تحریر: ممتاز ہاشمی
ہر دور میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے نوع انسانی کی ہدایت کے لیے انبیاء و رُسل کو مختلف اقوام کی طرف بھیجا تاکہ ان کو خالق کائنات کی وحدانیت پر ایمان لانے کی ہدایات پہنچانے کا اہتمام کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف امتوں کو خالق کائنات کا شکر ادا کرنے کے لیے مختلف عبادات کا حکم پہنچایا گیا۔ جب کسی امت نے اللہ کے انبیاء و رُسل کی ہدایات کو نظرانداز کر دیا تو ان امتوں کو پر عذاب نازل کیا گیا اور ان کا نام و نشان مٹ گیا۔
پیغمبر آخرالزماں محمد ﷺ کو پوری نوع انسانی کی ہدایت کا فریضہ سونپا گیا۔ اس آخری امت کو امت مسلمہ کا نام دیا گیا اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کی ہدایات کو " دین اسلام " کا نام دیا گیا ہے۔ اسلام کی بنیاد اللہ سبحانہ و تعالٰی کی وحدانیت پر ایمان ہے گویا " لا اللہ الا اللہ " کی ادائیگی اسلام میں داخل ہونے کی بنیاد ہے۔ اس کلمہ کے تقاضوں کو سمجھنے ہوے انسان کانپ جاتا ہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی جستجو کرتا ہے اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس کام کو آسان اور سادہ بنانے کیلئے چار عبادات امت مسلمہ پر فرض کردیا دیں۔ جن کو ارکان اسلام کہا جاتا ہے ۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
(صحیح البخاری، حدیث نمبر 8)
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔اِس بات کی گواہی دینا کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد، اللہ رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج پورا کرنا،اور رمضان کے روزے رکھنا۔"
ان پانچ ستونوں کے بغیر اسلام کا قیام بھی نہیں ہوتا ۔ اسلام کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ ارکان کو معاشرے و انفرادی طور نافذ کیا جائے اور اس پر عملدرآمد قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ گویا کہ دین اسلام کا نفاذ ہی دراصل ایمان کا بنیادی مقصد ہے اور اس کے ارکان کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے۔
توحید کے کلمہ کی ادائیگی کے بعد دیگر چار ارکان کی ادائیگی کا مرحلہ آتا ہے ان چار ارکان میں سے دو رکن تو اہل ایمان کا دعوٰی کرنے والے ہر ایک پر فرض ہیں یعنی نماز و روزہ۔ اس میں کسی کو بھی استثناء نہیں ہے۔ اور ان کی ہر مقام پر مقررہ اوقات میں ادائیگی فرض ہے۔ نماز دن میں پانچ مرتبہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کا نام ہے۔ اور اللہ تعالٰی کی عظمت کو قائم کرنے کی جدوجہد میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
سورہ البقرہ، ،آیت 153
" اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، اللہ تعالی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔"
توحید کا سب سے بڑا تقاضا ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور عظمت کی تبلیغ کی جدوجہد کی جائے اور اس مرحلے پر معاشرے میں رائج شرک کے نظام کی پیروی کرنے والوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلئے استقلال و عزم کے ساتھ اس مرحلے میں درپیش مشکلات و مصائب کا سامنا کرنے کی تیاری کرنا لازم ہے اس کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ دو چیزوں سے حاصل کی جائے ایک یہ ان مصائب و تکالیف میں صبر کی صفت قائم کی جائے اور دوسری نماز کے ذریعے اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہوئے اللہ کی مدد حاصل کرو۔
روزہ اس لیے فرض ہوا تاکہ تم " پرہیز گار بن جائو " یہ مشق ایل ایمان کو نفس پر قابو پانے اور ایک صبر آزما مرحلے سے گزاتے ہوئے اس کو اس عظیم جدوجہد کی تیاری میں مدد فراہم کرتی ہے۔
دوسرے دو ارکان ہر اہک ایمان پر فرض نہیں ہیں یعنی زکوۃ و حج۔ زکوۃ کی عبادت کا مقصد مال و دولت کی محبت کو دل سے نکالنے کا ذریعہ ہے حلال مال سے زکوۃ کی ادائیگی سے نہ صرف ریاستی امور کی انجام دہی کی جاتی ہے بلکہ معاشرے میں کمزور طبقات کے لیے بنیادی ضروریات و سہولیات کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
جج میں ان تمام ارکان کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس میں اللہ کا ذکر بھی ہے اور مسلسل اللہ اکبر کا درود ہے اس کے ساتھ بیت اللہ کا طواف بھی ہے۔ اس میں احرام و دیگر پابندیاں و مشقت روزہ سے مشابہت رکھتی ہیں اور مال کا خرچ زکوۃ سے مشابہ ہے۔
گویا حج کی عبادت میں چار عبادات کو شامل کر دیا گیا ہے ۔ یہ واحد عبادت ہے جو ایک مخصوص مقام پر مخصوص اوقات میں ادائیگی کی جاتی ہے۔
حج کے لفظی معنی ہیں قصد کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہِ ذو الحجّہ کی مقرر تاریخوں میں حج کے مراسم ادا کرتاہے اور خدا کے نام پر جانور کو قربان کرتا ہے۔
اس عبادت میں قربانی کو اللہ تعالٰی نے تمام دنیا کے صاحب استطاعت پر فرض کردیا دیا ہے۔
حج کے دوران منٰی کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ انھیں تاریخوں میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عید اضحی مناتے ہیں۔ عید اضحی گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جُزئی شرکت ہے۔ عید اضحی کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کیے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا :
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3127)۔
" اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے ۔" اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے زمانے میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ اُس طریقے پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے قائم کیا تھا۔
حج اور قربانی کی روح کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم کی زندگی کا نہ صرف مطالعہ کیا جائے۔ بلکہ اس عظیم مقصد کو سمجھنے اور اس پر عملدرآمد کرنے کے عزم کو پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔
حج کی اہمیت کے بارے میں مندرجہ ذیل احادیث انتہائی اہمیت کی حامل ہیں:
بخاری 1519
" نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ حج مبرور ۔"
بخاری 1521
" آپ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔"
آج جب ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیتے ہیں تو باوجود اس کے کے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان دنیا بھر سے حج کا فریضہ انجام دیتے ہیں مگر عملی طور پر اس کا کے اثرات و نتائج نظر نہیں آتے ۔ دنیا کے کسی خطے میں اللہ کا دین نافذ نہیں ہے حج کے دوران اللہ اکبر کا درود کرنے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت اپنے بنیادی فرائض سے غافل ہے اور شرک کے نظام میں پھلنے پھولنے میں مگن ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اس حج و قربانی کو تمام مسلمانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنا دے اور ہمیں خواب غفلت سے بیدار کر دے۔ اور تمام اہل ایمان کو ہمت و جرآت عطا فرمائے تاکہ ہم اللہ سبحانہ و تعالٰی سے کئے گئے اپنے عہد اور ایمان کے تقاضوں کو نبھانے کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر سکیں جو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ثابت ہو۔ آمین

0 Comments