آج جب افراد ، حکومت اور تنظیمیں 23 مارچ کو یوم پاکستان اور قرارداد پاکستان کی منظوری کے طور پر منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اس موقع پر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمیں پاکستان کے قیام کے حقیقی تصور اور اس کے پس منظر پر دوبارہ سے غور کرنا ہوگا۔
تاکہ ہم ان تمام حالات و واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کا ادراک کریں کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا ہم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا اور آج ہم کو کیا کرنا ہے۔
پاکستان کی تخلیق ایک معجزہ ہے اور بقول ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس کا تذکرہ یوں کیا گیا ہے۔
"اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے کمزور شمار کئے جاتے تھے ۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں ، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو ۔"
سورہ الانفال آیت 26
پاکستان کا قیام انتہائی مشکل اور نامکمن نظر آتا تھا لیکن اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس زمین پر ایک خطہ عرض پر پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا تاکہ ’’دین اسلام ‘‘ قائم کرنے کے ہمارے دعوے کو پرکھا جائے اور مسلمانوں ہند کے اس دعوے اورعزم کو اپنے عہد کو پورا کرنے کا موقع فراہم کیا ۔
قیام پاکستان کی تحریک اور جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے جو مسلمانوں اور علماء کرام کے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کے دوران پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں پر محیط ہے اور اس میں 1857 کی جنگ آزادی، ریشمی رومال تحریک وغیرہ تاریخ کے اہم ابواب شامل۔
اس جدوجہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں عزت اور جائیدادیں کھو دیں۔ مگر اپنے پ سختی سے قائم رہے۔
لاکھوں مسلمانوں نے نئی تخلیق شدہ مملکت پاکستان میں مکمل ہجرت کی تھی جس پر دین اسلام کے قیام کا عزم اور وعدہ کیا تھا۔
اس ہجرت میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور مشکلات کے بارے میں ہزاروں کہانیاں ہماری تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے
ہماری آج کی نسل علامہ محمد اسد کے نام سے بھی واقف نہیں ہے ، جن کو بانی قوم نے پاکستان بننے کے بعد پہلی پاکستانی شہریت دی انہیں قائد نے پاکستان کا سیاسی ، معاشرتی ، معاشی اور تعلیمی نظام تیار کرنے کا کام سونپا تھا اور قائد اعظم کے قائم کردہ واحد شعبہ اسلامی تعمیر نو کا ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔ وہ یہودی تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہندوستان کے دورے کے دوران علامہ اقبال سے دوستی کی اور ان کو علامہ اقبال نے اس بات پر راضی کیا کہ وہ مشرق کی طرف اپنا سفر ملتوی کر دیں اور اپنی صلاحیتوں کو نئی وجود میں والی اسلامی ریاست پاکستان کو اپنا مسکن بنایں تاکہ ان کی خدمات سےآئندہ قایم ہونے والی اسلامی ریاست کے فکری احاطے اور اس کی تعمیر نو کرنے میں مدد ملے۔
قیام پاکستان کے بعد علامہ اسد نے انتہائی محنت اور لگن سے اس کام کو تکمیل تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیا۔
انہوں نے اپنی ابتدائی سفارش میں نیا نصاب تیار ہونے تک تمام پرائمری اسکولوں کو بند رکھنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمارے لئے بہتر ہے کہ ہمارے بچے اس وقت کی تعلیم کو سیکھنے کے بجائے کھیلیں۔
انہوں نے اپنا کام انتہائی محنت اور عقیدت کے ساتھ کیا اور بہت سارا مواد منظوری اور عمل درآمد کے لئے تیار کر چکے تھے۔ ریڈیو پاکستان میں ان کی روزانہ تقریر اب بھی آرکائیوز میں دستیاب ہے۔ لیکن یہ بدقسمتی کی بات تھی کہ قائداعظم پاکستان کے ابتدائی دنوں میں وفات پا گئے اور ان کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔
یہ حقیقت ہے کہ سول / ملٹری بیوروکریسی کے ممبروں کی بڑی تعداد اپنے برطانوی آقا کے ساتھ وفادار تھی اور انہوں نے پہلے ہی دن سے پاکستان کے قیام کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے شروع کر دیں ۔ اس سلسلے میں ، انہوں نے محکمہ اسلامی تعمیر نو کو کام کرنے سے روکنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے اور علامہ محمد اسد کے قیمتی سامان اور تخلیقی مواد کو ایک سازش کے تحت آگ لگا کر ضائع کر دیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے وہ مایوس ہو کر سعودی عرب چلے گئے اور بہت قیمتی کتابیں لکھیں جن میں ان کی مندرجہ ذیل شہرہ آفاق کتابیں بھی شامل ہیں:
"مکہ کی راہ" اور
"قرآن کا پیغام"
قیام پاکستان کے قائد اعظم اور مسلم لیگ کی مخلص قیادت نے نئے ملک کی بقا کے لیے بڑی جدوجہد کی ۔ چونکہ تقسیم کے وقت زیادہ تر وسائل ہندوستان نے روک رکھے تھے۔
اس لیے قائداعظم اور دیگر قیادت پر بہت زیادہ دباؤ تھا۔ قائداعظم قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد انتقال فرما گئے مسلم لیگ کی بقیہ قیادت ان سازشی عناصر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کے حصے میں جو بھی سول اور ملٹری بیوروکریسی آئی تھی ، وہ اپنے برطانوی آقاؤں کے وفادار تھے اور ان کا پاکستان یا اسلام کے لیے کوئی کردار یا ہمدردی نہیں تھیں ۔ ان کا واحد مقصد نئی کمزور مملکت کے ملکی نظام پر قابو پانا اور سول اور سیاسی حکومت پر اپنا تسلط قائم کرنا تھا۔
پاکستان کی تاریخ کے بعد کے واقعات ان کی سازشوں کی حقیقی کہانیاں بیان کرتے ہیں کہ وہ کس طرح اقتدار کے ڈھانچے میں داخل ہوئے اور آخر کار 1958 میں فوجی اداروں کے ذریعہ مطلق اختیارات حاصل کر لئے اور اسطرح سے پاکستان اپنے تخلیق کے جوزا سے مکمل طور پر لاتعلق ہونا شروع ہو گیا ۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے والے مخلص مسلمانوں کو کنارے لگا دیا گیا۔ لوگوں کی اکثریت کا مقصد دنیاوی آسائشوں کے حصول پر مرکوز ہو گیا اور اسطرح لالچ اور ہوس پورے معاشرے میں ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے نتیجے کے طور پر دن بدن جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، کرپشن ، رشوت، دکھاوا اور اقربا پروری روز کا معمول بن گیا۔
یہ تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا کیونکہ ہم اللہ سبحان تعالٰی کے ساتھ اس سرزمین پر دین اسلام کے قیام کے رعووں اور وعدوں کو مکمل طور پر بھول چکے تھے ۔
ہماری سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور سیاست دانوں کے اس دوران رویے اور کردار تاریخ کا بدترین حصہ ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ، اللہ سبحان تعالٰی کی نافرمانی بڑھتی جاتی ہے اور ہم بحیثیت قوم مجموعی طور پر شرک ، سود ، انسانی استحصال پر مبنی نظام کو مضبوط بنانے میں مگن ہو جاتے ہیں اور اللہ سبحان تعالٰی سے کئے گئے وعدے کو مکمل طور پر فراموش کر دیتے ہیں ۔
اس کے نتیجے میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے سزا کے طور پر ہمیں لسانی ، مذہبی فرقے ، سماجی اور علاقائی حدود کی بنیاد پر تقسیم کرنا شروع کر دیا اور اس میں ہر آنے والے دنوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
اللہ سبحان تعالٰی نے 1971 میں ہمیں بڑی اور عبرتناک شکست دے کر اور اس ملک کو دو حصوں میں توڑ کر متنبہ بھی کیا اور ہمیں اپنے آپ کو دوبارہ سے اپنے مقاصد کی طرف رجوع کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
لیکن ہم نے 1971 کی شکست سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا بلکہ اس کے بعد ہم نے اللّٰہ سبحان تعالٰی کی نافرمانیاں مزید بڑھنے لگی اور آج ہم اپنا وقت، صلاحیتوں اور قابلیت کو اللہ سبحانہ و تعالٰی کی نافرمانی جاری رکھنے میں استعمال کر رہے ہیں۔
آج مملکت پاکستان جس کو پوری دنیا کے سامنے اسلامی ریاست کا نمونہ پیش کرنا تھا تاکہ اس فلاحی ریاست کو دیکھ کر دنیا دوبارہ سے دین اسلام کی طرف راغب ہوتی بلکہ اس کو دنیا میں احیاء اسلام کا مرکز بننا تھا وہ اپنے اصل مقصد سے مکمل طور پر لاتعلق ہو چکی ہے ہم مکمل طور پر دین اسلام کی تعلیمات سے انحراف کرنے کی جانب گامزن ہے اور نتیجے کے طور پر صرف پاکستان ہی نہیں آج پوری مسلم دنیا غلامی کی زندگی گزار رہی ہے۔ وہ اسلام کے دشمنوں کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔ پوری دنیا اور خاص طور پر غزہ میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے جا رہے ہیں جسطری سے غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں بوڑھوں اور جوانوں پر انسانیت سوز ظلم ڈھاے جا رہے ہیں اس کی انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس ظلم و ستم پرتمام مسلمانوں ممالک نے نہ صرف خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس کا واضح مطلب غزہ میں معصوم مسلمانوں پر ہونے والی سفاکیت اور ظلم کے تازہ ترین واقعات میں ان کی برابر کی شراکت پر مبنی ہے کیا اگر دنیا میں کوئی بھی اسلامی ریاست موجود ہوتی تو کسی کو اسطرح مسلمانوں پر ظلم کرنے کی ہمت بھی ہوتی؟
حد تو یہ ہے کہ اس انسانیت سوز مظالم کا ایک معمولی حصہ جس کو ہر روز میڈیا پر پیش کیا جا رہا ہے وہ اسقدر تکلیف دہ اور خوفناک ہے کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرا سی بھی انسانی حقوق کا خیال ہے وہ سب اس پر تڑپ اٹھتے ہیں مگر حیرت ہے کہ ہم ایمان کے دعویداروں کو اس پر بھی کوئی تشویش نہیں ہے اور ہم روزمرہ کے معمولات اور عیاشیوں میں مکمل طور پر مگن ہیں بلکہ کھیل کود و تفریح میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں یہ ہماری بےحسی کی انتہا کا ثبوت ہے۔
ہمارا یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم میں اللہ سبحانہ و تعالٰی اور قیامت پر ایمان کا فقدان ہے اور ہمیں اللہ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کا کوئی احساس تک نہیں ہے نتیجتاً ہم مال و دولت کی ہوس اور دنیاوی عیاشیوں میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔
آج دنیا بھر میں مسلمانوں جاری ظلم و ستم پر خاموشی کا مطلب اس ظلم کی کھلی حمایت کرنا ہے ہمارا یہ کردار اللہ سبحانہ و تعالٰی اور اس کے رسول سے غداری کے زمرے میں آتا ہے ۔
ہر آنے والا دن دنیا کے معاملات میں ہماری ناکامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ابھی بھی اللہ سبحانہ و تعالٰی کی طرف سے ایک انتباہ ہے تاکہ ہم میں سے اگر کوئی سیدھے راستے پر آنا چاہیے تو اس کو ان پر غور و فکر کرنے اور عملی تقاضے کو پورا کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
اآج اس دنیا اور مستقل زندگی میں بقاء اور کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہہم تمام ایمان کے دعویدار اللہ سبحانہ و تعالٰی سے صدق دل سے معافی مانگیں۔
جیسا کہ اللہ سبحان تعالٰی نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ ہر زمانے میں خسارے سے بچنے والے لوگ ضرور موجود ہوں گے جو ایمان کامل، عمل صالح، حق و صبر کی صلاحیتوں کے مالک ہوں گے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان لوگوں کو اپنے اردگرد تلاش کریں اور ان کی رہنمائی میں دین اسلام کے نفاذ کے لیے اپنا کردار ادا کریں جو تخلیق پاکستان کا واحد مقصد ہے اور اللہ سبحان تعالٰی سے کئے گئے وعدے کی تکمیل میں حصہ لیں۔
واضح رہے کہ دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد ہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے اوریہ ہی آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو گا
اللہ سبحان تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے اور ہمیں دین اسلام کے نفاذ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی طاقت اور ہمت سے نوازے۔ آمین

0 Comments