Header Ads Widget

بلوچستان میں دہشت گردی کا حلchistan Solution of Terrorism in Balu



 مارچ 13 ، 2025

تحریر: ممتاز ہاشمی  

گزشتہ چند برسوں سے پاکستان دشمن بیرونی عناصر نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں دہشت گردی برپا کر رکھی ہے۔ اس دہشت گردی نے تمام انسانیت کی تذلیل کی جاتی رہی ہے اور نہتے غریب مزدوروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ سب ایک نام نہاد "بلوچستان کے حقوق " کے نام پر کیا جاتا رہا ہے۔

اگر تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں روا رکھی گئی تھیں اور جب بھی جمہوریت کو موقع ملا تو ان کا کچھ ادارک کرنے کی کوشش بھی ہوئیں۔

مگر آب آج کے دور میں بلوچستان کے حقوق کے تحفظ کیلئے کسی قسم کی تحریک کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آج بلوچستان کو اس کے حق سے زیادہ دیا ھا رہا ہے بلکہ اس کو ترجیح طور پر ترقی یافتہ بنانے کیلئے کام جاری ہے۔

اسلئے آج جسطری سے بلوچستان میں چند شرپسند،  پاکستان دشمن عناصر جو بیرون ممالک میں مقیم ہیں اور ان غیر ملکی پاکستان دشمن طاقتوں کے زیر اثر کام کر رہے ہیں وہ بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن یونے سے روکنے کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں اور اس کے لیے سیاسی جدوجہد کی بجائے دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

آج بلوچستان پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل طور پر سیاسی حکومتوں پر مبنی نظام پر مشتمل ہے اور گزشتہ کئی انتخابات میں عوام نے مختلف قومی، علاقائی اور مذہبی جماعتوں کو نمائندگی کے لئے منتخب کیا ہے اور زیادہ تر مختلف جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومتوں کا ہی قیام رہا ہے۔ اگرچہ انتخابات میں کچھ بے ضابطہ ہمیشہ سے ہی مسئلہ رہا ہے اور وہ کسی ایک علاقے یا صوبے کا نہیں بلکہ مجموعی طور پورے ملک کا ہی رہا ہے۔ جو آہستہ آہستہ جمہوریت کی پائداری اور مضبوطی کے ساتھ ساتھ ہی کم ہوتا جائے گا۔

واضح رہے کہ کسی بھی انتخابات میں ان ریاستی مخالف عناصر کو عوام نے بلوچستان میں کامیابی نہیں کیا ہے جو ان کی محب الوطنی کا واضح ثبوت ہے۔

اس وقت کوئی سیاست نہیں ہو رہی یہ پاکستان اور اسلام دشمن عناصر ل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں وہ ان شرپسندوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ان کا واحد حل مکمل طور پر ریاستی قوت سے ان پاکستان اور اسلام دشمن عناصر کو کچل دیا جائے۔

جو لوگ عورتوں،  بچوں اور نہتے مسافروں پر تشدد کرتے ہیں وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہے اور آج پوری دنیا ان کی اس دہشت گردی کی مذمت کر رہی ہے۔

جہاں تک بلوچستان کی محرومیوں کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے وہ آج کے دور میں موجود ہی نہیں ہے۔ گزشتہ 15 برسوں سے زائد عرصہ سے بلوچستان کو اس کے حصے سے زائد نیشنل فنانس ایوارڈ کے تحت دیا جا رہا ہے اور پنجاب نے اپنے حصے کم کر کے ان کو دی جا رہا ہے جس سے اس صوبے کو آج بے پناہ وسائل حاصل ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے عوام کو وفاقی نوکریوں میں زائد حصہ دیا جا رہا ہے اور ان کے لیے عمراور تعلیمی کارکردگی میں بھی رعایتیں دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نہ صرف وفاق بلکہ پنجاب اور سندھ کے تعلیمی اداروں میں بلوچستان کے طلباء کے لیے خاص طور پر سیٹوں کا اہتمام کیا گیا ہے  

اس وقت جب ان کو ان کے حقوق مکمل طور پر ملک رہے ہیں تو چند شرپسند عناصر پاکستان دشمن بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اس سلسلے میں یہ بات واضح ہے کہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت ان کے خلاف ہے اور وہاں کے لوگوں کو ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔

اسلئے اس وقت کسی قسم کی مصلحت کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ ریاست پاکستان کو بھرپور قوت سے ان ملک دشمن عناصر کو ختم کرنے کے لیے ایک گرینڈ آپریشن کرنا ہو گا۔

اس کے علاوہ ان کے پاس اور بیرون ممالک میں مقیم سہولت کاروں کو بھی قانون کے تحت سخت سزائیں دی جانی چاہیے۔

پاکستان اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ایک معجزہ ہے اور اللہ  نے اس کو ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے جو ضرور پورا یونا ہے اسلئے اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کو ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

اس موقع پر تمام  محب وطن پاکستانی اور خاص کر اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ پاکستان اور اسلام دشمن عناصر کی ان سازشوں کو سمجھنے اور ان کو ناکام بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور ریاست پاکستان کے ساتھ مکمل طور پر یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔

Post a Comment

0 Comments