سورۃ العصر: اہمیت ، افادیت اور جامعیت
تحریر: ممتاز ہاشمی
وَالْعَصْرِ (۱)
’’زمانے کی قسم!‘‘
اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ (۲)
’’بیشک (بالیقین) انسان سرا سر نقصان میں ہے۔‘‘
اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(۳)
’’سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائےاور نیک عمل کیے، اور آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔‘‘
یہ قرآن مجیدکا امتیاز اور اللہ ربّ العزت کا معجزہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی سورتوں میں مکمل اور کامل ہدایات بیان کی گئی ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے،اس لیے کہ انسانی عقل و فکراس صلاحیت سے محروم ہے۔
ابتدائی دور میں نازل ہونے والی سورتیں حجم کے اعتبار سے اگرچہ چھوٹی لیکن دین اسلام کے بنیادی تصورات کی وضاحت کے اعتبار سے جامع تھیں۔ ان سورتوں میں مضامین کو آسان اورسادہ زبان میں مختصر ترین انداز میں بیان کیا گیا ہے اور پھر ان مضامین کی تفصیلات بڑی سورتوں میں مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔قرآن مجیدکی تین سب سے چھوٹی سورتیں تین تین آیات پر مشتمل ہیں:سورۃ العصر‘ سورۃ الکوثراورسورۃ النصر۔ ان میں سے ایک زیر ِمطالعہ سورت ’’سورۃ العصر‘‘ہے جس کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں انتہائی سادہ اور آسان زبان میں دنیا کی عارضی زندگی ،جو کہ اللہ تعالیٰ نے ایک امتحان کی شکل میں عطا کی ہے، اس میں کامیابی کے تمام اجزاء بیان کیے گئے ہیں۔قرآن مجیدکے نزول کے بنیادی مقاصد میں بنی نوع انسان کو ہدایت دینا، صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی فراہم کرنا اوردنیا میں زندگی گزارنے کے مکمل طریقہ کارسے آگاہ کرنا شامل ہے جس پر گامزن ہو کر ہر انسان کامیابی کا امیدوار ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے اس سورہ کو قرآن مجیدکی جامع ترین سورہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس سورہ کی جامعیت اور افادیت امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول سے عیاں ہے،آپ نے فرمایا:
لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ لَوَسِعَتْھُمْ
’’ اگر لوگ صرف اس ایک سورہ پر غور و فکر کریں تو یہ ان کی )ہدایت اور راہنمائی) کے لیے کافی ہو جائے۔‘‘
سورۃ العصر کی اہمیت کے بارے میں امام شافعی ؒ کا اس سے بھی بڑا قول مفتی محمد عبدہٗ نے اپنی تفسیر’’المنار‘‘ پارہ عم میں بیان کیا ہے:
لَوْ لَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاسَ
’’اگر قرآن میں سوائے اس ( سورۃ العصر ) کے کچھ اور نازل نہ ہوتا تو لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے یہی کافی ہوتی۔‘‘
اس سورہ کو بنیادی طور پر دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ ابتدائی دو آیات پر مشتمل ہے جس میں زمانہ کی قسم کھا کر گزرے اور آنے والے اَدوار میں بنی نوع انسان کی اکثریت کی ناکامی اور خسارے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسرا حصہ آخری آیت پر مشتمل ہے جس میں ایک بنیادی بات بیان کی گئی ہے جس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ عمومی طور پر ہمارے تصور میں کامیابی کا معیار دنیاوی دولت،شہرت، کاروباراور شان وشوکت ہی رہا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کامیابی کا معیار اس کے برعکس مقرر کیا ہے جو کہ ان تمام دنیاوی معیارات سے بالا تر ہے۔یہی بات اس سورہ کے دوسرے حصے میں بیان کی گئی ہے کہ ہر زمانے میں صرف وہی لوگ کامیاب ہوئے ہیں اور ہوں گے جو مندرجہ ذیل صلاحیتوں اور خوبیوں کے مالک تھے: ایمان،عمل صالح،تواصی بالحق اور تواصی بالصبر۔
اس ضمن میں یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ چاروں شرائط کامیابی کے لیے لازمی اور ناگزیر ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی ترک کرنے سے کامیابی کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ چاروں ایک دوسرے سے باہم منسلک ہیں۔ مزید یہ کہ یہ چاروں شرائط عظیم خسارے سے بچنے اور کامیابی کا کم ازکم درجہ حاصل کرنے کی بنیاد ہیں، نہ کہ اعلیٰ اور عظیم کامیابی کے حصول کا ذریعہ۔
قرآن مجید میں ان چاروں مضامین کی تفصیلات کو نہایت واضح اور مفصل انداز میں بیان کیا گیا ہے:
ایمان:ایمان دراصل کائنات کے ان تمام اساسی حقائق کو تسلیم کرنے کا نام ہے جو انسان سے پوشیدہ ہیں اور ایسے ذریعے سے انسان کو پہنچائے گئے جو عام انسان کی دسترس سے باہر ہے‘جسے اصطلاح میں ’’وحی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ان اساسی حقائق میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی صفات، بعد از موت جزا و سزا، جنت و دوزخ وغیرہ شامل ہیں جن تک رسائی انسان اپنے آپ اللہ رب العزت کی طرف سے دیے گئے حواس کے ذریعے سےنہیں کر سکتا۔چنانچہ ایسے تمام امور جن کی خبر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے انسان کو پہنچائی ہے، ان کی تصدیق اور تسلیم کرنے کا نام ایمان ہے۔
ایمان کے دو درجے ہیں۔ پہلا درجہ ان تمام حقائق ، جو وحی کے ذریعے انسان کو پہنچائے گئے ہیں، کو زبان سے تسلیم کرنا ہے۔ اس درجے کو قانونی ایمان یا اقرا با للسان کہا جا تا ہے۔ دوسرا درجہ ان تمام امور پر قلبی اور پختہ یقین کرنے کی کیفیت کا نام ہے جسےحقیقی ایمان یاایمان بالقلب کہا جاتا ہے۔اگر دل میں ایمان پختہ ہو جائے تو انسان کی عملی زندگی میں بہت زبردست تبدیلی واقع ہو جاتی ہے اور ہر عمل اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع ہو جاتا ہے۔ ایمان کے یہ دونوں درجات اپنی اپنی جگہ انتہائی اہم اوربہت ضروری ہیں۔ گویا یوں کہا جاسکتا ہے کہ ایمان باللسان اور ایمان بالقلب کی وحدت کا نام ایمان ہے۔
عمل صالح:یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ، جزاوسزا، روزِ قیامت اور محاسبہ پر پختہ یقین ہو تو اس میں عمل صالح کا رجحان لازمی ہوتا ہے۔ وہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرتا ہے اورحرام سے بچنے اور حلال پر قناعت پر آمادہ ہوتا ہے۔حقیقی ایمان انسان کی ذاتی زندگی،معاملات اور معمولات پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسان نہ صرف اچھائی اور بھلائی کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتا ہے بلکہ ایمان کی مضبوطی اس کو برائیوں اور گناہوں سے بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں۔
تواصی بالحق:لفظ تواصی کے معنی وصیت اور تاکید کے ہیں اور اس لفظ میں ان امور کو اچھے طریقے سے اور دوسروں کی شراکت کے ساتھ انجام دینے کا مفہوم بھی شامل ہے۔لفظ حق اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے بہت وسیع ہے ، اور ہر وہ شے جس کا واقعی وجود ہو اس کے اعتراف کرنے کا نام حق ہے۔اس کو سچائی کا اعلان کرنا بھی کہا جا سکتا ہے۔چنانچہ انتہائی چھوٹی سی حقیقت سے لے کر کائنات کی سب سے بڑی حقیقت یعنی خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرنے اور اس کے احکامات کو بجا لانے کا اعلان تواصی بالحق ہے۔تواصی بالحق کی بلند ترین منزل خالق کائنات کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ان کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد کرنا اور اس کی دوسروں کو نصیحت و تلقین کرتے رہنا ہے۔
تواصی بالصبر:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب آپ کسی شخص یا گروہ کو حق کی تلقین کریں گے یعنی اُسے ان باتوں سے باز آنے کا کہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق نہیں ہیں،بلکہ ناانصافی اور ظلم پر مبنی ہیں تو لازمی طور پر آپ کوان کی طرف سے شدید مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔لہٰذا ان تمام حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے صبر سے تمام مصائب اور تکالیف کو خود بھی برداشت کرنا اور باقی لوگوں کو بھی اس کی تلقین کرنے کا نام تواصی بالصبر ہے۔
اس حوالے سے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ جب حق کی تلقین اعلیٰ ترین سطح پر کی جائے گی یعنی شرک پر مبنی مروّجہ نظام کو ختم کر کے اللہ تعالیٰ کے احکامات اور شریعت کے نفاذ کی عملی جدوجہد کی جائے گی تو یقینی طور پر اس کی مزاحمت بھی انتہائی طاقت سے ہو گی۔ کیونکہ وہ تمام قوتیں جن کے مفادات شرک اور ظلم پر مبنی اس مروّجہ نظام سے منسلک ہیں وہ ہر طرح کی مزاحمت کریں گی ، لہٰذا آپ کو مصائب اور تکلیفیں برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کی طرح تواصی بالحق اور تواصی بالصبر بھی لازم و ملزوم ہیں،بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایمان ، عمل صالح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر چاروں لازم و ملزوم ہیں اور باہم ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔گویا جب انسان کائنات کی حقیقت اور خالق کائنات کو تسلیم کر لے تو لازمی طور پر اس کا نتیجہ عمل صالح کی صورت میں ظاہر ہو گا، جس کا عملی مظاہرہ یہ ہے کہ وہ حق کی تبلیغ کرنے کا راستہ اختیار کرے گا اور اس راہ میں آنے والی مشکلات اور تکلیفیں برداشت کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دین اسلام کے بنیادی ستون جو کہ ایمان کے بعد نماز، روزہ، زکٰوۃ اورحج ہیں ان کا ذکر یہاں پر کیوں نہیں ہے؟ تواس کو سمجھنے کے لیے ان آیات پر غور کرنے کی ضرورت ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ o (البقرۃ:۱۵۳)
’’اے ایمان والو !صبر اور نماز کے ذریعے سے مدد چاہو ،بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ ‘‘
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:
یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ ط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ o
(لقمان:۱۷)
’’اے میرے پیارے بیٹے! نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا اوربرے کاموں سے منع کیا کرنا، اور جو مصیبت تم پر آئے اس پرصبر کرنا۔ (یقین مان)کہ یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے ۔ ‘‘
دراصل ان تمام عبادات کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے اور ان کی ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب یہ سورۃ العصر میں بیان کی گئی چاروں شرائط کے تابع ہوں۔ اگر طاغوتی نظام مسلط ہو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہو توان انفرادی عبادات کی کوئی حیثیت نہیں۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل مشہورحدیث انتہائی اہمیت کی حامل ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ رَآی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ ‘ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ ‘ فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ ، وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ)) (رواہ مسلم)
’’تم میں سے جو کوئی کسی برے عمل کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کرے۔ اگر وہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے تو اپنی زبان سے (اس کو روکے)اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں ہے تو پھر اپنے دل سے(اسے برا جانے)۔ اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ ‘‘
اس حدیث مبارکہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ دین اسلام دین فطرت ہے اور کامل عدل پر مشتمل ہے ،اس لیے روزِ قیامت ہر انسان کا حساب اس کی معاشی و سماجی حیثیت اور دستیاب وسائل کی بنیاد پر ہو گا اور اس کے اعمال کا حساب حالات و واقعات کے مطابق ہو گا۔
الغرض‘ سورۃ العصر انتہائی جامع اور بہت فضیلت کی حامل ہے۔اس کا اندازہ اس روایت سے بھی ہوتا ہے کہ ’’نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام میں سے دو صحابہ جب بھی باہم ملاقات کرتے تھے تو وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوتے تھے جب تک کہ ایکس دوسرے کو سورۃ العصر سنا نہ لیں۔ اس کے بعد ایک دوسرے کو سلام کرتے اور رخصت ہو جاتے۔‘‘اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورہ دراصل نجات کی راہ متعین کرتی ہے اوریہ ایک دعا، یاددہانی اور تلقین بھی ہے جو صحابہ کرام ؓایک دوسرے کو رخصت ہوتے ہوئے دیتے تھے۔ آئیے ہم بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اس روایت کو اپنانے کا عہد کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت،توفیق اور راہنمائی فراہم کریں۔آمین!
(ماخوذ از دروسِ ڈاکٹر اسرار احمدؒ)

0 Comments