ایک برس قبل لکھا گیا مضمون
فروری 5، 2024
تحریر: ممتاز ہاشمی
اب جبکہ عام ا نتخابات کے انعقاد کو روکنے اور ملک میں انتشار پھیلانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور اگلے دو دن بعد ملک میں انتخابات کا انعقاد یقینی ہے اور ان انتخابات کے نتائج کے بعد عوام کی منتخب حکومت اقتدار سنبھال لے گی اور اس کے بعد ترقی اور استحکام کا سفر شروع ہو جائے گا۔
اس موقع پر ان عناصر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے گزشتہ تقریباً دو سال سے ملک کو بحرانوں اور افراتفری کا شکار کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں اور اس کے لیے پاکستان دشمن بیرونی اور اندرونی عناصر نے فنڈنگ کا اہتمام کیا تھا۔
یہ استحصالی قوتوں کا ایجنڈا واضح طور پر سامنے آ چکا ہے کہ وہ دوبارہ سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث کرنے اور اسطرح سے استحصالی طبقات کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے متحرک تھے اور اب بھی ہیں۔
اس سارے عمل میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کے لوگوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ریاست دشمن اور بغاوت میں ملوث جماعت کی حمایت میں جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کو بلا روک ٹوک جاری رکھا۔ اگرچہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس تمام عرصے میں انتہائی صبر و تحمل سے اس کو برداشت بھی کیا۔
اس عرصے میں انتخابات کی سرگرمیاں جاری رہیں اور یہ عناصر اس بات کا شور مچاتے رہے کہ اس جماعت کے لیے لیول پلینگ فییلڈ میسر نہیں ہے۔ اور وہ اس صورتحال کا تقابل 2018 کی صورتحال سے کرتے ہیں جو کہ انتہائی گمراہ کن اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ کا حصہ ہے۔
ان لوگوں کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ 2018 میں ایک منتخب حکومت کا غیر آئینی اقدامات کے ذریعے ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے کرپٹ عدلیہ کے ذریعے تختہ الٹا تھا تاکہ اپنے پالتو عمران خان کو اقتدار میں لے کر آئیں اور اس کے لیے انہوں نے تمام ریاستی وسائل اور حربے استعمال کیے۔ لیکن جب نااہل، کرپٹ عمران خان نے ملک کو نہ صرف معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا بلکہ اپنے تمام دوست مسلم ممالک سے تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہو گیا تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اس سے ہاتھ اٹھالیں اس سلسلے میں انہوں نے اپنے آپ کو سیاست سے دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مگر اس کے باوجود اس میں موجود چند عناصر اور عدلیہ اور بیوروکریسی نے عمران خان کی حمایت جاری رکھی اور اس کو غیر قانونی طور پر تحفظ فراہم کیا جس کا واحد مقصد پرانے نظام کو دوبارہ سے بحال کرنا اور اس کے لیے انہوں نے عمران خان کے ذریعے جنرل عاصم منیر کی تقرری میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے اسلام آباد کا لانگ مارچ ترتیب دیا۔ مگر اللہ کی رحمت سے یہ ناکام ہوگیا اور اس کے بعد آخری کوشش 9 مئی کو بغاوت کی صورت میں سامنے آیا جس کو ملٹری نے اپنے ڈسپلن، نظم وضبط اور سخت قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹا اور مکمل طور پر ناکام بنا دیا اس کے بعد بھی عدلیہ اور سول بیوروکریسی عمران خان کو غیر قانونی تحفظ فراہم کرتی رہی۔ جس کا اندازہ اس کے بعد بھی بغاوت میں ملوث عناصر کو سزائیں نہ دینے سے ظاہر ہے دنیا میں کوئی ملک بغاوت میں ملوث جماعت کو انتخابات میں حصہ لینا تو دور کی بات کسی طرح بھی کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے مگر اس جماعت کو ابتک بچایا گیا ہے اسلئے اگر اس باغی جماعت اور اس سے منسلک عناصر کے خلاف کوئی کارروائی ہو رہی ہیں تو ان کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ناکہ اس کا مقابلہ کسی اور صورتحال سے کیا جائے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس جماعت کے رہنماؤں کی اکثریت نے اس ریاست دشمن ایجنڈے سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے نئی جماعتوں کی تشکیل کی اور وہ ان انتخابات میں مکمل آزادانہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔
اگرچہ تمام انتخابی مہم میں زیادہ گرمی نظر نہیں آئی جس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سردی کی شدت، سموگ، اور سب سے زیادہ دہشت گردی کے خطرات شامل ہیں جس سے بلوچستان اور کے پی کے میں انتخابی مہم بہت زیادہ متاثر ہوہی۔ اگرچہ ریاستی ادارے ان ملک دشمن عناصر کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے میں بہت حد تک کامیاب ہوئے ۔ اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں نے بڑے اور طویل عوامی اجتماعات سے گریز کیا۔ جس کی کمی میڈیا پر انتخابی منشور اور دیگر مواد پر مبنی پبلسٹی نے کچھ حد تک پورا کیا۔ مگر زیادہ تر امیدواروں نے اپنے حلقوں میں چھوٹے چھوٹے مقامی اجتماعات اور گھر گھر جا کر اس انتخابی مہم کو کافی حد تک گرم رکھا ہے۔ اسلئے اس بناء پر اس بات کی توقع ہے کہ اس مرتبہ بھی ووٹنگ کی شرح پچھلے انتخابات کے قریب ہی رہے گی۔
اس تمام انتخابی مہم میں میڈیا پر پاکستان بھر کے حلقوں کی کوریج نے ان تمام نام نہاد اینکروں کو بھی بے نقاب کر دیا جن کا صحافت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور ان کی نااہلی، کام چوری، اور مبالغہ آرائی ان کے پروگراموں سے نمایاں رہی۔ مگر اس موقع پر غیر جانبدار، محنتی اور حقائق کی تہہ تک پہنچنے والے صحافیوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے جس میں افتخار احمد، طلعت حسین اور سہیل وڑایچ کے ہر روز ہونے والے حلقوں کی سیاست انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جنہوں نے ہر حلقے کے تاریخی حقائق، امیدواران اور مسائل کا انتہائی پیشہ ورانہ انداز اور مہارت سے پیش کئے۔
اس بات کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہوگا کہ یہ ملک دشمن عناصر انتخابات کے روز ہنگامہ آرائی کرنے کی آخری کوشش ضرور کریں لیکن اور اس کے بعد انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملک میں ہنگامہ آرائی اورانتشار پھیلانے کی کوشش بھی کریں گے اسلئے تمام ریاستی اداروں اور عوام کو یکجا ہو کر ان ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔
جو لوگ آجکل ان کے لیے کسی قسم کی ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کے لیے انسانی حقوق کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں ان کی محب وطنی پر سوالیہ نشان ہیں۔ اور ان کی سرگرمیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
جبتک ان باغیوں کو اپنے انجام تک پہنچا نہیں دیا جائے گا اسوقت تک ملک میں جمہوریت اور معاشی ترقی کی راہ کی راہیں ہموار نہیں ہو سکتیں۔
اسلئے ان انتخابات کے نتائج کے بارے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش موجود ہیں ہے کہ اس میں ان ریاست اور عوام دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو عوام مکمل طور پر مسترد کر دیں گے اور کچھ مقامات پر ان کو اگر کچھ پزیرائی بھی ملے گی تو ان کو ملک میں بحران اور انتشار پھیلانے کی اب کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور ان سے ریاست آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ حالیہ دنوں میں عمران خان کو جن مقدمات میں سزائیں سنائی دی گئی ہیں ان میں ساہفر کیس اور توشہ خانہ کیسز مکمل طور کھلی کتاب ہیں اور ان سے بچنے کی کوئی قانونی صورت نہیں ہے مگر ان کو جسطری سے نمٹایا گیا اس سے اس کو ٹیکنیکل طور پر آئندہ فائدہ حاصل ہو سکے گا اور یا یہ اسی لیے کیا گیا ہے۔ مگر جب 9 مئی کے کیسز کا فیصلہ ہوگا تو یہ کوتاہی نہیں ہو گی۔
اس کے بعد ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی برادری سے پاکستان کے تعلقات کی تاریخ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جب ملٹری آمر ضیاء الحق نے پوری دنیا اور خاص کر اہم مسلم ممالک کے سربراہان کے پرزور اصرار کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کو ایک متنازعہ فیصلہ کے نتیجے میں پھانسی کی سزا دے دی۔ اور اس کی جان بخشی کی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی تو اس دن سے دنیا نے پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے وعدوں پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے اور ان کو ملک کے سیاسی قائدین کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے سے روکنے کا ایک لائحہ عمل ترتیب دیا ہے جس کے تحت مشرف کے دور میں نواز شریف ، بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو پاکستان سے باہر منتقل کردیا گیا تھا اور باجوہ دور میں نواز شریف کو دوبارہ پاکستان سے باہر منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس فارمولے کے تحت عمران خان کو سزائیں سنانے کے بعد پاکستان سے باہر منتقل کرنے کا عمل دوبارہ سے دہرایا جانے کے قومی امکانات ہیں۔
اگرچہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی جماعت کی جڑیں اور بنیادی عوام میں موجود تھیں اسلئے وہ دوبارہ سے واپس آ کر عوامی حمایت سے اقتدار میں آئے مگر عمران خان کی کہانی اس کے بالکل برعکس ہے اور اب اس کا باب عنقریب احتشام پذیر ہے۔
تحریر:
ممتاز ہاشمی

0 Comments