کو مختلف موسمی حالات اور دورانیہ میں کرائی جاتی ہے ۔اس کے نتیجے میں اس عظیم کام کی تیاری بھی ہو جائے گی جس کا محور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلنا ہوگا۔سورۃ البقرۃ کے اگلے رکوع سے قتال کی بحث شروع ہوجاتی ہے‘ چنانچہ روزے کی یہ بحث گویا قتال کے لیے بطور تمہید آرہی ہے۔
روزے دار دن میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھوک ‘پیاس اور دیگر حلال امور سے پرہیز کرتا ہے جبکہ راتوں کو کھڑے ہو کر اللہ کا کلام سنتا ہے جس سے اس کی روح کی آبیاری ہو سکے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے کہ اللہ سے قربت کا احساس پیدا ہو ۔تقویٰ اختیار کرنے سے انسان کلی طور پر حلال پر قناعت کرے گااورہر قسم کی حرام خوری سے ہمیشہ کے لیے بچ جائے گا۔ اگر کوئی شخص نمازوں اور روزوں کی کثرت کے ساتھ حرام خوری کی روش بھی اختیار کیے ہوئے ہے تو اس میں تقویٰ کی روش پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ’’متقی‘‘ کی تعریف اور اوصاف سورۃ البقرہ کی ابتدا ہی میں یوں بیان کر دیے ہیں:
ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(آیت۲)
’’اس کتاب ( کے اللہ کی کتاب ہونے ) میں کوئی شک نہیں۔ پرہیزگاروں ( متقین) کو راہ دکھانے والی ہے ۔‘‘
یہاں یہ واضح کر دیا گیا کہ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے سراسر راہِ ہدایت ہے مگر اس سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت صرف ’’متقین‘‘ ہی کو حاصل ہو گی۔ یعنی ایسے انسان جن میں غلط کاری سے بچنے اور ہدایت کی طرف راہنمائی کی خواہش ہو۔ اگلی آیات میں ان سلیم الفطرت لوگوں کے اوصاف کا خلاصہ یوں بیان کیا گیا :
الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰــھُمْ یُنْفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَـیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ
’’جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر‘ اور نماز قائم کرتے ہیں ‘ اورجو ایمان رکھتے ہیں اُس پر بھی جو (اے نبیﷺ) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور اُس پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) جو آپؐ سے پہلے نازل کیا گیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ربّ کی طرف سے ہدایت پر ہیں‘ اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
یوں اس بات کی مکمل نشان دہی ہو جاتی ہے کہ ان اوصاف کے حامل انسان ہی اس امتحان میں کامیاب قرار پائے جائیں گے اور اپنی منزل مقصود حاصل کر سکیں گے ‘یعنی ان کو جنت کی بشارت دی جا رہی ہے۔
ماہ رمضان کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیاجا سکتا ہے کہ لیلۃ القدر میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ پھر یہ کہ اس ماہ کی عبادات کا خاص مقام ہے۔ اس ماہ کے دوران کی گئی عبادات کا ثواب عام دنوں کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے ۔ یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے کہ لوگ اس ماہ میں سچائی اور خلوص سے اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔
روزے کے دوران ہر قسم کی برائی سے بچنے کی اہمیت مندرجہ ذیل حدیث سے بھی واضح ہو جاتی ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیاہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہٖ ، فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَۃٌ فِیْ اَنْ یَّدَعَ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ)) (صحیح البخاری‘ح:۱۹۰۳)
’’جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
چنانچہ رمضان المبارک میں روزہ رکھنا اور دیگر عبادات سچے دل اور خلوص سے کرنے ہی کی اہمیت ہے‘ ورنہ ان اعمال کے ضائع ہونے کا احتمال ہے۔
آج ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں ‘اس میں رمضان المبارک کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ پوری دنیا میں شرک اور کفر پر مبنی نظام قائم ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پامالی ہو رہی ہے۔ انسانوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مشرکانہ قوانین کو اپنایا ہوا ہے جو قطعی طور پر اللہ کے احکام کی نفی کرتے ہیں ‘یعنی اللہ سے بغاوت پر مائل ہیں۔ چنانچہ رمضان المبارک میں ہمیں اپنے ایمان کی تجدید کی ضرورت ہے۔ اس ماہِ مبارک میں قناعت اور صبر کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہم اپنے آپ کو تیار کرسکیں۔روزِ قیامت اعمال کا حساب انفرادی سطح پر میسر وسائل‘ حالات اور صلاحیتوں کو اللہ کے احکام کے نفاذ کی جدوجہد میں صرف کرنے کے پیمانے پر ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس امتحان میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
(مندرجہ بالا مضمون کا ماخذ ڈاکٹر اسرار احمد ؒکے دروس ہیں۔)
.jpeg)
0 Comments