Header Ads Widget

عمران خان اور اس کے سہولت کاروں کا پاکستان دشمن ایجنڈا بےنقاب

 ماضی کے جھروکوں سے 


مارچ 24، 2023 ( دو برس قبل لکھا گیا مضمون )



تحریر: ممتاز ہاشمی   


آج تمام امت مسلمہ کو ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ ( اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین) کی شکرگزار ہے جنہوں نے برسوں پہلے جب عمران خان کو ایک خاص ایجنڈے کے لیے تیار کرنے کا آغاز ہی ہوا تھا تو انہوں نے ان کو اللہ تعالٰی کی عطا کردہ بصیرت کی بناء پر اس سازشی ایجنڈے کو بےنقاب کر دیا تھا۔ اگرچہ اسوقت لوگوں نے ان کی باتوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی کیونکہ اسوقت عمران خان  کوئی قابل ذکر حیثیت نہیں رکھتا تھا۔

مگر بعد میں بدلتے ہوئے حالات اور واقعات نے ان کی کئی ہوئی باتوں کی مکمل سچائی ثابت کرنے میں مدد گار ثابت ہوے۔

ماضی کے 25 سالوں کو ذہن میں تازہ کریں تو اس حقیقت کو سمجھنے میں کسی کو بھی دقت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن کیونکہ ہمارے لوگوں کا حافظہ انتہائی کمزور ہے اور ان کو ماضی قریب کی حقیقتوں کو بھی یاد نہیں رکھتے اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان دشمن بیرونی عناصر کو اپنے ایجنڈے میں کامیابی حاصل ہوتی رہی ہے۔

اب اگر صرف حالیہ تاریخ اور واقعات کا تجزیہ غیر جانبداری سے ایک مخلص مسلمان اور پاکستانی کی حیثیت سے کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے پیچھے کارفرما عناصر کو بےنقاب نہ کر سکیں۔

یہ بھی ایک تلخ  سچائی ہے کہ ہمارے ہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ادارے جنہوں نے اس کے سہولت کاروں کاروں کام کیا ہے اور انہوں نے پاکستان کے بننے کے بعد ہی اس مملکت پر قابض رہنے کے غیر آئینی عمل کا ارتکاب کیا ہے وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اکثر ان لوگوں کو بھی استعمال کرتے ہیں جن کو ان  پوشیدہ مقاصد کا  یا تو معلوم نہیں ہوتا یا وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔ جس کا ناقابل تلافی نقصان صرف پاکستان اور اس کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے اس کا ثبوت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے عمران خان کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ ہے جو انہوں نے 21010 میں بغیر اس پر تحقیق کیے بغیر کیا۔ اور پھر اس کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جس کا آغاز انہوں نے اپنے ایک ایجنٹ طاہر القادری کے ذریعے ایک سازش تیار کر کے کیا اور اس کو کینیڈا سے پاکستان واپس بھیجا اور مشہور زمانہ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ سرزد کرایا۔ جس میں چند معصوم لوگوں کی جانیں ایک سازش کے تحت ضائع کی گئی اس کے بعد ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور عمران خان کو اس میں شریک کرتے ہوئے دونوں سے اسلام آباد لانگ مارچ اور دھرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

اس دھرنے میں ملکی اور غیر ملکی پاکستان دشمن عناصر مشترکہ طور پر شریک تھے جن میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مقاصد میں ملک میں جمہوریت کو مستحکم ہونے سے روکنا اور ڈکٹیٹر مشرف پر کیس کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا لیکن بین الاقوامی عناصر جن کے وسیع مفادات اس سازش میں کارفرما تھے ان کا تعلق انٹرنیشنل سیاسی معاملات سے متعلق تھا کیونکہ اس وقت کی پاکستانی جمہوری حکومت اور چین نے دنیا کے لیے ایک نیا اور حیرت انگیز معاشی ترقی کا منصوبہ سی پیک کا اعلان کیا تھا جس سے پاکستان کی معاشی حالت انتہائی بلندی پر پہنچ جاتی اور اس کے ساتھ ہی چین کو دنیا سے تجارت اور اپنی اشیاء کی ترسیل کا ایک انتہائی سستا اور منافع بخش راستہ ملک جاتا۔ دنیا کو یہ منصوبہ منظور نہیں تھا اسلئے ان تمام ملکی اور غیر ملکی سہولت کاروں نے عمران خان اور طاہر القادری کے ذریعے اسلام آباد کا طویل عرصے تک گھیراؤ کیے رکھا اور آخرکار چین کے صدر کو اس منصوبے کے افتتاح کو ملتوی کرتا پڑا۔ یہ پاکستان عوام اور ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے جس میں عمران خان پوری طرح ملوث تھا۔

اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن نے حالات اور واقعات کو سمجھتے ہوئے انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا اور اس سازش کو ناکام بنا دیا اور آخرکار سی پیک کا منصوبہ عملی طور پر وجود میں آنے لگا جس کے ثمرات عوام اور ملک کے لیے حیرت انگیز ہونے تھے اس کو ناکام بنانے کیلئے ان عناصر نے مسلسل کوششیں جاری رکھیں اور اس دوران عمران خان کے ذریعے ملک میں امن و امان کے مسائل کھڑے کرنے کی کوشش بھی کی مگر عوام نے اس کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔جس کے بعد عدلیہ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو ایک غیر آئینی فیصلے سے اقتدار سے علیحدگی پر مجبور کیا گیا جس کو پوری دنیا کی قانونی برداری میں انتہائی مضحکہ خیز سمجھا جاتا ہے۔ اسطرح سے انہوں عناصر نے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے اور اپنے ایجنٹ عمران خان کو اقتدار میں لانے کی منصوبہ بندی کی۔ جس کے لیے مختلف حربوں کو استعمال کیا گیا جن میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے لوگوں کی سیاسی وفاداری تبدیل کرانے،  مختلف نئے سیاسی گروہوں ی تشکیل اور ان کو عمران خان کے ساتھ ملانے،  مختلف سیاسی شخصیات کو زبردستی مسلم لیگ کے انتخابی ٹکٹوں کو واپس کر کے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے پر مجبور کرنا وغیرہ وغیرہ شامل تھے  اس کے لیے ایک بہت بڑی فنڈنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان کے استحصالی نظام کے کارندے شامل تھے۔

مسلم لیگ کی قیادت کو جیل بھیج دیا گیا اور الیکشن میں ریاستی مشینری کے استعمال سے ان  کو ہر قسم کی مشکلات سے دوچار کیا گیا۔ 

ان تمام مصائب اور مشکلات کے باوجود 2018 کے انتخابات کے نتائج کے اعلان میں مسلم لیگ واضح طور پر کامیابی حاصل کر رہی تھی اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے انتخابی نتائج کو روکنے کا اہتمام کیا اور آر ٹی ایس سے نتائج کی ترسیل روک دی گئی اور دس گھنٹوں کے بعد دھندلی کے ذریعے مرتب کردہ نتائج کو بغیر آر ٹی آئی کے ریکارڈ کے جاری کرنے کا عمل شروع کیا گیا اور اسطرح پی ٹی آئی کو برتری دلائی گئی اس کے باوجود پنجاب میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی اور مسلم لیگ نے کامیابی حاصل کی جس کو ناکام بنانے کیلئے ووٹوں کی خریداری کا عمل اور وفاداریوں کو تبدیل کرا کر  پی ٹی آئی کے حوالے پنجاب بھی کر دیا گیا۔ ان انتخابات میں کی گئی دھاندلیوں کو سمجھنے کے لیے صرف ایک واقعہ ہی کافی ہے جو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے انتخابات کے نتائج کے بارے میں ہے اور جس کو بعد میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اس پر عملدرآمد روک دیا اور پانچ سال تک اس کی سماعت تک نہیں کی کیونکہ اس میں وہ تمام مواد موجود ہے جو ان انتخابات میں کی گئی دھاندلیوں کو بےنقاب کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ اس کے فیصلے میں نادرہ سے تصدیق کردہ ووٹوں کی شناخت سے یہ بات ریکارڈ پر آئی کی اس انتخاب میں ہزاروں کی تعداد میں ووٹرز کے انگوٹھے کے نشان جو بیلٹ پیپرز کی کاونٹر بکس پر ہیں وہ انسانی انگوٹھوں کے نشانات سے مشابہت نہیں رکھتے۔ 

بہرحال عمران خان خو اقتدار میں لانے کے منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد  تمام قوتوں  اپنے اہداف حاصل کرنے کے عمل میں سرگرم ہو گئے۔

بین الاقوامی طاقتوں کا ہدف سی پیک کر روکنا اور چین کی معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا تھا اور اس کی آسانی سے دنیا کی اہم معاشی منڈیوں میں رسائی کو روکنا تھا۔ اس کام کے لیے ان لوگوں کو عمران خان کی حکومت کا حصہ بنایا گیا جو اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنا کردار ادا کر سکیں جن می اہم نام رزاق داود کا ہے جس نے اس منصوبے کو منجمد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور باہر سے پاکستان پر مسلط معاشی ماہرین نے حکومتی عہدے سنبھال لئے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے بعد رخصت ہوتے گئے۔

ان لوگوں نے سی پیک کے منصوبوں کے ماسٹر پلان کو بھی غیر قانونی طور پر دوسری طاقتوں کو فراہم کیا جس کی وجہ سے پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

اس بات خو دوبارہ سے ذہن نشین کرنا ہو گا کہ مسلم لیگ کے دور میں ملک میں اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہو گیا تھا اور پاکستان کو آئی  ایم ایف  سے نجات مل گئی تھی اور ملک میں بجلی کا بحران ختم ہو گیا تھا اور سی پیک کے منصوبوں میں شامل انڈسٹریل اسٹیٹس کے قیام کے بعد ملک میں بجلی کی قیمت میں کمی اور بے روزگاری کے خاتمے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ مگر سی پیک کے منجمد ہونے کے بعد پاکستان مکمل طور پر معاشی بحران میں مبتلا ہوتا گیا اور آخرکار عمران خان کو دوبارہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا اور انتہائی سخت شرائط پر معاہدہ کرنا پڑا جس نے ملک میں مہنگائی اور معاشی بحران میں شدت پیدا کی۔

بین الاقوامی طاقتوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں دلچسپی چھوڑ دی اور اس کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ جس سے عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو نقصان پہنچا اور ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔

اس کے باوجود عمران خان اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا یہ ہنی مون اس وقت تک جاری رہا جبتک عمران خان نے ملٹری کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی مگر جب اس نے اس وقت کے آئی ایس آئی کے چیف جنرل عاصم منیر کو ہٹانے کی ضد کی اور اپنے پسندیدہ جنرل فیض حمید کو تعینات کرنے پر مجبور کیا تو ان تعلقات میں کشیدگی شروع ہو گئی اور یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین موڑ تھا جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اندر اختلافات پیدا ہونے لگے اور آخر کار یہ اسقدر شدت اختیار کر  گئے کہ مجبور ہو کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اپنے آپ کو سیاست سے دستبردار کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا اور اس کے نتیجے کے طور پر عمران خان کی کٹھ پتلی حکومت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی۔

اس کے بعد عمران خان نے ایک ناکام اور غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی حکومت کے خاتمے کا جھوٹا الزام امریکہ پر عائد کر دیا گیا جس کو عوام اور دنیا نے کوئی اہمیت نہیں دی اور وہ بڑی طرح سے ناکام ہو گیا۔ جس کے بعد وہ مسلسل جھوٹ پر مبنی نت نئے الزامات دہرانے کے عمل میں سرگرم رہا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور عمران خان پرڈاکٹ کے سہولت کاروں اس تمام عرصے میں سرگرم عمل رہے تاکہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس میں ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں دوبارہ سے مداخلت پر عمل درآمد کرنے کا اہتمام ہو سکے۔ اس کام کے لیے ان قوتوں نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک بڑی فنڈنگ کا اہتمام کیا


اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ  عمران خان اقتدار سے علیحدگی کے بعد ابتک جس ملک اور عوام دشمن ایجنڈے پر کام کر رہا تھا اور اس میں اس کی مدد گار عدلیہ کے  مکروہ چہرے،   باجوہ ڈاکٹرین  اور اس کی باقیات جن میں ملٹری ڈکٹیٹروں کی اولادیں، ریٹائرڈ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ان کی اولادیں، کرپٹ سول بیوروکریسی، کرپٹ حاضر و ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کی اولادیں اور وہ تمام کاروباری طبقات جنہوں نے آمریت میں کھربوں روپے کماے شامل ہیں اور انہوں نے ملک کو انتشار  افراتفری اور معاشی بحران میں مبتلا کرنے کے لیے ہر حربے استعمال کیے لیکن ان کی تمام سازشوں کو ناکام کا سامنا کرنا پڑا جب جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ اس طرح سے ان اندرونی سازشی عناصر کو ایک حد تک لگام دے دی گئی ہے مگر اس کے باوجود اب عدلیہ کے ذریعے ملک میں بحران پیدا کرنے کے کوششیں اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہیں۔

یہ پاکستان اور عوام پر اللہ کا کرم ہے کہ آج وہ مکروہ چہرے جو ملک کی تباہی اور بربادی کے ذمہ دار ہیں اور ان کا تعلق ملٹری اور عدلیہ سے ہے خودبخود بےنقاب ہو رہے ہیں اور وہ آج ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور اپنے آپ کو ان سازشوں سے بری کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف بین الاقوامی سیاست میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی ہے اور روس  یوکرائن جنگ کے بعد کی صورتحال میں دو بڑی طاقتوں چین اور روس کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے کا موقع فراہم کیا ہے اور اب یہ طاقتیں ملکر دنیا میں امریکی معاشی بالادستی کے خاتمے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں ان حالات میں پاکستان اور سی پیک دوبارہ سے اہمیت اختیار کر چکا ہے اور اس کا ادراک ان تمام قوتوں کو بھی ہو چکا ہے اسلئے عمران خان کے امریکی سازش کے من گھڑت الزامات کے باوجود آج امریکہ اس کی پشت پناہی کرنے پر مائل ہے جس کا ثبوت خلیل زلمے زار کی طرف سے مکمل طور پر پاکستان کے معاملات میں مداخلت کرنے اور عمران خان کی حمایت میں ظاہر ہو رہا ہے۔

یہ وہی خلیل زلمے زار ہے جو کہ افغانستان،  عراق اور دیگر مسلم ممالک کی تباہی میں اہم کردار ادا کر چکا ہے اور اب وہ پاکستان کی تباہی کے لیے میدان عمل میں لایا گیا ہے جو کہ عمران خان اور اس کے بیرونی عناصر جو اسلام اور پاکستان دشمن ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں کہ مذموم عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

اور آج عمران خان کے متعلق ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ اور حکیم محمد سعید کی برسوں پہلے کئی گئی بات کو اللہ نے سب کے سامنے حقیقت کی صورت میں عیاں کر دیا ہے۔

یار رہے کہ عمران خان اور اس کے سہولت کاروں کی اپنی بقاء کی آخری جنگ ہے اور اب یہ تمام محب وطن پاکستانی اور مسلمانوں پر لازمی ہے کہ وہ عمران خان اور کے ملکی  اور غیر ملکی سہولت کاروں کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں اور ان کو عبرت ناک انجام سے دوچار کریں۔ اللہ ہم سب کو ان عناصر کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنے اور کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین

Post a Comment

0 Comments