میری زندگی کا اہم ترین موڑ : قرآن کی طرف پلٹنا
تحریر: ممتاز ہاشمی
ہمارا خاندان ہاشمی (بنو ہاشم قبائل) سب سے عظیم پیغمبر آخرالزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارا خاندانی شجرہ پیغمبر آخرالزمان محمد ﷺکے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کے فرزند حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ( کربلا کی جنگ میں بچنے والے واحد مرد) سے جڑتا ہے۔ ہمارے آبا و اجدا عرب پنسلوانیا سے ان مختلف علاقوں میں ہجرت کرتے گئے جہاں جہاں دین اسلام قائم ہوتا گیا ۔ ہمارے بزرگوں نے عرب پنسلوانیا، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ہندوستان آئے تھے جب مسلمانوں نے ان علاقوں کو فتح کیا اور شریعت نافذ کر دی گئی۔ اور ہندوستان میں اسلامی عدالتوں کے کام کرنے کے لیے “مفتیان" کی ضرورت تھی ، جو شریعت کی تشریح اور اس کے اطلاق کے بارے میں "قاضی "کی مدد کرتا ہے۔ ان میں ہاشمی، قریشی، عباسی اور دیگر قبائل کے لوگ شامل تھے۔ ہمارے خاندانوں نے اسلامی شریعت کے نفاذ تک زیادہ تر اسلامی شرعی عدالتوں میں "مفتیان" کے عہدہ پر کام کیا ۔ جب ہندوستان میں برطانوی راج قائم ہوا تو ان اسلامی شریعت کی جگہ برطانوی قوانین نے لے لی اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ ہو گیا ۔ اس طرح مفتیوں کا کردار بھی ختم ہو گیا۔ہمارے پرداددوں نے پھر مختلف شعبوں اور پیشوں میں خدمات کا آغاز کیا۔ کیونکہ ہمارے خاندان والے زیادہ تر تعلیم یافتہ افراد تھے اسلئے اکثریت نے مختلف شعبوں میں نوکری اختیار کی۔
یہ نوٹ کرنا دلچسپی کا باعث ہے کہ ہمارے کچھ رشتے داروں نے بعد میں بھی اپنے خاندان کے نام کے طور پر "مفتی" کا لقب استعمال کرتے آ رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سے رشتہ دار اب بھی اپنے خاندانی نام "مفتی" رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے کچھ رشتے دار جو کہ وسطی ایشیا ریاست، بخارا سے ہجرت کر کے " مفتیان " کا کردار ادا کرنے ہندوستان آئے تھے ، تو انہوں نے اپنے آپ کو بخاری کے خاندانی نام سے منسوب کر دیا۔ ہمارے خاندانوں کے اختلاط کی مثال میرے کچھ قریبی رشتہ داروں کے ناموں سے ظاہر ہوتی ہے ۔
عبدالوحید بخاری میرے تایا. ان کے بیٹے ارشد بخاری جو این ای ڈی سے گریجویٹ تھے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن میں منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے تھے اور بعد ازاں ممبر پاور، واپڈا ریٹائرڈ ہوئے۔
عبدالحمید شاکر بخاری میرے تایا۔ ڈاکٹر مظہر مفتی میرے تایا۔
ڈاکٹر امانت مفتی میرے پھوپھا
سخاوت مفتی میرے پھوپا۔
ممتاز مفتی (مشہور مصنف) میرے والد کے ماموں۔
ہندوستان میں برطانوی راج قائم ہونے کے بعد ہمارے زیادہ تر رشتہ داروں نے پنجاب کو اپنایا اور اس میں بھی اکثریت نے پنجاب کے ایک شہر گرداسپور میں اور اس کے ضلع بٹالہ میں رہائش اختیار کی۔ اس طرح بٹالہ میں ایک علاقہ کا نام " مفتیاں محلہ" کے نام سے جانا جاتا تھا اس محلے اور اس میں رہائش پذیر ہمارے خاندانوں کا ذکر مشہور مصنف ممتاز مفتی (میرے والد کے ماموں) نے اپنی سوانح حیات کیا ہے۔
میں اپنے بچپن میں 60 کی دھائی میں پتنگ بازی کا بڑا شوقین تھا اور اپنے کرشن نگر لاہور کے گھرکی چھت پرکافی وقت صرف کرتا تھا۔ جب بھی، میں اسکول سے گھر آتا تھا تو جلدی جلدی اپنا اسکول کا بیگ چھوڑ کر پتنگ بازی کا سامان لے کرچھت پر چلاجاتا تھا ۔ میری والدہ مجھے نیچےآنے اور کھانا کے لیے آوازیں لگاتی تھیں لیکن میں دوپہر کےکھانے کی پرواہ نہیں کرتا اور ان کے باربار بلانے بعد بھی میں جلدی سے کھانا کھا کر دوبارہ پھر سے چھت پر چلا جاتا تھا کیونکہ اس وقت والد صاحب گھر میں نہیں ہوتے تھے۔ وہ میرے اس شوق پر بہت زیادہ فکر مند تھیں ۔ ہمارے خاندان / رشتے داروں کے ایک بہت نیک اور عظیم روحانی بزرگ تھے۔ جن کا نام حافظ طیب بادشاہ تھا ہم سب ان کو حافظ صاحب کے نام سےجانتےتھے (اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین) وہ بہت عظیم انسان تھے جو لوگوں کو قرآن اور دین اسلام کی طرف راغب کرنے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ ان ہی سے میں اور دیگر رشتہ داروں نے بچپن میں نماز پڑھنے سیکھی۔ ہمارے تمام خاندانوں کے افراد ان کا بہت احترام کرتے تھے میرے والدین اور روسرے رشتے دار ہمشہ ان سے اہم کاموں میں مشورہ اور دعائیں ضرور لیتے تھے ہم سب پر اور خاص طورپر میری ذاتی زندگی پر انکا بہت بڑا اثر ہے۔ وہ جھنگ سے اکثر ہمارے گھر لاہور آتے تھے ۔وہ زیادہ تر ہمارے گھر میں ہی رہتے تھے اور میں زیادہ تر ان کےساتھ اپنے خاندانوں / رشتہ داروں کے گھر لیکر جاتا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ، حافظ صاحب کو ہمارے تمام خاندانوں / رشتہ داروں سے میراپھوپھا ، ڈاکٹرامانت مفتی اور میرے تایا ، بخاری صاحب نے ملایا تھا حافظ صاحب کی تلاوت قرآن مجید اورنعت خوانی بہت متاثرکن اور دلکش تھیں مجھےآج بھی انکی خوبصورت روحانی آواز یاد ہے ،جو اللہ سبحانہ و تعالٰی اوررسول اللہ ان کی بھرپور عقیدت اور محبت کی عکاسی کرتی تھی ۔ مجھےاس کے بعد ان جیسا نعت خوانی کا کوئی دوسرا سننے کو نہیں ملا۔ جب بھی، وہ ایک خاص نعت جو وہ اکثر پڑھتے تھے تو میں اسے اپنےگھر سے دورسے ہی سن سکتا تھا۔ یہ نعت جو کہ فارسی میں ہے اس کا روحانی سرور آج تک میرے ذہن میں برقرار ہے ۔ یہ نعت مولانا جامی کا شاہکار ہے۔
نسیما جانب بطحا گزر کن
زاحوالم محمد را خبر کن
توہی سلطان عالم یا محمد
زروے لطف سوے من نظر کن
بہ برایں جان مشتاقم بر آں جا
فداے روضہ خیر البشر کن
مشرف گرچہ شد جامی زلطفش
خدایا ایں کرم باردگر کن!
یہ ان کا رسول پاک محمد ﷺ سے محبت اور عقیدت کا انتہائی اظہار تھا اور اللہ سبحانہ و تعالٰی نے انھیں کی اس خواہش کو قبولیت بخشش ہوئے ان کی آخری آرام گاہ رسول اللہ ﷺکے قریب مدینہ منورہ میں ہی بنا دی۔
ایک دن میری والدہ نے حافظ صاحب سے کہا میرے لیے دعا کریں کہ پتنگ بازی چھوڑ دوں۔ حافظ صاحب نے قرآن مجید سے دعا پڑھی اور میرے سرپر ہاتھ رکھااور مجھے دم کردیا۔ تب حافظ صاحب نے میری والدہ سے کہاکہ وہ میری پتنگ بازی میں مداخلت نہ کریں اور کہا کہ جب میں پتنگ اڑاتا ہوں تو میں آسمان پر اللہ سبحانہ و تعالٰی کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہوں اور یہی عمل کسی طرح بھی اللہ کی جانب دل کے بدلنے کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔ مجھے اس پربہت خوشی ہوئی کیونکہ اب مجھےاپنی پتنگ بازی جاری رکھنے کا لائسنس ملا گیا تھا اوراس دن سےمیری والدہ نے میری پتنگ بازی میں مداخلت نہیں کی ۔ اگرچہ ،مجھے ہر وقت پتنگ بازی کرنے پر والد کے غصےسے خوف رہتا تھا ۔ کراچی منتقلی کے بعد پتنگ بازی جاری نہیں رہی لیکن یہ واقعہ ہروقت میرے ذہن میں تازہ رہا۔ میری والدہ بھی اس واقعے کےبارے میں سب کو بتاتی رہتی تھیں ۔
اپنے بچپن کے دور میں لاہورمیں قیام کے دوران ہی میں اس وقت کے اہم اور بڑے سیاسی واقعات کا حصہ رہا اور مشاہدہ کیا۔ اور پاکستان کی بیشتر اہم سیاسی / مذہبی شخصیات کودیکھا اور ان سےملا تھا۔ مجھے 1965 کے بی ڈی الیکشن اور فاطمہ جناح کی انتخابی مہم بھی یاد ہے اور میں نے 14 سال کی عمرمیں 1970 کے مشہور انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اس سیاسی تاریخ کو بھی کبھی لکھنے کی کوشش کروں گا ۔ان شا اللہ۔
کراچی منتقلی کےبعد ، میں نے اسٹوڈنٹ سیاست اور اہم ملکی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شامل رہا۔یہ میری زندگی سب سےمصروف وقت تھا اورمیں نے ان سرگرمیوں میں اپنے زمانہ طالبعلمی ، جوانی اور عمر کا بڑا حصہ گزارا اور اس عملی جدوجہد میں نہ صرف وقت وسائل صرف کئے بلکہ تکالیف اور مصائب بھی برداشت کئے۔ اس جدوجہد کے بنیادی مقاصد بدعنوانیوں اور لوٹ کھسوٹ کے استحصالی نظام میں انقلاب لانااور سوشلسٹ اقتصادی نظریہ پر مبنی ایک منصفانہ اقتصادی وسماج نظام کا قیام تھا۔میں نے اس جدوجہد میں پاکستان کی تاریخ کے سیاسی اور سماجی کارکنوں سمیت عظیم اور دیانتدار لوگوں کی قیادت اور راہنمائی میں حصہ لیا۔ جن میں میرے سیاسی قائد معراج محمد خان تھے اس کے علاوہ دیگر سماجی و معاشرے کی اصلاحات کی تحریکوں میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس وقت مجھے دین اسلام کے عدل پر مبنی اقتصادی اور سماجی تصورکے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا اور نہ ہی میں نے اس کو سمجھنے کی کوشش کی تھی ۔ میرا نظریہ بھی عام لوگوں کی طرح اسلام کے بارے میں ایک مذہبی عبادات تک محدود تھا ہماری تمام جدوجہد انتہائی خلوص اور نیک نیتی پر مبنی تھی جس کا واحد مقصد لوگوں کے لیے انصاف اور برابری کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی بنیاد رکھنا تھا۔
این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں نے شروع میں مختلف پرائیویٹ کمپنیوں میں جاب شروع کی۔ اسوقت کراچی میں میگا پراجیکٹس پاکستان اسٹیل ملز اور پورٹ قاسم زیر تعمیر تھے اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی میں ترقیاتی کاموں کی بہتات تھی اسلئے اسوقت سول انجیرز کی بہت ڈیمانڈ تھی اور ایک وقت میں مختلف کمپنیوں کی جاب آفر ہوتی تھی میں نے اسٹیل ملز پراجیکٹس میں ایک کنٹریکٹر کے پاس جاب شروع کی اور یہاں پر بہت محنت کی اور اس میں خوب مزا بھی آتا تھا جب اس بڑے پراجیکٹس پر کام کرتے تھے اسی دوران ان بڑے بڑے
کنٹریکٹرز کو سمجھنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ ان میں زیادہ تر اہم پوزیشنیں ڈپلومہ ہولڈرز کے پاس تھیں۔ جس پر میں نے کچھ انجینیرز کے ساتھ ملکر اسٹیل ملز جوکہ پراجیکٹس کی کلائینٹ تھی ان سے رابطہ کیا اور ان کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ کنٹریکٹر کو گریجویٹ انجینیرز کو اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں اور اس کے کچھ اثرات مرتب بھی ہوئے۔ اس کے بعد میں نے کوئٹہ میں یونیورسٹی کی تعمیر کے منصوبے پر بھی کام کیا اور اس کے بعد دالبدین جو کہ ایران کے بارڈ کے قریب دالبندین جو آر سی ڈی ہائی وے پر واقع ہے وہاں پر ایک منصوبے پر کام کرنا شروع کیا تھا یہ پاکستان کا سب سے زیادہ گرم علاقہ ہے دن میں سخت لو یوتی ہے اور رات کو سردی ہو جاتی ہے۔ اسی دوران 83 کی ایم آر ڈی کی بحالی جمہوریت کی تحریک کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے اور میں نوکری چھوڑ کر واپس کراچی آ گیا تاکہ اس تحریک میں شامل ہو سکوں۔ یہ بہت اہم اور عظیم سیاسی تحریک تھی اس کے واقعات بھی کبھی لکھنے کی کوشش کروں گا ان شا اللہ۔
اس عرصے میں میری والدہ اس بات پر پریشان تھیں کہ میں گھر سے باہر جاب کرتا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ میری شادی کی جائے اور کراچی میں جاب کی جائے۔ اس موقع پر بھی حافظ صاحب نے ہماری راہنمائی کی اور پھر میں نے کراچی کے ترقیاتی ادارے / میونسپل کارپوریشن کے پلاننگ اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں جاب شروع کی۔ اس دوران ملازمت بھی یہ جدوجہد جاری رہی بلکہ اس میں ایک اور اضافہ ہو گیا۔ اب میرا سامنا پاکستان کے بہت بڑے مافیاز ( بلڈرز اینڈ ڈوئلپرز) کے ساتھ ہوا۔ ان کے ساتھ نہ صرف سرکاری عہدے دار بلکہ دوسرے ادارے بھی ان کے غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔ کیونکہ اس مافیاز کے کام میں سب سے زیادہ منافع خوری شامل ہوتی تھی جس کے اثرات سہولتوں میں کمی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتے تھے۔جبکہ حکومت کو ٹیکس سے محرومی ہوتی تھی اس جدوجہد میں بہت سی مشکلات کا سامناکرنا پڑا اور جس میں میری / کنبہ کی زندگیوں کو خطرہ تھا۔ میری اس جدوجہد میں پاکستان کے عظیم اور مخلص لوگوں کا مجھے بھرپور تعاون حاصل رہا جن میں ہمارے عظیم پروفیسر محمد نعمان سرفہرست ہیں۔ دراصل نعمان صاحب سے تعلق تو اسی وقت قائم ہو گیا تھا جب میں ڈی جے سائنس کالج میں ایف ایس سی کر رہا تھا اور نعمان صاحب این ای ڈی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے نعمان صاحب، مبشر اسلم اور صباح الدین مجاہد این ای ڈی میں پی ایس ایف کے بانی تھے اور ان لوگوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ این ای ڈی میں جمعیت کو الیکشن میں شکست دی تھی اور ان ہی کی قیادت میں 74 میں سٹوڈنٹس کی تحریک چلائی گئی تھی۔ کیونکہ ڈی جے اور این ای ڈی ایک ہی احاطہ میں تھے اس لیے ان سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔ ڈی جے کالج میں میرا تعلق سید جعفر احمد سے پیدا ہوا جو اسوقت بی ایس سی میں زیر تعلیم تھے اور بائیں بازو کے لیڈر اور دانشور شمار ہوتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بائیں بازو کے بہترین مقرر تھے اور ان کے مدمقابل دائیں بازو یعنی جمعیت کے بہترین مقرر حسین حقانی تھے۔ اکثر ڈبیٹنگ کے مقابلوں ان دونوں کو پہلا اور دوسرا انعام ملتا تھا۔ بعد میں دونوں کراچی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگے جہاں پر یہ مقابلہ جاری رہا۔ میں این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ اس طرح سے سید جعفر احمد سے رابطہ برقرار رہا۔ بعد ازاں سید جعفر احمد نے کراچی یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کے بعد کیمرج یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کیا اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ پاکستان سٹیدی سنٹر میں تدریس کے فرائض انجام دیے اور اس ادارے کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ انہوں نے بے شمار کتابیں کے مصنف ہیں جن میں سیاست، تاریخ اور فلسفہ شامل ہیں، جو کہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔
میں نے تعلیم اور اس کے بعد ملک کی سیاسی تحریکوں میں بہت سرگرم سے حصہ لیا جن میں 72 کی مزدور تحریک، 74 تا 79 تک جمہوریت اور آزادی صحافت کی مختلف تحریکیں شامل ہیں۔ ان تحریکوں میں پاکستان کے عظیم اور مخلص سیاسی راہنماؤں، مزدر رہنماؤں اور صحافیوں سے رابطہ ہوا۔ جن میں مشہور مزدور رہنما عثمان بلوچ، باور خان، کرامت اور صحافیوں میں منہاج برنا ( جو میرے لیڈر معراج محمد خان کے بھائی بھی تھے )، شوکت صدیقی، ویاب صدیقی، مجاہد بریلوی احفاظ الرحمٰن، وغیرہ وغیرہ شامل تھے۔
جب میں این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو نعمان صاحب اس وقت الیکٹریکل انجینئرنگ میں لیکچرار تھے اس طرح سے ان سے مسلسل رابطے بحال رہا اور مجھ سمیت بہت سے طلباء، اور مزدور راہنماؤں نے سیاسی تربیت نعمان صاحب جیسے عظیم انسان سے حاصل کی تھی۔ بعد میں دوران ملازمت نعمان صاحب سے مزید گہرا تعلق قائم رہا اور ان مافیاز کے خلاف جدوجہد میں ان کا بہت تعاون حاصل رہا۔اس کے علاوہ کاوس جی، قاضی فائز عیسٰی ( جو اسوقت مشہور این جی او " شہری " کے چیئرپرسن تھے )، انجینئر رونالڈ ڈی سوزا، امبر علی بھائی، ڈاکٹر رضا گردیزی، طیب احمد، ریحان و دیگر شہری کے رضاکار شامل تھے دیگر معاونت میں انجینئر سلیم تھاریانی، ارکٹیکٹ اینڈ ٹاؤن پلاننگ کونسل کے چیئرمین کلیم الدین، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے نورالدین وغیرہ وغیرہ شامل تھے۔
اس جدوجہد کے دوران مختلف واقعات رونما ہوئے اور آخرکار جب ملک میں رہنا دشوار ہوگا گیا توان حالات میں اللہ سبحانہ وتعالٰی نے میرے لیے کینیڈا ہجرت کامنصوبہ بنایا۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا معجزہ تھا، کیونکہ اس کے متعلق زندگی میں کبھی بھی سوچا تک نہیں تھ۔ا یہ سب اللہ سبحانہ و تعالٰی کی طرف سے پیدا کیے گئے حالات اور واقعات کا نتیجہ تھا ۔ہجرت کے بعد زندگی صفر سے شروع ہوئی اور یہ میری زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ میں نے 20 سال بعد ایک بار پھر کینیڈا میں انجینئرنگ کی اضافی تعلیم حاصل کی جو یہاں پر انجینئرنگ جاب کے لئے لازمی تھی ۔ جب میں نے 70 کی دہائی کے آخرمیں پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی تو اس وقت سائنسی کیلکولیٹرز ابھی متعارف کروائےگئے تھے۔ لیکن اب 20 سال کے بعد انجینئرنگ کی تعلیم کا زیادہ ترحصہ کمپیوٹر سوفٹویئر پر تھا۔ اس موقع پر اللہ سبحانہ و تعالٰی نے پھر مدد کی اوراس مرحلے میں کامیاب حاصل ہوئی ۔ جس کے بعد ٹورنٹو میونسپلٹی میں ٹرانسپورٹیشن پلاننگ میں جاب شروع کی۔ یہاں پر مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ڈویلپر مافیاز دنیا بھر میں بہت طاقتور ہے اور وہ ہر قسم کے منصوبوں کو پاس کرا سکتے ہیں چاہیے وہ قواعد و ضوابط سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ بہرکیف میں نے اپنی استطاعت کی حد تک ان سب خلاف قانون منصوبوں کو روکنے کی کوشش کی اور اپنی طرف سے ان کو منظوری کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا۔
ہجرت نے مجھے اس معاشرے اور یہاں پر سرمایہ دارنہ اور لبرل ازم پر مبنی نظام کا قریب سے مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کاموقع فراہم کیا۔ یہ کوئی مثالی نظام نہیں تھا اور میں اس معاشرتی نا انصافی اور لبرلازم کے نظریات اور ان کے عملی نفاذ کے بارے میں جو تصور تھا اس کو مکمل متضاد پایا ۔ اس دوران دل اور دماغ کنفیوژن اور کشمکش کا شکار تھا ۔ ان حالات میں دل سچائی کی تلاش میں تھا۔ اورپھر یوں ایک واقعہ پیش آیا۔ اگست 2009 کے پہلے ہفتہ میں اپنے کمپیوٹرپر حسب معمول ایک فورم پر بحث میں مصروف تھا اوربحث کا ضوع قرآن مجید اور حدیث کے حوالہ سے تھا (اس موضوع بعد ازاں میں نے ایک مضمون" احکاماتِ ہجرت" کےعنوان سےتحریربھی کیاہے )۔ اس دوران میں نے قرآن مجید کے حوالوں کی تصدیق کیلئے قرآن مجید کا رخ کیا ۔اس وقت میں نے جسمانی طور پر محسوس کیا کہ جیسے میرا دل زور زور سے دھڑک اور گھوم رہا تھا اور میں نے اپنے دل میں ایک واضح پیغام محسوس کیا جو مجھے قرآن مجید کی طرف رجوع کیلئے آواز دے رہا تھا۔ بعد میں ،مجھے دل کی اس تبدیلی پرایک حدیث کےبارے میں معلوم ہوا:
"شہر بن حوشب ؒ کہتے ہیں کہ میں نے اُمّ سلمہ رضی الله عنہا سے پوچھا: اُمّ المؤمنین! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے یہاں ہوتا تو آپ کی زیادہ تر دعا کیا ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: آپ زیادہ تر «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلٰى دِينِكَ» ”اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جما دے“ پڑھتے تھے۔ خود میں نے بھی آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ اکثر یہ دعا: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلٰى دِينِكَ» کیوں پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: ”اے اُمّ سلمہ! کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جس کا دل اللہ سبحانہ وتعالٰی کی انگلیوں میں سے اس کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، تو اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے ( دین حق پر ) قائم و ثابت قدم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس کا دل ٹیڑھا کر دیتا ہے ۔پھر ( راوی حدیث ) سیدنا معاذ ؓ نے آیت: «رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا» ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہدایت دے دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی (گمراہی ) نہ پیدا کر“ ( آل عمران: ۸ ) ، پڑھی۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، نواس بن سمعان، انس، جابر، عبداللہ سبحان تعالٰی بن عمرو اور نعیم بن عمار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ "
اس وقت میں نےبہت طویل عرصےکے بعد قرآن مجید کھولا تھا اورجب میں نےبحث و مباحثےسے متعلق موادکو قرآن مجید سے تصدیق کی تو، میں اس دن سے ایک بالکل ہی تبدیل شدہ شخص تھا۔اس لمحے میرے ذہن میں پہلی بات جو آئی وہ 40 سال پرانا واقعہ تھا اور میں نے محسوس کیا کہ میری والدہ نے حافظ صاحب سے جس دعا کے لیے درخواست کی تھی وہ آج پوری ہو گئی جو اس وقت ان کے خلوص کا ثبوت اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کی طرف سے اس کی تکمیل کا آج اہتمام ہوا تھا ۔
اب میں قرآن مجید کو سمجھناچاہتا تھا اور مکمل طور پر قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ایک بار پھرمیرے دل نےمجھے ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ سے قرآن مجید کا علم حاصل کرنے کا کہا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں ان کو اپنےبچپن سے جانتا تھا ۔اس وقت وہ جوان تھے اور کرشن نگر لاہورمیں ہمارےگھر کی گلی میں انہوں نے اپنا کلینک کھولا تھا ۔ جب بھی گھر میں کوئی بیمار ہوتا تھا میری والدہ ا س کو ہمیشہ ان کےپاس لے جاتی تھیں اور واقعتاً ان کی دی ہوئی دوائی میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ایسی تاثیر دی تھی کہ اس دوائی کی ایک خوراک لینے کے بعد ہی طبیعت سنبھل جاتی تھی ۔ میں نے اس وقت ان کےکلینک اور گھر کو قرآن مجید اور متعلقہ کتابوں سے بھرا ہوا دیکھا تھا ۔جب بھی کوئی زیادہ بیمار ہوتا اور وہ چلنے کے قابل نہ ہوتا تومیں اکثر، ان کو اپنے ساتھ پیدل گھر لےجانے کے لیے جاتا تھا۔ وہ اتنےشائستہ اور مخلص تھے کہ فوراً میرے ساتھ اپنا بیگ لے کر مریض کو دیکھنے ساتھ چل کر ہمارے گھر جاتے تھے۔ میں ہر اس شخص کو جو قرآن اور دین اسلام کاحقیقی علم حاصل کرناچاہتا ہے مشورہ دوں گا کہ وہ ڈاکٹراسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی نصف صدی پر محیط کاوشوں سے استفادہ کرے جو کہ آج کے دور جدید کی تمام ٹیکنالوجیز (کتب، آڈیوز، وڈیوز) کی شکل میں موجود ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔آمین!
جب چند برسوں کی کاوشوں سے قرآن مجید اور دین اسلام کی تھوڑی سی معلومات حاصل ہوئیں تو پھر ڈاکٹر صاحب کی یہ بات دل میں بیٹھ گئی جو وہ سورۃ الرحمٰن کی ابتدائی آیات کی تشریح میں بیان کیا کرتے ہیں:
’’اب ان چار آیات کا ماحصل ایک بار پھر اپنے سامنے رکھیے:
اَلرَّحْمٰنُ: صفاتِ باری تعالیٰ میں سے چوٹی کی صفت۔
عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ: رحمٰن کی طرف سے سب سے بڑی دولت اور نعمت جو انسان کو عطا کی گئی وہ یہ ہے کہ اسے قرآن سکھایا گیا۔
خَلَقَ الْاِنْسَانَ: اللہ نے انسان کو پیدا کیا ‘جو اُس کی تخلیق کا نقطۂ کمال ہے۔
عَلَّمَہُ الْبَیَانَ: انسان کو اُس نے جو صلاحیتیں دی ہیں ان میں سب سے اونچی صلاحیت اس کے بیان کی قوت ہے۔
یہ چار آیات تین جملوں پر مشتمل ہیں‘جن کا ترجمہ یہ ہوگا:
(i) رحمن نے قرآن سکھایا۔
(ii) اُس نے انسان کو تخلیق کیا۔
(iii) اسے قوتِ بیان عطا فرمائی۔
اب ذرا غور کیجیے کہ ان تین باتوں کانتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ریاضی میں نسبت و تناسب کے قاعدے سے تین معلوم اَقدار کی مدد سے چوتھی قدر کا تعین کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ہمیں چوتھی قدر کا تعین کرنا ہے اور وہ یہ ہوگی کہ
انسان کو جو قوتِ گویائی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے‘اس کا بہترین مصرف اگر کوئی ہے تو وہ قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا اور اس کا سیکھنا سکھانا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو قوتِ بیانیہ دی ہے‘یہ انسان کے اوصاف میں سے اعلیٰ ترین وصف ہے‘ اور اس کا بہترین مصرف یہی ہوسکتا ہے کہ اس کے ذریعے اللہ کے کلام کو بیان کیا جائے‘اللہ کے پیغامِ ہدایت کو عام کیاجائے‘اللہ کے اس کلام کی تبلیغ واشاعت کی جائے۔ سورۃ الرحمن کی تین آیات میں سے میں نے یہ جو نتیجہ نکالا ہے یہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث سے ثابت ہے‘جس کے راوی حضرت عثمان غنی ہیں۔ اس سے ہمیں قرآن اور حدیث کا باہمی تعلق سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ارشاد ہوا: «خَیرکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ» ’’ تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔‘‘
اس خیال کے تحت میں نے دین اسلام کے حوالے سے چند مضامین کو مختصر شکل میں لکھنا شروع کر دیا جو کہ ٹوٹی پھوٹی انگلش میں ہوتے تھے جو میں اپنے حلقہ احباب اور گروپس کو سوشل میڈیا پر شئیر کرتا تھا ،مگر چونکہ ہمارے احباب میں انگلش سمجھنے والوں کی تعداد انتہائی محدود ہے اس لیے یہ زیادہ کارآمد نہیں تھا۔ اس دوران ایک صاحب نے مجھ سے رابطہ کیا جن کا تعلق ’’الجزیرہ ‘‘ کے ملائشیا میں اردو ایڈیشن کے ویب سائٹ سے تھا ۔انہوں نے میرے مضامین کو اردو ترجمہ کرکے مجھے بھیجا ،مگر اس میں کافی غلطیاں ہوجاتی تھیں اور کئی مرتبہ کی اصلاح کے بعد کچھ حد تک ہی مضامین میں بہتری دیکھنے کو ملتی تھی مگر دل مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا تھا
دراصل جس جگہ پر میں مقیم ہوں وہاں نہ ہی تو اردو سوفٹ ویر دستیاب ہیں اور نہ ہی اردو کی بورڈ۔ اس لئے میں نے اپنے اس چھوٹے سے فون پر اردو فونٹ ڈاؤن لوڈ کیا اور اردو لکھنا شروع کی۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی کا کرم تھا کہ کچھ عرصہ بعد اردو لکھنا آ گیا۔جس جگہ پر موجود ہوں وہاں پر کسی کی راہنمائی حاصل نہیں تھی کہ ان مضامین کی درستگی اور اصلاح کرائی جا سکے۔ مگر دل میں یہ خلش تھی کہ کس طرح مستند علماء کرام سے ان پر راہنمائی حاصل ہو جائے۔آخرکار اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش بھی پوری کر دی اور میرا رابطہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی قائم کردہ مرکزی انجمن خدام القرآن کے ادارے قرآن اکیڈمی لاہور کے شعبہ مطبوعات (Publication Department)سے ہوا ، جس کے ڈائریکٹر حافظ خالد محمود خضر صاحب سے اپنے مضامین کی اصلاح اور درستگی کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی اور میں نے اپنے چند مضامین ان کو اصلاح اور درستگی کے لیے بھیج دیے۔ یہ ان کی کرم نوازی ہے کہ وہ خود یا ان کے معاونین میرے مضامین کی نوک پلک سنوار دیتے ہیں ،بلکہ گاہے بگاہے میرا کوئی مضمون تنظیم اسلامی کے جرائد میں شائع بھی کرا دیتے ہیں۔ یہ سب اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رحمت اور کرم کے باعث ممکن ہوا۔
آخر میں اللہ سبحانہ و تعالٰی سے دعا گو ہوں کہ وہ مجھے توفیق بخشے کہ دین اسلام کا مزید علم حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھوں اور مجھ سمیت تمام اہل ایمان کو دین اسلام پر استقامت عطا فرمائے اور اقامت دین کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
0 Comments