Header Ads Widget

ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف مل گیZA Bhutto hasbeen given his Justice ا

 ماضی کے جھروکوں سے 


ایک برس قبل لکھا گیا مضمون 



مارچ 6، 2024

تحریر: ممتاز ہاشمی 

آج پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ہے جب سپریم کورٹ نے ایک طویل عرصے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف فراہم کر دیا ہے اور آج بھٹو کو شہید کا درجہ قانونی طور پر حاصل ہو گیا ہے۔

اس تاریخی لمحے پر چیف جسٹس قاضی فائر عیسٰی اور سپریم کورٹ کے دیگر ججز خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی عدلیہ کے غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلے کو تسلیم کیا ہے اور اسطرح سے بھٹو شہید کو سزا سنانے والے مکروہ چہرے بےنقاب ہو گئے ہیں۔ جنہوں نے اپنے حلف سے غداری کرتے ہوئے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے غیر آئینی اقدامات کا ساتھ دیا اور اس طرح سے نظام انصاف کا قتل عام کیا تھا۔ 

ان ججز نے نہ صرف ڈکٹیٹر کے حکم پر ایک معصوم شخص کی جان لی بلکہ ان کا سب سے بڑا جرم پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا کرنے کا سبب بنا۔ 

واضح رہے کہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے نہ صرف جمہوریت کا قتل کیا بلکہ ملک کو تاریکی میں دھکیل دیا اور پاکستان میں انتشار اور لسانیت کو فروغ دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اس کا نقصان قوم آجتک بھگت رہی ہے اور اس نے پاکستان کو معاشی طور پر انتہائی درجے پر متاثر کیا۔

آج پاکستان جس معاشی بحران کا شکار ہے اس کی بنیادوں میں ڈکٹیٹر ضیاء الحق کا بہت بڑا حصہ ہے۔ بھٹو نے نہ صرف ملکی سیاست میں انقلاب برپا کیا اور مظلوم طبقات کو ان کے حقوق کے حصول کیلئے متحرک کیا بلکہ اسلامی دنیا اور تیسری دنیا کے ممالک کو متحد ہو کر استحصالی قوتوں کا مقابلہ کرنے کا راستہ دکھایا۔ جس کی وجہ سے سامراجی قوتوں نے بھٹو کو راستے سے ہٹانے میں اپنا حصہ ڈالا۔

لیکن بھٹو کو وہ منظر عام سے ہٹانے کے بعد بھی وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بھٹو کی شہادت نے ان کے مرتبے اور مقبولیت کو دوام بخشنے کا کام کیا۔

آج تمام جمہوری، آزادی،  مساوات اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی قوتیں بھٹو کا حوالہ دینے پر مجبور ہیں اور آج ان کے منشور میں عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جاتی ہے۔

بھٹو نے عوامی بہبود اور خوشحالی کیلئے جو انقلابی اقدامات کئے تھے وہ ہماری تاریخ کا تابناک باب ہے ان میں زرعی اصلاحات جس کی بدولت نچلے طبقے کے کسانوں کو زمین کی ملکیت ملی اور وہ محنت کا پھل  کا حقدار بنا۔

مزدوروں کو پیداواری عمل میں شرکت کا احساس دلایا گیا اور ان کے حالات زندگی میں بہتری دیکھنے کو ملی۔

تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں کی گئی اور مفت تک میٹرک تک تعلیم کو نافذ کیا گیا جس سے غریب عوام کو بھی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع حاصل ہوے۔

صحت کے شعبے میں انقلابی اصلاحات کی گئی اور میڈیسن میں جنرک نام نافذ کیا گیا جس سے ادویات کی قیمتوں میں حیرت انگیز طور کمی واقع ہوئی۔

اس کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی بہت اصلاحات کی گئی۔

مگر قومی سطح پر بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ 73 کے آئین کا بنانا ہے جو کہ آج بھی پاکستان کے اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے اس آئین کو قائداعظم کے خیالات اور قرددا پاکستان کی روح کے مطابق فیڈریشن کا درجہ دیا گیا ہے جو خ صوبائی اکائیوں کو خود مختاری کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور اس کے بعد آمریتوں نے ہمیشہ اس آئین کی وفاقی حیثیت کو متاثر کرتے ہوئے اس میں غیر آئینی تبدیلیاں کی اور ہر دفعہ عوامی جمہوری قوتوں نے دوبارہ سے اس آئین کو اس کی روح کے تقاضوں کے مطابق بحال کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ جنگ جمہوریت اور آمریت کے درمیان آج بھی جاری ہے اور اس کے بعد بھٹو خاندان نے اس جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کر کے اس عظیم جدوجہد کو دوام بخشنا ہے۔

آج تمام جمہوری قوتیں بھٹو کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور اس کے ان تمام تاریخی اقدامات کو سہرانے پر مجبور ہیں۔

آج کے اس تاریخی فیصلے نے ان تمام استحصالی طبقات پر کاری ضرب لگائی ہے جو آج دوبارہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں اور جو  9 مئی کی بغاوت میں ملوث ہیں یا ان کی سہولت کاری کر رہے ہیں ان ملک،  عوام اور اسلام دشمن عناصر جو عمران خان کی سرپرستی میں مختلف اداروں میں ابتک موجود ہیں ان کے لیے آج کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ان کے بھی عبرتناک انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے  اللہ نے اپنی رحمت سے ان تمام پاکستان   عوام اور اسلام دشمن عناصر کو شکست فاش سے ہمکنار کیا ہے اور آئندہ بھی کی جائے گی گا۔ ان شاءاللہ۔

اللہ ذوالفقار علی بھٹو کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین




Post a Comment

0 Comments