تحریر: ممتاز ہاشمی
علامہ اقبال کی عظمت کا اعتراف‘ دین اسلام کے احیاء کے لیے ان کی خدمات کو یاد کرنا اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہر پاکستانی مسلمان پر مصوّرِ پاکستان کا حق ہے۔ اقبال کے پیغام اور فلسفہ کو سمجھنے کے لیے اسلامی تاریخ سے واقفیت ضروری ہے تاکہ ان حالات و واقعات سے آگاہی حاصل کی جا سکے جن میں اقبال نے احیاء ِفکر اسلامی کا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔
خلافت ِراشدہ کے بعد اگرچہ اسلامی خلافت کی حدود میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا‘لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاستی امور میں خلافت کی جگہ ملوکیت قدم جماتی گئی۔ یعنی مسلمانوں کو تو عروج حاصل رہا‘ لیکن دین اسلام کا مکمل نظام اور تصوّر دھندلانے لگا۔اس بات کو سمجھنے اور ماضی‘ حال اور مستقبل کے اَدوار کا صحیح ادراک کرنے کےلیے مندرجہ ذیل حدیث کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒ نے حضرت نعمان بن بشیرؓسے روایت کیا ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’تمہارے مابین نبوت موجود رہے گی‘(آپﷺ کا اشارہ خود اپنی ذاتِ اقدس کی جانب تھا) جب تک اللہ چاہے گا‘پھر جب اللہ چاہے گاتو اسے اٹھا لے گا۔ اس کے بعد نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہو گی اوریہ بھی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ قائم رہے‘پھر جب اللہ چاہے گا تواسے بھی اُٹھا لے گا۔ پھر کاٹ کھانے والی (یعنی ظالم) ملوکیت آئے گی اور وہ بھی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا‘ پھر جب اللہ چاہے گاتو اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر مجبوری کی ملوکیت (غالباً اس سے مغربی استعمار کی غلامی مراد ہے) کا دور آئے گا اور وہ بھی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا‘پھر جب اللہ چاہے گاتو اسے بھی اُٹھا لے گا۔ اور پھر دوبارہ نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی!‘‘راوی کے مطابق اس کے بعد آپﷺ نے خاموشی اختیار فرمالی۔
اس حدیث کی ایک دوسری روایت میں صراحت ہے کہ جب وہ نظام دنیا میں دوبارہ قائم ہو گا تو آسمان بھی اپنی ساری برکات نازل فرما دے گا اور زمین بھی اپنی تمام برکتیں باہر نکال کر رکھ دے گی۔ بعض دوسری احادیث میں ان برکات کی تفصیلات بھی بیان ہوئی ہیں۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان انتہائی پستی اور ذلت کی زندگی گزار رہے ہیں اور دنیا ان کو کسی معاملے میں کوئی اہمیت نہیں دیتی‘ باوجود اس کے کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور وہ نہایت قیمتی اور نایاب وسائل سے مالا مال ہیں۔ اس زوال کی بنیاد ڈھونڈنے کے لیے ہمیںماضی قریب کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ایک صدی قبل مسلمانوں کی خلافت دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر قائم تھی اور وہاں اسلامی قوانین نافذ تھے۔ اگرچہ وہاں پر ملوکیت کے اثرات نمایاں تھے‘مگر اس کے باوجود ربّ العالمین کی رحمت سے وہاں پر خوشحالی اور امن قائم تھا۔ ان حالات میں مسلمانوں کو عبادات کی پابندی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے وافر مواقع دستیاب تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ حکمران اور عوام شیطان کی چالوںمیں آنے اور اُس کے جال میں پھنسنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں لالچ اور خود غرضی فروغ پانے لگی‘ معاشرے میں برائیوں نے جنم لینا شروع کر دیا‘لوگوں میں خوفِ خدا ختم ہونے لگا اور بدترین برائیوں یعنی جھوٹ‘ دھوکہ دہی‘ دروغ گوئی‘ فریب‘ غیبت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے جیسی بیماریاں فروغ پانے لگیں۔ ان تمام برائیوں کی بنیادی وجہ ایمان کی کمزوری اور آخرت پر یقین کا فقدان تھا۔ مسلمانوں کی ان کمزوریوں سے کفار نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور ان کے درمیان نفرتوں کو فروغ دینے کے لیے غیر ضروری مسائل میں اُلجھا کر انہیں فرقوں میں تقسیم کردیا۔ جب وہ مسلمانوں کو فرقہ بندیوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو انہوں نے چند لالچی مسلمانوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے ان کے ذریعے مسلمانوں کو شکست دیتے ہوئے ان پر قابض ہونے کا عمل شروع کیا۔ اس طرح سے وہ مسلمانوں کو شکست دیتے ہوئے تمام دنیا کے مسلمانوں پر حکمران کی حیثیت سے مسلط ہو گئے اور مسلمانوں پر غلامی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ صدیوں کی اس غلامی نے مسلمانوں میں دین اسلام کا تصور مکمل طور پر دھندلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اُمّت ِمسلمہ آج تک کے حالات اور واقعات کو ایک حدیث میں یوں بیان کیاگیا ہے‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں!‘‘ایک کہنے والے نے کہا: یارسول اللہﷺ! کیا ہم اُس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا:’’ نہیں‘ بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے‘ لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوگے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا‘اور تمہارے دلوں میں ’’وہن‘‘ڈال دے گا۔‘‘ پوچھا گیا: اللہ کے رسولﷺ! ’’وہن‘‘ کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ۔‘‘(سنن ابی داؤد)
آج مسلمانوں اور عالم اسلام کا حال اس حدیث کی سچائی کی گواہی دے رہا ہے۔دنیا تیزی سے اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے اوراہل ایمان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے جو ان کو اپنے ایمان کی تجدید اور حفاظت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
موجودہ صورتِ حال میں درج ذیل دو احادیث نہایت اہم ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قربِ قیامت پرخلافت علیٰ منہاج النبوۃ ﷺ کا نظام قائم ہو گا جوپورے عالم انسانیت اور کل روئے ارضی کو محیط ہو گا۔
(۱) صحیح مسلمؒ میں حضرت ثوبان ؓ (جو آنحضورﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ نے میرے لیے پوری زمین کو سمیٹ یا سکیڑ دیا۔ چنانچہ میں نے اس کے سارے مشرق بھی دیکھ لیے اور تمام مغرب بھی‘اور سن رکھو کہ میری اُمّت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو کر رہے گی جو مجھے سکیڑ یا لپیٹ کر دکھا دیے گئے!‘‘
(۲) مسند احمد بن حنبل ؒ میں حضرت مقداد بن الاسود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: ’’کل روئے ارضی پر نہ کوئی اینٹ گارے کا بنا ہوا گھر باقی رہے گا اورنہ اونٹ کے بالوں کے کمبلوں سے بنا ہوا کوئی خیمہ جس میں اللہ کلمہ اسلام کو داخل نہ کر دے‘خواہ کسی عزّت کے مستحق کے اعزاز کے ساتھ اور خواہ کسی مغلوب کی مغلوبیت کے ذریعے۔‘‘ (یعنی یا تو اللہ انہیں عزّت دے گااور اہل اسلام میں شامل کر دے گا‘ یا انہیں مغلوب کردے گا‘چنانچہ وہ اسلام کی بالادستی قبول کر لیں گے!) حضرت مقداد ؓفرماتے ہیں کہ اس پر میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ ’’تب وہ بات پوری ہو گی (جو سورۃ الانفال کی آیت ۳۹میں وارد ہوئی ہے) کہ دین کل کا کل اللہ ہی کے لیے ہو جائےگا!‘‘
اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم آج تیزی سے آخری دور کی جانب گامزن ہیں اور یہ دور قیامت سے پہلے پوری کائنات پر دین اسلام کے مکمل نفاذ کا دور ہو گا جس کی نوید ان احادیث مبارکہ میں سنائی گئی ہے۔ اس حقیقت کو دورِ حاضر میں فکر ِ اسلامی کے مجدد‘ ترجمان القرآن علامہ محمد اقبال نے پہچانا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور ان میں اپنی کھوئی ہوئی عظمت کے حصول اور دین اسلام کے احیاء کا جذبہ پیدا کیا۔ انہوں نے آئندہ آنے والے دنوں کا جو تصور روحانی طور پر دیکھا تھا‘ اس کو اہلِ ایمان کے سامنے اس طرح پیش کیا: ؎
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
اس قدر ہو گی ترنّم آفریں باد بہار
نکہت ِ خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی
آ ملیں گے سینہ چاکانِ چمن سے سینہ چاک
بزمِ گل کی ہم نفس بادِ صبا ہو جائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی
دیکھ لو گے سطوتِ رفتارِ دریا کا مآل
موجِ مضطر ہی اسے زنجیر ِ پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
نالۂ صیّاد سے ہوں گے نوا ساماں طیور
خونِ گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے‘ لب پہ آ سکتا نہیں
محو ِحیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی!
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے!!
علامہ اقبال نے اس مقصد کے حصول کے لیے مسلمانوں کو دوبارہ سے منظم ہونے اور اپنے لیے ایک خطہ ارضی کے حصول کی جدّوجُہد کرنے کی راہ دکھائی‘ تاکہ اس خطہ پر اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کا قیام اس طور سے کیا جا سکے کہ یہ پوری دنیا کے لیے مثال بن سکے۔ اس کا واضح اعلان علامہ اقبال نے اس اندازِ میں کیا ہے:؎
وقت ِ فرصت ہے‘ کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!
پاکستان کے قیام کی بنیاد بننے والے دو قومی نظریہ کی بنیاد مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے رکھی۔ اُس دور میں پوری ملت اسلامیہ شکست اور غلامی کے پھندوں میں جکڑی ہوئی تھی اور زمین کے کسی بھی حصہ میں اسلام کا نظام قائم نہ تھا‘ جس کی وجہ سے اسلام کا تصوّر بحیثیت دین مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا اور اسے دیگر مذاہب کی طرح بس ایک مذہب سمجھا جانے لگا تھا۔ مسلمانوں میں ذہنی غلامی اور پسماندگی سرایت کر چکی تھی۔ اسلام مکمل طور پر مغلوب ہو چکا تھا اور مسلمانوں میں اسلام کا تصوّر صرف مذہبی عبادات اور رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ اُس وقت علامہ اقبال کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا کی کہ وہ مسلمانوں کو اُن کابھولا ہوا سبق یاد دلا کر ان میں دوبارہ سے اسلام کی عظمت کو بحال کرنے کا عزم پیدا کرے۔ اقبال نے مسلمانوں کو ان کے زوال کی وجوہات سے نہ صرف آگاہ کیا‘ بلکہ اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ بھی دکھایااور مسلمانوں کی بیداری کے لیے عملی لائحۂ عمل بھی فراہم کیا۔
علامہ اقبال نے بطور صدر مسلم لیگ پاکستان کے قیام کا تصوّر پیش کیا‘ جس کے مطابق اس نئی مسلم مملکت پاکستان ----- جو کہ ہندوستان کے اکثریتی مسلم آبادی والے صوبوں پر مشتمل ہو گی----- میں اسلام بطور نظام حیات کے نافذ ہوگا۔ اس طرح اسلام کا حقیقی تصوّر جو کہ خلافت راشدہ کا ماڈل ہو گا وہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام ہو گا کہ دنیا اس نظام کے ثمرات کو دیکھے گی اور اسلام کی طرف مائل ہو جائے گی اور پھر یہ آہستہ آہستہ دنیا بھر میں دین اسلام کے قیام کا ذریعہ بنے گا۔ اقبال نے قیامِ پاکستان کی جدّوجُہد کے لیے قائداعظم محمد علی جناح کو قائل کیا۔ قائداعظم جو کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کے رویے سے مایوس ہو کر لندن جا چکے تھے‘ اقبال کے نظریہ پاکستان پر عمل کے لیے آمادہ ہوئے اور واپس ہندوستان آکر تحریک پاکستان کی قیادت سنبھالی۔ قائد اعظم نے پاکستان کے حصول کے لیے انتہائی محنت اور جدوجہد کی اور پاکستان کا مقصد دین اسلام کا قیام قرار دیا۔ تحریک پاکستان بہت جلد ہندوستان کے طول وعرض میں پھیل گئی اوریہ نعرہ ایک مکمل تصوّر بن کر زبن زدِ عام ہوگیا: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلہ الا اللہ!‘‘
تحریک پاکستان کے حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات ماننا پڑے گی کہ پاکستان کی تخلیق کسی معجزہ سے کم نہیں ہے اوریہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہترین انعام تھا۔ اس کی بہترین وضاحت ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے قرآن حکیم کی مندرجہ ذیل آیت کی روشنی میں بیان کی ہے:
{وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } (الانفال)
’’اور اس حالت کو یاد کرو جب تم زمین میں قلیل تھے‘ کمزور شمار کیے جاتے تھے‘ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ لوگ تم کو نوچ کھسوٹ نہ لیں‘ تو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
علامہ اقبال کے بیان کردہ تصورِ پاکستان کی روشنی میں قائداعظم نے اس جدّوجُہد میں کامیابی حاصل کی اور آخرکار ۱۴ اگست ۱۹۴۷ءکو دنیا میں ایک نئی ریاست ظہور پذیر ہوئی جو دین اسلام کے قیام کی خاطر وجود میں آئی۔ اس جدّوجُہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں‘ عزتیں اور جائیدادوں کی قربانیاں دیں۔ کروڑوں مسلمانوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان ہجرت کی تھی جو دین اسلام کے قیام کے لیے پر عزم تھے۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے جو کہ ہجرتِ مدینہ منورہ کی طرز پر تھی۔اس ہجرت میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں ہزاروں کہانیاں ہماری تاریخ کا لازمی حصّہ ہیں۔ پاکستان بنانے کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کا قیام تھا‘ جس کی تصدیق اور وضاحت قائد اعظم نے خود اپنے ذاتی معالج سےاپنی زندگی کے آخری ایام میں بایں الفاظ کی تھی:
’’تم جانتے ہو کہ جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے‘ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرا ایمان ہے کہ یہ رسولِ خدا ﷺ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا اوراب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔‘‘
یہ الگ بات ہے کہ مسلمانانِ پاکستان ‘ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے اصلی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے جس کی وجوہات اور حالات کی ایک طویل داستان ہے۔ اس ناکامی کے بنیادی کردار پاکستان کے حصے میں آئی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے جس کا پاکستان کے قیام میں کوئی کردار نہیں تھا‘ بلکہ وہ اپنے برطانوی آقاؤں کے زیر اثر اس تحریک کو ناکام بنانے میں استعمال ہوتے رہے تھے۔ اس خلفشار کے نتیجے میں مملکت پاکستان میں مسلمانوں میں باہمی اعتماد کا فقدان پیدا ہونے لگا اور گروہی منافرت نے جنم لینا شروع کر دیا۔ چونکہ پاکستان کی بنیاد ہی دین اسلام کا قیام تھا‘ لہٰذا س کی عدم موجودگی میں ان اختلافات کا اُبھرنا فطری عمل تھا۔
اس بات میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ آج پوری دنیا میں احیاء ِاسلام کی تحریکوں کا محرک صرف اور صرف علامہ اقبال کا پیش کردہ احیاء اسلام کا نظریہ ہے۔ اس کی مثالیں انقلابِ ایران اور افغانستان میں مسلمانوں کی حالیہ عظیم الشان کامیابی کی صورت میں نمایاں ہیں ۔
علامہ اقبال نے اُمّت ِمسلمہ میں احیاء ِا سلام کے جذبے کو پوری طرح سے بیدار کیا اور اس عظیم الشان مقصد کے حصول میں آگے بڑھنے کے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ؎
اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی
اُن کی جمعیت کا ہے مُلک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رُخصت تو ملّت بھی گئی
آج ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم جو ایمان کے دعویدار ہیں‘ وقت کا ضیاع نہ کریں اور پورے یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے دین اسلام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ قیامت کے دن کامیابی کی توقع کر سکیں۔ ہمارا یہی عمل ہمیں اپنے ملک کی تخلیق کے جواز کو صحیح ثابت کرنے کا باعث بنے گا اور آخرت میں کامیابی بھی اسی عمل میں پنہاں ہے۔ہمیں وقت کی قلت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے روز مرہ کے معمولات اور مصروفیات کا جائزہ لینے کی ضررورت ہے تاکہ ہم اپنے آپ کو آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کا مستحق بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں ۔
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جدّوجُہد کر کے ہم کسی پر احسان نہیں کریں گے‘ بلکہ یہ کام ہر اکوئی انفرادی طور پر صرف اور صرف اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر کرتا ہے جس کا مقصد آخرت میں کامیابی کا حصول ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صلاحیتوں اور توانائیاں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے نفاذ کے لیے مختص کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

0 Comments