Header Ads Widget

ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی یاد میں In Memory of Dr. Israr Ahmed

 اپریل 14، 2025


تحریر: ممتاز ہاشمی 


 ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کو اپنے رب کی طرف لوٹے 15 سال ہوگئے اس موقع پر جب کچھ لکھنے کی کوشش کی تو دل و دماغ میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو گئی کیونکہ ان جیسی عظیم ہستی جس کو اللہ سبحانہ و تعالٰی نے قرآن مجید کی تبلیغ اور اقامت دین کی جدوجہد کے لیے منتخب کر لیا تھا ان پر لکھنے کے الفاظ نہیں ملتے۔

ان سے کچھ ذاتی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔

 یہ ایک حقیقت ہے کہ میں ان کو اپنےبچپن سے جانتا تھا ۔اس وقت وہ جوان تھے اور کرشن نگر لاہورمیں ہمارےگھر کی گلی میں انہوں نے اپنا کلینک کھولا تھا ۔ جب بھی گھر میں کوئی بیمار ہوتا تھا میری والدہ ا س کو ہمیشہ ان کےپاس لے جاتی تھیں اور واقعتاً ان کی دی ہوئی دوائی میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ایسی تاثیر دی تھی کہ اس دوائی کی ایک خوراک لینے کے بعد ہی طبیعت سنبھل جاتی تھی ۔ میں نے اس وقت ان کےکلینک اور گھر کو قرآن مجید اور متعلقہ کتابوں سے بھرا ہوا دیکھا تھا ۔جب بھی کوئی زیادہ بیمار ہوتا اور وہ چلنے کے قابل نہ ہوتا تومیں اکثر، ان کو اپنے ساتھ پیدل گھر لےجانے کے لیے جاتا تھا۔ وہ اتنےشائستہ اور مخلص تھے کہ فوراً میرے ساتھ اپنا بیگ لے کر مریض کو دیکھنے ساتھ چل کر ہمارے گھر جاتے تھے۔

ایک طویل عرصے کے بعد جب اللہ نے اپنی خصوصی رحمت سے مجھے دین اسلام کی جانب راغب کیا تو اب میرے سامنے قرآن مجید کو مکمل اور واضح طور پر سمجھنے کا  مرحلہ درپیش تھا 

اس موقع پر ایک بار پھر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے میری راہنمائی فرمائی اور میرے دل نےمجھے ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ سے قرآن مجید کا علم حاصل کرنے کا کہا ۔

اس طرح سے میں نے عمر کے اس حصے میں قرآن مجید اور دین اسلام کا مکمل تصور ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔

ڈاکٹر صاحب نے جلد ہی اپنی کلینک بند کر کے ہمہ وقت قرآن مجید کی تبلیغ اور اقامت دین کی جدوجہد کا راستہ اختیار کر لیا۔ اور پھر ساری عمر اسی جدوجہد میں گزار دی وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ اور اللہ کی کتاب کی تفسیر اور اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی کوشش میں شب وروز تسلسل کے ساتھ مصروفِ عمل رہے۔

اس جدوجہد میں ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ حق و صداقت پر مبنی قرآن مجید کے احکامات اور اس کی عملی شکل و اقدامات کو بلا خوف بیان کرتے تھے جس سے مختلف قوتوں  نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے  ہوئے ان کے دروس قرآن  س کر  دنیا کے مختلف حصوں میں  پابندی عائد کی گئی۔ مگر ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی استقامت میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بے تحاشا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 

‏الحمد للہ آج انکی تعلیمات سے پوری دنیا خصوصا اردو، انگلش اور ہندی سمجھنے والے استفادہ کررہے ہیں۔ موجودہ دور اور آنے والے ادوار کے حوالے سے بھی ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی باتیں اور ہدایات اہلِ دین کیلئے مشعل راہ ہیں۔

آج ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کے سینکڑوں بلکہ اب شاید ہزاروں شاگرد اپنے استاد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے استاد کے علم اور فکر کو پھیلانے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد میں این کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کیلئے صدقہ جاریہ ہے۔

 میں ہر اس شخص کو جو قرآن اور دین اسلام کاحقیقی علم حاصل کرناچاہتا ہے مشورہ دوں گا کہ  وہ ڈاکٹراسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی نصف صدی پر محیط  کاوشوں سے استفادہ کرے  جو کہ آج کے دور جدید کی تمام ٹیکنالوجیز (کتب، آڈیوز، وڈیوز) کی شکل میں موجود ہے۔

آج بہت سے لوگ ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اقوال اور دروس کے حوالے دیتے نظر آتے ہیں مگر افسوس کہ وہ ان سے خود استفادہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں اسلئے ہمیں ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ سے عقیدت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی قائم کردہ تنظیم اسلامی میں شامل ہو کر اقامت دین کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ اقامت دین کی جدوجہد کرنے میں ہم کسی پر احسان نہیں کریں گے بلکہ یہ تو صرف ہمارے اپنے انفرادی فائدے کے لیے شمار ہو گی اور روز قیامت اقامت دین کی جدوجہد ہی ہمارے لیے نجات اور کامیابی کا ذریعہ ثابت ہو گی۔

 اللہ سبحانہ وتعالٰی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو ان کے راستے پر چلتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد میں عملی طور شریک ہونے کی ہمت، اور توفیق عطا فرمائے ۔آمین

Post a Comment

0 Comments