Header Ads Widget

غزہ عظیم انسانی المیہ اور ہمارا رویہ

 تحریر: ممتاز ہاشمی 



آج  زمین کے ایک حصے پر جس کو غزہ کے نام سے جانا جاتا ہے تاریخ کا سخت ترین ظلم و ستم جاری ہے اگرچہ یہ طویل کہانی ہے اور فلسطین کے مسلمان عرصہ دراز سے نہ صرف اپنے گھروں سے بےگھر کردہے گئے تھے بلکہ ان کو ایک علاقے میں محصور کر دیا گیا تھا گویا وہ ایک طرح سے قید میں ہیں ان کی مختلف زمینی اور سمندری راستوں سے ناکہ بندی کر دی گئی تھی تاکہ ان کو اپنے دفاع اور وطن کی آزادی کے لیے کسی قسم کے وسائل دستیاب نہ ہو سکیں۔

ان تمام نامساعد حالات میں بھی فلسطینی مسلمانوں نے اسرائیل کے خلاف جدوجہد جاری رکھی اور دنیا کو مختلف طریقوں سے اس سنگین مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی مگر کیونکہ دنیا کی اکثریت کے مفادات اسرائیلی لابی سے وابستہ ہیں اسلئے کسی نے بھی ان کو اہمیت نہیں دی صرف زبانی جمع خرچ کر کے اپنے آپ کو اس جدوجہد میں شامل کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔

ان تمام حالات و واقعات سے اسرائیل کی نہ صرف ہمت افزائی ہوئی بلکہ انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ مزید علاقوں پر اپنا قبضہ جما لیا اور یوں فلسطینی کو ایک مخصوص علاقے میں قید کر دیا گیا۔ 

واضح رہے کہ اسرائیلی کی ان تمام کارروائیوں کو حوصلہ افزائی نام نہاد مسلم ممالک کی طرف سے ہوئی جن میں وہ   تمام مسلمان ممالک خصوصاً وہ شامل ہیں جن کی سرحدیں فلسطین سے ملتی ہیں اس طرح سے  محصور فلسطینی عوام کے پاس مزاحمت یا موت کے علاوہ کوئی  دوسرا راستہ باقی نہ رہا۔

ان حالات میں  فلسطینیوں نے  اپنے آپ کو ایک اہم مزاحمت کے لیے منظم کیا اور ایک آخری وار کرنے کا آغاز کیا۔ اس وقت ان مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو اس بات کا یقین تھا کہ ان کی اس بہادرانہ جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر کے انسانی حقوق،  آزادی اور مساوات کے علمبردار ممالک،  تنظیمیں اور  خصوصاً مسلمان ممالک اورعوام ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے غاصبانہ عزائم کو ناکام بنانے کیلئے متحرک ہو جائیں گے۔

مگر آج انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا تو دور کی بات ہے کوئی بھی مسلمان ملک ان کا عملی  طور ساتھ  دینے کو تیار نہیں ہے وہ بیانات کی حد تک تو ظاہری طور میں ان کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان کو اندرون خانہ اسرائیل کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے غلامانہ زندگی بسر کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ 

یہی حال نام نہاد مسلمانوں کا ہے جو سواے احتجاجی  جلسہ و جلوس اور مذمت تک ہی محدود ہے کوئی بھی ان کی عملی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان حالات میں بھی  ہم نام نہاد مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی میں عیاشیوں، تفریحات اور کھیل کود میں مکمل طور پرنہ صرف مگن ہیں مگر ہر روز ان میں اضافہ دیکھنے کو نظر آ رہا ہے۔

یہ صورتحال انتہائی دکھ اور تکلیف کا باعث ہے اور ہم مسلمان ہونے کا دعوٰی کرنے والوں کے لیے شرم کا مقام ہے مگر ہمیں اس کا کوئی احساس تک نہیں ہے ۔ 

یاد رہے اس ظلم و ستم پر خاموشی یا ان کی عملی مدد سے کوتاہی ہم سب کے لیے آخرت میں عذاب کا جواز فراہم کرنے کے لیے کافی ہو گی۔

اسلئے  آج بھی تمام اہل ایمان کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنی تمام وسائل و صلاحیتیں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں کو مجبور کریں کہ وہ ان مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی جدوجہد میں عملی طور پر شامل ہوں اور جہاں پر اسرائیلی مفاہمتی رحجان رکھنے والی حکومتیں ہیں ان کو مجبور کریں کہ وہ اپنا طرزِعمل تبدیل کریں اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف عملی طور پر متحرک ہوں۔

اس کے لیے دنیا بھر کے ال ایمان کو مسلم اکثریتی ممالک میں دین اسلام کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ایسی حکومتوں کے قیام کے بعد کسی کو بھی مسلمانوں پر جارحیت اور ظلم و ستم کرنے سے روکا جا سکے۔

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل مشہورحدیث کو  یاد کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے

(صحیح بخاری: کتاب المظالم و الغضب أعن أخاك ظالما أو مظلوما.)

"انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وه ظالم ہو یا مظلوم – صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں، لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑلو۔ (یہی اس کی مدد ہے)

(صحیح مسلم: كتاب البر والصلة والآداب، باب نصر الأخ ظالما أو مظلوما.)

"جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہے تو اس کو ظلم سے روکو اور اگر مظلوم ہے تو اس کی مدد کرو-"

اللہ تعالی نے مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانے اور اس کے ظلم کو ختم کرنے کی ترغیب دی ہے چونکہ اس کے ذریعہ ان شاء اللہ ایک صالح معاشرہ تشکیل پائے گا اور برے اور شر پسند لوگوں کے پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: کہ اپنے بھائی کی ہر صورت میں مدد کرو یقینًا اللہ تعالی تمہاری ایسے موقع پر مدد کرے گا جب کہ تم اس کے بہت ہی محتاج ہو گے۔ اللہ تعالی ہمیں کمزورں اور مظلوموں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے

واضح رہے کہ یہ وقت کسی وظیفہ یا صرف دعا کا نہیں ہے بلکہ پہلے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہی اللہ سے مدد کی دعا کی جا سکتی ہے اس کا واضح حکم ہمارے دین اسلام میں بیان کیا گیا ہے۔

اللہ ہمیں اس امتحان میں سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Post a Comment

0 Comments