Header Ads Widget

خطبہ حجتہ الودع اور امت مسلمہ کا فریضہ


تحریر: ممتاز ہاشمی 



اللہ سبحانہ و تعالٰی نے نوع انسانی کو اس دنیا میں زندگی بسر کرنے کا جو نظام قرآن مجید کے ذریعے دین اسلام کی شکل میں عطا فرمایا تھا اس کا ایک مربوط، مکمل تعارف پیغمبر آخرالزماں محمد ﷺ نے اپنے آخری خطبہ جس کو خطبہ حجتہ الودع کہا جاتا ہے دہرایا۔ اس خطبہ حجتہ الودع کا بلا کسی شک کے انسانی تاریخ کا مثالی منشور اعظم کہا جاتا ہے۔  ذی قعدہ 10 ہجری میں محمد ﷺ  نے حج کاارادہ کیایہ آپ ﷺ کا  پہلا اورآخری حج تھا۔ اسی حوالے سے اسے ’’حجۃ الوداع‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ابلاغ اسلام کی بنا پر’’حج الاسلام‘‘اور’’حج البلاغ‘‘کے نام سے بھی موسوم ہے۔ اس حج کے موقع پر محمد ﷺ  نے جو خطبہ ارشادفرمایا اسے خطبہ حجۃ الوداع کہتے ہیں۔  اس زمانے میں آپ ﷺ  کے گرد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جس کا اس وقت تصور بھی محال تھا ۔

کو آپ ﷺ نے ہجری 10 ، 9 ذوالحجہ

     عرفات کے میدان میں وہاں پر موجود دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں اور ان کے ذریعے تمام امت سے خطاب فرمایا۔

  خطبہ حجتہ الودع اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے، اس کے اہم نکات اور ان کے مذہبی اخلاقی اہمیت حسب ذیل ہے

اس حوالے سے بھی اس خطبہ حجتہ الودع کی اہمیت واضح ہے کہ خود محمد ﷺ اس خطبہ میں ارشاد فرمایا:

  

"میری تم سے آخری اجتماعی ملاقات ہے، شاید اس مقام پر اس کے بعد تم مجھ سے نہ مل سکوں۔"

اس خطبہ حجتہ الودع کا بیان کچھ اس طرح سے ہے:

"سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔

اللہ کے بندو! میں تمھیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔

لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔

ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔

خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔

لوگو! تمھارے خون تمھارے مال اور تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمھیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمھارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔

جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)

اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمھارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔

لوگو! تمھاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کیے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔

اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔

لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمھارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمھارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔

تمھارے غلام تمھارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔

خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔

عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔

مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔

اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمھارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرو۔

لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔

میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔"

اس جامع خطبہ کے بعد آپ ﷺ نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور تین مرتبہ فرمایا۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ "اے خدا تو گواہ رہنا" اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔

محمد ﷺ نے اس طرح سے تمام امت مسلمہ پر یہ فرض عائد کر دیا تھا کہ وہ دین اسلام کو اپناتے ہوئے اس کے عملی نفاذ کی نہ صرف خود جدوجہد کرے بلکہ اس  کی طرف دوسروں کو بھی  راغب کریں۔ 

افسوس کہ آج امت مسلمہ خطبہ حجتہ الودع کے پیغام کو مکمل طور پر فراموش کر چکی ہے اور ان تمام خرافات میں ملوث ہو چکی ہی جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا تھا۔ نتیجہ کہ طور پر آج پوری امت مسلمہ پر اللہ کا عذاب مسلط ہے باوجود اس کے کہ مسلم ممالک دنیاوی وسائل سے مالا مال ہیں مگر دنیا  ان کو اہمیت نہیں دیتی۔ اس ذلت و پستی سے نجات کا واحد راستہ قرآن کی طرف پلٹنا ہے جس کا ذکر خطبہ حجتہ الودع میں کیا گیا ہے۔

آج جب امت مسلمہ حج کے مناسک کی ادائیگی کے مراحل میں ہیں اور خطبہ حج کا موقع قریب ہے تو ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم خطبہ حجتہ الودع کا ازسر نو مطالعہ کریں اور اپنے آپ کا جائزہ لیں کہ کیا ہم آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل پیرا ہیں؟

اللہ ہم سب مسلمانوں کو ہدایت دے اور ہمیں ہمت و استطاعت عطا فرمائے کہ ہم خطبہ حجتہ الودع کے پیغام پر عملدرآمد کرتے ہوئے دین و دنیا کی کامیابی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ آمین

Post a Comment

0 Comments